|
خدمتِ خلق • انسانیت کی خدمت
براہِ کرم انتظار کریں...
حمدِ ﷲ ✦ نعتِ رسول ✦ صوفیانیہ و ادبی کلام
حمدِ ﷲ ✦ نعتِ رسول ✦ صوفیانیہ و ادبی کلام
تیری توصیف کروں کیسے بیاں
میرے الفاظ میں طاقت ہے کہاں

مجھ میں ہمت ہے نہ طاقت اتنی
کیسے ڈھونڈوں تیری قدر کے نشاں

میرے مالک مجھے ہو جائے عطا
تیری الفت تیری چاہت کا نشاں

جو کرے تیری ثناء ہر پل
ہم کو یارب ہو عطا ایسی زباں

کون کہتا ہے تو نظر نہیں آتا
ذرے ذرے سے تو ہوتا ہے عیاں

دل کی دھڑکن یہ بتاتی ہے
نام ﷲ ہے میرے دل میں نہاں

چھوڑ دو ذکر ستاروں کا قمر
ورد ﷲ ہی سے ملتی ہے اماں

اسکالر سید محمد علی قمرؔ

تو ظاہر و باطن ہے ذرا مجھ کو نظر آ
یہ بے خبری ہے تو ذرا بن کے خبر آ

قربِ رگِ جاں ہے تو نظر کیوں نہیں آتا
میں بھی ترا بندہ ہوں مرے قلب میں در آ

کس طرح کروں بندگیِ شوق کا اظہار
پوجوں گا میں تجھ کو تو کبھی تو مرے گھر آ

نظروں میں چھپا لوں گا تیرے حسن کے جلوے
ظاہر نہ کروں گا میں کسی پر بھی نہ ڈر آ

میری بھی انا ہے میں نہ آؤں گا تیرے گھر
گر مجھ کو بلانا ہے تو پھر تو میرے گھر آ

تو میرے کسی حال سے غافل نہیں ہے
گر مجھ کو بچانا ہے تو پھر مجھ کو نظر آ

میں سر کے بل آ جاؤں گا تو دیکھ لے مجھ کو
بھولے سے کسی دن تو مجھے کہہ کہ قمرؔ آ

اسکالر سید محمد علی قمرؔ

اس طرح عشق کا حق ادا کیجئے
ہر گھڑی بس خدا ہی خدا کیجئے

منزلیں بڑھ کے چومیں تمہارے قدم
شرط ہے بس خدا کا کہا کیجئے

بھول کر غم ہستی کی ہر فکر کو
مست یادِ خدا میں رہا کیجئے

جامِ ہستی گناہوں سے لبریز ہے
اپنی بخشش کا کچھ آسرا کیجئے

بخش دے گا خدا ہے یہ دل کو یقیں
بس محبت کے سجدے ادا کیجئے

اپنی چاہت عطا کر دے ہم کو خدا
روز و شب بس یہی اک دعا کیجئے

بات بگڑی ہوئی بھی سنور جائے گی
اس کی رحمت کا بس آسرا کیجئے

آخرت کیلئے جب عمل شرط ہے
شعر گوئی پر کیوں اکتفا کیجئے

ہے خدا کی محبت کا دعویٰ قمر
اتباعِ رسولِ خدا کیجئے

اسکالر سید محمد علی قمرؔ

رحم کر دے ﷲ کرم کر دے ہم پر
کرم کر دے ﷲ رحم کر دے ہم پر
رحم کر دے ﷲ کرم کر دے ہم پر
کرم کر دے ﷲ رحم کر دے ہم پر

دیا ہے جو تو نے ہمیں علم و حکمت
عطاء کر اسے بھی سمجھنے کی طاقت
ناداں ہیں یارب تو حکمت سکھا دے
چھپے راز حکمت کے سارے بتا دے

رحم کر دے ﷲ کرم کر دے ہم پر
کرم کر دے ﷲ رحم کر دے ہم پر

جسے چاہے دے دے ہدایت قرآن کی
جسے چاہے دے دے تو دولت جہاں کی
ہدایت عطا کر دے قرآن کی ہم کو
تو دولت عطا کر دے ایماں کی ہم کو

