|
خدمتِ خلق • انسانیت کی خدمت
براہِ کرم انتظار کریں...

تعارف
Introduction

ہم ﷲ کے حضور سربسجود ہو کر انتہائی عجز و انکساری کے ساتھ ﷲ رب العالمین کا احسان مند ہیں۔ جس کی ذاتِ اقدس و اعلیٰ حیّ و قیوم کے بے پایاں فضل وکرم سے اس حقیر و ناچیز بندے نے 1988ء سے قرآن کا ترجمہ پڑھنا اور سمجھنا شروع کیا۔
مترجم نے دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق قرآنِ مبین کے نسخہ کا ترجمہ انتہائی سلیس اور آسان اردو زبان میں کرنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش کی ہے۔قرآنِ مبین کے نسخہ کا ترجمہ انتہائی سلیس اور آسان اردو زبان میں کرنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش کی ہے۔
امید ہے مترجم کی اس کاوش سے آپ استفادہ کریں گے اور یہ افادۂ عام کیلئے بہترین کاوش ثابت ہو۔ ﷲ ہماری بھول چوک اور کوتاہیوں سے درگزر فرمائے اور ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے (بیشک ﷲ قبول و مقبول فرمانے والا ہے)۔
ہم ﷲ سے دعا گو ہیں ہمارے آپس کے تمام اختلاف جو ہم نے ضدا ضدی میں بنا لیئے ہیں دنیا ہی میں ختم کر دے اور ہمیں ایک امۃ مسلمہ (ﷲ کے آگے سر جھکانے والی قوم) بنا دے(بیشک ﷲ ہی آپس کے اختلاف ختم کرنے والا ہے)۔

مترجم: اسکالر سید محمد علی (ایڈیٹر ایجوکیشن نیوز)۔


الفاتحہ
Surah 1

ﷲ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

شکر ہے ﷲ کا (جو) جہانوں کا پالنے والا ہے{۱}
(بندوں سے) پیار کرنے والا، ان پر رحم فرمانے والا ہے{۲}
اور حساب کے دن کا مالک ہے{۳}
(اے ﷲ) ہم تیری بندگی کرتے اور تجھ سے مدد (مرادیں) مانگتے ہیں{۴}
ہم کو سیدھی (دینی و دنیاوی کامیابی کی) راہ دِکھا (یعنی){۵}
وہ راہ جس پر تیرا احسان ہو{۶}
نہ کہ (وہ راہ) جس پر تو غصہ ہو اور ہم بھٹک جائیں{۷}

(ربنا وتقبل دعا)
(اے ہمارے پالنے والے ﷲ ہماری دعا قبول فرما)

