تیری توصیف کروں کیسے بیاں
میرے الفاظ میں طاقت ہے کہاں
مجھ میں ہمت ہے نہ طاقت اتنی
کیسے ڈھونڈوں تیری قدر کے نشاں
میرے مالک مجھے ہو جائے عطا
تیری الفت تیری چاہت کا نشاں
جو کرے تیری ثناء ہر پل
ہم کو یارب ہو عطا ایسی زباں
کون کہتا ہے تو نظر نہیں آتا
ذرے ذرے سے تو ہوتا ہے عیاں
دل کی دھڑکن یہ بتاتی ہے
نام ﷲ ہے میرے دل میں نہاں
چھوڑ دو ذکر ستاروں کا قمر
ورد ﷲ ہی سے ملتی ہے اماں
اسکالر سید محمد علی قمرؔ