رحم کر دے ﷲ کرم کر دے ہم پر
کرم کر دے ﷲ رحم کر دے ہم پر

زمیں بھی تو نے خزانے چھپائے
سمندر میں تو نے نگینے چھپائے
چھپے ان خزانوں کی کھوج اب سکھا دے
ترقی کے سارے ہی رستے دکھا دے

رحم کر دے ﷲ کرم کر دے ہم پر
کرم کر دے ﷲ رحم کر دے ہم پر

یہ شمس و قمرؔ ہیں تیرے ہی خزانے
جو ان میں چھپا ہے کوئی کیا یہ جانے
عیاں راز یہ بھی تو ہم سے کرا دے
ہمیں علم و حکمت کا سورج بنا دے

رحم کر دے ﷲ کرم کر دے ہم پر
کرم کر دے ﷲ رحم کر دے ہم پر

اسکالر سید محمد علی قمرؔ

ﷲ ہو ﷲ ہو کہتے کہتے ہوئے
ﷲ ہو ﷲ ہو کہتے کہتے ہوئے

غم کے طوفاں سے پار اتر جائیں گے
مشکلیں جو بھی ہیں ختم ہو جائیں گی
ہے یقیں دل کے سب زخم بھر جائیں گے

ﷲ ہو ﷲ ہو کہتے کہتے ہوئے
غم کے طوفاں سے پار اتر جائیں گے

تو ہی مالک ہے آقا ہے سلطان ہے
بخش دے ہم کو یا رب تو رحمٰن ہے
تجھ سا داتا کوئی دوسرا ہے کہاں
تیرا در چھوڑ کر ہم کدھر جائیں گے

ﷲ ہو ﷲ ہو کہتے کہتے ہوئے
غم کے طوفاں سے پار اتر جائیں گے

ہے دعا دینِ حق پر ہم چلتے رہیں
تیری رحمت کے سائے میں بڑھتے رہیں
فیضِ حق بس یونہی ہم پہ جاری رہے
تیری رحمت بنا ہم تو مر جائیں گے

ﷲ ہو ﷲ ہو کہتے کہتے ہوئے
غم کے طوفاں سے پار اتر جائیں گے

مانا ہم نے کہ سچ لکھنا دشوار ہے
کیا کریں جھوٹ سے دل یہ بیزار ہے
بس تیرا فیض ہو جائے ہم پہ اگر
اس کٹھن مرحلے سے گزر جائیں گے

ﷲ ہو ﷲ ہو کہتے کہتے ہوئے
غم کے طوفاں سے پار اتر جائیں گے

نورِ ایمانی ہم کو بھی درکار ہے
اے قمرؔ روشنی تیری بے کار ہے
نورِ حق بس یونہی ہم جاری رہے
راستے زندگی کے سنور جائیں گے

ﷲ ہو ﷲ ہو کہتے کہتے ہوئے
غم کے طوفاں سے پار اتر جائیں گے

اسکالر سید محمد علی قمرؔ

ﷲ ﷲ بول بندے ﷲ ﷲ بول
ذکر الٰہی کرتا جا یہ ذکر بڑا انمول

ذکر الٰہی سب سے اچھا ذکر الٰہی کرتے رہو
ذکر سے دل کو خالی کرو نہ ذکر میں اس کے جیتے رہو
ذکر الٰہی سچا باقی سب ہیں جھوٹے بول

ﷲ ﷲ بول بندے ﷲ ﷲ بول
ذکر الٰہی کرتا جا یہ ذکر بڑا انمول

آؤ چلو دیوانوں ﷲ کے در پہ ہم چلتے ہیں
جس کے در پہ میں ہی کیا سب اس کے در پر پلتے ہیں
ایسا آقا جو دیتا ہے بن مانگے بن مول

ﷲ ﷲ بول بندے ﷲ ﷲ بول
ذکر الٰہی کرتا جا یہ ذکر بڑا انمول

اس کی وحدت کو جھٹلایا دنیا میں وہ رہ نہ پایا
رب اکبر نے قرآن میں کئی جگہ ہے یہ فرمایا
پڑھ لے کلام ربانی اور اپنی آنکھیں کھول