البقرہ
Surah 2

ﷲ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

الف، لام، میم{۱}
یہ وہ کتاب ہے جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ گناہوں سے بچنے والے لوگوں کو ہدایت دیتی ہے {۲}
جو ان دیکھے ﷲ پر یقین رکھتے ہیں۔ اور صلات کرتے (ﷲ کی طرف متوجہ ہو کر دعا کرتے اور عبادت کرتے) ہیں۔ اور ﷲ کا دیا مال ﷲ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں{۳}
اور جو کلام (محمدؑ) تم پر اُترتا ہے اور جو تم سے پہلے (پیغمبروں پر توریت، زبور اور انجیل) اُترا تھااُس پر یقین رکھتے ہیں اور آخرت کے حساب پر یقین رکھتے ہیں{۴}
انہی کو اپنے پالنے والے (ﷲ)سے ہدایت ملے گی اور وہی (دنیا و آخرت میں) فلاح پائیں گے {۵}
اور جو لوگ حق کا انکار کرنے والے ہیں اُن کے لئے برابر ہے تم سمجھائو یا نہیں سمجھائو۔ وہ ماننے والے نہیں{۶}
ﷲ نے اُن کے دلوں اور کانوں پر مہر لگادی ہے۔ اُن کی آنکھوں پر پردے پڑے ہیں۔ اُن کے لئے سخت عذاب ہے{۷}
ان میں بعض ایسے ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے ہیں ﷲ پر اور روزِ آخرت پر، مگر وہ ایمان والے نہیں ہیں{۸}
وہ ﷲ کو اور اہل ایمان کو دھوکہ دیتے ہیں اور نہیں جانتے کہ وہ خود (اپنے نفس) کو دھوکہ دیتے ہیں{۹}
اُن کے دلوں میں روگ ہے تو ﷲ اُن کا روگ (انکے اعمال کے سبب) بڑھائے گا اور اُن کو سخت عذاب دے گا کیونکہ یہ (سچ کو) جھٹلاتے ہیں{۱۰}
اِن سے کہو کہ دنیا میں فساد مت پھیلائو تو کہتے ہیں ہم تو اصلاح (معاشرہ) کرنے والے ہیں{۱۱}
مگر یہی فساد کرنے والے ہیں اور سمجھتے نہیں{۱۲}
اِن سے کہا جائے کہ ایمان لے آئو جیسے دوسرے ایمان لائے ہیں تو کہتے ہیں کیا ہم گنواروں کی طرح ایمان لے آئیں۔ حالانکہ یہی گنوار ہیں اور نہیں جانتے{۱۳}
یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب اپنے جیسے سرکشی، نافرمانی کرنے والوں میں جاتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں اور اُن (اہل ایمان) سے تو محض دل لگی کرتے ہیں{۱۴}
ﷲ اِن سے دل لگی کرے گا۔ ابھی اِن کی شرارت کو ڈھیل دے رہا ہے تاکہ غافل پڑے رہیں{۱۵}
یہ لوگ ہدایت کی جگہ گمراہی بیچتے ہیں تو ایسی تجارت میں کیا بھلائی ہوگی۔ یہ کبھی نہیں سدھریں گے{۱۶}
اِن کی مثال اُن لوگوں جیسی ہے جنہوں نے اندھیری رات میں آگ جلائی کہ اس کی روشنی میں آس پاس دیکھیں اتنے میں ﷲ وہ آگ بجھا دے اور اُن کو اندھیرے میں چھوڑ دے اب کچھ دکھائی نہیں دیتا{۱۷}
گویا اندھے بہرے اور گونگے بیٹھے ہیں واپس بھی نہیں آسکتے{۱۸}
یا پھر جیسے آسمان سے بارش ہو رہی ہو ہر طرف اندھیرا ہو اور اس میں بجلیاں چمکنے اور گرجنے لگیں تو ڈر کر کانوں میں انگلیاں دے لیں اور بجلی کی کڑک سے موت کا خوف طاری ہوجائے۔ ﷲ نافرمانوں کو اسی طرح گھیرتا ہے{۱۹}
کبھی بجلی کی چمک سے آنکھیں چوندھیا جائیں کبھی اُس کی روشنی میں آگے چل پڑیں اور اندھیرا ہوجائے تو رُک جائیں، ﷲ چاہے تو اِن کی سنوائی اور بینائی ضائع کر دے۔ بلاشبہ ﷲ ہر چیز کی قدرت رکھتا ہے{۲۰}
اے لوگو! اپنے پالنے والے(ﷲ) کی بندگی قبول کرو جس نے تمہیں تخلیق کیا اور تمہارے بزرگوں کو بھی تخلیق کیا تھا شاید تم اُس کے عذاب سے ڈرنے لگو{۲۱}
جس نے زمین کو تمہارا فرش بنایا اور آسمان کو چھت۔ وہ آسمان سے پانی برساتا ہے جس سے پھل اور غلہ اگتا ہے جو تمہارا رزق ہے پس تم (یہ سب حقیقت) جانتے بوجھتے ہوئے کسی کو (لِلّٰہِ اَندَادً) ﷲ کا شریک، ﷲ کا رفیق (یعنی اولیاء اور وسیلہ) مت بنائو{۲۲}
جو کلام ہم اپنے بندے (محمدؑ) پر اُتارتے ہیں اِس میں تمہیں شک ہے تو ایسی کوئی سورت تم خود بنا لائو اور ﷲ کے سوا جو تمہارے دستگیر (مددگار) ہوں ان کو بھی بلالو اگر تم سچے ہو{۲۳}
اور ایسا نہیں کرسکو جو یقینا نہیں کرسکو گے۔ تو اُس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ وہ حق کا انکار کرنے والوں کے لئے تیار کی گئی ہے{۲۴}
اور ایمان لانے والوں اور اچھے کام کرنے والوں کو خوشخبری سنادو اُن کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے دریا بہتے ہوں گے۔ یہ لوگ اُن پھلوں کو کھائیں گے جو وہاں ملیں گے تو کہیں گے (متشابہا) یہ وہی ہیں جو ہم کھاتے تھے اور وہ ویسے ہی ہوں گے۔ وہاں اُن کو پاک بیویاں دی جائیں گی جو ہمیشہ ساتھ رہیں گی{۲۵}
اور ﷲ ایسی کہاوت سے نہیں شرماتا کہ مچھر ہے اور اس کی بڑائی کیا ہے۔ جو اہل ایمان ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس میں ﷲ کی سچائی ہے مگر جو نافرمان ہیں پوچھیں گے ﷲ اس مثال سے کیا چاہتا ہے۔ (کہو) یہ بہتوں کو بھٹکا دے گی اور بہتوں کو ہدایت دے گی اور بھٹکتے تو وہی ہیں جو گنہگار ہیں{۲۶}
جو لوگ ﷲ سے پکا عہد کرنے کے بعد توڑ ڈالتے ہیں اور جن رشتوں کو جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے اُن کو توڑ ڈالتے ہیں اور ملک میں فساد پھیلاتے پھرتے ہیں وہ نقصان اُٹھانے والے لوگ ہیں{۲۷}
لوگو! تم ﷲ کے وجود سے انکار کیسے کرسکتے ہو۔ تم بے جان تھے (اُس نے) تم میں جان ڈالی، پھر وہ تم کو موت دیتا ہے، پھر زندہ کر کے اُٹھائے گا، پھر تم کو اُس کے سامنے حاضر ہونا ہے{۲۸}
اُس نے دنیا کی تمام چیزیں تمہارے (یعنی انسانوں کے) لئے بنائی ہیں۔ وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور سات آسمان بنا ڈالے۔ وہ سب کچھ جانتا ہے{۲۹}
تمہارے پالنے والے (ﷲ) نے فرشتوں سے کہا میں زمین پر اپنا خلیفہ(نائب) مقرر کرنا چاہتا ہوں۔ (فرشتے) بولے کیا ایسی مخلوق کو مقرر کرے گا جو وہاں فساد برپا کرے اور خون بہائے۔ ہم تیرے شکر کے ساتھ تیری پاکی و خوبیاں بیان کرتے ہیں۔ ہم نے کہا میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے{۳۰}
پھر ہم نے آدمؑ کو تمام چیزوں کے نام سکھا دئیے اور اُس کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا سچے ہو تو اِس طرح چیزوں کے نام بتائو{۳۱}
(فرشتے) بولے تو پاک ہے۔ ہم تو اُتنا ہی جانتے ہیں جتنا تو نے سکھایا ہے اور تو ہی سب کچھ جاننے والا ہے۔ تو ہی حکمت و دانائی کا مالک ہے{۳۲}
اور ہم نے کہا اے آدمؑ! اِن کو اِن کے نام بتائو تو آدم نے اُن کو اُن کے نام بتا دئیے۔ (پھر ﷲ نے کہا) میں نے کہا تھا کہ میں ہی آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو جانتا ہوں اور وہ بھی جانتا ہوں جو تم چھپاتے یا ظاہر کرتے ہو{۳۳}
پھر ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ وہ اکڑ گیا اور غرور میں آگیا اور نافرمانوں میں سے ہوگیا{۳۴}
پھر ہم نے کہا اے آدمؑ! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور جہاں سے چاہو کھائو پیو۔ مگر اُس درخت کے پاس نہیں جانا ورنہ تم بھی ظالموں (نافرمانوں) میں شمار ہوگے{۳۵}
پھر سرکشی، نافرمانی کرنے والے نے اُن کو بہکا دیا اور جہاں وہ رہتے تھے وہاں سے نکلوا دیا۔ ہم نے کہا جائو تم ایک دوسرے کے دشمن رہوگے۔ تمہارا ٹھکانہ زمین ہے۔ وہاں معینہ مدت تک(جینااور) فائدہ اُٹھانا {۳۶}
پھر آدم نے اپنے پالنے والے(ﷲ) سے کچھ اور باتیں سیکھیں اور توبہ کرلی۔ بلاشبہ ﷲ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحم کھانے والا ہے{۳۷}
اور ہم نے کہا تم سب یہاں سے جائو اور جب میری طرف سے کوئی ہدایت کرنے والا تمہارے پاس آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا اُسے کوئی خوف ہوگا نہ غم{۳۸}
لیکن جو لوگ نافرمانی کریں گے اور ہماری باتوں (یعنی ﷲ کی حدیثوں) کو جھٹلائیں گے وہ آگ میں جلیں گے اور وہاں ہمیشہ رہیں گے{۳۹}
اے بنی اسرائیل! ہماری نوازشیں یاد کرو جو ہم نے تم پر کی تھیں اور مجھ سے ایفائے عہد کرو تو میں بھی اپنا عہد پورا کروں اور مجھ سے ڈرو{۴۰}
جو ہدایت (قرآن) ہم بھیج رہے ہیں اس پر ایمان لائو۔ یہ تمہاری (آسمانی) کتاب کی جو تمہارے پاس ہے تصدیق کرتی ہے اور تم پہلے انکار کرنے والے نہیں بنو اور میرے کلام (باتوں) کو تھوڑے سے فائدے کیلئے نہیں بیچو میرا خوف کرو{۴۱}
تم سچ کو جھوٹ کے ساتھ نہیں ملائو۔ نہ سچائی کو جان بوجھ کر چھپائو{۴۲}
صلات کرتے رہو، زکوٰۃ دیتے رہو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو{۴۳}
تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود کو بھول جاتے ہو حالانکہ اپنی کتاب پڑھتے ہو تو کیا سمجھتے نہیں{۴۴}
اور تم محنت میں اور صلات میں (ﷲ سے) مدد حاصل کرو کیونکہ یہ دشوار ضرور ہیں مگر ﷲ کے عذاب سے ڈرنے والوں کیلئے ایسی دشوار نہیں{۴۵}
جو یقین رکھتے ہیں اُنہیں ﷲ سے ملنا ہے اور اُس کے سامنے جانا ہے{۴۶}
اے بنی اسرائیل! ہماری مہربانیاں یاد کرو۔ ہم نے تم کو کیسی کیسی نعمتیں دی تھیں اور تم کو اہلِ عالم پر فضیلت دی تھی{۴۷}
اور اُس دن (روزِ آخرت) سے ڈرو جب کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا اور نہ کسی کی سفارش چلے گی، نہ کسی سے کسی طرح کا بدلہ قبول کیا جائے، نہ کوئی مدد کرسکے گا{۴۸}
ہم نے تمہیں آلِ فرعون سے نجات دلائی جو تمہیں سخت عذاب میں ڈالے ہوئے تھے۔ وہ تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور بیٹیوں کو چھوڑ دیتے تھے۔ اور اِس عذاب میں تمہارے پالنے والے(ﷲ)کی طرف سے (سخت) آزمائش تھی{۴۹}
پھر ہم نے تمہارے لئے سمندر کو پھاڑا اور تمہیں بچالیا اور آلِ فرعون کو ڈُبا دیا اور (بنی اسرائیل) تم دیکھ رہے تھے{۵۰}
پھر ہم نے جب موسیٰ کو وعدے کے مطابق چالیس راتوں کے لئے پہاڑ پر بلایا تو تم اُس کے پیچھے بچھڑے کو پوجنے لگے اور تم ظالم ہوگئے{۵۱}
پھر بھی ہم نے تم کو معاف کر دیا کہ شاید احسان ماننے والے بن جائو{۵۲}
ہم نے موسیٰ کو کتاب اور فرقان (کسوٹی) دی کہ شاید تم ہدایت یاب ہوجائو{۵۳}
موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا بھائیو! بچھڑے کو پوج کر تم نے خود پر ظلم کیا ہے۔ اس لئے توبہ کرو اور اپنے نفس کو مار ڈالو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے کہ تمہارا خالق تمہارے قصور معاف کر دے۔ بلاشبہ وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا رحیم ہے{۵۴}
تو تم موسیٰ سے کہنے لگے ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک تمہارے پا لنے والے(ﷲ) کو اپنے سامنے نہیں دیکھ لیں پس تم پر بجلی کڑکی اور تم دیکھتے رہ گئے{۵۵}
اُس کے بعد ہم نے تم کو دوبارہ زندہ کیا کہ شاید احسان مانو{۵۶}
ہم نے تم پر بادلوں کا سایہ رکھا اور من و سلویٰ اُتارا کہ پاک چیزیں کھائو جو ہم دیتے ہیں اور ہم نے اُن پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود پر ظلم کرتے تھے{۵۷}
پھر ہم نے کہا اس بستی میں داخل ہوجائو اور جو چاہو کھائو پیو مگر جب دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا اور کہنا حِطتہٌ (بخش دے) تو ہم تمہارے گناہ بخش دیں گے اور زیادہ احسانات کریں گے{۵۸}
تو ظالموں نے وہ لفظ بدل دیا جو کہنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اور کچھ اور ہی کہنے لگے تو ہم نے اُن پر آسمان سے عذاب اُتارا کیونکہ وہ فاسق (بدکردار) و گنہگار لوگ تھے{۵۹}
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لئے پانی مانگا۔ ہم نے کہا اپنے عصا کو پتھر پر مارو۔ اُس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور سب نے اپنے اپنے گھاٹ مقرر کرلئے۔ ہم نے کہا کھائو پیو ﷲ کے دئیے ہوئے رزق سے اور زمین پر فساد کرتے مت پھرو{۶۰}
تب کہنے لگے اے موسیٰ ہم ایک ہی کھانے پرتحمل نہیں کرسکتے۔ ہمارے لئے اپنے پالنے والے(ﷲ)سے دُعا کرو کہ زمین سے اُگنے والی ترکاریاں، ککڑیاں، گیہوں، مسور اور پیاز بھی دے۔ موسیٰ نے کہا تم اچھی چیزیں چھوڑ کر معمولی چیزیں مانگتے ہو تو پھر مصر چلے جائو جو چاہو گے ملے گا۔ تو ہم نے اُن پر ذلت و بے چارگی ڈال دی اور وہ ﷲ کے غضب میں آگئے اِس لئے کہ وہ ﷲ کی باتوں (حدیثوں) کو جھٹلاتے تھے اور اپنے رسولوں کو ناحق قتل کرتے تھے۔ نافرمانوں اور خودسروں کی یہی سزا ہے{۶۱}
بلاشبہ ایمان لانے والے، خواہ یہودی، خواہ عیسائی، خواہ ستارہ پرست جو بھی ﷲ پر اور اُس کے روزِ آخرت (حساب کے دن) پر ایمان لائے گا اور اچھے کام کرے گا اُس کو پالنے والے(ﷲ)کے پاس اچھا اجر ملے گا۔ اُسے کوئی خوف ہوگا نہ غم{۶۲}
جب ہم نے تم سے عہد لیا اور تم کو طور پر اٹھا کھڑا کیا اور کہا کہ جو کتاب ہم دے رہے ہیں اسے مضبوطی سے تھامے رہنا اور جو لکھا ہے اسے پڑھتے رہنا اس سے تم گناہوں سے بچنے والے بن جائوں گے{۶۳}
مگر تم اس کے بعد (عہد سے) پھر گئے (یعنی نافرمان ہوگئے) اگر ﷲ کا فضل اور رحمت شامل حال نہیں ہوتی تو تم نقصان میں پڑجاتے{۶۴}
اور تم اُن کو جانتے ہوگے جو تم میں سے ہفتے کے دن کی نافرمانی کرنے لگے تھے تو ہم نے اُن سے کہا جائو ذلیل بندر کی طرح (بے گھر بے وطن) ہوجائو{۶۵}
اور اِس واقعہ کو ہم نے اُن کے اور اُن کے بعد آنے والوں اور ﷲ (کے عذاب) سے ڈرنے والوں کے لئے ایک نصیحت بنا دیا{۶۶}
پھر موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا ﷲ حکم دیتا ہے کہ تم ایک بیل کاٹو۔ بولے تم ہم سے مذاق کرتے ہو۔ کہا میں ﷲ سے پناہ مانگتا ہوں۔ کیا میں جاہلوں میں سے ہوں{۶۷}
بولے پھر اپنے پالنے والے(ﷲ)سے پوچھ کر بتائو وہ کیسا ہو۔ کہا ﷲ فرماتا ہے کہ وہ نہ زیادہ بوڑھا ہو نہ بالکل بچہ درمیانی ہو۔ پس کر ڈالو جو حکم ملا ہے{۶۸}
بولے اپنے پالنے والے(ﷲ)سے پوچھو اُس کا رنگ کیسا ہو۔ کہا ﷲ فرماتا ہے ایک زرد بیل لو جس کا رنگ گہرا ہو جو نظروںکو بھائے{۶۹}
تب بولے ایک چیز اور پوچھ آئو کہ کون سا بیل کاٹیں کیونکہ بیل تو (تشابہ) سب ایک جیسے ہیں (ان شاء اللّٰہ) اگر ﷲ نے چاہا تو ہم سمجھ جائیں گے{۷۰}
موسیٰ نے کہا ﷲ فرماتا ہے وہ کام میں لگا ہوا نہیں ہو، نہ کھیتی میں جتا ہو، نہ رہٹ پر چلا ہو اور اُس میں کوئی نقص یا داغ نہیں ہو۔ بولے اب ہم کو سچ پہنچ گیا اور اُسے ذبح کیا مگر وہ ذبح کرنا نہیں چاہتے تھے{۷۱}
پھر (موسیٰ) تم نے ایک شخص کو قتل کر ڈالا اور آپس میں جھگڑنے لگے تو ﷲ نے وہ راز فاش کر دیا جو تم چھپا رہے تھے{۷۲}
ہم نے حکم دیا اُس کے جسم پر کسی چیز سے ضرب لگائو تاکہ جان سکو کہ ﷲ اِس طرح (مصنوعی تنفس کے ذریعہ)بھی مردوں کو جلا سکتا ہے۔ وہ اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم غور کرو اور سمجھو{۷۳}
پھر اُس نے تمہارے دل سخت کر دئیے گویا وہ پتھر ہوگئے بلکہ پتھر سے زیادہ سخت ہوگئے کیونکہ بعض پتھروں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں اور بعض پھٹ جاتے ہیں اور اُن سے پانی نکلنے لگتا ہے اور بعض ﷲ کے ڈر سے اپنی جگہ سے کھسک جاتے ہیں اور ﷲ تمہارے کاموں سے غافل نہیں ہے{۷۴}
کیا تمہیں یقین ہے کہ یہ (شرارتی) لوگ تم پر ایمان لے آئیں گے جبکہ ان میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ﷲ کا کلام سنے اور سمجھنے کے بعد اس میں جان بوجھ کر تحریف کرتے ہیں{۷۵}
یہ ایمان لانے والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم بھی ایمان لے آئے ہیں اور جب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں تم وہ باتیں اِن (رسول) کو نہیں بتانا جو ﷲ نے تم کو بتائی ہیں تاکہ قیامت کے دن یہ تمہارے پالنے والے(ﷲ)کے سامنے اُن کو حجت نہیں بنا سکیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں{۷۶}
اور نہیں جانتے کہ جو کچھ یہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں ﷲ سب جانتا ہے{۷۷}
اِن میں بعض اَن پڑھ ہیں جو کتاب کو نہیں جانتے (کتابی علم نہیں رکھتے)۔ صرف سنی سنائی پر اکڑتے ہیں اور وہم و گمان سے کام لیتے ہیں{۷۸}
اور اُن پر افسوس ہے جو اپنے ہاتھ سے کتابیں لکھتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ﷲ کے احکام ہیں۔ یہ تھوڑے سے دنیاوی فائدے کے لئے ایسا کاروبار کرتے ہیں تو افسوس ہے اُن پر جو ایسی کتابیں لکھتے ہیں اور افسوس ہے اُن پر جو اُن سے کماتے ہیں{۷۹}
اور (نافرمان لوگ) کہتے ہیں کہ ہم کو جہنم کی آگ چند دن سے زیادہ نہیں چھو سکتی۔ پوچھو کیا تم نے ﷲ سے کوئی وعدہ لے رکھا ہے جو وہ وعدہ خلافی نہیں کرسکتا۔ یہ لوگ ﷲ سے ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جو خود نہیں جانتے{۸۰}
(ﷲ کا قانون تو یہ ہے) جو برے کام کرے گا وہ اپنے گناہوں کیلئے پکڑا جائے گا تو ایسے لوگ جہنم میں جائیں گے اور ہمیشہ اُس میں رہیں گے{۸۱}
لیکن جو ایمان لے آئیں گے اور اچھے کام کریں گے وہ جنت کے حقدار ہوں گے اور وہاں ہمیشہ رہیں گے{۸۲}
اور ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا کہ وہ ﷲ کے سوا کسی کو نہیں پوجیں گے۔ ماں باپ اور رشتے داروں، یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے اور لوگوں کو اچھی باتیں بتائیں گے، صلات قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے مگر تم اپنے وعدوں سے پھر گئے سوائے چند کے اور تم اعتراض کرنے والے ہی رہے{۸۳}
ہم نے تم سے عہد لیا تھا کہ تم آپس میں خونریزی نہیں کرو گے۔ اپنے لوگوں کو ملک سے نہیں نکالو گے اور تم نے اقرار کیا تھا اور تم گواہ بھی بنائے گئے تھے{۸۴}
مگر تم اپنے لوگوں کو قتل کرتے ہو۔ بعض کو وطن سے نکال دیتے ہو۔ اُن پر ظلم اور عناد (کینہ) سے حملہ آور ہوتے ہو اور جب وہ گرفتار ہو کر آتے ہیں تو چھڑا لیتے ہو حالانکہ اُن کا نکالا جانا ہی تم پر حرام تھا۔ تم اپنی کتاب کی بعض باتوں کو مانتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو تو ایسے لوگوں کی سزا اِس کے سوا کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں بھی رسوا ہوں اور قیامت کے دن سخت عذاب میں ڈالے جائیں۔ ﷲ تمہارے کاموں سے بے خبر نہیں ہے{۸۵}
یہ وہ لوگ ہیں جو آخرت کے بدلے دنیا خریدتے ہیں پس اُن کا عذاب کم نہیں ہوگا اور کوئی اُن کی مدد کو نہیں آئے گا{۸۶}
ہم نے موسیٰ کو کتاب دی۔ اُن کے بعد وقفے وقفے سے بنی بھیجتے رہے اور پھر ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو واضح دلیلیں عطا کی اور پاک فیض غیبی طاقت دی۔ مگر جو رسول بھی تمہارے پاس آیا تم نے اُسے پسند نہیں کیا اور غرور میں رہے بعض کو تم نے جھٹلایا اور بعض کو قتل کر دیا{۸۷}
کہتے ہیں ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہیں۔ نہیں، بلکہ ان کے انکار کی وجہ سے ان پر ﷲ کی لعنت ہے۔ اسی لئے اِن میں سے چند ہی ایمان لائے ہیں{۸۸}
اور جب اِن کے پاس ﷲ کی طرف سے ایسی کتاب آئی جو اِن کی (آسمانی) کتابوں کی تصدیق کرتی ہے تو وہی لوگ جو پہلے نافرمانوں پر غلبہ پانے کے لئے ایک ہادی کی دُعا کرتے تھے (تو اس ہادی کو) پہچان لینے کے بعد اُس کا انکار کرنے لگے تو ایسے منکروں پر ﷲ کی لعنت ہے{۸۹}