ﷲ ﷲ بول بندے ﷲ ﷲ بول
ذکر الٰہی کرتا جا یہ ذکر بڑا انمول

دنیا والے اس کو مانیں پر نہ اس کو پوجھیں
خوش حالی میں بھولیں اس کو دکھ میں اس کو ڈھونڈیں
ایسے بندوں کو بھی دیتا بن مانگے بن مول

ﷲ ﷲ بول بندے ﷲ ﷲ بول
ذکر الٰہی کرتا جا یہ ذکر بڑا انمول

حمدیں لکھنا حمدیں پڑھنا یہ ہے بڑا اعزاز
اسکے کرم کے صدقے ہی سے اونچی ہے پرواز
حمد ہاری سناتا جا اور کانوں میں رس گھول

ﷲ ﷲ بول بندے ﷲ ﷲ بول
ذکر الٰہی کرتا جا یہ ذکر بڑا انمول

ایسا نہ ہو قمرؔ کہ تو پھر پچھتاتا رہ جائے
دنیا والے خوشیاں لے لیں تو روتا رہ جائے
ذکر سے اسکے دل کو بھر لے یاد میں اسکی ڈول

ﷲ ﷲ بول بندے ﷲ ﷲ بول
ذکر الٰہی کرتا جا یہ ذکر بڑا انمول

اسکالر سید محمد علی قمرؔ

یا الٰہی غموں سے چھڑا دے
تیری رحمت پہ آنکھیں لگی ہیں

تمہیں پاروں میں ہے یہ لکھا
تجھ سا مالک نہیں کوئی دوجا
تیرے پیاروں نے تجھ کو پکارا
تو نے ان کو دیا ہے سہارا
اپنے پیاروں میں مجھ کو بٹھا لے
تیری رحمت پہ آنکھیں لگی ہیں

اپنی مشکل کسے میں بتاؤں
حال دل کا کسے میں سناؤں
کوئی مشکل کشاء بھی نہیں ہے
کوئی حاجت روا بھی نہیں ہے
میرے مالک مجھے تو بچا لے
تیری رحمت پہ آنکھیں لگی ہیں

تجھ کو مریمؑ نے بھی ہے پکارا
تو نے عیسیٰؑ کو بھی ہے سنوارا
قصہ یوسفؑ کا تو نے سنایا
نوحؑ کی کشتی کو تو نے بچایا
میری کشتی ہے تیرے حوالے
تیری رحمت پہ آنکھیں لگی ہیں

تو نے موسیٰؑ کو لاٹھی عطاء کی
تو نے ایوبؑ کو صحت عطاء کی
تو نے یعقوبؑ کو روشنی دی
تو نے یونسؑ کو پھر زندگی دی
تیری چاہت ہی سب کو سنبھالے
تیری رحمت پہ آنکھیں لگی ہیں

بھٹکے ہوؤں کو رستہ دکھا دے
میرے دل میں ایماں تو جگا دے
بچھڑے دلوں کو پھر سے ملا دے
میرے گھر کو تو جنت بنا دے
مجھ کو چاہت میں اپنی چھپا لے
تیری رحمت پہ آنکھیں لگی ہیں

خطاؤں سے میں تو بھرا ہوں
در پہ تیرے میں آکے پڑا ہوں
بخش دے میری ساری خطائیں
کردے پوری قمرؔ کی دعائیں
اس کو دیوانہ اپنا بنا لے
تیری رحمت پہ آنکھیں لگی ہیں

اسکالر سید محمد علی قمرؔ

ﷲ ہو بھئی ﷲ ہو
ﷲ ہو بھئی ﷲ ہو

ہر دم اس کو یاد کرو
دل اپنا آباد کرو
صبح کرو یا شام کرو
لیتے رہو بس ایک ہی نام
ﷲ ہو بھئی ﷲ ہو
ﷲ ہو بھئی ﷲ ہو

اشکِ ندامت پیتے ہیں
زخموں کو وہ سیتے ہیں
ہنس ہنس کر وہ جیتے ہیں
کہتے ہیں جو صبح و شام
ﷲ ہو بھئی ﷲ ہو
ﷲ ہو بھئی ﷲ ہو