جس چیز کی خاطر انہوں نے اپنا ضمیر (ایمان) بیچا ہے وہ بری ہے یہ محض حسد کی وجہ سے ﷲ کے کلام کا انکار کرتے ہیں مگر ﷲ اپنا فضل اپنے جس بندے پر چاہتا ہے اُتارتا ہے پس یہ ﷲ کے غیظ و غضب کے مستحق ہیں۔ ایسے نافرمانوں کے لئے ذلت کا عذاب ہے{۹۰}
اِن سے کہو ﷲ کی کتاب (قرآن) پر ایمان لے آئو جو اب اُتری ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اُسی پر ایمان رکھیں گے جو ہم پر اُتری تھی۔ اُس کے علاوہ ہم سب کتابوں کا انکار کرتے ہیں حالانکہ یہ بھی سچی کتاب ہے اور اُن کی (آسمانی) کتاب کی تصدیق کرتی ہے۔ ان سے پوچھو اگر ایسے ہی صاحبِ ایمان تھے تو تم ﷲ کے پچھلے رسولوں کو قتل کیوں کرتے رہے{۹۱}
حتیٰ کہ جب موسیٰ اپنے معجزے اور کتاب لے کر آئے تو تم نے اُن کے پیچھے بچھڑا پوجنا شروع کر دیا اور تم ظالم قرار پائے{۹۲}
اور جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا اور تم کو پہاڑ پر کھڑا کیا اور کہا ہم جو دیتے ہیں اسے سنبھال کر رکھنا اُس کوسننا (تعمیل کرنا)۔ تو کہا ہم سنیں گے مگر مانیں گے نہیں۔ یہ اِس لئے کہ نافرمانی کی وجہ سے بچھڑا اُن کے دلوں میں بسا ہوا تھا۔ اِن سے پوچھو کیا تمہارا ایمان صرف بری باتیں سکھاتا ہے۔ تم کیسے ایمان والے ہو؟{۹۳}
کہو اگر آخرت کا گھر ﷲ نے صرف تمہیں بخش دیا ہے اور دوسروں کا اُس میں دخل نہیں ہوگا تو ذرا موت کی تمنا کر کے دکھائو اگر سچے ہو{۹۴}
مگر قیامت تک یہ اپنے برے اعمال کی وجہ سے ایسی آرزو نہیں کریں گے۔ ﷲ ظالموں کو خوب جانتا ہے{۹۵}
تم اِن کو دوسروں کے مقابلے میں زندگی کا زیادہ حریص (لالچی) پائو گے حتیٰ کہ مشرکوں (ﷲ کے ساتھ شریک ٹھہرانے والوں) سے بھی زیادہ۔ اِن میں ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ ہزار سال جیئے مگر اتنی لمبی عمر مل بھی جائے تو یہ عذاب سے کیسے بچیں گے۔ جو کچھ یہ کرتے ہیں ﷲ دیکھتا ہے{۹۶}
کہہ دو جبرائیل کے دشمنوں سے کہ وہ تو تمہارے دل پر ﷲ کے حکم سے قرآن اُتارتا ہے اور اُن کی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور مومنوں کو ہدایت و خوشخبری دیتا ہے{۹۷}
جو لوگ ﷲ اور اُس کے فرشتوں، اُس کے رسولوں اور جبرائیل و میکائیل کے دشمن ہیں ﷲ ایسے نافرمانوں کا دشمن ہے{۹۸}
اور ہم نے تم پر سلجھی ہوئی آیتیں (حدیثیں) اتاری ہیں انہیں فاسقوں (جھوٹوں) کے سوا کوئی جھٹلا نہیں سکے گا{۹۹}
ان لوگوں سے تم جب عہد و پیماں کرتے ہو ان کا ایک فریق اسے قبول نہیں کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر ایمان نہیں لائیں گے{۱۰۰}
حالانکہ اِن کے پاس ﷲ کا رسول آیا ہے جو اُن کی (آسمانی) کتابوں کی تصدیق کرتا ہے مگر اہلِ کتاب کا ایک فرقہ اُسے ﷲ کا کلام (حدیث) نہیں مانتا گویا اسے پہچانتا ہی نہیں{۱۰۱}
اور اُس (جادو ٹونے) کے پیچھے لگ جاتا ہے جو سلیمان کے زمانے میں سرکشی، نافرمانی کرنے والے (کاہن و نجومی) پڑھا کرتے تھے۔ حالانکہ سلیمان نافرمان نہیں تھے۔ بلکہ سرکشی، نافرمانی کرنے والے ہی نافرمان تھے اور لوگوں کو جادو سکھاتے اور کہتے کہ یہ علم شہر بابل میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر اُتارا تھا۔ اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے جب تک وہ یہ نہیں جتلا دیتے کہ دراصل ہم ایک آزمائش و عذاب ہیں۔ تم اس نافرمانی (جادو) میں نہیں پڑو۔ غرض (یہ جتلانے کے بعد بھی) لوگ ایسا جادو سیکھتے ہیں جس سے میاں بیوی میں لڑائی کرا دیں یا جدائی ڈال دیں۔ مگر ﷲ کے حکم کے بغیر کسی کو نقصان نہیں پہنچتا۔ پھر بھی یہ لوگ ایسی چیزیں (جادو ٹونا) سیکھتے ہیں جن میں نقصان کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ اور جانتے ہیں کہ یہ علم (نجوم، رمل، جفر، فال) جو سیکھے گا اُسے آخرت میں کچھ نہیں ملے گا۔ پس جس چیز کے عوض یہ اپنی جانوں کو بیچتے ہیں وہ بری ہے۔ کاش یہ سمجھتے{۱۰۲}
اگر یہ (یہودی) لوگ ایمان لے آئیں اور گناہ (شرک) سے بچنے والے بن جائیں تو ﷲ اِن کو بہتر اجر دے گا۔ کاش یہ سمجھ سے کام لیں{۱۰۳}
اے ایمان لانے والو! تم راعنا نہیں کہا کرو بلکہ انظرنا (ہمیں دیکھئے) اور اسمعوا (ہماری سنیئے) کہا کرو۔ نافرمانوں کو سخت عذاب ہوگا{۱۰۴}
اہلِ کتاب میں جو نافرمان اور ﷲ کے ساتھ شریک ٹھہرانے والے ہیں پسند نہیں کرتے کہ ﷲ کی طرف سے تم پر خیر و برکت نازل ہوتی رہے لیکن ﷲ جسے چاہتا ہے اپنی مہربانی کیلئے چن لیتا ہے۔ ﷲ بڑا فضل کرنے والا ہے{۱۰۵}
ہم اپنی بعض آیتیں منسوخ کر دیتے ہیں یا تم سے بھلا دیتے ہیں تو اُن سے بہتر یا ویسی ہی اور آیت بھیج دیتے ہیں۔ اور تم جانتے ہو ﷲ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے{۱۰۶}
اور جان لو کہ آسمانوں اور زمین میں ﷲ کی حکومت ہے اور ﷲ کے سوا تمہارا کوئی (ولی) دوست و (نصیر) دستگیر نہیں ہے{۱۰۷}
تم چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے ویسے ہی سوالات کرو جیسے موسیٰ سے کرتے رہے تھے تو جو ایمان چھوڑ کر نافرمانی اختیار کرے سمجھو وہ راستے سے بھٹک گیا{۱۰۸}
اہلِ کتاب چاہتے ہیں کہ تم کو ایمان لانے کے بعد نافرمانی میں لوٹا دیں۔ یہ اُن کے دلوں کا حسد ہے حالانکہ اُن پر اِس دین (اسلام) کی سچائی ثابت ہوچکی ہے پس اُن کو معاف کر دو اور بھول جائو۔ جب تک ﷲ اپنا نیا حکم بھیجے بلاشبہ ﷲ ہر طرح کی قدرت رکھتا ہے{۱۰۹}
پس صلات قائم کرتے رہو اور زکوٰۃ دیتے رہو تم جو بھلائی آگے بھیجو گے اُسے ﷲ کے پاس پائو گے۔ بلاشبہ تم جو کچھ کرتے ہو ﷲ دیکھتا ہے{۱۱۰}
کہتے ہیں یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی جنت میں نہیں جائے گا یہ اُن کی خوش فہمی ہے کہو اگر سچے ہو تو دلیل پیش کرو{۱۱۱}
حالانکہ جو بھی ﷲ کے سامنے گردن جھکا دے (ﷲ پر یقین رکھے) اور وہ نیک بھی ہو اُس کا اجر اُس کے پالنے والے(ﷲ)کے پاس ملے گا۔ ایسے لوگوں کو کوئی خوف ہوگا نہ غم{۱۱۲}
یہودی کہتے ہیں عیسائیوں کے پاس کچھ نہیں ہے اور عیسائی کہتے ہیں یہود کچھ نہیں ہیں۔ حالانکہ وہ ﷲ کی کتاب پڑھتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو کچھ نہیں جانتے (مشرک) اِن دونوں کے بارے میں یہی کہتے ہیں۔ تو ﷲ قیامت کے دن اِن کا فیصلہ کرے گا اور بتلائے گا کہ اصل اختلاف کیا تھا{۱۱۳}
اور اِن سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو ﷲ کے سجدے کرنے سے روکتے ہیں۔ جہاں ﷲ کا ذکر کیا جاتا ہے اُسے تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ اُن کو یہاں ڈرتے ہوئے آنا چاہیے۔ اُن کے لئے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں سخت عذاب ہوگا{۱۱۴}
مشرق و مغرب تو ﷲ کے ہیں تم جدھر رُخ کرلو اُدھر ﷲ موجود ہوگا۔ بے شک ﷲ کا علم بے حد وسیع ہے{۱۱۵}
بعض لوگ کہتے ہیں ﷲ نے ایک بیٹا حاصل کرلیا ہے۔ حالانکہ وہ (ایسے رشتوں سے) پاک ہے۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اسی کا ہے اور سب اسی کے محتاج ہیں{۱۱۶}
اُسی نے آسمانوں اور زمین کو بنایا ہے وہ کچھ کرنا چاہتا ہے تو کُن (ہوجا) کہہ دیتا ہے اور وہ ہوجاتا ہے{۱۱۷}
نادان لوگ کہتے ہیں ﷲ ہم سے باتیں کیوں نہیں کرتا اور ہم کو کوئی نشانی (معجزہ) کیوں نہیں دکھاتا۔ یہی بات ان کے اگلے بھی کہا کرتے تھے اِن لوگوں کے دل (تشابہت) یکساں ہیں۔ ہم اپنا کلام یقین رکھنے والوں کو خوب سمجھا دیتے ہیں{۱۱۸}
بلاشبہ (اے محمدؑ) ہم نے تمہیں سچائی کے ساتھ اہلِ عالم کوخوشخبری سنانے اور ﷲ کے عذاب سے ڈرانے کیلئے بھیجا ہے اور جہنمی لوگوں کے بارے میں تم سے نہیں پوچھا جائے گا{۱۱۹}
تم سے نہ یہودی خوش ہوں گے نہ عیسائی جب تک تم اُن میں شامل نہیںہوجائو۔ اُن سے کہو ﷲ کی ہدایت (قرآن) ہی اصل ہدایت ہے اور تم (قرآنی) ہدایت پانے کے بعد اُن کو خوش رکھنے کی کوشش کرو گے تو پھر ﷲ سے بچانے والا کوئی ولی (دوست)اور دستگیر (مددگار) نہیں ملے گا{۱۲۰}
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے اُن میں بعض اُس کو پڑھنے کا حق ادا کرتے ہیں۔ وہی اس قرآن کو بھی مانتے ہیں۔ اور جو قرآن کو نہیں مانیں گے وہ نقصان اُٹھانے والے لوگ ہوں گے{۱۲۱}
اے بنی اسرائیل میرے احسانات یاد کرو جو میں نے تم پر کئے تھے۔ ہم نے تمہیں اہلِ عالم پر فضیلت دی تھی{۱۲۲}
اور اُس دن سے ڈرو جب کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا نہ کسی سے کوئی بدلہ قبول کیا جائے گا نہ کسی کی سفارش کام آئے گی اور نہ کوئی مددگار ہوگا{۱۲۳}
اور ابراہیم کو بھی اُس کے پالنے والے(ﷲ)نے چند باتوں میں آزمایا جب وہ آزمائش (امتحان) میں پورے اُترے۔ ہم نے کہا میں تم کو بنی نوع انسان کا امام (پیشوا) بناتا ہوں۔ پوچھنے لگے اور میری اولاد کو۔ تو ہم نے کہا ہمارا وعدہ ظالموں کے لئے نہیں ہے{۱۲۴}
اور جب ہم نے کعبہ کو لوگوں کے لیے جمع ہونے اور امن کی جگہ بنایا اور (حکم دیا) ابراہیم اس جگہ عبادت گاہ بنائو۔ اور (ہماری طرف سے) ابراہیم اور اسمٰعیل نے لوگوں سے عہد لیا کہ وہ اس پاک گھر کے مجاور بنیں اور طواف کریں اور رکوع و سجود کریں{۱۲۵}
ابراہیم نے کہا اے پالنے والے (ﷲ) اس ایمان والے شہر کے جو رہنے والے ہیں ﷲ پر اور روزِ آخرت پر ایمان لائیں، ان کو اِس کے پھل کھلانا (فوائد دینا)۔ ہم نے کہا ہاں جو نافرمانی بھی کرے گا اُسے چند دن فائدے اُٹھانے دوں گا پھر اُسے عذابِ جہنم میں ڈال دوں گا اور وہ بری جگہ ہے{۱۲۶}
اور جب ابراہیم و اسمٰعیل اس کی بنیادیں اُٹھا رہے تھے تو کہتے تھے اے پالنے والے (ﷲ) ہم سے ہماری خدمت قبول فرما۔ تو بڑا سننے اور جاننے والا ہے{۱۲۷}
اے پالنے والے(ﷲ)! ہم کو اپنا فرمانبردار رکھنا اور ہماری اولاد کو ایسی اُمت بنانا جو تیری اطاعت گزار اور فرمانبردار ہو اور ہم کو اپنی بندگی کے طریقے سکھا اور ہماری توبہ قبول فرما۔ تُو بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے{۱۲۸}
اور اے مالک ان میں ایک رسول بھیجنا جو تیرا کلام (تیری حدیث) پڑھ کر سنائے اور اُن کو کتاب و حکمت کی باتیں سکھائے۔ اُن کو پاک صاف بنائے۔ بلاشبہ تو ہی عزت و حکمت کا مالک ہے{۱۲۹}
پھر ابراہیم کے عقائد سے کون انکار کرسکتا ہے سوائے بے ضمیروں کے۔ ہم نے (ابراہیم کو) دنیا میں بھی منتخب کیا تھا اور آخرت میں بھی وہ نیک لوگوں کے ساتھ ہوگا{۱۳۰}
اُس کے پالنے والے(ﷲ)نے اُس سے کہا (اَسْلِمْ) میری بندگی تسلیم کرو (یعنی اسلام قبول کرو) تو اُس نے کہا میں تمام جہانوں کے پالنے والے (ﷲ) کی (اَسْلَمْتُ) بندگی تسلیم کرتا ہوں (اسلام قبول کرتا ہوں){۱۳۱}
اور ابراہیم نے اپنے بیٹوں اور یعقوب (پوتے) کو وصیت کی کہ اے بیٹو بلاشبہ ﷲ نے تمہارے لئے یہی ’’اسلام‘‘ کا دین چنا ہے پس جب مرو تو مسلمان(ﷲ کے فرمانبردار) ہی مرنا{۱۳۲}
اور جب یعقوب کو موت آئی تو تم وہاں موجود نہیں تھے۔ وہ اپنے بیٹوں سے پوچھنے لگے میرے بعد کس کی بندگی کرو گے۔ بولے ہم آپ کے اور آپ کے باپ دادا ابراہیم و اسمٰعیل و اسحق کے پالنے والے(ﷲ) کی بندگی کریں گے جو ایک معبود ہے۔ اور ہم اسی کی فرمانبرداری کرتے ہیں{۱۳۳}
مگر وہ ایک اُمت تھی جو گزر گئی اُس کے لئے وہ ہے جو اُس نے کمایا اور تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ ملے گا۔ تم سے نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے رہے{۱۳۴}
تم سے کہتے ہیں کہ تم یہودی یا عیسائی ہوجائو تو راہِ راست پر آجائو گے۔ اِن سے کہہ دو ہم نے ابراہیم کی طرح ایک (ﷲ کے آگے سر جھکانے والا) مذہب اختیار کرلیا ہے۔ وہ مشرک (ﷲ کا بیٹا اور وسیلہ بنانے والے) نہیں تھے{۱۳۵}
اُن سے کہہ دو ہم ﷲ پر ایمان لائے ہیں اور اس کتاب پر جو ہم پر اتری ہے اور اُن صحیفوں پر بھی جو ابراہیم و اسمٰعیل و اسحق و یعقوب اور اس کے نواسوں پر اُترے اور جو کتابیں موسیٰ اور عیسیٰ کو دی گئی تھیں اور اُن پر بھی جو دوسرے رسولوں کو اُن کے پالنے والے(ﷲ) کی طرف سے ملی تھیں ایمان رکھتے ہیں۔ ہم ان میں فرق نہیں کرتے۔ اور ہم صرف مسلمین (ﷲ کے فرمانبردار) ہیں{۱۳۶}
اگر یہ لوگ بھی ایمان لے آئیں جیسے تم لائے ہو تو ہدایت پا جائیں اور نہ مانیں تو سمجھو اُن سے جدائی ہے۔ ان سے مقابلے کے لئے تمہارے لئے ﷲ کافی ہے اور وہ بڑا سننے اور جاننے والا ہے{۱۳۷}
(کہہ دو ہم نے) ﷲ کا رنگ اختیار کرلیا ہے اور ﷲ سے بہتر کس کا رنگ ہے۔ ہم اُسی کی بندگی کرتے ہیں{۱۳۸}
اُن سے کہو تم ﷲ کے بارے میں ہم سے کیوں جھگڑتے ہو۔ وہ ہمارا اور تمہارا پالنے والا ہے اور ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں۔ تمہارے اعمال تمہارے لئے۔ اور ہم تو صرف اُسی کی بندگی کرتے ہیں (شرک سے) خالص کرکے {۱۳۹}
تم سمجھتے ہو کہ ابراہیم و اسمٰعیل و یعقوب اور اُن کے نواسے یہودی یا عیسائی تھے۔ کہو کہ تم زیادہ جانتے ہو یا ﷲ۔ اس سے بڑھ کر ظالم (جاہل) کون ہوگا جو ﷲ کی شہادت کو اپنی کتابوں میں چھپائے۔ تم جو کچھ کرتے ہو ﷲ اُس سے بے خبر نہیں ہے{۱۴۰}
وہ ایک امت تھی جو گزر گئی انہوں نے جو کمایا اُن کو ملے گا اور تم کو تمہاری کمائی ملے گی اور تم سے نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے{۱۴۱}
نادان لوگ کہتے ہیں مسلمان جس قبلے پر پہلے تھے اس سے کیوں منہ موڑنا پڑا۔ اُن سے کہو مشرق اور مغرب سب ﷲ کے ہیں وہ جو بھی ہدایت چاہتا ہے دیتاہے{۱۴۲}
ہم نے تم کو ایک درمیانی اُمت بنایا ہے تاکہ تم ساری انسانیت پر گواہ (شہید) بنو اور رسول تم پر گواہ رہیں۔ اور وہ قبلہ جس پر تم پہلے تھے اس لئے تھا کہ ہم معلوم کریں کون ہمارے رسول کے ساتھ ہے اور کون اُلٹے پائوں واپس جاتا ہے۔ یہ چیز یقینا گراں ہے مگر اُن کے لئے نہیں جن کو ﷲ نے ہدایت دی ہے۔ اور ﷲ تمہارا ایمان ضائع نہیں کرے گا۔ ﷲ انسانوں پر بے حد مہربان اور رحیم ہے{۱۴۳}
ہم تمہارا آسمان کی طرف دیکھنا دیکھ رہے تھے تو ہم نے تم کو تمہاری پسند کا قبلہ دے دیا۔ اب مسجد حرم کے شطرے کی طرف منہ کرو۔ تم جہاں بھی ہو اپنا منہ شطرۂ حرم (مرکز) کی طرف رکھو۔ اہلِ کتاب کو بھی معلوم ہے کہ اُن کے پالنے والے(ﷲ)کے پاس یہی بہتر ہے اور ﷲ تمہارے کاموں سے غافل نہیں ہے{۱۴۴}
تم اہلِ کتاب کے پاس کتنی ہی نشانیاں (معجزے) لے کر جائو وہ تمہارا قبلہ قبول نہیں کریں گے پس تم بھی اُن کے قبلے کو قبول نہیں کرو بلکہ وہ خود بھی ایک دوسرے کے قبلے کو نہیں مانتے۔ یہ سب جاننے کے بعد بھی اُن کی خواہش مان لو گے تو یقینا تم بھی ظالموں (جاہلوں) میں شمار ہوگے{۱۴۵}
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی تھی وہ اُسے (یعنی کعبہ کو) اُسی طرح پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں مگر اِن کا ایک گروہ (یہودی) جان بوجھ کر حقیقت کو چھپاتا ہے{۱۴۶}
یہ حقیقت تمہیں ﷲ بتا رہا ہے پس تم کسی شک و شبہ میں نہیں پڑو{۱۴۷}
ہر اُمت کا ایک مرکز ہوتا ہے اور وہ اُسی کی طرف جھکتی ہے پس تم بھلائیوں کی طرف بڑھو۔ اس طرح تم جہاں بھی ہوگے ﷲ تمہیں ایک مرکز پر جمع کر دے گا۔ اور ﷲ ہر چیز پر قادر ہے{۱۴۸}
(اے مسلمانو!) تم جہاں بھی جائو اپنا منہ مسجد حرم کے شطرے (مرکز) کی طرف پھیر لیا کرو۔ بیشک یہ تمہارے پالنے والے(ﷲ)کا سچا حکم ہے۔ اور ﷲ تمہارے کاموں سے غافل نہیں ہے{۱۴۹}
یعنی تم جہاں بھی رہو اپنا رخ مسجد حرم کے شطرے کی طرف کرلیا کرو اور جہاں تک ہوسکے اپنے مرکز کا دھیان رکھو۔ پھر دوسری قوموں کو تم سے حجت کی ضرورت نہیں ہوگی سوائے ظالموں کے۔ تو اُن سے نہیں ڈرو۔ صرف مجھ سے ڈرتے رہو تاکہ میں تم پر اپنے احسانات پورے کروں اور تم ہدایت یاب ہوجائو{۱۵۰}
(اور احسانات کی طرح) ہم نے تم میں تمہارا جیسا ایک رسول بھیجا ہے جو تم کو ہماری باتیں سناتا ہے اور تمہارا نفس (ضمیر) پاک کرتا ہے تم کو کتاب پڑھاتا ہے اور حکمت کی باتیں سکھاتا ہے یعنی ایسی باتیں جو تم پہلے نہیں جانتے تھے{۱۵۱}
پس مجھے یاد کرتے رہو تاکہ میں تمہیں یاد رکھوں اور میرا احسان مانتے رہو اور ناشکری نہیں کرنا{۱۵۲}
اے ایمان لانے والو! محنت میں اور صلات میں (ﷲ سے) مدد حاصل کرو بیشک ﷲ محنت کرنے والوں کے ساتھ ہے{۱۵۳}
جو لوگ ﷲ کی راہ میں مارے جائیں اُن کو مردہ نہیں کہو۔ وہ زندہ ہیں مگر تم نہیں جانتے{۱۵۴}
اور تم کو بھی تھوڑے خوف، بھوک اور مال کے نقصان اور پھلوں کی قلت سے آزمایا جائے گا۔ تو ثابت قدم رہنے والوں کو خوشخبری دیدو کہ{۱۵۵}
جو لوگ مصیبت کے وقت جب آپڑے تو کہیں ہم ﷲ کے (بندے) ہیں اور اُسی سے رجوع کرتے ہیں (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْن){۱۵۶}
اُن پر ان کے پالنے والے(ﷲ)کی طرف سے (صَلَوٰت) شاباشی اور (رَحْمَت) مہربانی ہوتی رہے گی اور وہی ہدایت یاب لوگ ہیں{۱۵۷}
بے شک صفا و مروہ بھی شعائر ﷲ (قابلِ احترام) ہیں۔ پس جو حج یا عمرہ کرے تو کوئی گناہ (حرج) نہیں اگر اُن کا بھی طواف کرلے۔ جو کوئی بھلا کام کرتا ہے ﷲ اس کی قدر کرتا ہے اور وہ بڑا قدرشناس ہے{۱۵۸}
جو لوگ ہمارے اتارے ہوئے احکام کو چھپائیں گے حالانکہ وہ قرآن میں لکھے ہوئے ہیں اور لوگوں کو معلوم ہوچکے ہیں اُن پر ﷲ کی لعنت ہوگی اور تمام لعنت کرنے والے لعنت کریں گے{۱۵۹}
لیکن جو توبہ کرلیں گے اور اپنی حالت سدھار لیں گے اور ہمارے کلام کا صحیح مطلب بتانے لگیں گے تو میں اُن کا قصور معاف کردوں گا۔ میں بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہوں{۱۶۰}
جو لوگ نافرمان ہوجائیں اور نافرمان ہی مریں۔ ایسوں پر ﷲ کی اور فرشتوں کی تمام لوگوں کی لعنت ہوگی{۱۶۱}
اور وہ اُسی میں ہمیشہ رہیں گے نہ اُن کا عذاب کم ہوگا نہ مہلت ملے گی{۱۶۲}
اور تمہارا مالک تو وہی ایک (ﷲ) ہے اُس کے سوا کوئی مولا (مولیٰ) نہیں اور وہ بڑا دیالو اور رحم کھانے والا ہے{۱۶۳}
بلاشبہ آسمانوں اور زمین کے بنانے میں رات اور دن کے بدلنے میں اور کشتیوں میں جو سمندروں میں چلتی ہیں جن میں انسان کے لئے فائدے ہیں اور پانی جو آسمان سے برستا ہے جس سے مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے اور زمین پر بسنے والے جانوروں میں اور ہوائوں کے چلنے میںا ور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں ان میں عقلمندوں کیلئے قدرت کی نشانیاں ہیں{۱۶۴}
اور انسانوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ﷲ کو چھوڑ کر دوسرے داتا بنالیتے ہیں اور اُن سے ﷲ کی سی محبت کرتے ہیں۔ مگر جو لوگ ایمان لے آتے ہیں وہ سب سے زیادہ ﷲ سے محبت کرتے ہیں۔ کوئی اِن ظالموں (جاہلوں) کو دیکھے جب روزِ حساب یہ عذاب دیکھ کر جان جائیں گے کہ قوت اور قدرت تو صرف ﷲ کو حاصل ہے اور ﷲ سخت سزا دینے والا ہے{۱۶۵}
اِن کے تمام پیشوا اُس دن اپنے پیروئوں اور پوجنے والوں سے بیزار ہوں گے اور عذاب دیکھ کر ایک دوسرے سے لاتعلق ہوجائیں گے{۱۶۶}
اُس وقت اُن کو پوجنے والے کہیں گے کاش ہم کو دنیا میں واپس بھیجا جائے۔ تو جس طرح آج یہ ہم سے بیزار ہیں ہم بھی اُن سے بیزار ہوجائیں گے۔ اِس طرح ﷲ اُن کے اعمال کو حسرت ناک بنا دے گا اور وہ آگ سے نہیں نکل سکیں گے{۱۶۷}
اے لوگو! جو چیزیں دنیا میں حلال اور پاک ہیں وہ کھائو اور پیو اور سرکشی، نافرمانی کرنے والے کے نقشِ قدم پر نہیں چلو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے{۱۶۸}
وہ تم کو بدی اور بدکاری کا حکم دیتا ہے اور ﷲ کے بارے میں ایسی باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے{۱۶۹}
اِن سے کہو ﷲ نے جو کتاب اتاری ہے اُس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں ہم اپنے باپ دادا کے عقیدے، فرقے اور مذہب کی پیروی کریں گے۔ خواہ ان کے باپ دادا کم عقل اور بے ہدایت ہی کیوں نہ ہوں{۱۷۰}
نافرمانوں کی مثال بکری کے بچے کی سی ہے کہ کوئی سنے نہ سنے ممیائیں (پکاریں) گے۔ اسی طرح یہ بھی اپنے گونگے بہرے اندھے پیشوائوں کو پکارتے رہتے ہیں کہ بے عقل لوگ ہیں{۱۷۱}
اے ایمان لانے والو! ہماری دی ہوئی پاک روزی کھائو اور ہمارا احسان مانو اگر ہماری بندگی مقصود ہے{۱۷۲}
ہم نے تم پر صرف یہ چیزیں حرام کی ہیں۔ مرا ہوا جانور اور خون اور سور کا گوشت اور جو جانور ﷲ کے سوا کسی اور کے نام سے ذبح کیا جائے ہاں بھوک سے نڈھال ہوکر کھالو یعنی نافرمانی یا عادت کی بناء پر نہیں تو کوئی گناہ نہیں۔ ﷲ بخشنے والا رحیم ہے{۱۷۳}
جو لوگ ﷲ کے اتارے ہوئے احکام چھپائیں گے اور انہیں تھوڑے سے فائدے کے لئے بیچیں گے وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھریں گے۔ قیامت کے دن ﷲ اُن سے بات نہیں کرے گا اور نہ اُن کو پاک کرے گا۔ اُن کو سخت عذاب دے گا{۱۷۴}
یہ لوگ ہدایت کے بدلے گمراہی اور مغفرت کے بدلے عذاب بیچتے ہیں۔ تو کیا یہ جہنم کی آگ برداشت کرلیں گے{۱۷۵}
ﷲ نے اپنی کتاب سچائیوں کے ساتھ اُتاری ہے۔ جو اِس کتاب میں اختلاف ڈالتے ہیں وہ دشمنی و ضد میں (آ کر نیکی) سے دور ہوگئے{۱۷۶}
نیکی یہ نہیں کہ تم اپنا منہ مشرق کی طرف کرلو یا مغرب کی طرف، نیکی یہ ہے کہ ﷲ اور روزِ آخرت پر، فرشتوں پر، ﷲ کی کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائیں۔ اپنا مال ﷲ کی خوشنودی کے لئے رشتہ داروں، یتیموں، محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو دیں۔ غلاموں کو آزاد کرائیں، صلات قائم کریں، زکوٰۃ دیں اور جب عہد کریں تو اُسے پورا کریں۔ تنگی ترشی اور جنگ میں ثابت قدم رہیں۔ وہی سچے مومن (ایمان والے) ہیں اور وہی گناہوں سے بچنے والے ہیں{۱۷۷}
اے ایمان لانے والو! تم پر قتل کا قصاص فرض کیا جاتا ہے۔ آزاد سے آزاد کا، غلام سے غلام اور عورت سے عورت کا یعنی قاتل کو قتل کر ڈالا جائے خواہ کوئی ہو۔ پھر اگر کوئی اپنے بھائی کو معاف کرنا چاہے تو معروف طریقے پر (دستور کے مطابق) خون بہا (خون کی قیمت) لے لے اور دینے والا خوش دلی سے ادا کر دے۔ یہ رعایت تمہارے پالنے والے(ﷲ)کا ایک احسان ہے۔ اس کے بعد جو زیادتی کرے گا اُسے سخت عذاب ہوگا{۱۷۸}
اور یاد رکھو قصاص میں زندگی (کی ضمانت) ہے۔ اے ہوشمند و! اس سے تم زیادہ گناہوں (قتل و خونریزی) سے بچنے والے بن جائو گے{۱۷۹}
اور یہ بھی فرض کیا جاتا ہے کہ جب کسی پر موت کا وقت آجائے اور وہ ترکہ چھوڑ رہا ہو تو والدین، رشتہ داروں اور بیوی بچوں کیلئے وصیت کرجائے جیسا کہ رواج ہے۔ اور اہلِ تقویٰ کا یہی حق (فرض) ہے{۱۸۰}
پھر اگر وصیت سننے کے بعد کوئی بدل دے تو اس کا گناہ اُن پر ہے جو بدلیں گے۔ ﷲ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے{۱۸۱}
اگر اندیشہ ہو کہ مرنے والے نے طرفداری یا حق تلفی کی ہے تو وارثوں میں سمجھوتہ کرانے کے لئے رد و بدل میں گناہ نہیں۔ بیشک ﷲ بڑا بخشنے والا رحیم ہے{۱۸۲}
اے ایمان لانے والو! تم پر روزے فرض کئے جاتے ہیں جیسے تم سے پہلے اُمتوں پر فرض تھے تاکہ تم گناہوں سے بچنے والے بن جائو{۱۸۳}
یہ گنتی کے دن ہیں۔ تو جو بیمار ہوں یا سفر میں ہوں وہ بعد میں گنتی پوری کرلیں۔ اور جن میں (روزہ رکھنے کی) طاقت نہیں ہو وہ مسکین کو کھانا کھلا کر فدیہ دیں۔ لیکن جو نیک راہ اختیار کرے وہ زیادہ بہتر ہے اور سمجھو تو روزہ رکھنا اچھا ہے{۱۸۴}
اور رمضان کے مہینے میں قرآن نازل ہوا ہے جو ساری انسانیت کے لئے ہدایت ہے اس میں کھرے اور کھوٹے کی جانچ کرنے والی اور زندگی سدھارنے والی باتیں ہیں۔ پس جو اِس مہینے کو پائے وہ روزہ رکھے لیکن جو بیمار ہو یا سفر میں ہو وہ بعد کو گنتی پوری کرلے۔ ﷲ تمہارے لئے آسانیاں چاہتا ہے دشواریاں نہیں چاہتا۔ اور جب روزے پورے کرلو تو ﷲ کی بڑائی بیان کرو کہ ﷲ نے تمہیں توفیق دی اور اُس کا احسان مانو{۱۸۵}
اور تم سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھتے ہیں۔ (اِن سے کہو) کہ میں اُن کے قریب ہوں۔ میں ہر پکارنے والے کی دُعا قبول کرتا ہوں۔ وہ میرے احکام مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تو سیدھی راہ پائیں گے{۱۸۶}
اور رمضان کی راتوں میں مباشرت حلال کی جاتی ہے کہ تم اُن کا پردہ ہو اور وہ تمہاری پردہ پوشی کرنے والی ہیں۔ ﷲ جانتا ہے کہ تم اِس معاملے میں خیانت کر سکتے تھے اِس لئے اُس نے معاف کر دیا اور بخش دیا پس ان کے ساتھ رہو۔ اور ﷲ نے جو کچھ تمہاری تقدیر میں لکھا ہے طلب کرو (اولاد)۔ اور کھاتے پیتے رہو جب تک صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے الگ نظر نہیں آئے۔ پھر روزہ رکھ کر رات تک پورا کرو۔ البتہ جب مسجدوں کے گرد جمع ہو تو مباشرت نہیں کرنا۔ یہ ﷲ کی حدود ہیں ان سے آگے نہیں جانا۔ ﷲ اپنے احکام اسی طرح سمجھاتا ہے تاکہ تم گناہوں سے بچنے والے بن جائو{۱۸۷}
اور دیکھو ایک دوسرے کا مال ناحق نہیں کھانا۔ نہ اُسے حاکموں کے پاس پہنچانا (رشوت) کہ کسی سے جان بوجھ کر ناجائز طریقے سے مالی فائدہ اُٹھائو{۱۸۸}
(اے محمدؑ) تم سے نئے چاند (ہلال) کے بارے میں پوچھتے ہیں کہو یہ وقت ناپنے کا پیمانہ ہے اور حج کا وقت بھی بتاتا ہے۔ اور نیکی اس میں نہیں کہ گھروں میں پیچھے سے جائو نیکی ﷲ کے عذاب سے ڈرنے میں ہے۔ تم گھروں میں اُن کے دروازوں سے جایا کرو اور ﷲ سے ڈرتے رہو وہ تم کو خوشحال کر دے گا{۱۸۹}
اور تم ﷲ کی راہ میں (دین کی خاطر) اُن سے جنگ کرسکتے ہو جو تم سے جنگ کریں مگر زیادتی نہیں کرنا۔ ﷲ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا{۱۹۰}
پس ان سے لڑو جہاں پائو۔ اور جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا تھا تم ان کو وہاں سے نکال دو۔ کیونکہ فتنہ قتل سے زیادہ خطرناک ہے۔ مگر مسجدِ حرم میں نہیں لڑنا جب تک وہ خود نہیں لڑیں ہاں وہ لڑیں تو تم بھی لڑو۔ نافرمانوں کی یہی سزا ہے{۱۹۱}
پھر اگر وہ جنگ ختم کر دیں (صلح کرلیں)۔ تو ﷲ بڑا بخشنے والا ہے{۱۹۲}
اور اُس وقت تک لڑتے رہو جب تک فتنہ ختم نہیں ہوجائے تاکہ ﷲ کا دین نافذ ہو۔ اور جب وہ لڑنا بند کر دیں تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں کرنا{۱۹۳}
حرمت کا مہینہ تو جب ہی ہے جب دوسرے بھی اُس کا احترام کریں یعنی حرمات کا قصاص (بدلہ) بھی ضروری ہے۔ اگر وہ تم پر زیادتی کریں تو تم بھی ویسی ہی زیادتی کرسکتے ہو جتنی انہوں نے کی ہو۔ اور ﷲ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ ﷲ اہلِ تقویٰ (گناہوں سے بچنے والوں) کے ساتھ ہے{۱۹۴}
اور ﷲ کی راہ میں خرچ بھی کرتے رہو۔ خود کو ہلاکت میں نہیں ڈالو اور احسان کرتے رہو۔ ﷲ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے{۱۹۵}
پس حج اور عمرے کی نیت سے ﷲ کا نام لے کر نکل پڑو۔ اگر روک دئیے جائو تو جس طرح ہوسکے قربانی کر دو اور جب تک قربانی اپنے مقام پر نہیں پہنچ جائے سر نہیں منڈانا۔ ہاں کوئی بیمار ہو یا کوئی اور تکلیف ہو تو سر منڈالے اور فدیہ میں روزہ رکھے یا صدقہ دے یا ایک قربانی کرے یہاں تک کہ امن و اطمینان ہوجائے تو متعہ حج بھی کرلے (حج و عمرہ ملا لے) اور جو میسر ہو قربانی دے۔ جسے قربانی میسر نہیں ہو وہ تین روزے رکھے حج کے دوران اور سات (روزے رکھے) جب (حج سے) واپس آئے یہ پورے دس ہوئے۔ یہ حکم اُن کے لئے ہے جن کے اہل و عیال مکہ میں نہیں ہیں۔ اور ﷲ (کے عذاب) سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ ﷲ سخت عذاب دینے والا ہے{۱۹۶}
اور حج کے مہینے تو سب کو معلوم ہیں تو جو شخص اِن مہینوں میں حج کی نیت کرلے وہ مباشرت، برے کاموں اور لڑائی جھگڑے سے دور رہے۔ تم جو اچھے کام کرتے ہو ﷲ کو معلوم ہیں۔ اور اپنے ساتھ سفر کا خرچ لے لیا کرو اگرچہ بہترین سفر کا خرچ تو تمہارا تقویٰ (پاکدامنی) ہے۔ اور مجھ سے ڈرتے رہو اگر سمجھ رکھتے ہو{۱۹۷}
اور گناہ نہیں اگر حج کے دوران ﷲ کا فضل (تجارت سے) تلاش کرو۔ اور جب عرفات سے واپس ہو تو مشعر الحرام (مزدلفہ) میں ﷲ کا ذکر کرو اور ذکر بھی اُس طرح کرو جس طرح بتلایا گیا ہے۔ پہلے تم اِن باتوں سے واقف نہیں تھے{۱۹۸}
پھر واپس آئو جیسے دوسرے آئیں اور ﷲ سے مغفرت مانگتے رہو بلاشبہ ﷲ بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے{۱۹۹}
اور جب اپنے مناسک (ارکانِ حج) پورے کر چکو تو منیٰ میں بھی ﷲ کا ذکر کرتے رہو۔ جیسے پہلے تم اپنے بزرگوں (دیوتائوں اور خدائوں) کا کیا کرتے تھے۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ جوش سے کرو۔ بعض لوگ ﷲ سے دُعا کرتے ہیں کہ اے پالنے والے (ﷲ) جو کچھ دینا اِسی دنیا میں دیدے۔ ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا{۲۰۰}
اور ان میں ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں اے مالک ہم کو دنیا میں بھی بھلائیاں دے اور آخرت میں بھی بھلائیاں دینا اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچانا{۲۰۱}
ایسے لوگوں کو اُن کے اعمال کے مطابق اجر ملے گا ااور ﷲ جلد حساب لینے والا ہے{۲۰۲}
تو اِن مقررہ دنوں میں ﷲ کو خوب یاد کرتے رہو۔ پھر جو جلدی کر کے دو ہی دن میں فارغ ہو جائے تو اُس پر کوئی گناہ نہیں۔ اور جو ٹھہرا رہے اُس پر بھی گناہ نہیں کہ وہ ﷲ سے ڈرتا ہے۔ پس ﷲ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ تمہیں اُس کے سامنے جانا ہے{۲۰۳}
دنیاوی معاملات میں تم بعض لوگوں کی باتوں پر حیران ہوگے۔ وہ اپنی من گھڑت باتوں پر ﷲ کو گواہ کرے گا (قسمیں کھائے گا) مگر وہی تمہارا بدترین دشمن ہے{۲۰۴}
وہ واپس جا کر فساد پھیلانے میں مصروف ہوجائے گا تاکہ فصلیں اور نسلیں تباہ کرے مگر ﷲ فساد کو پسند نہیں کرتا{۲۰۵}
اُس سے کہا جائے کہ ﷲ سے ڈرو تو اُس کا غرور اُسے گناہ پر اُکساتا ہے۔ اُس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بری جگہ ہے{۲۰۶}
مگر بہت سے ایسے ہیں جو ﷲ کو خوش رکھنے کے لئے اپنی جانیں بیچ دیتے ہیں تو ﷲ اپنے ایسے بندوں پر فخر (رَئُوْفٌ) کرتا ہے{۲۰۷}
تو اے ایمان لانے والو! پوری طرح اسلام کے قلعہ (سلم) میں داخل ہو جائو اور کسی سرکش کے پیچھے نہیں چلو وہ تمہارا دشمن ہے{۲۰۸}
تم لوگ ایسے واضح احکام ملنے کے بعد بہکے تو جان لو کہ ﷲ ہی عزت و حکمت کا مالک ہے{۲۰۹}
کیا لوگ اِس انتظار میں ہیں کہ ﷲ کا عذاب بادلوں کی شکل میں آجائے اور فرشتے اُتر پڑیں اور فیصلے ہوجائیں یہ سب ﷲ کے کام ہیں{۲۱۰}
بنی اسرائیل سے پوچھو ہم نے اُن کو کیسی واضح دلیلیں (احکام) دئیے تھے۔ پھر جو ﷲ کی نعمت پاکر اسے بدلے تو ﷲ سخت پوچھ گچھ کرنے والا ہے{۲۱۱}
نافرمانوں کے لئے ہم نے دنیا کی زندگی دلکش بنا دی ہے۔ وہ مومنوں کا مذاق اُڑاتے ہیں لیکن جو لوگ گناہ (شرک) سے بچتے ہیں وہی قیامت کے دن اُن سے افضل ہوں گے۔ اور ﷲ (انکو) بدلے میںبے شمار رزق دینا چا ہے گا{۲۱۲}
پہلے سب انسان ایک ہی اُمت (قوم) تھے۔ پھر ﷲ نے رسول بھیجے جو خوشخبری اور ہدایتیں لے کر آئے اُن کے ساتھ ہم نے کتابیں بھی بھیجیں جو سچائی کے ساتھ اُن کے مسائل حل کر دیتی تھیں تو اُن میں اختلافات پڑ گئے ۔اور اختلاف کیوں پڑا اس لئے کہ جن کو بعد میں کتاب ملی اُس میں زیادہ واضح احکام تھے تو وہ ایک دوسرے سے جھگڑنے لگے۔ مگر ﷲ ایمان والوں کو حکم دیتا ہے کہ سچائی میں مخالفت نہیں کریں بس ﷲ کے حکم پر چلیں۔ اورﷲ(اسکو)ہدایت دیتا ہے جو سیدھی راہ کی طرف آنا چاہتاہے {۲۱۳}
شاید تم سمجھتے ہو کہ (مسلمانوں میں جنم لیا تو) سیدھے جنت میں پہنچ جائو گے حالانکہ تم نے وہ مصیبتیں نہیں دیکھیں جو پہلے ایمان لانے والوں کو اُٹھانی پڑیں۔ اُنہیں مصیبتوں، سختیوں اور آزمائشوں سے گزرنا پڑا جنہوں نے اُن کو ڈگمگایا۔ یہاں تک کہ رسول اور اُن کے ساتھی (بے صبری سے) کہنے لگے کہ ﷲ کی مدد کہاں ہے۔ حالانکہ ﷲ کی مدد آہی رہی تھی{۲۱۴}
تم سے پوچھتے ہیں ہم اپنا مال کس طرح خرچ کریں۔ اُن سے کہو جتنا خوشی سے ہو سکے (عفوا) اپنے والدین، رشتے داروں، یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کو دو۔ تم جو نیکیاں کرو گے ﷲ اُن سے واقف ہے{۲۱۵}
اور تم پر (ﷲ کیلئے) لڑنا فرض کیا جاتا ہے یہ تمہیں ناگوار ہوگا مگر تم کیا جانو جسے تم برا سمجھتے ہو وہ تمہارے حق میں اچھا ہو اور تم کیا جانو جس چیز سے تم محبت کرتے ہو اس میں تمہارے لئے برائی ہو۔ ﷲ جانتا ہے تم نہیں جانتے{۲۱۶}
پوچھتے ہیں حرمت کے مہینوں میں لڑناکیسا ہے۔ کہو اِن میں لڑنا برا ہے۔ مگر ﷲ کی راہ سے روکنا، ﷲ کی نافرمانی کرنا اور مسجد حرم کو بند کرنا، وہاں کے باشندوں کو نکال دینا ﷲ کے نزدیک زیادہ برا ہے۔ کیونکہ فتنہ قتل سے زیادہ بڑا گناہ ہے۔ یہ لوگ جنگ و جدل سے باز نہیں آئیں گے۔ جب تک تم ان کے دین میں واپس نہیں چلے جائو۔ مگر تم میں سے جو اپنے دین سے (مرتد ہو) وہ ایسا ہے گویا مر گیا اور نافرمان ہوگیا۔ اُس کے دنیا و آخرت کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ وہ جہنمی ہوگا اور وہاں ہمیشہ رہے گا{۲۱۷}
جو لوگ ایمان لائیں گے، ہجرت کریں گے اور ﷲ کی راہ میں کوشش کریں گے وہی ﷲ کی بخشش (رحمت) کے حقدار ہوں گے۔ ﷲ بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے{۲۱۸}
تم سے جوئے اور شراب کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہو کہ ان میں سخت گناہ ہے۔ اگرچہ انسان کے کچھ فائدے بھی ہیں مگر ان کے نقصانات فائدوں سے زیادہ ہیں۔ اور پوچھتے ہیں کہ ﷲ کی راہ میں کتنا خرچ کریں تو کہو ’’العفوا‘‘ (جتنا خوشی سے دے سکو)۔ اس طرح ﷲ اپنے احکام سمجھا کر بیان کرتا ہے تاکہ تم غور کرو{۲۱۹}
دنیا اور آخرت کے معاملات میںا ور تم سے یتیم (سوتیلے) بچوں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہو اُن کی پرورش (تربیت) بڑی نیکی ہے۔ اگر اُن کو اپنے ساتھ رکھو تو وہ تمہارے بھائی ہیں۔ اور ﷲ فسادیوں اور اصلاح پسندوں کو جانتا ہے۔ ﷲ چاہے تو تمہیں بھی مصیبت میں ڈال دے۔ بلاشبہ ﷲ ہی عزت و حکمت کا مالک ہے{۲۲۰}
اور مشرک (ﷲ کا بیٹا، وسیلہ ٹھہرانے والی) عورتوں سے نکاح نہیں کرو جب تک وہ (بت پرستی چھوڑ کر) ایمان نہیں لائیں۔ مومن لونڈی مشرک (ﷲ کا بیٹا، وسیلہ ٹھہرانے والی) بیوی سے بہتر ہے۔ شاید تمہیں حیرت ہو۔ اسی طرح مومن عورتوں کی شادی مشرکوں (ﷲ کا بیٹا، وسیلہ ٹھہرانے والوں) سے نہیں کرو مومن غلام مشرک (ﷲ کا بیٹا، وسیلہ ٹھہرانے والا) آزاد مرد سے اچھا ہے۔ اس پر تعجب نہیں کرو کیونکہ وہ لوگ جہنم کی طرف بلاتے ہیں اور ﷲ تمہیں جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے۔ ﷲ اپنے احکام بندوں کو سمجھانے کے لئے بتاتا ہے تاکہ وہ نصیحت یاد رکھیں{۲۲۱}
اور تم سے مسئلہ حیض پوچھتے ہیں۔ کہو وہ نجاست ہے۔ اس زمانے میں عورتوں سے دور رہو جب تک وہ پاک نہیں ہوجائیں اُن کے قریب نہیں جائو۔ جب پاک ہوجائیں تو ﷲ کے حکم (قانونِ فطرت) کے مطابق عمل کرو۔ ﷲ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے{۲۲۲}
تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں پس حسبِ مرضی آبیاری کرو۔ مگر نفس کو قابو میں رکھو اور ﷲ سے ڈرتے رہو۔ یاد رکھو تمہیں اُس کے سامنے جانا ہے اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دیدو{۲۲۳}
اور ﷲ کے نام کو اپنی قسموں کی ڈھال نہیں بنائو (یعنی جھوٹی قسمیں نہیں کھائو) اس سے پرہیز کرو۔ اور ﷲ سے ڈرو اور اصلاحِ معاشرہ کرتے رہو۔ ﷲ سنتا اور جانتا ہے{۲۲۴}
ﷲ تمہاری لغو قسموں پر مواخذہ نہیں کرے گا لیکن جو قسمیں جان بوجھ کر کھائو گے اُن کی گرفت کرے گا اور ﷲ بڑا بخشنے والا حلیم ہے{۲۲۵}
جو لوگ اپنی عورتوں کے پاس نہیں جانے کی قسم کھالیں اُن کو چار ماہ انتظار کرنا چاہیے اگر اس عرصے میں میل ہوجائے تو ﷲ بخشنے والا ہے{۲۲۶}
لیکن اگر طلاق کا ارادہ کرلیں تو ﷲ سنتا اور جانتا ہے{۲۲۷}
اور مطلقہ عورتیں تین ماہ خود کو روکیں۔ اُن کے لئے جائز نہیں کہ ﷲ نے جو کچھ اُن کے پیٹ میں بنایا ہے اُسے چھپائیں اگر وہ ﷲ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتی ہیں۔ اور اُن کے شوہر اُن کو واپس لینے کا حق رکھتے ہیں اگر اصلاحِ احوال چاہیں۔ اور عورتوں کا حق مردوں پر ویسا ہی ہے جیسا مردوں کا رواج کے مطابق اُن پر ہے۔ البتہ مردوں کا اُن سے کچھ درجہ بڑا ہے اور ﷲ ہی عزت و حکمت کا مالک ہے{۲۲۸}
طلاق (صرف) دو بار ہے (یعنی جب دو دفعہ طلاق دیدی جائے تو) پھر (عورتوں کو) یا تو اعلانیہ روک کر میل کرلو یا حسن سلوک کے ساتھ رخصت کر دو۔ اور تمہارے لئے جائز نہیں کہ مہر یا وہ چیزیں واپس لو جو اُن کو دی تھیں۔ ہاں اگر بیوی و شوہر کو خوف ہو کہ ﷲ کی حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو اگر عورت (شوہر کے ہاتھ سے) رہائی پانے کے بدلے میں کچھ دے ڈالے تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ ﷲ کی حدود (قوانین) ہیں ان سے تجاوز نہیں کرنا۔ جو ﷲ کی حدود کی خلاف ورزی کرے گا وہ ظالموں میں شمار ہوگا{۲۲۹}
اس کے بعد پھر کبھی طلاق دی (تیسری بار) تو یاد رکھو وہ تمہارے لئے حلال نہیں ہوگی۔ جب تک کسی غیر سے نکاح نہیں کرے۔ پھر وہ بھی طلاق دیدے تو گناہ نہیں ہوگا اگر دونوں رجوع (نکاح) کرلیں۔ بشرطیکہ یقین ہو کہ آئندہ ﷲ کی حدود کا احترام کریں گے۔ یہی ﷲ کی حدود (قوانین) ہیں جو اہلِ علم کے لئے بیان کئے جاتے ہیں{۲۳۰}
اور جب تم عورتوں کو (دو دفعہ) طلاق دو اور اُن کی عدت پوری ہوجائے تو یا تو انہیں علانیہ طور پر روک لو یا خوش دلی سے علانیہ طور پر رخصت کر دو۔ انہیں تکلیف دینے کے لئے نہیں روکو نہ کوئی زیادتی کرو۔ جو ایسا کرے گا وہ اپنی جان پر ظلم کرے گا۔ تم ﷲ کے احکام کا مذاق نہیں بنانا۔ اور ﷲ کی نعمتوں کو جو تم کو ملی ہیں یاد کرتے رہو۔ تم پر کتاب اور حکمت (دانائی و علم) اس لئے نازل کیا گیا ہے کہ تم اس سے نصیحت حاصل کرتے رہو۔ اور ﷲ سے ڈرو اور یاد رکھو کہ ﷲ کو ہر بات کا علم ہوجاتا ہے{۲۳۱}