دنیا سے کیوں گھبرائیں
غم کے بادل چھٹ جائیں
دشمن سارے جھک جائیں
لے کر اٹھیں جب یہ پیغام
ﷲ ہو بھئی ﷲ ہو
ﷲ ہو بھئی ﷲ ہو

ہوش کہاں دیوانوں کو
چاہت کے پروانوں کو
دل والے مستانوں کو
بس پی کے وحدت کا جام
ﷲ ہو بھئی ﷲ ہو
ﷲ ہو بھئی ﷲ ہو

جنگل صحرا بحر و بر
چاند ستارے شمس و قمرؔ
ﷲ ہی کے ہیں یہ ثمر
کرتے ہیں بس ایک ہی کام
ﷲ ہو بھئی ﷲ ہو
ﷲ ہو بھئی ﷲ ہو

اسکالر سید محمد علی قمرؔ

دل میں بسالو لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
محمد ہمارے رسول ﷲ
دل میں بسالو لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
محمد ہمارے رسول ﷲ

سکونِ دل کو عطا ہو، جینے میں بھی مزا آئے
زباں پر سجا لو لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
محمد ہمارے رسول ﷲ

مرنا اس کی یاد میں، جینا اس کی یاد میں
مشغلہ بنا لو لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
محمد ہمارے رسول ﷲ

غم کے بادل چھٹ جائیں، دنیا والے جھک جائیں
سینے سے لگا لو لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
محمد ہمارے رسول ﷲ

دردِ دل کی دوا ہے، مالک کا یہ تحفہ ہے
ورد یہ بنا لو لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
محمد ہمارے رسول ﷲ

جینے میں ہمارے، مزا کچھ نہیں ہے
مزا اس میں ڈالو، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
محمد ہمارے رسول ﷲ

کیسے پہنچوں اڑ کر، پر نہیں ہیں میرے
در پر بلا لو لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
محمد ہمارے رسول ﷲ

غموں میں گھرا ہوں، در پہ تیرے پڑا ہوں
غموں سے چھڑا دو، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
محمد ہمارے رسول ﷲ

خطا مجھ سے ہوگئی، خطا میری بخش دو
آگ میں نہ ڈالو، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
محمد ہمارے رسول ﷲ

بندہ ہوں میں تیرا، چھوڑوں گا نہ تجھ کو
مجھے بھول نہ نالو، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
محمد ہمارے رسول ﷲ

گہن میں نہ آؤ گے، چمکتے تم رہو گے
قبر تم سجالو، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
محمد ہمارے رسول ﷲ

اسکالر سید محمد علی قمرؔ

مانگنے والو! خدا سے یہ دعائیں مانگو
دین و دنیا ہی کی حکمت کا خزینہ مانگو
مانگنا آئے نہ تم کو تو قرینہ مانگو
مانگنے والو! خدا سے یہ دعائیں مانگو

مانگنے والو! خدا سے اس کی قربت مانگو
مانگنے والو! خدا سے جانِ راحت مانگو
مانگنے والو! خدا سے شان و شوکت مانگو
مانگنے والو! خدا سے علم و حکمت مانگو
روشنی دل میں ہو جس سے وہ نگینہ مانگو
مانگنا آئے نہ تم کو تو قرینہ مانگو

جب بھی مانگو تم خدا سے تو یہ سودا مانگو
جب بھی مانگو تم خدا سے اپنی عقبیٰ مانگو
جب بھی مانگو تم خدا سے اس کی چاہت مانگو
جب بھی مانگو تم خدا سے اس کی رحمت مانگو
مانگنے والو! نہ ڈوبے وہ سفینہ مانگو
مانگنا آئے نہ تم کو تو قرینہ مانگو

روزِ محشر میں خدایا ہم کو ذلت سے بچا
دھوپ کی شدت ہو جس دم ابرِ رحمت میں چھپا
نیک بندوں میں جو شامل کر لے اپنے ہم کو
بخش دے اپنی وہ جنت حوریں دے دے ہم کو
اس سے جنت میں بھی رہنے کا سلیقہ مانگو
مانگنا آئے نہ تم کو تو قرینہ مانگو