اور جب عورتوں کو طلاق دو اور اُن کی عدت پوری ہوجائے تو اُن کو دوسرے نکاح سے نہیں روکو۔ اگر وہ آپس میں راضی ہوچکے ہوں۔ یہ نصیحت اُن لوگوں کے لئے ہے جو تم میں ﷲ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ تمہارے لئے پاکیزگی کی بات ہے اور احسن ہے۔ ﷲ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے{۲۳۲}
اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں۔ یہ حکم اس کے لئے ہے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے۔ دودھ پلانے والی مائوں کا کھانا کپڑا رواج کے مطابق باپ کے ذمے ہوگا۔ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جائے۔ نہ ماں کو بچے کی وجہ سے نقصان پہنچایا جائے۔ نہ باپ کو اس کی اولاد کی وجہ سے۔ اور وارثوں پر بھی یہی ذمہ داری ہے۔ اگر دونوں آپس کی رضامندی اور صلاح سے بچے کا دودھ چھڑانا چاہیں تو اُن پر کچھ گناہ نہیں۔ اگر تم اپنی اولاد کو دودھ پلوانا چاہو تو دستور کے مطابق دودھ پلانے والیوں کا حق ادا کرو اور ﷲ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ تم جو کچھ کرتے ہو ﷲ دیکھتا ہے{۲۳۳}
اور تم میں سے کوئی مرجائے اور بیویاں چھوڑ جائے تو وہ اپنے نفس کو چار مہینے اور دس دن روکے رہیں۔ جب عدت پوری ہوجائے تو گناہ نہیں اگر رواج کے مطابق وہ اپنی مرضی سے دوسرا نکاح کرلیں۔ اور تم جو کچھ کرتے ہو ﷲ دیکھتا ہے{۲۳۴}
اور گناہ نہیں اگر تم نکاح کا پیام دو یا اِس تمنا کو دل میں چھپائے رہو۔ مگر ﷲ چاہتا ہے کہ تم اس کا اعلان کرو۔ پوشیدہ قول و قرار نہیں کرو۔ اور جب تک عدت پوری نہیں ہو نکاح کا ارادہ نہیں کرو۔ اور جان لو کہ ﷲ جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تو اس سے پرہیز کرو۔ ﷲ بڑا بخشنے والا اور بردبار ہے{۲۳۵}
تم پر گناہ نہیں اگر عورتوں کو چھونے یا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دیدو۔ ایسی صورت میں حیثیت کے مطابق خرچ دیدو۔ صاحب حیثیت اپنی حیثیت کے مطابق اور تنگدست اپنی حیثیت و رواج کے مطابق کچھ ضرور دے۔ نیک لوگوں کا یہی حق (فرض) ہے{۲۳۶}
اور جب چھونے سے پہلے طلاق دو اور مہر مقرر کرچکے ہو تو آدھا مہر ادا کرو۔ ہاں اگر عورتیں معاف کر دیں یا اُن کا ولی جس نے نکاح کروایا تھا معاف کر دے تو اور بات ہے۔ اور تم پورا مہر ادا کرو تو یہ تقویٰ (فساد کے بچنے) سے قریب ہے۔ آپس کی رواداری کو نظرانداز نہیں کرو۔ ﷲ تمہارے کام دیکھتا ہے{۲۳۷}
اپنی صلوٰۃ (دعا، عبادت) پر دھیان رکھو اور صلوٰۃ (دعا، عبادت) کے درمیان ﷲ کے آگے (عاجزی، انکساری اور غلاموں کی طرح) ادب سے کھڑے رہو{۲۳۸}
پھر اگر تم خوف کی حالت میں پیدل یا سوار ہو (ﷲ کو یاد کرو) پھر جب امن ہوجائے تو بھی ﷲ کو یاد کرتے رہو۔ جس طرح سکھایا گیا ہے جو تم پہلے نہیں جانتے تھے{۲۳۹}
اور جو لوگ مرجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ اپنی بیویوں کے حق میں وصیت کرجائیں کہ اُن کو گھروں سے نہیں نکالا جائے۔ اُن کو حسبِ معمول خرچ دیا جائے۔ ہاں اگر وہ خود جانا چاہیں تو تم پر گناہ نہیں۔ وہ رواج کے مطابق اپنا دوسرا انتظام کرلیں۔ اور ﷲ ہی عزت و حکمت کا مالک ہے{۲۴۰}
اور طلاق والی عورتوں کو بھی حسبِ دستور خرچ دیا جائے۔ متقی (گناہوں سے بچنے والے) لوگوں پر یہ بھی لازم ہے (اگر وہ دوسرا نکاح نہیں کریں){۲۴۱}
ﷲ اسی طرح اپنے احکام سمجھاتا ہے تاکہ تم سمجھدار بن جائو{۲۴۲}
اور تم نے اُن (یہود) کو کہاں دیکھا جو گھروں سے نکل بھاگے۔ وہ ہزاروں تھے مگر موت سے ڈرتے تھے۔ تو ﷲ نے ان سے کہا جائو مرو (صحرا سینا میں)۔ پھر انہیں زندہ (قوم بنا کر) اُٹھایا۔ بلاشبہ ﷲ انسانوں پر بے حد مہربان ہے لیکن اکثر لوگ احسان نہیں مانتے{۲۴۳}
(تو تم ویسا نہیں کرنا) تم ﷲ کی راہ میں لڑاکرو اور جان لو کہ ﷲ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے{۲۴۴}
اور جو ﷲ کو قرض حسنہ دے گا ﷲ اسے بڑھا چڑھا کر ادا کرے گا۔ اور ﷲ ہی رزق میں تنگی اور وسعت دیتا رہتا ہے۔ اور تمہیں اسی سے رجوع کرنا ہے{۲۴۵}
(اور سنو!) بنی اسرائیل کے ایک گروہ نے موسیٰ کے بعد اپنے نبی سے کہا ہمارا ایک بادشاہ مقرر کردو جو ﷲ کی راہ میں لڑاکرے۔ نبی نے کہا اگر تم پر لڑنا فرض کر دیا گیا تو تعجب نہیں تم جی چرانے لگو گے اور جنگ نہیں کرو گے۔ کہنے لگے واہ ہم کیوں نہیں لڑیں گے۔ ہم اور ہمارے بچے اپنے وطن سے نکالے گئے ہیں۔ مگر جب جنگ کا حکم دیا گیا تو چند کے سوا سب بھاگ کھڑے ہوئے۔ ﷲ ظالموں سے خوب واقف ہے{۲۴۶}
پھر نبی نے کہا ﷲ نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر کیا ہے۔ تو کہنے لگے اُسے ہم پر بادشاہی کرنے کا کیا حق ہے۔ حکومت کے ہم اس سے زیادہ حقدار ہیں۔ اس کے پاس مال و دولت کہاں ہے۔ نبی نے کہا ﷲ نے اسے تمہارے لئے چن لیا ہے۔ اُسے علم اور جسمانی قوت تم سے زیادہ دی ہے۔ ﷲ اسے حکومت دیتا ہے جو اسکی اہلیت رکھتا ہے اور ﷲ کا علم وسیع ہے{۲۴۷}
نبی نے کہا اُس کی بادشاہی کی علامت یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک تابوت (صندوق) آئے گا جس میں تمہارے پالنے والے(ﷲ)کی طرف سے (سَکِیْنَۃٌ) تسلی ہوگی اور اُس میں آلِ موسیٰ اور آلِ ہارون کی یادگاریں ہوں گی۔ اُسے فرشتے اُٹھائے ہوں گے۔ بلاشبہ اِس میں تمہارے پالنے والے(ﷲ) کی نشانیاں ہیں اگر تم صاحبِ ایمان ہو{۲۴۸}
پھر جب طالوت اپنی فوج لے کر چلا تو کہا آگے دریا پر ﷲ تمہاری آزمائش کرے گا۔ جو اس (دریا) کا پانی پی لے گا وہ میرا نہیں۔ جو نہیںپیئے گا وہی میرا (سپاہی) ہوگا۔ ہاں اگر چلو سے کلی کرلے تو حرج نہیں۔ تو سوائے چند کے سب نے پانی پی لیا۔ پھر جب وہ (طالوت) اور اُس کے (نام نہاد) اہلِ ایمان ساتھی دریا پار پہنچے تو کہنے لگے آج ہم میں جالوت اور اس کی فوج سے لڑنے کی طاقت نہیں۔ لیکن جن لوگوں کو یقین تھا کہ انہیں ﷲ کو منہ دِکھانا ہے بولے بعض وقت چھوٹی جماعت ﷲ کے حکم سے بڑی جماعت پر غلبہ حاصل کرلیتی ہے اور ﷲ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے{۲۴۹}
پھر جب وہ جالوت اور اُس کی فوج کے مقابل ہوئے تو کہا اے پالنے والے (ﷲ) ہمارے حوصلے بڑھا دے، ہمارے قدم جما دے اور نافرمان قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما{۲۵۰}
تو انہوں نے ﷲ کے حکم سے دشمن کو شکست دیدی۔ اور دائود نے جالوت کو قتل کر ڈالا۔ تو ﷲ نے اس کو بادشاہی اور دانائی (نبوت) دی اور جو چاہا سکھایا۔ اگر ﷲ بعض قوموں کو بعض قوموں کے ذریعہ دفع نہیں کرتا رہے تو دنیا میں فساد پھیل جائے۔ اور ﷲ اہلِ عالم پر فضل کرتا رہتا ہے{۲۵۱}
بلاشبہ یہ ﷲ کے احکامات ہیں جو تم کو سچائی کے ساتھ سناتے ہیں اور یقینا (اے محمدؑ) تم ہمارے رسولوں میں سے ہو{۲۵۲}
اسی طرح ہم رسولوں میں بھی بعض کو بعض پر فضیلت دیتے رہے ہیں۔ اِن میں کسی سے ﷲ نے کلام کیا ہے، کسی کے درجات بلند کئے۔ اور مریم کے بیٹے عیسیٰ کو کھلی نشانیاں اور ہم نے فیض غیبی طاقت عطا کی۔ اور ﷲ چاہتا ہے کہ اس کے بعد لوگ آپس میں نہیں لڑیں کیونکہ ان کو کھلی نشانیاں دیدی گئی تھیں۔ مگر ایمان لانے والوں اور مخالفت کرنے والوں میں اختلاف ہوگیا۔ اور ﷲ چاہتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو قتل نہیں کریں لیکن (یہ لوگ) وہ کرتے ہیں جو ﷲ پسند نہیں کرتا {۲۵۳}
پس اے ایمان لانے والو! ہمارے دئیے ہوئے مال میں سے خرچ کرلو اس دن کے آنے سے پہلے جب نہ خرید و فروخت ہوگی۔ نہ دوستی اور نہ کسی کی شفاعت کام آئے گی۔ اور اِس سے انکار کرنے والے ظالم شمار ہوں گے{۲۵۴}
ﷲ وہ ہے جس کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں۔ وہ زندہ ہے، قائم رہنے والا ہے، اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اُسی کا ہے۔کسی کی مجال نہیں کہ اُس کی اجازت کے بغیر کوئی اُس سے(کسی کی) سفارش کرے۔ جو کچھ پہلے ہوچکا اور جو کچھ بعد کو ہونے والا ہے وہ سب جانتا ہے۔ تم اُس کے علم کے کسی حصہ کا بھی احاطہ نہیں کرسکتے جب تک وہ خود نہیں دینا چاہے۔ اس کی کرسی اقتدار آسمانوں اور زمین کو گھیرے ہوئے ہے اور اس کے لئے اُن سب کی حفاظت دشوار نہیں۔ وہ بڑا عالی مرتبہ اور عظمت والا ہے{۲۵۵}
اس دین میں زبردستی کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ہدایت کو گمراہی سے الگ کر دیا گیا ہے۔ جو شیطانی خدائوں سے کٹ کر ﷲ پر ایمان لایا اُس نے ایک پکی گرہ تھام لی جو کبھی نہیں چھوٹے گی۔ اور ﷲ بڑا سننے اور جاننے والا ہے{۲۵۶}
اہلِ ایمان کا ولی صرف ﷲ ہے جو انہیں (جہل کے) اندھیروں سے نکال کر (علم کی) روشنی میں لاتا ہے۔ مگر جو لوگ نافرمانی کرتے ہیں وہ باطل خدائوں کے اولیاء (دوست) ہیں۔ وہ انہیں روشنی سے اندھیروں میں لے جاتا ہے۔ یہی لوگ آگ میں جلنے والے ہیں۔ وہاں ہمیشہ رہیں گے{۲۵۷}
اور تم نے اُسے کہاں دیکھا جو ابراہیم سے اُن کے پالنے والے(ﷲ)کے معاملے میں حجت کرتا تھا کیونکہ اُسے ﷲ نے حکومت دیدی تھی۔ ابراہیم نے کہا میرا پالنے والا(ﷲ) تو وہ ہے جو زندگی اور موت دیتا ہے۔ بولا میں بھی یہ کام کرسکتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا میرا ﷲ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تم اُسے مغرب سے نکال دو۔ تو نافرمان چکرا گیا۔ ﷲ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا{۲۵۸}
اور اب اُس شخص کا قصہ سنو جو کسی گائوں سے گزرا جہاں کی چھتیں گر گئی تھیں۔ بولا ﷲ انہیں کیسے زندہ کرے گا یہ سب تو مر چکے۔ تو ﷲ نے اُسے سو سال کے لئے موت دیدی۔ پھر اُٹھایا اور پوچھا کتنے دن گزارے ہوں گے۔ بولا ایک دن یا کچھ زیادہ۔ فرمایا نہیں، تم یہاں سو سال پڑے رہے۔ اپنے کھانے پانی کو دیکھو (اُن کا کیا بنا) اور اپنے گدھے کو دیکھو (جو مرا پڑا ہے)۔ ہم نے تم کو انسانوں کے لئے ایک نشانی بنایا ہے۔ دیکھو ہم ہڈیاں کیسے جوڑتے ہیں اور اُن پر گوشت چڑھاتے ہیں۔ یہ چیزیں دیکھ کر وہ چیخ پڑا میں جان گیا کہ ﷲ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے{۲۵۹}
اور جب ابراہیم نے اپنے پالنے والے(ﷲ)سے کہا اے مالک تو مردوں کو کیسے اُٹھائے گا مجھے دِکھا دے۔ پوچھا کیا ایمان نہیں رکھتے۔ بولے کیوں نہیں۔ مگر میرے دل کو اطمینان ہوجائے گا۔ کہا چار پرندے لو اور اُن کو خود سے مانوس کرلو پھر اُن کو الگ الگ پہاڑیوں پر چھوڑ آئو پھر تم اُن کو بلائو گے تو وہ تمہارے پاس اُڑ کر آجائیں گے کیونکہ تم اُن کے رب (پالنے والے) ہوگے۔ اور جان لو کہ ﷲ ہی عزت و حکمت کا مالک ہے وہ مردوں کو اسی طرح بلالے گا{۲۶۰}
اور ﷲ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کے مال کی مثال ایسی ہے کہ ایک دانہ بویا تو سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوتے۔ تو ﷲ (اسکامال بڑھا) دیتا ہے جو (اپنا مال بڑھا نا)چاہتا ہے اور ﷲ کا علم بہت وسیع ہے{۲۶۱}
جو لوگ ﷲ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اُن کو صلہ اُن کے پالنے والے(ﷲ) کے پاس ملے گا۔ اُن کو خوف ہوگا نہ غم{۲۶۲}
نرمی سے ٹال دینا اور معافی مانگ لینا دل آزاری کر کے خیرات دینے سے بہتر ہے۔ اور ﷲ بڑا غنی و حلیم ہے{۲۶۳}
اے ایمان لانے والو! اپنے صدقات احسان رکھ کر اور دل دُکھا کر باطل نہیں کیا کرو۔ جو دِکھاوے کیلئے خیرات دیتا ہے اور ﷲ پر اور روزِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ اس کی مثال اُس چٹان کی سی ہے جس پر مٹی جم گئی ہو ذرا پانی برسے تو دُھل جائے۔ یہ لوگ اپنے اعمال سے کچھ حاصل نہیں کرسکیں گے۔ اور ﷲ حق کا انکار کرنے والوں کو ہدایت نہیں دیتا{۲۶۴}
اور اُن کی مثال جو اپنا مال ﷲ کی خوشنودی کیلئے خرچ کرتے ہیں اور خلوصِ نیت سے دیتے ہیں۔ اُس باغ کی سی ہے جو ٹیلے پر ہو۔ جس پر بارش ہوجائے تو دوگنے پھل آئیں اور بارش نہیں ہو تو شبنم ہی کافی ہے۔ اور تم جو کچھ کرتے ہو ﷲ دیکھتا ہے{۲۶۵}
بھلا کون چاہے گا کہ اُس کا کھجور اور انگور کا باغ جس میں دریا بہتا ہو اور ہر طرح کے پھل آتے ہوں خشک ہوجائے یا اُس کے بچے چھوٹے ہوں اور اُس پر بڑھاپا آجائے یا ان سب پر آگ کا بگولا آجائے اور سب کو جلا کر راکھ کر دے۔ ﷲ اپنی باتیں (حدیثیں) اسی طرح سمجھاتا ہے تاکہ تم غور کرو{۲۶۶}
اے ایمان لانے والو! جو پاکیزہ روزی تم کماتے ہو اور جو چیزیں ہم تمہارے لئے زمین سے (غلے اور میوے) نکالتے ہیں اُن میں سے خیرات دو۔ اور خراب یا ناپاک مال سے خیرات نہیں دو کہ وہی چیزیں تم کو دی جائیں تو (لینے کے بجائے مارے شرم کے) آنکھیں بند کرلو۔ اور یاد رکھو ﷲ بڑا غنی ہے اور وہی تعریف و شکر کے لائق ہے{۲۶۷}
اور سرکشی، نافرمانی کرنے والا تم کو (فقر) تنگدستی سے ڈراتا ہے اور بے حیائی کے کام سکھاتا ہے۔ اور ﷲ تم سے مغفرت اور بخشش کا وعدہ کرتا ہے۔ ﷲ بڑا وسیع علم رکھتا ہے{۲۶۸}
وہ جسے چاہتا ہے(اسکی قابلیت کے مطابق) علم و حکمت (سائنس و ٹیکنالوجی)سیکھادیتا ہے اور جسے (اسکی قابلیت کے مطابق) علم و حکمت (سائنس و ٹیکنالوجی)سیکھا دے تو گویا اُسنے بڑی نعمت دیدی۔ اور نصیحت وہی قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہیں{۲۶۹}
اور تم جو کچھ فضول خرچ (غیرﷲ کی نذرونیاز) کرتے ہو اسے بھی جانتا ہے۔ مگر ظالموں و جاہلوں کا کوئی دستگیر (مددگار) نہیں ہوگا{۲۷۰}
تم خیرات دِکھا کر دو یا چھپا کر مگر حاجتمندوں کو دو تو بہتر ہے۔ اُس سے تمہارے گناہ دُھل جائیں گے۔ ﷲ تمہارے اعمال کی خبر رکھتا ہے{۲۷۱}
(اے محمدؑ) لوگوں کو ہدایت یاب کرنا تمہاری ذمہ داری نہیں۔لیکن ﷲ جسے چاہتا ہے(اسکے اعمال کے سبب)ہدایت دیتا ہے۔ اور تم جو نیک کام کرتے ہو اپنے نفس(ضمیر) کے لئے کرتے ہو۔ پس جو کچھ دو ﷲ کی خوشنودی کے لئے دو۔ اور نیک کام میں جو کچھ لگائو گے اس کا بدلہ مل جائے گا۔ اور تم پر کوئی ظلم نہیں ہوگا{۲۷۲}
اور محتاجوں کو جو ﷲ کی راہ میں بیٹھے ہوں اور کہیں جانے کی طاقت نہیں رکھتے ہوں۔ اُن کے ہاتھ نہیں پھیلانے سے لوگ اُن کو بے احتیاج (غنی) سمجھتے ہیں۔ حالانکہ تم صورت دیکھ کر پہچان سکتے ہو۔ وہ شرم کی وجہ سے لوگوں سے منہ پھوڑ کر نہیں مانگتے۔ تم اُن کو جو کچھ دو گے ﷲ اُسے جانتا ہے{۲۷۳}
جو لوگ اپنا مال دن رات پوشیدہ اور ظاہر دیتے ہیں۔ اُن کا اجر ﷲ کے پاس ملے گا۔ اور وہ نہ خوف کی زندگی بسر کریں گے نہ غم کی{۲۷۴}
اور جو سود خور ہیں وہ قیامت کے دن اس طرح اُٹھیں گے جیسے خبطی جس پر آسیب کا اثر ہو۔ یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں سود خوری بھی ایک طرح کی تجارت ہے۔ حالانکہ ﷲ نے تجارت کو حلال اور سود خوری کو حرام کیا ہے۔ پس جو ﷲ کی نصیحت سن کر سدھر جائے تو پہلے جو ہوا ہوچکا اس کا معاملہ ﷲ کے ہاتھ ہے۔ اور جو نہیں مانے گا وہ جہنم میں جائے گا اور وہاں ہمیشہ رہے گا{۲۷۵}
ﷲ سود خوری کو مٹانا اور صدقات کو رواج دینا چاہتا ہے اور ﷲ نافرمانوں اور گنہگاروں کو پسند نہیں کرتا{۲۷۶}
جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور اچھے کام کرتے ہیں یعنی صلات قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں، ﷲ اُن کو اچھا اجر دے گا۔ وہ خوف زدہ رہیں گے نہ غمگین ہوں گے{۲۷۷}
اے ایمان لانے والو! ﷲ سے ڈرو اور تمہارا سود کسی پر باقی رہ گیا ہو تو اسے معاف کر دو اگر تم واقعی ایمان لائے ہو{۲۷۸}
ایسا نہیں کیا تو ﷲ اور اُس کے رسول سے جنگ کیلئے تیار ہوجائو۔ اگر توبہ کرلو گے تو تمہیں اپنی اصل رقم لینے کا حق ہوجائے گا تاکہ نہ کسی پر ظلم ہو نہ تم پر{۲۷۹}
اگر مقروض تنگدست ہے تو اُس کو ﷲ کا فضل ہونے تک مہلت دو۔ اور اگر معاف کر دو تو تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے۔ اگر سمجھو{۲۸۰}
اور اس دن سے ڈرو جب ﷲ کے سامنے پیش ہوگے۔ وہاں ہر شخص کو اُس کے اعمال کے مطابق جانچا جائے گا اور کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا{۲۸۱}
اور اے ایمان لانے والو! جب تم کسی معینہ مدت کے لئے قرض لو تو لکھ پڑھ لیا کرو۔ اور لکھنے والا کسی کی جانبداری نہیں کرے۔ اور کوئی لکھنے والا جسے ﷲ نے لکھنا سکھایا ہے دستاویز لکھنے سے انکار نہیں کرے خوشی سے لکھ دے۔ اور جو شخص قرض لے وہی دستاویز لکھائے۔ اور ﷲ سے ڈرتا رہے کوئی کمی بیشی نہیں کرے۔ اور اگر قرض خواہ ناسمجھ یا بڈھا ہے یا مضمون لکھوانے کا اہل نہیں ہو تو اُس کا ولی (وکیل یا دوست) انصاف کے ساتھ دستاویز لکھا دے۔ اور اپنے میں سے دو مردوں کو گواہ کر لیا کرو۔ اگر دو مرد نہیں ملیں تو ایک مرد اور دو عورتیں جن پر طرفین راضی ہوں۔ یہ اس لئے کہ ایک بھول جائے تو دوسری یاد دلادے۔ اور جب گواہوں کو گواہی کیلئے بلایا جائے تو وہ انکار نہیں کریں۔ قرض تھوڑا ہو یا زیادہ لکھنے میں کاہلی نہیں کرو۔ یہ چیز ﷲ کے نزدیک انصاف پر مبنی ہے اور شہادت کے لئے مفید ہے۔ بھول چوک سے بچانے کے لئے ذرا سی زحمت ہے۔ ہاں دست بدست تجارت کا معاملہ ہو یا آپس کا لین دین تو اگر دستاویز نہیں لکھو تو کوئی گناہ نہیں۔ لیکن خرید و فروخت کے وقت بھی گواہ کرلو تو بہتر ہے۔ اور لکھنے والوں اور گواہوں کو کبھی نقصان نہیں پہنچانا۔ اگر ایسا کروگے تو گنہگار ہوگے۔ ﷲ سے ڈرتے رہو کیونکہ ﷲ تمہیں (کیسی مفید باتیں) سکھاتا ہے اور ﷲ سب کچھ جانتا ہے{۲۸۲}
اگر سفر میں ہو اور لکھنے والا نہیں ملے تو کوئی چیز رہن رکھا دیا کرو۔ اور جسے لوگ امین (امانتدار) جانیں اسے چاہیے کہ امانتیں واپس لوٹا دیا کرے اور ﷲ سے جو سب کا پالنے والا ہے اس سے ڈرتا رہے۔ اور گواہی کو کبھی نہیں چھپانا جو چھپائے گا اس کا دل گنہگار ہوگا۔ اور ﷲ تمہارے اعمال سے واقف ہے{۲۸۳}
جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ﷲ کا ہے۔ تم اپنے دل کی باتیں ظاہر کرو یا چھپائو ﷲ اُن کا محاسبہ کرے گا۔ پھر وہ جسے چاہے(اسکے اعمال کے صلے میں) معاف کردے اور جسے چاہے (اسکے اعمال کے صلے میں)سزا دے۔ ﷲ ہر چیز پر قادر ہے۔ {۲۸۴}
ﷲ کا رسول اُن باتوں پر ایمان رکھتا ہے جو اُس پر اُترتی ہیں۔ اور تمام مومن ﷲ پر، اُس کے فرشتوں پر، اُس کی کتابوں پر، اُس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور رسولوں میں ایک دوسرے سے فرق نہیں کرتے۔ کہتے ہیں ہم سنتے ہیں اور اِطاعت کرتے ہیں۔ توہی بخشنے والا اور پالنے والا ہے اور تیری ہی طرف ہمیں لوٹنا ہے{۲۸۵}
ﷲ کسی پر اُس کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ جزا بھی کئے کی ملے گی اور سزا بھی کئے کی ہوگی۔ (پس دُعا کرتے رہو) اے پالنے والے (ﷲ)ہماری بھول چوک پر گرفت نہیں کرنا اور ہم پر ویسا بوجھ (ذمہ داری) نہیں ڈالنا جیسا اگلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اور اے مالک اتنا بوجھ بھی نہیں ڈالنا جو ہم اُٹھانہیں سکیں۔ اے پالنے والے (ﷲ) ہم کو بخش دے، ہم کو معاف کردے، ہم پر رحم فرما تو ہی ہمارا مولیٰ (مالک) ہے۔ اور نافرمانوں (یعنی حق کا انکار کرنے والوں) کے مقابلے میں ہماری مدد فرما{۲۸۶}
۔

آل عمران
Surah 3

ﷲ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

الف، لام، میم{۱}
ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ زندہ اور قائم رہنے والا ہے{۲}
اُس نے تم پر سچائی کے ساتھ یہ کتاب اُتاری ہے جو تصدیق کرتی ہے اُس کی جو تمہارے پاس ہے اور جو کچھ توریت و انجیل میں اُترا تھا{۳}
پہلے لوگوں کی ہدایت کے لئے اب یہ فرقان (یعنی نافرمان اور مومن کو الگ کرنے والا کلام) اتارا ہے۔ تو جو لوگ ﷲ کی باتیں (ﷲ کی حدیث) کو ماننے سے انکار کرتے ہیں سخت عذاب میں ڈالے جائیں گے۔ ﷲ سخت انتقام لینے والا ہے اور وہی عزت دینے والا ہے{۴}
ﷲ سے کوئی چیز چھپی نہیں ہے خواہ زمین میں یا آسمان میں ہو{۵}
وہی رحم مادر میں تمہاری صورتیں بناتا ہے جیسی چاہتا ہے۔ اس کے سوا کوئی پوجنے کے لائق نہیں۔ وہ عزت و حکمت کا مالک ہے{۶}
وہی تم پر یہ کتاب اُتارتا ہے جس میں (محکم آیات) پختہ دلیلیں ہیں جو اِس کتاب کی جان ہیں۔ دوسری (متشابہاتٌ) ملتی جلتی ہیں۔ تو جن لوگوں کے دلوں میں خیانت ہوتی ہے وہ (ما تشابہ) ’’نا ملی جلتی‘‘ آیتوں کی من مانی تاویلات شروع کر دیتے ہیں تاکہ اُس سے کوئی فتنہ کھڑا کرسکیں۔ حالانکہ اصل تاویلات تو ﷲ ہی جانتا ہے۔ مگر جو صاحبِ علم و دانش ہیں کہہ دیتے ہیں کہ ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ سب ہمارے پالنے والے(ﷲ) کی طرف سے ہے۔ اور نصیحت تو وہی قبول کرتے ہیں جو سمجھ رکھتے ہیں{۷}
(پس دُعا کرو) اے مالک ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں میں شک نہیں آنے دینا۔ ہمیں اپنی مہربانی و عنایت سے سرفراز فرما۔ تو ہی سب سے اچھا نوازنے والا ہے{۸}
اے پالنے والے (ﷲ) تو ہی اُس دن جس کے آنے میں کوئی شک نہیں انسانوں کو جمع کرے گا۔ بلاشبہ ﷲ اپنا مقررہ وقت ٹالتا نہیں ہے{۹}
اور جو لوگ حق کے نافرمان ہیں۔ اُن کو اُن کا مال اور اُن کی اولاد ﷲ سے کسی معاملے میںنہیں بچا سکیں گے۔ وہ سب جہنم میں ڈالے جائیں گے{۱۰}
جیسے آلِ فرعون اور اُن سے پہلے لوگوں کو جو ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے تھے ہم نے ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا۔ ﷲ سخت سزا دینے والا بھی ہے{۱۱}
کہہ دو منکر لوگوں سے تم جلد ہی مغلوب ہو کر جہنم کی طرف ہانکے جائو گے۔ اور وہ بری جگہ ہے{۱۲}
تمہارے لئے ان دو گروہوں کی لڑائی میں بڑا سبق تھا۔ ایک گروہ ﷲ کی راہ میں لڑتا تھا اور دوسرا اپنی نافرمانی کے لئے۔ اُن کو دشمن اپنی تعداد سے دوگنے دکھائی دے رہے تھے۔جو بھی ﷲ کی تائید کرتا ہے ﷲ اسکی مد دکر تا ہے ۔ اس میں دیکھنے والوں کے لئے عبرت ہے{۱۳}
انسان کو دنیا کی خواہشات بھلی لگتی ہیں یعنی عورتیں اور بیٹے، چاندی سونا اور روپے کے ڈھیر، نشان لگے گھوڑے، موشی، کھیتی وغیرہ۔ مگر یہ سب دنیا کے فائدے ہیں ﷲ کے پاس ان سے بہتر اسباب ہیں{۱۴}
(اے پیغمبر ان سے) کہو میں تم کو ایسی چیز نہیں بتائوں جو اِن سے بہتر ہو اور وہ اُن کو ملے گی جو گناہوں سے بچتے ہیں یعنی جنت جس کے نیچے دریا بہتے ہوں گے اور وہاں ہمیشہ رہنا ہے۔ وہاں پاک بیویاں ہوں گی اور ﷲ کی خوشنودی ہوگی۔ اور ﷲ اپنے بندوں کو دیکھتا ہے{۱۵}
وہ لوگ جو کہتے ہیں اے پالنے والے (ﷲ) ہم ایمان لائے ہیں ہمارے گناہ بخش دے۔ اور ہم کو آگ کے عذاب سے بچا{۱۶}
یہ وہ لوگ ہیں جو محنت کرتے، سچ بولتے، بندگی کرتے، خیرات دیتے اور راتوں کو مغفرت طلب کرتے ہیں{۱۷}
ﷲ گواہی دیتا ہے کہ اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ اور اس کے فرشتے اور تمام ذی علم لوگ انصاف (یعنی ﷲ کی گواہی) پر قائم ہیں۔ وہ بھی (یقین سے کہتے ہیں کہ) ﷲ کے سوا کوئی (خدا) پوجنے کے لائق نہیں ہے۔ ﷲ ہی عزت و حکمت کا دینے والا مالک ہے{۱۸}
یقینا ﷲ کے پاس دین سے مراد اسلام (اَن دیکھے مالک کے آگے سرجھکا دینا) ہے۔ اہلِ کتاب نے اس حقیقت سے واقف ہوجانے کے بعد اختلاف شروع کیا ہے وہ آپس کی ضد کی وجہ سے ہے۔ جو ﷲ کی باتوں (حدیثوں) کا انکار کرے تو ﷲ جلد حساب لینے والا ہے{۱۹}
جو تم سے حجت کرے اس سے کہہ دو میں اور میرے ساتھی (اَسْلَمْتُ) اسلام قبول کرچکے ہیں (یعنی ﷲ کے آگے سرجھکا چکے ہیں)۔ اہلِ کتاب اور دوسرے دیہاتیوں سے پوچھو (اَسْلَمْتُمْ) کیا تم سر نہیں جھکائو گے (یعنی تسلیم نہیں کروگے)۔ اگر تم سب (اَسْلَمُوْا) ایک ﷲ کے آگے جھک جائو تو ہدایت پا جائو گے۔ اور نافرمانی کرو گے تو مجھ پر تو صرف سمجھانے کی ذمہ داری ہے۔ اور ﷲ اپنے بندوں کو دیکھتا رہتا ہے{۲۰}
جو لوگ ﷲ کی آیتوں (حدیثوں) کا انکار کرتے ہیں۔ اور جو ﷲ کے رسولوں کو ناحق قتل کرتے رہے۔ اور اُن کو بھی قتل کر ڈالتے جو انصاف پر قائم رہنے کا حکم دیتے ہیں۔ اُن کو سخت عذاب کی خوشخبری دیدو{۲۱}
ان لوگوں کے اعمال ضائع ہوجائیں گے اور دنیا و آخرت میں ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا{۲۲}
کیا تم نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب دی گئی تھی۔ اُن کو ﷲ کی کتاب (قرآن) کی طرف بلایا جائے کہ آئو ہم ﷲ کی کتاب سے تمہارے مقدمات کا فیصلہ کریں تو ایک گروہ منہ پھیر لیتا ہے بلکہ یہ سب ہی اُسے ماننے والے نہیں ہیں{۲۳}
یہ اس لئے کہ انہیں خوش فہمی ہے کہ جہنم کی آگ اُن کو نہیں چھوئے گی سوائے چند دن کے۔ انہیں اپنے دین پر جو گھڑ رکھا ہے ناز ہے{۲۴}
مگر اُس دن کیا ہوگا جب ہم سب کو جمع کریں گے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیں گے اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا{۲۵}
تم کہا کرواے ﷲ تو ہی اختیارات کا مالک ہے۔ توجوبھی اختیارات چاہتا ہے دیتا ہے اور جو بھی (اختیارات) چاہتاہے چھین لیتا ہے۔ (ہمارے اعمال کے سبب) تو جو بھی عزت چاہتا ہے دیتا ہے اور تو جوبھی ذلت چاہتا ہے دیتا ہے۔ تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں۔ اور بے شک تو ہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے{۲۶}
تو رات کو دن میں ڈالتا ہے اور دن کو رات میں۔ تو بے جان سے جاندار بناتا ہے اور جاندار سے بے جان۔ اور جسے چاہتا ہے (اسکی کوشش کے سبب) بے حساب روزی دیتا ہے{۲۷}
اور اہلِ ایمان کو چاہیے کہ اپنے مومن بھائیوں کو چھوڑ کر نافرمانوں کو اولیاء (دوست) نہیں بنائیں۔ جو ایسا کرے گا اسے ﷲ بھی چھوڑ دے گا۔ تم ان سے ڈرتے ہو تو ڈرتے رہو مگر ﷲ اپنے غضب سے ڈراتا ہے۔ تمہیں اسی کے آگے جانا ہے{۲۸}
اور کہو تم جو کچھ اپنے دلوں میں چھپاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو ﷲ جانتا ہے۔ اور وہ آسمانوں اور زمین کی تمام باتیں جانتا ہے۔ اور ﷲ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے{۲۹}
جس دن انسان اپنی کی ہوئی نیکیاں دیکھے گا۔ اور برائیاں بھی دیکھے گا تو چاہے گا اُن سے دوری ہوجائے۔ ﷲ تمہیں آگاہ کرتا ہے۔ اور ﷲ اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے{۳۰}
کہو کہ اگر تم ﷲ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو۔ ﷲ تم سے محبت کرے گا۔ تمہارے گناہ بخش دے گا۔ ﷲ بڑا بخشنے والا ہے{۳۱}
یعنی ﷲ اور رسول کا کہا مانو۔ اگر نافرمانی کرو گے تو ﷲ نافرمانوں کو پسند نہیں کرتا{۳۲}
ﷲ نے آدم، نوح، آلِ ابراہیم اور آلِ عمران کو اہلِ عالم میں منتخب فرمایا تھا{۳۳}
اور ان کی اولاد میں سے کسی کو کسی کے بعد چنا۔ اور ﷲ بڑا سننے اور جاننے والا ہے{۳۴}
جب عمران کی بیوی نے کہا میرے پا لنے والے (ﷲ) میں تیرے سے عہد کرتی ہوں کہ جو کچھ میرے پیٹ میں ہے اسے میں دنیا کے کاموں سے آزاد رکھوں گی۔ سو میری طرف سے قبول فرما۔ تو بڑا سننے اور جاننے والا ہے{۳۵}
پھر جب وضع حمل ہوا تو بولی اے پالنے والے(ﷲ) میرے بیٹی ہوئی ہے اور ﷲ جانتا تھا کیا ہوگا۔ اور یہ کہ بیٹا اور بیٹی برابر نہیں ہوتے۔ بولی میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے۔ اور میں اس کے اور اس کی اولاد کے لئے سرکشی، نافرمانی کرنے والے مردود سے تیری پناہ مانگتی ہوں{۳۶}
تو اس کے پالنے والے(ﷲ)نے پسندیدگی کے ساتھ اسے قبول کرلیا اور اسے ایک اچھے پودے کی طرح پروان چڑھایا اور زکریا کو اس کا کفیل بنایا۔ زکریا جب محراب میں جاتے تو اُس کے پاس کھانے کی چیزیں دیکھتے۔ ایک بار پوچھا اے مریم یہ تمہارے پاس کہاں سے آئیں۔ بولیں کہ ﷲ کے پاس سے۔ بلاشبہ ﷲ جو چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے{۳۷}
اسی طرح ایک بار زکریا نے اپنے پالنے والے(ﷲ)سے دُعا کی۔ کہا اے پالنے والے(ﷲ) مجھے اپنے پاس سے پاک اولاد دے۔ بلاشبہ تو دُعا قبول کرتا ہے{۳۸}
ایک بار وہ محراب میں کھڑے صلات (دعا) کر رہے تھے تو فرشتے نے آواز دی کہ ﷲ تمہیں یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے۔ وہ ﷲ کے احکامات کی تصدیق کرے گا اور (سید) سردار ہوگا۔ مگر عورتوں سے رغبت نہیں رکھے گا اور نبی (یعنی) نیکوکاروں میں ہوگا{۳۹}
بولے میرا پالنے والا (ﷲ)مجھے بیٹا کیسے دے گا۔ میں بوڑھا ہوچکا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔ فرمایا اسی طرح ہوگا۔ ﷲ جو چاہتا ہے کرتا ہے{۴۰}
کہامیرے پالنے والے(ﷲ سے کہو)مجھے کوئی نشانی دے۔ فرمایا تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک کسی سے بات نہیں کرسکو گے سوائے اشاروں کے۔ پس ﷲ کو خوب یاد کرتے رہو اور صبح و شام اُس کے نام کی تسبیح کرتے رہنا{۴۱}
پھر فرشتوں نے مریم سے کہا ﷲ نے تمہیں چن لیا ہے اور پاک بنایا ہے اور تم کو دنیا کی تمام عورتوں سے چن کر نکالا ہے{۴۲}
تم اپنے پالنے والے(ﷲ)کی بندگی کرو اور سجدے اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ{۴۳}
(اے محمد ﷺ) یہ غیب کی باتیں ہیں جو تم پر وحی کی جاتی ہیں۔ جب وہ قلم ڈال کر مریم کی کفالت کا قرعہ نکال رہے تھے تو تم ان کے پاس موجود نہیں تھے۔ اور نہ اس وقت ان کے پاس تھے جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے{۴۴}
پھر فرشتوں نے کہا اے مریم ﷲ تمہیں اس بات کی خوشخبری دیتا ہے کہ اس (بیٹے) کا نام مسیح رکھنا۔ مگر وہ عیسیٰ ابن مریم کے نام سے دنیا و آخرت میں مشہور ہوگا{۴۵}
وہ لوگوں سے گہوارے میں باتیں کرے گا اور بڑا ہو کر نیکوکاروں میں ہوگا{۴۶}
بولیں اے پالنے والے (ﷲ) میرے یہاں بیٹا کیسے ہوگا۔ جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا نہیںہے۔ فرمایااسی طرح (کسی بشرکے چھوئے بغیر)ہوگا۔ ﷲ جو چاہتا ہے بناتا ہے۔ وہ کچھ کرنا چاہتا ہے تو کہتا ہے کُن (ہوجا) اور وہ ہوجاتا ہے{۴۷}
ﷲ اُسے کتاب و حکمت کی باتیں سکھائے گا یعنی توریت و انجیل سکھائے گا{۴۸}
وہ بنی اسرائیل کے پاس رسول بن کر جائے گا کہ میں تمہارے پالنے والے(ﷲ)کی نشانیاں لے کر آیا ہوں۔ میں مٹی سے پرندے بنا کر اُن میں پھونکوں گا تو وہ ﷲ کے حکم سے اُڑنے لگیں گے۔ میں اندھوں اور برص کے مریضوں کو تندرست کروں گا اور ﷲ کے حکم سے مردے زندہ کروں گا اور تم جو کچھ کھا کر آئو گے اور جو اپنے گھر میں چھوڑ آئو گے بتائوں گا۔ بلاشبہ ان میں تمہارے لئے نشانیاں ہیں اگر تم ایمان رکھتے ہو{۴۹}
اور تمہارے پاس جو توریت ہے اُس کی تصدیق کرتا ہوں اور تم پر بعض چیزیں حرام تھیں اُن کو حلال کرتا ہوں۔ میں تمہارے پالنے والے(ﷲ)کی نشانیاں لے کر آیا ہوں۔ پس ﷲ سے ڈرتے رہو اور (وَاَطِیْعُوْنَ) میر اکہا مانو{۵۰}
بلاشبہ ﷲ میرا پالنے والاہے اور تمہارا بھی۔ تو اُسی کی بندگی کرو یہی سیدھا راستہ ہے{۵۱}
پھر جب عیسیٰ نے اُن میں نافرمانی دیکھی تو کہا ﷲ کے واسطے میرا مددگار کون ہوتا ہے۔ تو حواریوں نے کہا ہم ﷲ کے نام پر تمہارے مددگار ہیں۔ ہم ﷲ پر ایمان لاتے ہیں اور آپ گواہ رہیں کہ ہم مسلم (ﷲ کو تسلیم کرنے والے) ہیں{۵۲}
اے مالک ہم ایمان لاتے ہیں اُس پر جو تو نے اُتارا ہے اور تیرے رسول کی پیروی کرتے ہیں۔ پس ہمارا نام شہادت دینے والوں میں لکھ لے{۵۳}
پھر وہ (یہودی) ایک چال چلے اور ﷲ نے اپنی تدبیر کی۔ اور ﷲ بہترین تدابیر جانتا ہے{۵۴}
تب ﷲ نے کہا اے عیسیٰ اب میں تجھے (مُتَوَفِّیْکَ) وفات دیتا ہوں اور تجھے اپنی طرف (وَرَافِعُکَ) اٹھا لیتا ہوں۔ تجھے نافرمانوں (یہودیوں) کے الزامات سے پاک (باعزت) کروا دوں گا اور تیرے ماننے والوں (نصاریٰ) کو اُن نافرمانوں (یہود) پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔ سب میرے سامنے آئو گے تو تمہارے اختلافات کا فیصلہ کردوں گا{۵۵}
اور جو لوگ تمہارا انکار کریں گے اُن کو دنیا و آخرت میں سخت عذاب دوں گا اور اُن کا کوئی مددگار نہیں ہوگا{۵۶}
اور جو ایمان لائیں گے اور اچھے کام کریں گے ان کو پورا بدلہ دیا جائے گا۔ ﷲ ظالموں سے محبت نہیں رکھتا{۵۷}
اور اب وہی حکمت و نصیحت کی باتیں (حدیثیں) تم کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں{۵۸}
ﷲ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال ایسی ہے جیسے آدم کی، اُس کو (بغیر ماں، باپ کے) مٹی سے بنایا تھا اور کہا تھا کُن (ہوجا) تو وہ بن گیا{۵۹}
یہ تمہارے پالنے والے(ﷲ)کی سچائیاں ہیں پس شک کرنے والوں میں سے نہیں ہونا{۶۰}
پھر بھی تم سے کوئی اس معاملے میں حجت کرے تو تمہارے پاس علم آچکا ہے۔ کہو آئو ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو بلائو۔ ہم اپنی عورتوں کو بلائیں اور تم اپنی عورتوں کو بلائو۔ اور ہم خود آئیں اور تم خود بھی آجائو۔ پھر ہم دعا کریں کہ ﷲ جھوٹ بولنے والوں پر لعنت بھیجے{۶۱}
بلاشبہ یہ سب باتیں سچی ہیں اور ہمارا پالنے والا ﷲ کے سوا کوئی نہیں۔ اور ﷲ ہی عزت و حکمت کا مالک ہے{۶۲}
پھر جو نافرمانی کرے تو ﷲ فساد کرنے والوں کو پہچانتا ہے{۶۳}
کہو اے اہل کتاب آئو ہم اُن باتوں پر اتفاق کرلیں جو ہم میں اور تم میں مشترک (یکساں) ہیں کہ ہم ﷲ کے سوا کسی کی بندگی نہیں کریں گے۔ ﷲ کا کسی کو شریک (بیٹا، وسیلہ) نہیںبنائیں گے اور ہم میں سے کوئی ﷲ کے سوا کسی کو اپنا پالنے والا نہیں مانے گا۔ پھر اگر وہ نہیں مانیں تو کہو کہ گواہ رہیں کہ ہم سچے مسلم (ﷲ کو تسلیم کرنے والے) ہیں{۶۴}
اے اہلِ کتاب تم ابراہیم کے بارے میں کیوں حجت کرتے ہو۔ توریت و انجیل تو اُن کے بعد نازل ہوئی ہیں۔ کیا سمجھتے نہیں{۶۵}
تم کیسے لوگ ہو جو ایسی باتوں میں بھی جھگڑتے ہو جن کے بارے میں کچھ جانتے ہو۔ اور ایسی باتوں میں بھی جن کو نہیں جانتے۔ یہ باتیں ﷲ بہتر جانتا ہے تم نہیں جانتے{۶۶}
ابراہیم نہ یہودی تھے نہ عیسائی۔ وہ سیدھے سادے مسلم (ﷲ کے آگے سرجھکانے والے) تھے اور وہ مشرک (ﷲ کا بیٹا، وسیلہ بنانے والے) نہیں تھے{۶۷}
بے شک سب انسانوں میں بہتر ابراہیم اور یہ نبی اور ایمان لانے والے (صحابہ) ہیں جو لوگوں کی پیروی نہیں کرتے (بلکہ ایک ﷲ کے آگے سر جھکاتے ہیں) اور اہلِ ایمان کا ولی تو صرف ﷲ ہے{۶۸}
اہلِ کتاب کے بعض فریق چاہتے ہیں کہ تمہیں بہکا دیں۔ مگر وہ سوائے اپنے کسے بہکا سکتے ہیں۔ مگر سمجھتے نہیں{۶۹}
اے اہلِ کتاب تم ﷲ کے کلام (ﷲ کی حدیث) کا انکار کیسے کرتے ہو حالانکہ تم اس پر گواہ ہو{۷۰}
اے علماء اہل کتاب تم سچ کو جھوٹ کے ساتھ کیوں ملاتے ہو اور سچ کو کیوں چھپاتے ہو جبکہ سب کچھ جانتے ہو{۷۱}
اُن کا ایک گروہ کہتا ہے کہ اہلِ ایمان پر جو کچھ اُترتا ہے۔ اُس پر دن کو ایمان لے آیا کرو اور شام کو منکر ہوجائو۔ شاید کبھی یہ بھی ہم سے آملیں{۷۲}
اور کہتے ہیں اپنے مذہب کے سوا کسی رسول پر ایمان نہیں لائو۔ اُن سے کہو ہدایت دینے والا تو ﷲ ہے۔ اُس نے جو کچھ تم کو دیا ہے وہ کسی اور کو بھی دے سکتا ہے۔ تو کیا تم اپنے پالنے والے(ﷲ)سے جھگڑا کرو گے۔ اُن سے کہو فضل(روزی) تو ﷲ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے (اسکی کوشش کے بدلے روزی) دیتا ہے اور ﷲ کا علم وسیع ہے{۷۳}
وہ جسے چاہتا ہے اپنی مہربانی کے لئے چن لیتا ہے۔ اور ﷲ بڑا فضل کرنے والا ہے{۷۴}
اہلِ کتاب میں بعض ایسے ہیں کہ اُن کے پاس سونے چاندی کی تھیلیاں رکھا دو تو امانت واپس کردیں گے۔ اور بعض ایسے کہ ایک دینار (اشرفی) امانت رکھائو تو واپس نہیں کریں گے جب تک سر پر کھڑے نہیں ہوجائو۔ اور اُن میں ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ جاہلوں کا مال کھا جانے پر ہم سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔ یہ ﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں حالانکہ جانتے ہیں{۷۵}
جو اپنے وعدوں کا پکا ہے اور ﷲ سے ڈرتا ہے تو ﷲ ایسے متقی (گناہوں سے بچنے والے) لوگوں کو پسند کرتا ہے{۷۶}
بلاشبہ جو لوگ اپنے عہد اور اپنی قسمیں تھوڑے سے دنیاوی فائدے کے لئے بیچ ڈالتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ ﷲ اُن سے بات (کلام) نہیں کرے گا۔ اُن کی طرف نہیں دیکھے گا۔ اُن کو پاک نہیں کرے گا۔ اور اُن کے لئے سخت عذاب ہے{۷۷}
اُن میں بعض ایسے ہیں جو زبانیں گھما کر پڑھتے ہیں تاکہ تم سمجھو کہ کتاب سے پڑھ رہے ہیں۔ اور کہتے ہیں یہ ﷲ کا کلام ہے حالانکہ وہ ﷲ کا کلام نہیں ہوتا۔ یہ ﷲ پر جھوٹ لگاتے ہیں اور جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں{۷۸}
انسان کو زیب نہیں دیتا کہ ﷲ اُسے کتاب و حکمت اور نبوت دے۔ اور وہ لوگوں سے کہے کہ تم ﷲ کو چھوڑ کر میری بندگی کرو۔ ﷲ کہتا ہے تم سب ربانی بن جائو کہ سب ہی کتابیں پڑھتے اور پڑھاتے ہو{۷۹}
اور وہ ہرگز یہ حکم نہیں دے گا کہ تم فرشتوں یا رسولوں کو اپنا پالنے والا بنالو۔ وہ تمہیں شرک (بیٹا، وسیلہ بنانے) کا حکم کیسے دے سکتا ہے۔ جبکہ تم ﷲ کو تسلیم کرتے ہو(یعنی مسلم ہو){۸۰}
ﷲ نے اپنے رسولوں سے عہد لیا تھا کہ میں تمہیں کتاب و حکمت (دانائی) دوں گا۔ تو جب تمہارے پاس وحی لانے والا (نبی) آئے اور وہ تمہاری کتاب کی بھی تصدیق کرے تو اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا۔ اور پوچھا تھا کہ کیا تم اقرار کرتے ہو اور مجھے اپنا ضامن بناتے ہو تو بولے ہم اقرار کرتے ہیں۔ حکم ہوا کہ شہادت (گواہی) دو اور میں تمہارے ساتھ شہادت (گواہی) دیتا ہوں{۸۱}
اس کے بعد اگر کوئی اُس سے روگردانی کرے تو وہ فاسقوں (جھوٹوں) میں ہوگا{۸۲}
تو کیا یہ ﷲ کے دین (سر تسلیم خم کرنے) کے سوا کسی اور دین کے طالب ہیں۔ حالانکہ ﷲ کو (اَسْلَمَ) تسلیم کرنے والی تو آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوق ہے۔ جو خوشی یا ناخوشی سے اُسی کی طرف رجوع کرتی ہے{۸۳}
کہو ہم ﷲ پر ایمان (یقین) رکھتے ہیں اور اُس پر بھی جو ہم پر (قرآن) نازل ہوا ہے۔ اور جو ابراہیم و اسمٰعیل و اسحق و یعقوب اور اُس کے نواسوں اور موسیٰ اور عیسیٰ اور ﷲ کے دوسرے رسولوں پر اُترا تھا۔ اور اُن میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ ہم اُسی ﷲ کو تسلیم کرنے والے (مسلمین) ہیں{۸۴}
اور جو اس دین اسلام (اَن دیکھے مالک کے آگے سر جھکانے) کے سوا کسی اور دین کی خواہش کرے گا وہ (ﷲ کے حضور) قابلِ قبول نہیں ہوگا اور وہ آخرت میں نقصان اُٹھانے والا ہوگا{۸۵}
اور ﷲ ایسے لوگوں کو کیسے ہدایت دے سکتا ہے جو یقین کرنے کے بعد انکار کریں جبکہ یہ شہادت (گواہی) دے چکے ہیں کہ رسول سچے ہیں اور سچی دلیلیں لے کر آئے ہیں۔ اور ﷲ ظالم (جاہل) قوم کو ہدایت نہیں دیتا{۸۶}
اب ان کی سزا یہ ہے کہ ان پر ﷲ کی، اُس کے فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہو{۸۷}
اور یہ اُس میں گرفتار رہیں۔ پھر ان سے نہ تو عذاب ہلکا ہوگا نہ مہلت دی جائے گی{۸۸}
ہاں جو توبہ کرلیں اور اس کے بعد سدھر جائیں تو ﷲ بخشنے والا رحیم ہے{۸۹}
جو لوگ ایمان لانے کے بعد نافرمانی کریں گے اور نافرمانی میں بڑھتے جائیں گئے تو اُن کی توبہ ہرگز قبول نہیں ہوگی اور وہ گمراہ سمجھے جائیں گے{۹۰}
جو لوگ نافرمانی کر کے اُسی نافرمانی کی حالت میں مریں گے۔ اُن سے زمین بھر سونا بھی فدیہ میں قبول نہیںکیا جائے گا۔ اُن کو سخت عذاب ہوگا اور اُن کا کوئی مددگار نہیں ہوگا{۹۱}
اور تم لوگ گناہوں سے نہیں بچ سکتے جب تک ایسی چیز نہیں دے ڈالو جس سے محبت کرتے ہو۔ اور تم جو کچھ دیتے ہو ﷲ جانتا ہے{۹۲}
توریت کے آنے سے پہلے تمام کھانے بنی اسرائیل پر حلال تھے سوائے اُن کے جن کو انہوں نے خود حرام کرلیا تھا۔ اُن سے کہو اپنی توریت لائو اور پڑھو اگر سچے ہو{۹۳}
اُس کے بعد بھی جو ﷲ پر جھوٹ لگائے وہی ظالم ہے{۹۴}
کہو ﷲ تصدیق کرتا ہے کہ امام ابراہیم ایک (ﷲ کے آگے سر جھکانے والے) مذہب کی پیروی کرتے تھے اور وہ مشرکوں ﷲ کا بیٹا، وسیلہ بنانے والوں) میں سے نہیں تھے{۹۵}
بلاشبہ سب سے پہلا گھر جو نوعِ انسان کی عبادت کے لئے بنا وہ مکہ میں ہے۔ وہاں برکت ہے اور وہ ساری دنیا کی ہدایت کا مرکز ہے{۹۶}
اُس میں واضح نشانیاں ہیں جن میں سے ایک مقامِ ابراہیم بھی ہے۔ وہاں جو داخل ہوجائے اُسے امان ہے۔ اس لئے ﷲ کی طرف سے لوگوں پر اس گھر (کعبہ) کی زیارت فرض ہے۔ پس جو صاحبِ حیثیت ہو وہاں جائے۔ اور جو انکار کرے تو ﷲ اہلِ دنیا کا محتاج نہیں ہے{۹۷}
اِن سے کہو اے اہلِ کتاب تم ﷲ کی باتوں (حدیثوں) کا انکار کیوں کرتے ہو جب جانتے ہو کہ جو کچھ تم کرتے ہو ﷲ دیکھتا ہے{۹۸}
اور کہو اے اہل کتاب تم ایمان لانے والوں کو ﷲ کی راہ سے کیوں روکتے ہو۔ کیا اُن کو گمراہ کرنا ہے حالانکہ تم اُن پر گواہ ہو۔ ﷲ تمہارے کاموں سے غافل نہیں ہے{۹۹}
اے ایمان لانے والو! اگر تم اہلِ کتاب کے کسی فریق کی باتوں میں آگئے تو وہ تمہیں ایمان سے محروم کر کے نافرمان بنالیں گے{۱۰۰}
اور تم کیسے نافرمان بن سکتے ہو جبکہ تم کو ﷲ کی باتیں (حدیثیں) پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور تم میں ﷲ کے رسول موجود ہیں جو ﷲ کی رسی (قرآن) تھام لیتا ہے (اس پر عمل کرتا ہے) وہ سیدھا راستہ پاجاتا ہے{۱۰۱}
اے ایمان لانے والو! ﷲ سے محبت کرو ایسی محبت کرو کہ جب مرو تو مسلمان (ﷲ کے فرمانبردار) ہی مرنا{۱۰۲}