روشنی تو ہے قمرؔ صرف شب کے واسطے
نورِ عرفاں ہے مگر اے دوست سب کے واسطے
کیوں نہ مانگیں ہم خدا سے نورِ عرفاں مل کر
آؤ لکھ لیں مومنوں بس نامِ ﷲ دل پر
شرک سے پاک جو ہو ایسا دفینہ مانگو
مانگنا آئے نہ تم کو تو قرینہ مانگو

اسکالر سید محمد علی قمرؔ

اُس علی کی سب ہے جستجو، جو علی ہے جلّ جلالہٗ
یہ اسی کا ذکر ہے کو بہ کو، جو علی ہے جلّ جلالہٗ

وہ رحیم ہے وہ کریم ہے، یہ اس کا لطفِ عظیم ہے
کہ رگِ حیات میں ہے لہو، جو علی ہے جلّ جلالہٗ

نہ یہ نام ہے نہ یہ ذات ہے، یہ اسی کا اسمِ صفات ہے
اس علی کا نام ہے سرخرو، جو علی ہے جلّ جلالہٗ

یہ عقیدتوں میں جوش ہے، نہ یہ عقل ہے نہ یہ ہوش ہے
وہ علی نہ آئے گا روبرو، جو علی ہے جلّ جلالہٗ

ہے جمال اس کا اِدھر اُدھر، ہیں اسی کے ذکر میں بحر و بر
کہ ثنا اسی کی ہے چار سو، جو علی ہے جلّ جلالہٗ

جب علیؑ نے نامِ علی لیا، تو وہ بابِ ظلم اکھڑ گیا
کہ کیا اسی نے ہے سرخرو، جو علی ہے جلّ جلالہٗ

یہ بشر کے ذہن کا وہم ہے، نہ یہ عقل ہے نہ فہم ہے
کہ اسی کا سب میں ہے رنگ و بو، جو علی ہے جلّ جلالہٗ

اس علی سے جو بھی طلب کیا، وہ بغیرِ عذر کے مل گیا
ہے عجیب اس میں عطا کی خو، جو علی ہے جلّ جلالہٗ

یہ عجیب تیرا قماش ہے، ہے عبث جو اس کی تلاش ہے
کہ آئینہ ہے تیرے روبرو، جو علی ہے جلّ جلالہٗ

نہ علی علی کی دہائی ہو، نہ ہوں مشکلیں نہ کشائی ہو
کہ ہے اس علی میں کرم کی خو، جو علی ہے جلّ جلالہٗ

یہ تیرا خیال، تیرا یقین، یہ کبھی درست نہیں! نہیں
طلبِ کلام ہے دو بدو، جو علی ہے جلّ جلالہٗ

تیرے دل میں اے قمرؔ اگر، جو علی علی ہے بسا ہوا
تو درست ہے تیری آرزو، جو علی ہے جلّ جلالہٗ