پس ﷲ کی رسی (قرآن) کو سب مل کر تھامے رہو (اس پر عمل کرتے رہو)اور تم الگ الگ (فرقہ، جماعت) مت بنائو اور ﷲ کے احسانات کو یاد کرتے رہو۔ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اُس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی۔ تم اُس کے فضل سے آپس میں بھائی بھائی ہوگئے۔ تم آگ کے گڑھے کے کنارے کھڑے تھے اُس نے تمہیں بچالیا۔ ﷲ اپنی باتیں (حدیثیں) اسی طرح سمجھاتا ہے تاکہ تم ہدایت پاجائو{۱۰۳}
ﷲ نے تمہیں ایسی امت بنایا ہے جو لوگوں کو بھلائی کی طرف بلاتی ہے اور اچھے کام کرنے کا حکم دیتی ہے برے کاموں سے روکتی ہے۔ یہی لوگ فلاح (خوشحالی) حاصل کرنے والے ہیں{۱۰۴}
اور تم بھی اُن جیسے نہیں ہوجانا جو الگ الگ (فرقہ، جماعت) میں بٹ گئے اور واضح احکام کے باوجود آپس میں اختلاف کر بیٹھے۔ اُن پر سخت عذاب ہوگا{۱۰۵}
جس دن بہت سے چہرے روشن ہوں گے۔ اور بہت سے چہرے سیاہ ہوں گے تو جن کے چہرے سیاہ ہوں گے اُن سے پوچھا جائے گا کیا تم نے یقین کرنے کے بعد انکار کیا تھا تو آج اپنے اُس انکار کا مزہ چکھو{۱۰۶}
جن کے چہرے روشن ہوں گے وہ ﷲ کی رحمت میں ہوں گے اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے{۱۰۷}
یہ ﷲ کی باتیں (حدیثیں) ہیں جو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور ﷲ دنیا والوں پر ظلم نہیں کرنا چاہتا{۱۰۸}
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ﷲ کا ہے اور سب معاملات (کام) تو ﷲ ہی بناتا ہے{۱۰۹}
تم ایک اچھی اُمت ہو۔ تم کو اقوامِ عالم میں سے چنا گیا ہے تاکہ اہلِ عالم کو اچھے کاموں کا حکم دو۔ برے کاموں سے روکو اور ﷲ پر ایمان لائو۔ اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آئیں تو یہ اُن کے حق میں اچھا ہو۔ اُن میں بھی بہت سے اہلِ ایمان ہیں مگر اکثریت فاسقوں (بدکرداروں) کی ہے{۱۱۰}
اور یہ (یہودی) تم کو نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر دل آزاری کرتے ہیں۔ یہ تم سے لڑیں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے اور کسی کو اپنا دستگیر نہیں پائیں گے{۱۱۱}
اسی وجہ سے وہ جہاں بھی ہیں اُن پر ذلت مسلط ہے۔ ان کے لئے اچھا ہے کہ ﷲ کی رسی تھام لیں اور اسلامی اخوت (بھائی چارے) کی پناہ میں آجائیں۔ ورنہ ﷲ کے غضب میں آجائیں گے اور اُن پر مسکنت (کسمپرسی) چھائی رہے گی۔ یہ اس لئے کہ یہ ﷲ کے کلام (یعنی ﷲ کی حدیثوں) کا انکار کرتے ہیں۔ یہ رسولوں کو ناحق قتل کرتے رہے۔ یہ نافرمان و قانون شکن لوگ ہیں{۱۱۲}
مگر سب ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اہلِ کتاب میں بھی کچھ لوگ ﷲ کے دین پر ہیں۔ وہ ﷲ کا کلام (یعنی ﷲ کی حدیثیں) دن رات پڑھتے ہیں اور سجدے کرتے ہیں{۱۱۳}
اور ﷲ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ اچھے کام کرتے ہیں۔ برائیوں سے روکتے ہیں اور بھلائیوں میں آگے آگے رہتے ہیں۔ وہ نیک اور صالح لوگ ہیں{۱۱۴}
وہ جو نیکیاں کرتے ہیں اُن کی ناقدری نہیں کی جائے گی۔ ﷲ متقی (گناہوں سے بچنے والے) لوگوں کو جانتا ہے{۱۱۵}
لیکن جو نافرمان ہیں اُن کا مال اور اُن کی اولاد ﷲ کے سامنے کام نہیں آئے گی۔ وہ جہنمی لوگ ہیں اور اسی میں رہیں گے{۱۱۶}
دنیا کی زندگی میں یہ لوگ جو خیرات کرتے ہیں اس کی مثال ہوا کی سی ہے جس میں پالا (تیز سردی) ہو کہ ظالموں کے کھیتوں پر چلے تو سب کچھ برباد کر جائے۔ ﷲ اُن پر ظلم نہیں کرتا وہ خود اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہیں{۱۱۷}
اے ایمان لانے والو! اپنے لوگوں کے سوا کسی کو اپنا رازداں نہیں بنائو۔ یہ تمہارے بدخواہ ہیں تمہیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ ان کا بغض اُن کے چہروں سے ظاہر ہوجاتا ہے۔ اور جو کچھ وہ چھپاتے ہیں وہ اور بھی زیادہ (خطرناک) ہے۔ ہم نے تم کو اصل بات بتادی ہے سمجھ جائو اگر سمجھ رکھتے ہو{۱۱۸}
مگر تم کیسے سادہ دل لوگ ہو اُن سے محبت رکھتے ہو۔ جو نہ تم سے محبت رکھتے ہیں نہ تمہاری کتاب پر ایمان لاتے ہیں۔ وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اور جب جاتے ہیں تو غصہ سے اپنی انگلیاں چباتے ہیں۔ اُن سے کہو اپنے غصہ میں جلتے رہو ﷲ تمہارے دلوں کا حال جانتا ہے{۱۱۹}
تم کو خوش حالی میسر آجائے تو اُن کو دکھ ہوتا ہے اور کوئی مصیبت آجائے تو خوشیاں مناتے ہیں۔ تم ثابت قدم رہو اور گناہوں سے بچتے رہو۔ اُن کی مکاریوں سے تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ ﷲ ان کی حرکتوں پر نظر رکھتا ہے{۱۲۰}
اور جب تم صبح کے وقت نکل کر اہلِ ایمان کو میدانِ جنگ میں متعین کر رہے تھے۔ ﷲ سنتا اور دیکھتا ہے{۱۲۱}
تو دو گروہ تم میں سے ہمت ہار بیٹھے لیکن ﷲ اُن کا ولی تھا۔ اور اہلِ ایمان کو ﷲ پر توکل کرنا چاہیے{۱۲۲}
یقینا جنگ بدر میں ﷲ نے تمہاری مدد کی جب تم بے سر و سامان تھے۔ تو ﷲ سے ڈرتے رہو اور صرف اسی کا احسان مانتے رہو{۱۲۳}
اور جب تم مومنوں سے کہہ رہے تھے کیا تمہارے لئے یہ کافی نہیں کہ تمہارا پالنے والا(ﷲ) تین ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرے{۱۲۴}
تو پھر ثابت قدم رہو اور ﷲ سے ڈرتے رہو۔ اگر نافرمانوں نے پھر ایسا شدید حملہ کیا تو ﷲ پانچ ہزار نشانے باز فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا{۱۲۵}
ﷲ نے یہ مدد اس لئے کی کہ تمہیں خوشخبری ہو اور تمہارے دل مطمئن ہوجائیں۔ اور ﷲ کے سوا کون مدد کرسکتا ہے وہی عظمت و حکمت کا مالک ہے{۱۲۶}
مقصد یہ تھا کہ نافرمانوں کا ایک حصہ کٹ جائے اور وہ رسوا و نامراد ہو کر بھاگ جائیں{۱۲۷}
اب تمہاری ذمہ داری ختم ہوگئی ﷲ چاہے۔ تو اُن کی توبہ قبول کرے یا اُن کو عذب دے کہ وہی ظالم تھے{۱۲۸}
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ﷲ کا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے (اسکے اعمال کے سبب) بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے (اسکے اعمال کے سبب) سزا دیتا ہے۔ ﷲ بڑا بخشنے والا رحیم ہے{۱۲۹}
اے ایمان لانے والو! دوگنا اور چوگنا ہونے والا (مہاجنی) سود نہیں کھائو اور ﷲ سے ڈرو تاکہ فلاح پائو{۱۳۰}
اور اُس آگ سے ڈرو جو نافرمانوں کے لئے تیار کی گئی ہے{۱۳۱}
ﷲ اور اس کے رسول کا کہا مانو تاکہ تم پر رحم کیا جائے{۱۳۲}
اور اپنے پالنے والے(ﷲ)سے مغفرت اور جنت طلب کیا کرو۔ جو آسمان اور زمین پر چھائی ہوئی ہے۔ وہ گناہوں سے بچنے والے کو ملے گی{۱۳۳}
جو لوگ تنگی و آسودگی میں اپنا مال ﷲ کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ اپنے غصے کو قابو میں رکھتے ہیں۔ لوگوں کی خطائیں معاف کرتے ہیں۔ تو ﷲ ایسے اچھے کام کرنے والوں سے محبت کرتا ہے{۱۳۴}
اور جو لوگ کوئی گناہ یا ظلم کر بیٹھتے ہیں پھر ﷲ کو یاد کر کے معافی مانگ لیتے ہیں کہ ﷲ کے سوا گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں ہے اور جان بوجھ کر اپنی حرکتوں پر اڑے نہیں رہتے{۱۳۵}
اُن کے لئے ﷲ کے پاس بخشش اور جنت ہے جس کے نیچے دریا بہتے ہوں گے۔ جن میں ہمیشہ رہنا ہے۔ اور اچھے کام کرنے والوں کا اجر بھی اچھا ہونا چاہیے{۱۳۶}
جو لوگ تم سے پہلے گزر گئے ان کے لئے بھی ہمارا یہی قانون تھا۔ پس دنیا کی سیر کرو اور دیکھو جھٹلانے والوں کا حشر کیا ہوا{۱۳۷}
اور یہ قرآن تو ساری انسانیت کی رہنمائی کے لئے ہے۔ متقی (گناہوں سے بچنے والوں) کے لئے اس میں ہدایت اور نصیحت ہے{۱۳۸}
پس نہ پست ہمت ہو نہ غمگین تم ہی غالب رہو گے اگر صاحبِ ایمان رہے{۱۳۹}
اگر تمہیں زخم لگا ہے تو تمہاری قوم (قریش) کو بھی ویسا ہی زخم لگ چکا ہے اور یہی گردش زمانہ ہے جسے ہم انسانوں میں الٹتے پلٹتے رہتے ہیں تاکہ ﷲ ایمان لانے والوں کو جانچ لے اور تم کو اُن پر گواہ بنائے۔ اور ﷲ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا{۱۴۰}
ﷲ چاہتا ہے کہ اہلِ ایمان کا ایمان جانچے اور نافرمانوں کا غرور خاک میں ملا دے{۱۴۱}
اور تم سمجھتے ہو جنت میں یوں ہی داخل ہوجائو گے۔ تو ﷲ دیکھے گا کہ تم میں سے جہاد کرنے والے کتنے ہیں اور ثابت قدم رہنے والے کتنے ہیں{۱۴۲}
پہلے تو تم لوگ موت کی بڑی باتیں کیا کرتے تھے جب تک موت کو دیکھا نہیں تھا۔ تو اب آنکھوں سے دیکھ لیا۔ اسی کا انتظار تھا{۱۴۳}
اور محمدﷺ کیا ہیں صرف ایک رسول ہیں۔ ایسے رسول پہلے بھی گزرے ہیں تو اگر وہ مرجائیں یا قتل ہوجائیں تو کیا تم الٹے پائوں (نافرمانی میں) لوٹ جائو گے۔ جو اس طرح لوٹے گا وہ ﷲ کا کوئی نقصان نہیں کرے گا۔ ﷲ اپنے احسان ماننے والے بندوں کو اسی طرح نوازتا ہے{۱۴۴}
ﷲ کے حکم کے بغیر کوئی نہیں مرتا۔ موت کا وقت لکھا ہوا ہے۔ یہاں جو دنیا کا ثواب چاہتا ہے ہم دے دیتے ہیں اور جو آخرت کا ثواب چاہے گا اسے بھی دیں گے۔ اور ہم احسان ماننے والوں کو اسی طرح نوازتے ہیں{۱۴۵}
اسی طرح بہت سے رسولوں نے جنگ کی ہے۔ اُن کے ساتھ بے شمار ربی (یہودی مولوی) بھی ہوتے تھے۔ وہ مصیبتوں سے نہیں گھبراتے جو ﷲ کی راہ میں اُن کو جھیلنی پڑتیں۔ اُن کی ہمتیں پست ہوتی نہ وہ بزدلی دِکھاتے۔ ہاں ﷲ ثابت قدم رہنے والوں سے خوش ہوتا ہے{۱۴۶}
اُس وقت جو دعا وہ مانگتے یہ ہوتی تھی اے مالک ہمارے گناہ بخش دے۔ ہماری بھول چوک معاف کر دے۔ ہمارے قدم جما دے اور حق کے منکروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما{۱۴۷}
تو ﷲ نے اُن کو دنیا کا ثواب بھی دیا اور آخرت میں اُن سے اچھے اجر کا وعدہ کیا۔ اور ﷲ احسان (اچھے کام) کرنے والوں سے پیار کرتا ہے{۱۴۸}
اے ایمان لانے والو! اگر تم حق کا انکار کرنے والوں کے کہے میں آگئے تو وہ تم کو اپنے عقائد میں ملالیں گے پھر تم بڑے نقصان میں پڑ جائو گے{۱۴۹}
ﷲ ہی تمہارا مولیٰ ہے اور وہی بہترین سہارا ہے{۱۵۰}
ہم نافرمانوں کے دلوں میں تمہارا رعب بٹھا دیں گے کیونکہ انہوں نے ﷲ کے شریک(اولیا، وسیلے) بنالیئے ہیں جس کی اُس نے کوئی سند نہیں اتاری۔ اُن کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ ظالموں کے لئے بری جگہ ہے{۱۵۱}
اور یقینا ﷲ نے اپنا وعدہ سچ کر دِکھایا۔ تم اس کے حکم سے نافرمانوں پر بھاری پڑ رہے تھے پھر تم للچا گئے اور آپس میں جھگڑنے لگے اور گنہگار ہوئے اُن چیزوں کو دیکھ کر جن سے تمہیں محبت ہے۔ تم میں بعض دنیا کی طلب میں تھے اور دوسرے آخرت کی فکر میں۔ تو ہم نے دشمن کو آگے بڑھا دیا اور انہوں نے تم کو مصیبت میں ڈال دیا۔ پھر ﷲ نے تم کو معاف کر دیا۔ ﷲ اہلِ ایمان پر اسی طرح فضل کرتا ہے{۱۵۲}
اور جب تم بھاگے جارہے تھے کسی کی طرف مڑ کر نہیں دیکھتے تھے اور رسول تم کو پیچھے سے پکار رہے تھے۔ اس طرح ﷲ نے تم کو غم پر غم دیا۔ پس جو چیز ہاتھ سے جاتی رہے یا کوئی مصیبت آ پڑے تو اُس پر غم نہیں کرو۔ ﷲ تمہارے کاموں کی خبر رکھتا ہے{۱۵۳}
پھر ہم نے دُکھ کے بعد امن کا چین دیا تو کچھ تو نیند کے غلبے سے سو گئے اور دوسرے جن کی ہمتیں ٹوٹ چکی تھیں ﷲ کے بارے میں غلط باتیں سوچنے لگے جیسے وہ جاہلیت میں سوچتے تھے۔ کہنے لگے ہم کو اِن معاملات میں اختیار کہاں ہے۔ اُن سے کہو ہاں اختیار تو سارا ﷲ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ بہت سی باتیں اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں تم پر ظاہر نہیں کرتے۔ کہتے ہیں ہمارے اختیار میں ہوتا تو ہم یہاں قتل ہونے کیوں آتے۔ کہو کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں مارا جانا تھا وہ اپنی قتل گاہ کی طرف دوڑ آتے۔ ﷲ تمہارے دلوں کا حال معلوم کرنا اور ان کو پاک کرنا چاہتا تھا۔ ﷲ دلوں کی باتیں جانتا ہے{۱۵۴}
تمہارے جو لوگ تم کو چھوڑ کر بھاگ گئے وہ بھی ایسی دست بدست خطرناک لڑائی کے موقعہ پر یقینا سرکشی، نافرمانی والے نے اُن کو اُن کی بعض حرکتوں کی وجہ سے بہکا دیا۔ مگر ﷲ نے اُن کو بخش دیا۔ ﷲ بڑا بخشنے والا اور بردبار ہے{۱۵۵}
اے ایمان لانے والو! تم بھی ان جیسے مت بن جانا جو نافرمان ہوگئے ہیں اور اپنے بھائیوں کے متعلق جو جہاد کے لئے آئے تھے۔ کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے ساتھ رہتے تو نہ مرتے نہ قتل ہوتے۔ گویا ﷲ نے اُن کے دلوں میں یہ حسرت ڈال دی ہے۔ مگر ﷲ ہی جلاتا ہے اور مارتا ہے اور ﷲ تمہارے کام دیکھتا ہے{۱۵۶}
اگر تم ﷲ کی راہ میں قتل ہوجائو یا مارے جائو تو ﷲ کی بخشش اور مہربانی دنیا کی تمام نعمتوں سے بہتر ہے{۱۵۷}
تم قتل کر دئیے جائو یا مرجائو بالآخر ﷲ کے سامنے حاضر ہونا ہے{۱۵۸}
یہ بھی ﷲ کی مہربانی ہے کہ (اے محمد ﷺ) تم نرم دل واقع ہوئے ہو۔ اگر غصہ والے اور سخت مزاج ہوتے تو یہ سب تمہارے پاس سے بھاگ جاتے پس ان کو معاف کر دو اور ان کے لئے بخشش کی دعا کرو۔ اور ان سے بھی مشورہ لیا کرو۔ اور جب کوئی عزم (ارادہ) کرلو تو پھر ﷲ پر بھروسہ رکھو۔ بلاشبہ ﷲ بھروسہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے{۱۵۹}
اگر ﷲ تمہارا دستگیر (مددگار) ہے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکے گا لیکن وہ تم کو چھوڑ دے تو اس کے بعد تمہاری دستگیری (مدد) کون کرسکتا ہے۔ پس اہلِ ایمان کو چاہیے کہ ﷲ پر بھروسہ رکھیں{۱۶۰}
اوررسول کیلئے مناسب نہیں کہ کسی کے طوق یا بیڑیا ںڈالے(قیدی بنائے) جن کے بڑیاں،طوق ڈالے جائیں گے ان کو قیامت کے دن غلام بنانے والوں کے سامنے لایا جائیگا۔اور انکا انصاف کیا جائیگا(ظالم و مظلوم)دونوں پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا{۱۶۱}
تو جو(رسول) ﷲ کی رضا کا طالب ہے وہ (ظالم بادشاہوں کی طرح) کیسے بن سکتا ہے جو ﷲ کے غضب کو بلاتے ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بری جگہ ہے{۱۶۲}
ﷲ کے پاس سب کے درجے مقرر ہیں اور ﷲ سب کے کاموں کو دیکھتا ہے{۱۶۳}
اہلِ ایمان پر ﷲ کا احسان ہے کہ اُن میں اُن ہی میں سے ایک رسول بھیجا۔ جو ﷲ کی باتیں (حدیثیں) پڑھ کر سناتا ہے۔ اُن کو پاک کرتا ہے۔ اُن کو کتاب و حکمت سکھاتا ہے۔ اس سے پہلے وہ بے خبری میں تھے{۱۶۴}
اور جب تم پر مصیبت آئی حالانکہ ایسی مصیبت تم اُن پر پہلے لاچکے تھے تو کہنے لگے کہ یہ کیا ہوا۔ کہو کہ یہ تمہاری اپنی بدنیتی کی سزا ہے۔ ﷲ سب کچھ کرنے کی قدرت رکھتا ہے{۱۶۵}
اور جو مصیبت تم پر دست بدست جنگ میں پڑی وہ بھی ﷲ کے حکم سے تھی تاکہ اہلِ ایمان کی جانچ ہوجائے{۱۶۶}
اور اہلِ نفاق (نااتفاقی کرنے والوں) کا بھی پتہ چل جائے۔ ان سے کہا گیا کہ چلو ﷲ کی راہ میں جنگ کرو اور دشمن کو روکو۔ تو بولے ہم کو لڑائی آتی ہوتی تو ہم تمہارے ساتھ ضرور چلتے۔ اس دن وہ نافرمانی سے زیادہ قریب تھے بہ نسبت ایمان کے۔ یہ لوگ منہ سے ایسی بات کہتے ہیں جو اُن کے دل میں نہیں ہوتی۔ اور ﷲ جانتا ہے جو یہ چھپاتے ہیں{۱۶۷}
جو لوگ خود بیٹھے رہے تھے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہتے کہ ہمارا کہا مانتے تو قتل نہیں ہوتے۔ ان سے کہو اگر سچے ہو تو اپنی موت کو ٹال کر دِکھائو{۱۶۸}
جو لوگ ﷲ کی راہ میں قتل ہوتے ہیں ان کو مردہ نہیں سمجھو۔ ﷲ کے نزدیک زندہ ہیں اور اپنا رزق پائیں گے{۱۶۹}
اور ﷲ نے اپنے فضل سے جو کچھ اُن کو دیا ہے اُس سے خوش ہیں۔ اور جو لوگ اُن سے نہیں مل سکے یعنی پیچھے رہ گئے ہیں۔ اُن پر خوش ہیں کہ اُنہیں نہ خوف ہے نہ غم ہے{۱۷۰}
وہ ﷲ کی نعمتوں اور فضل پر خوش ہیں۔ اور ﷲ اہل ایمان کا اجر ضائع نہیں کرتا{۱۷۱}
جو لوگ ﷲ رسول کی پکار پر مصیبت اُٹھا کر اور زخم کھا کر بھی حاضر رہے۔ ان کے ساتھ جو نیک اور پرہیزگار ہیں ان کے لئے بڑا اجر ہے{۱۷۲}
جب لوگوں نے آکر کہا کہ دشمن جمع ہو رہے ہیں اُن سے ڈرو تو اُن کا (ﷲ پر) یقین بڑھ گیا اور وہ بولے ہمارے لئے ﷲ کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے{۱۷۳}
پھر وہ ﷲ کی نعمتوں اور فضل کے ساتھ واپس آئے اور اُن کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ وہ ﷲ کی خوشنودی کے تابع رہے۔ اور ﷲ بڑا فضل کرنے والا ہے{۱۷۴}
بے شک سرکش صفت لوگ اپنے اولیاء (دوستوں) سے اسی طرح ڈراتے ہیں۔ مگر تم ان سے نہیں ڈرو صرف مجھ سے ڈرتے رہو اگر صاحبِ ایمان ہو{۱۷۵}
اور جو لوگ نافرمانی میں جلدی کرتے ہیں اُن سے غمگین نہیں ہو۔ یہ لوگ ﷲ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ ﷲ چاہتا ہے کہ ان کو آخرت میں کوئی حصہ نہیں دے اور اُن کے لئے بڑا عذاب ہے{۱۷۶}
جو لوگ ایمان کے بدلے نافرمانی خریدتے ہیں وہ ﷲ کا کوئی نقصان نہیں کرتے۔ ان کو دردناک عذاب ہوگا{۱۷۷}
نافرمان نہیں جانتے کہ جو مہلت ہم دے رہے ہیں وہ ان کے لئے اچھی نہیں ہے۔ یہ مہلت اس لئے ہے کہ وہ اپنے گناہ بڑھا لیں تاکہ اُن پر سخت عذاب ہو{۱۷۸}
اور ﷲ مومنوں کو بھی اپنے حال پر چھوڑنے والا نہیں ہے جس میں وہ مگن رہیں۔ وہ پاک کو ناپاک سے جدا کرے گا۔ اور ﷲ تمہیں غیب کا حل بھی نہیں بتائے گا۔ وہ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے کچھ بتا دیتا ہے۔ پس تم ﷲ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائو۔ اگر ایمان لائو اور تقویٰ کرو (یعنی گناہوں سے بچتے رہو) تو تم کو اچھا اجر ملے گا{۱۷۹}
جو لوگ ﷲ کے دئیے ہوئے مال میں بخالت (کنجوسی) کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں یہ اچھی چیز ہے وہی ان کے لئے شرم کا باعث ہے۔ وہ جس مال میں بخالت کرتے ہیں وہ قیامت کے دن گلے کا طوق بنے گا۔ اور آسمانوں اور زمین کا وارث تو ﷲ ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو ﷲ جانتا ہے{۱۸۰}
ﷲ نے ان کی بات بھی سن لی ہے جو کہتے ہیں ﷲ فقیر ہے اور ہم مالدار ہیں۔ ہم ان کی باتیں لکھ رہے ہیں۔ یہ رسولوں کو ناحق قتل کرنے والے ہیں۔ ہم اُن سے کہیں گے اب آگ کا مزہ چکھو{۱۸۱}
یہ اُن کے اعمال کی سزا ہوگی جو آگے بھیج رہے ہیں۔ اور ﷲ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا{۱۸۲}
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ﷲ نے ہم سے کہا ہے کہ کسی رسول پر ایمان نہیں لانا جو ایسی قربانی پیش نہیں کرے جسے آگ کھا جائے۔ اُن سے کہو مجھ سے پہلے تمہارے پاس کئی رسول آئے اور واضح نشانیاں بھی لائے جیسی تم نے چاہیں پھر تم نے اُن کو قتل کیوں کیا۔ اگر سچے ہو{۱۸۳}
یہ لوگ اگر تم کو جھٹلاتے ہیں تو پہلے رسول بھی جھٹلائے گے ہیں جو کھلی نشانیاں، صحیفے اور روشن دلیلیں لے کر آئے تھے{۱۸۴}
ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اور قیامت کے دن اعمال کا بدلہ چکایا جائے گا۔ تو جو آگے کے عذاب سے بچ گئے اور جنت میں داخل ہوئے وہی خوش نصیب ہوں گے۔ اور دنیا کی زندگی تو چند روزہ فخر کی چیز ہے{۱۸۵}
یہاں مال اور جانور سے تمہاری آزمائش کی جاتی ہے۔ تم اُن لوگوں سے جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی اور مشرکوں (وسیلہ بنانے والوں) سے بہت سی دل آزاری کی باتیں سنو گے لیکن تم برداشت کرو اور گناہوں سے بچو تو یہ عزم و حوصلے کی بات ہے{۱۸۶}
ﷲ نے اہلِ کتاب سے عہد لیا تھا کہ وہ سب باتیں لوگوں کو بتاتے رہیں گے اور کچھ چھپائیں گے نہیں۔ مگر انہوں نے وہ وعدہ بھلا دیا۔ اور اس کے بدلے تھوڑی قیمت پر اُسے بیچنے لگے۔ تو برا ہے جو کچھ وہ بیچتے ہیں{۱۸۷}
یہ لوگ اپنے کئے پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ اُس پر بھی تعریف کی جائے جو انہوں نے نہیں کیا۔ تو تم یہ نہیں سمجھنا کہ وہ عذاب سے بچ جائیں گے۔ انہیں دُکھ دینے والا عذاب ہوگا{۱۸۸}
آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ﷲ کی ہے اور ﷲ سب کچھ کرنے کی قدرت رکھتا ہے{۱۸۹}
دنیا اور آسمان کو بنانے میں اور رات اور دن کے بدلتے رہنے میں سمجھنے والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں{۱۹۰}
جو لوگ ﷲ کو اٹھتے اور بیٹھتے اور لیٹے ہوئے یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کے بنانے میں غور کرتے ہیں (علم طبیعات)۔ اور کہتے ہیں کہ اے مالک تو نے یہ سب بے سبب نہیں بنایا ہے تو پاک ہے۔ ہمیں آگ کے عذاب سے بچانا{۱۹۱}
اے مالک تو جسے آگ میں ڈالے گا وہ رسوا ہوجائے گا۔ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا{۱۹۲}
اے مالک ہم نے ایک بلانے والے کو سنا جو لوگوں کو اپنے پالنے والے (ﷲ) کی طرف بلاتا تھا کہ اپنے سچے پالنے والے(ﷲ) پر ایمان لائو تو ہم ایمان لے آئے۔ اے مالک ہمارے گناہ بخش دے۔ ہماری برائیوں کو دور کر دے اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ موت دینا{۱۹۳}
اے مالک تو نے جن چیزوں کا اپنے رسولوں کے ذریعہ وعدہ کیا ہے وہ ہمیں بھی دینا اور قیامت کے دن ہمیں شرمسار نہیں کرنا۔ بلاشبہ تو اپنا مقرر کیا ہوا (قیامت کا)وقت نہیں ٹالے گا{۱۹۴}
تو ان کے پالنے والے(ﷲ)نے ان کی دعا قبول کرلی اور کہا میں اچھے کام کرنے والوں کے خواہ مرد ہوں یا عورتیں اعمال ضائع نہیں کرتا۔ تم میں سے جن لوگوں نے میرے لئے ہجرت کی۔ اپنے وطن سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور لڑے اور قتل ہوئے میں سب کے گناہ بخش دوں گا۔ انہیں جنتوں میں داخل کروں گا۔ جہاں دریا بہتے ہوں گے۔ یہ اُن کے مالک کا فضل ہوگا{۱۹۵}
اور تم نافرمانوں کے شہروں میں گھومتے پھرنے پر شک نہیں کرو{۱۹۶}
یہ چند روزہ فائدے ہیں پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بری جگہ ہے{۱۹۷}
اور جو لوگ اپنے پالنے والے(ﷲ)سے ڈرتے ہیں ان کے لئے باغ ہوں گے جن کے نیچے دریا بہتے ہوں گے اُن میں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ یہ ﷲ کی مہمانی ہے اور ﷲ کے پاس نیک لوگوں کے لئے بھلائیوں کے سوا کچھ نہیں ہوگا{۱۹۸}
بعض اہلِ کتاب ایسے ہیں جو ﷲ پر ایمان رکھتے ہیں اور جو تم پر اترتا ہے اور جو تم سے پہلے اترا تھا اس پر بھی۔ اور ﷲ سے عاجزی کرتے رہتے ہیں۔ اور تھوڑے سے فائدے کے لئے ﷲ کی باتیں (حدیثیں) (لایشترون) نہیں بیچتے۔ اُن کے لئے بھی اُن کے پالنے والے(ﷲ)کے پاس اچھا اجر ہوگا۔ اور ﷲ جلد حساب لینے والا ہے{۱۹۹}
اور اے ایمان لانے والو! محنت کرو اور استقامت دِکھائو اور متحد رہو اور ﷲ سے ڈرتے رہو تو یقینا تم فلاح (خوشحالی) پالوگے{۲۰۰}