اسکالر سید محمد علی قمرؔ

مشکل کشاء کل ہے غفور الرحیم ہے
مولا بھی ہے علی بھی، علی العظیم ہے

خلائق کائنات ولی الوسیم ہے
رحمٰن ہے، رحیم جلیل القدیم ہے

وہ رب کائنات ہے یکتا و بے مثال
بے حد بھی ہے، احد بھی سفیر و مقیم ہے

اس کے صفات و وصف بیاں ہوں تو کس طرح
وہ دافع البلا ہے خبیر و قسیم ہے

تخلیق کائنات کا سہرا ہے اس کے سر
قدرت میں اس کی حسن چمن ہے نسیم ہے

وہ بے خبر نہیں ہے نشیب و فراز سے
وارث بھی ہے خبیر و علی و علیم ہے

کام آگیا علیؑ کے جو میدان جنگ میں
ایسا علی ہے جو عظیم و حکیم ہے

ہر حال میں علی کو پکارو بزعم خود
ذاتِ علی سمیع و بصیر و کریم ہے

ام الکتاب اسمِ صداقت کی ہے گواہ
کہتے تھے خود علی وہ علی العظیم ہے

پوچھا علیؑ سے جب بھی علی کی صفات کو
بولے کہ وہ علی ہے غفور الرحیم ہے

وسعت پہ دو جہاں کی مسلط ہے اس کی ذات
ہر شے میں جلوہ گر ہے، دلوں میں مقیم ہے

جب بھی لیا علیؑ نے مدد کو علی کا نام
مشکل کشاء ہوا وہ علی جو عظیم ہے

اے قمرؔ فنا ہے جو بھی ہے اس کائنات میں
باقی ہے صرف ذاتِ علی جو قدیم ہے

اسکالر سید محمد علی قمرؔ

جشنِ آمدِ قرآن ﷲ ہی ﷲ
اس سے تازہ ہو ایمان ﷲ ہی ﷲ

اس کی باتیں کوئی بھی بدل نہ سکے
اس کی دوری سے کوئی سنبھل نہ سکے
اس کو پڑھ کر کوئی بھی پھسل نہ سکے
اس کو کوئی کبھی بھی کچل نہ سکے
اس کا ثانی کبھی بھی نکل نہ سکے
یہ ہے ﷲ کا فرمان ﷲ ہی ﷲ

قصہ یوسف کا تم کو سنایا کس نے
نوح کی کشتی کو یارو بچایا کس نے
تم کو انساں سے انساں بنایا کس نے
بت کدوں کو جہاں سے مٹایا کس نے
بی بی مریم کو کس نے سہارا دیا
یہ ہے ﷲ کا احسان ﷲ ہی ﷲ

حق سے باطل کو یارو مٹانے آگیا
ہر برے کو اچھا یارو بنانے آگیا
پچھلے لوگوں کے قصے سنانے آگیا
ان کو کیوں ہے مٹایا یہ بتانے آگیا
تم کو جنت کی خبریں سنانے آگیا
یہ ہے ﷲ کا فرقان ﷲ ہی ﷲ

سارے ولیوں کا داتا بتاؤ کون ہے
سب اماموں کا مولیٰ بتاؤ کون ہے
سب خداؤں سے اعلیٰ بتاؤ کون ہے
سب کے ذہنوں سے بالا بتاؤ کون ہے
جس کے سارے ولی و امام ہیں غلام
یہ تو ہے ﷲ کی شان ﷲ ہی ﷲ

یہ شمس و قمرؔ کیا اک حقیقت نہیں
یہ جنگل یہ بحر و بر کیا اک حقیقت نہیں
یہ ستارے کیا اک حقیقت نہیں
یہ نظارے کیا اک حقیقت نہیں
یہ تو سب ہیں اس کی قدرت کے نشاں
پھر کیوں ہیں یہ بدگمان ﷲ ہی ﷲ

جشنِ آمدِ قرآن ﷲ ہی ﷲ
اس سے تازہ ہو ایمان ﷲ ہی ﷲ

اسکالر سید محمد علی قمرؔ

یہ سب تیرا ہی کرم ہے ﷲ کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے
میں اس کرم کے کہاں تھا قابل یہ سب تیری بندہ پروری ہے

کسی کا احسان کیوں اٹھاؤں کسی کو حالات کیوں بتاؤں
مجھے یقیں ہے کہ دے گا ﷲ اسی لیے اُسی سے لو لگی ہے

یہ سب تیرا ہی کرم ہے ﷲ کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے

نذیر بھیجے، بشیر بھیجے، یہاں سراج منیر بھیجے
یہ سب ہیں تیرے کرم کی باتیں رحم کی چادر تنی ہوئی ہے

یہ سب تیرا ہی کرم ہے ﷲ کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے

گلوں سے تو نے سجایا گلشن، قمرؔ سے تو نے کیا ہے روشن
یہ سب ہے یا رب تیری صناعی، جہاں میں روشنی ہو رہی ہے

یہ سب تیرا ہی کرم ہے ﷲ کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے
میں اس کرم کے کہاں تھا قابل یہ سب تیری بندہ پروری ہے

اسکالر سید محمد علی قمرؔ