النساء
Surah 4

ﷲ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

اے لوگو! اپنے پالنے والے(ﷲ) سے محبت کرو جس نے تمہیں ایک نفس (جان) سے بنایا اور اُسی سے اس کا جوڑا بنایا پھر اُن سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔ پس ﷲ سے محبت کرو جس کے واسطے سے تم یہ خونی رشتہ قائم کرتے ہو۔ یقینا ﷲ تمہاری نگرانی کرتا ہے{۱}
اور (سوتیلے) بچوں کا مال اُن کو دیدیا کرو۔ حرام مال اپنے پاک مال سے نہیں بدلو یعنی اُن کا مال اپنے مال کے ہوتے نہیں کھائو۔ یہ بڑا گناہ ہے{۲}
اگر اندیشہ ہو کہ تم اُن (بے سہارا بچوں) کے ساتھ انصاف نہیں کر سکو گے تو (بیوائوں کے بدلے) اپنی پسند کی دو دو تین تین یا چار چار(کنواریوں) سے نکاح کرلو (تاکہ لڑکیاں بے بیاہی نہیںپھریں)۔ لیکن ڈرو کہ اُن کو سنبھال نہیں سکو گے تو ایک ہی بیوی یا کنیز جو مل جائے کافی ہے۔ بے انصافی سے بچنے کی یہ معمولی احتیاط ہے{۳}
اور عورتوں کو اُن کے صدقات (حق مہر) خوش دلی سے ادا کردیا کرو۔ ہاں وہ اپنی خوشی سے کچھ معاف کر دیں تو شوق سے کھالو{۴}
اور ناسمجھ (سوتیلے) بچوں کو اُن کا مال نہیں دو۔ جن کا ﷲ نے تم کو سرپرست بنایا ہو۔ اِس میں سے ان کو کھلا، پہنا سکتے ہو اور ان سے اچھا سلوک کرو{۵}
اور سوتیلے بچوں کو کام کاج میں لگائے رکھو حتیٰ کہ بالغ (نکاح کے قابل) ہوجائیں۔ جب سمجھدار ہوجائیں تو اُن کا مال (باپ کا ترکہ) اُن کو واپس کردو۔ اور اسے بے جا یا جلد صرف کر ڈالنے کی کوشش نہیں کرنا۔ بلکہ آسودہ حال ہو تو ایسے مال سے پرہیز کرو۔ ہاں جو صاحبِ حیثیت نہیں ہو تو حسبِ دستور اس میں سے خرچ کرلے۔ اور جب اُن کا مال اُن کے حوالے کرنے لگو تو گواہ کرلیا کرو۔ گو حساب لینے کے لئے ﷲ کافی ہے{۶}
ماں باپ یا رشتہ داروں کے ترکے میں وہ کم ہو یا زیادہ مردوں کا بھی حق ہے اور عورتوں کا بھی۔ یہ تقسیم فرض کی جاتی ہے{۷}
اور جب میراث کی تقسیم کے وقت رشتے دار، بے سہارا اور محتاج آجائیں تو اُن کو بھی اس میں سے دیدیا کرو اور اُن سے ہمدردی کی باتیں کرو{۸}
اور اُن لوگوں کے معاملات میں ڈرو جو اپنے پیچھے چھوٹے بچے چھوڑ جائیں اور اُن کے بارے میں فکرمند ہوں اُن کے معاملے میں ﷲ سے ڈرو اور ہمیشہ صاف (کھری) بات کہو{۹}
جو لوگ ایسے بے سہارائوں کا مال زبردستی کھا جائیں گے وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھریں گے اور جہنم میں ڈالے جائیں گے{۱۰}
ﷲ تمہیں اپنی اولاد کے بارے میں وصیت کر جانے کا حکم دیتا ہے۔ بیٹوں کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہوگا۔ اور وارث صرف لڑکیاں ہوں اور دو سے زیادہ ہوں تو ان کو کل ترکے کا دو تہائی(۳/۲) حصہ ملے گا۔ اور صرف ایک بیٹی ہو تو نصف(۲/۱) دیدو۔ ماں اور باپ کو الگ الگ چھٹا حصہ(۶/۱) دو اگر میت کی اولاد موجود ہے۔ اور اولاد نہیں ہو صرف والدین وارث ہوں تو ماں کو ایک تہائی(۳/۱) دو۔ اور بھائی موجود ہوں تو ماں کو چھٹا(۶/۱) حصہ دو۔ یہ تقسیم وصیت کی تعمیل اور قرضوں کی ادائیگی کے بعد کی ہے۔ تمہیں اپنے ددھیالی بزرگوں اور اپنی نسلی اولاد کو نفع پہنچانے میں حقوق کا پتہ نہیں تھا۔ اس لئے ﷲ نے فرض کر دیا۔ بلاشبہ ﷲ تمام حکمتیں جانتا ہے{۱۱}
اور شوہر کو بیوی کا نصف ترکہ دیا جائے اگر اولادنہیں ہو۔ اور اولاد ہو تو چوتھائی(۴/۱) حصہ دو۔ یہ تقسیم بھی وصیت کی تعمیل کے بعد اگر کی گئی ہو۔ اور قرض ادا کرنے کے بعد جو اس کے ذمہ ہو کی جائے۔ اور بیوی کو شوہر کے ترکے کا چوتھائی(۴/۱) ملے گا اگر اولاد نہیں ہو۔ اولاد ہو تو آٹھواں حصہ دو۔ اور یہ بھی وصیت کی تعمیل اور قرض کی ادائیگی کے بعد کیا جائے۔ اور اگر میت کا باپ ہو نہ بیٹا صرف بھائی بہن ہوں تو ان میں ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا اور زیادہ ہوں تو سب کل کے ایک تہائی(۳/۱) میں شریک ہوں گے۔ یہ بھی وصیت کی تعمیل اور قرض چکانے کے بعد کیا جائے اور کسی کی حق تلفی نہیں کی جائے۔ یہ ﷲ کا قانونِ وصیت ہے۔ اور ﷲ بڑا جاننے والا اور حلیم ہے{۱۲}
یہ ﷲ کی مقرر کردہ حدود (ضوابط) ہیں۔ جو ﷲ اور اس کے رسول کا کہا مانے گا جنت کا حقدار ہوگا۔ جن کے نیچے دریا بہتے ہوں گے وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہی کامیابی ہے{۱۳}
اور جو ﷲ اور رسول کی نافرمانی کرے گا اور اِن حدود کو توڑے گا۔ وہ جہنم میں ڈالا جائے گا۔ جہاں ہمیشہ رہے گا اور وہ ذلت کا عذاب ہے{۱۴}
اور تمہاری بیویوں میں سے کوئی بے حیائی کے کام میں ملوث ہوجائے تو اُس پر چار گواہ کرلو اور چاروں گواہی دے دیں تو ان کو تاحیات زیرِ نگرانی رکھو حتیٰ کہ ﷲ ان کے لئے کوئی دوسری صورت نکال دے{۱۵}
اسی طرح اگر دو مرد خلافِ فطرت فعل کریں تو اُن کو اذیت دو حتیٰ کہ توبہ کرلیں اور سدھر جائیں تو چھوڑ دو۔ ﷲ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے{۱۶}
اور توبہ قبول کرنا بھی ﷲ کے ذمے ہے۔ کوئی دانستہ غلط کام کر بیٹھے پھرنادم ہو تو ﷲ ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرلیتا ہے۔ اور وہ بڑا جاننے والا اور حکمت والا ہے{۱۷}
مگر ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی جو عمر بھر برے کام کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ موت آجائے تو کہنے لگیں کہ اب میں توبہ کرتا ہوں۔ اسی طرح ان کی توبہ قبول نہیں ہوگی جو نافرمانی کی حالت میں مریں گے۔ اور ان لوگوں کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیا رکیا ہے{۱۸}
اے ایمان لانے والو! تمہارے لئے حلال نہیں کہ تم عورتوں کے زبردستی وارث بن بیٹھو یا اُن کو گھروں میں بند رکھو تاکہ جو کچھ تم نے دیا ہے اس میں سے کچھ واپس لے لو۔ سوائے اُس صورت کے کہ وہ کسی بے حیائی میں ملوث ہوں۔ اُن کے ساتھ اچھی طرح بسر کرو۔ اگر وہ تمہیں ناپسند ہیں تو کیا جانو تم جس چیز کو ناپسند کرتے ہو ﷲ اُسی میں بھلائی عطا کر دے{۱۹}
اور جب تم ایک بیوی چھوڑ کر دوسری لانا چاہو تو پہلی بیوی کو اگر تھیلیاں بھر کر بھی مال دیا ہو تو اس میں سے کچھ نہیں لینا اور نہ اُس پر کوئی بہتان لگانا۔ یہ سخت گناہ ہے{۲۰}
تم اپنا دیا ہوا مال کیسے لے سکتے ہو۔ تم ایک دوسرے کے ساتھ رہ چکے ہو اور عہدوپیمان کر کے شریکِ حیات بنے تھے{۲۱}
اور ایسی عورتوں سے نکاح نہیں کرنا جو پہلے تمہارے باپ دادا کے نکاح میں رہ چکی ہوں۔ پہلے جو کچھ ہوا وہ ہوچکا۔ یہ نہایت بے حیائی کا کام ہے۔ جسے ﷲ پسند نہیں کرتا۔ یہ جاہلیت کا گھنائونا دستور تھا{۲۲}
تم پر تمہاری سوتیلی مائیں، بہنیں، بیٹیاں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں اور وہ مائیں بھی جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہے اور ساسیں حرام کر دی گئی ہیں اور جن عورتوں کے ساتھ تم رہ چکے ہو ان کی بیٹیاں بھی (حرام ہیں)۔جو تمہاری پرورش میں ہوں ہاں ہاتھ نہیں لگایا ہو تو ماں کو طلاق دے کر بیٹی سے نکاح کرلینے میں کوئی حرج نہیں۔ اور تمہارے بیٹوں کی بیویاں بھی حرام ہیں اور دو بہنوں کا جمع کرنا بھی۔ جو پہلے ہوا وہ ہوچکا۔ ﷲ بخشنے والا اور رحیم ہے{۲۳}
اور شادی شدہ عورتیں بھی حرام ہیں سوائے اسیرانِ جنگ کے۔ اِن کے علاوہ سب عورتیں حلال ہیں جنہیں مال (حق مہر) دے کر نکاح میں لائو۔ تاکہ نسل چلے نہ کہ عیاشی کے خیال سے۔ پس جب اُن سے فائدہ اٹھائو تو اُن کا حق مہر ادا کرو۔ ہاں اگر قول و قرار کے بعد باہمی رضامندی سے کچھ کمی بیشی کر لو تو کوئی گناہ نہیں۔ بلاشبہ ﷲ سب جانتا ہے{۲۴}
اور حق مہر ادا کر کے آزاد مومن عورت سے نکاح کی حیثیت نہیں ہو تو باایمان لونڈی (سے نکاح) بہتر ہے۔ ﷲ تمہارے ایمان کو جانتا ہے۔ اور تم ایک دوسرے کی لونڈیوں سے ان کے سرپرستوں کی اجازت سے نکاح کرسکتے ہو بشرطیکہ دستور کے مطابق ان کا معاوضہ (حق مہر) دیدو اور وہ عفیفہ ہوں۔ محض عیاشی مقصود نہیں ہو۔ نہ وہ بدکاری میں پکڑی گئی ہوں۔ اور نکاح کے بعد وہ بدکاری میں پکڑی جائیں تو ان کو سزا آزاد شادی شدہ عورتوں کی سزا سے نصف ہے۔ یہ اجازت ان لوگوں کے لئے ہے جنہیں گناہ کر بیٹھنے کا خوف ہو لیکن وہ ثابت قدم رہیں تو زیادہ اچھا ہے۔ اور ﷲ بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے{۲۵}
ﷲ چاہتا ہے کہ اپنے احکام تم کو خوب سمجھا دے اور پہلے لوگوں کے طریقے بھی بتا دے اور تمہاری توبہ قبول کرلے۔ اور ﷲ بڑا جاننے والا اور صاحبِ حکمت ہے{۲۶}
ﷲ چاہتا ہے تمہاری توبہ قبول فرمائے مگر جو لوگ اپنے نفس (ضمیر) کے غلام ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھے راستے سے بھٹک جائو{۲۷}
ﷲ تمہارا بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہے۔ اُس نے انسان کو کمزور بنایا ہے{۲۸}
اے ایمان لانے والو! تم ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے نہیں کھانا۔ ہاں تجارتی لین دین اور آپس کی رضامندی کی اور بات ہے۔ اور اپنے لوگوں کو قتل نہیں کرنا۔ بلاشبہ ﷲ تم پر بہت مہربان ہے{۲۹}
پھر جو ظلم اور زیادتی سے ایسی حرکتیں کرے گا وہ آگ میں ڈالا جائے گا اور یہ ﷲ کے لئے آسان ہے{۳۰}
اگر تم بڑے گناہوں سے بچتے رہے جن سے منع کیا گیا ہے تو تمہاری بھول چوک اور چھوٹی غلطیاں معاف کر دی جائیں گی اور تمہیں اچھی جگہوں میں داخل کیا جائے گا{۳۱}
مگر ہر اُس چیز کی تمنا نہیں کیا کرو جو ﷲ نے بعض کو بعض پر فضیلت دینے کے لئے دے رکھی ہے۔ مردوں کو ان کے اعمال کا بدلہ ملے گا اور عورتوں کو اُن کے اعمال کا۔ اور ﷲ سے فضل طلب کرتے رہو۔ ﷲ ہر چیز کا علم رکھتا ہے{۳۲}
ماں باپ اور رشتے دار جو مال چھوڑ جائیں اُن کے وارث ہم نے مقرر کر دئیے ہیں۔ اور جن لوگوں کو تم پال لو اُن کو اُن کا حصہ دو۔ بلاشبہ ﷲ ہر چیز پر گواہ ہے{۳۳}
مردوں کو عورتوں کا محافظ بنایا گیا ہے یہ اس لئے کہ ﷲ نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور اس لئے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں پس نیک بیبیاں فرمانبرداری کرتی ہیں اور اُن کی غیرحاضری میں اُن کی چیزوں کی حفاظت کرتی ہیں جن کا ﷲ نے حکم دیا ہے۔ اور جن عورتوں کے بارے میں تمہیں ڈر ہو کہ نافرمان ہوگئی ہیں ان کو سمجھائو۔ نہیں مانیں تو اُن سے دور رہو پھر بھی باز نہیں آئیں تو سزا دو۔ اور جب فرمانبردار ہوجائیں تو پھر ستانے کے بہانے نہیں ڈھونڈو۔ بلاشبہ ﷲ بلند مرتبہ اور سب سے اعلیٰ ہے{۳۴}
اندیشہ ہو کہ میاں بیوی کی رنجش بڑھ گئی ہے تو طرفین کے گھر والوں سے ایک ایک بزرگ کو بلالو۔ وہ صلح صفائی کروانا چاہیں گے تو ﷲ ان میں موافقت کرا دے گا۔ یقینا ﷲ سب کچھ جانتا اور خبر رکھتا ہے{۳۵}
اور ﷲ کی بندگی کرتے رہو کسی کو اُس کا شریک (بیٹا، وسیلہ) نہیں بنائو۔ ماں باپ رشتہ داروں، بے سہارائوں، محتاجوں، قریبی پڑوسیوں اور دور کے پڑوسیوں اور ساتھ بیٹھنے والے دوستوں اور مسافروں اور گھر میں پلنے والے نوکروں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے رہو۔ ﷲ شیخی بازوں اور ڈینگیں مارنے والوں سے محبت نہیں کرتا{۳۶}
جو لوگ کنجوسی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی کنجوسی سکھاتے ہیں اور ہم نے جو کچھ اپنے فضل سے دیا ہے اُسے چھپاتے ہیں۔ ہم نے ایسے احسان نہ ماننے والوں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کیا ہے{۳۷}
اور جو لوگ اپنا مال دکھانے کے لئے خرچ کرتے ہیں مگر نہ ﷲ پر ایمان رکھتے ہیں نہ روزِ آخرت پر۔ ایسے لوگ نافرمان ہیں اور برے ساتھی ہیں{۳۸}
جو لوگ ﷲ اور روزِ آخرت پر ایمان لانے سے کتراتے ہیں اور ہمارا دیا ہوا مال خرچ نہیں کرتے۔ ﷲ اُن کو خوب جانتا ہے{۳۹}
بلاشبہ ﷲ کسی پر ذرہ بھر بھی ظلم نہیں کرے گا۔ اگر کوئی نیکی ہوگی تو اسے دوگنا کردے گا بلکہ بہت سارا اجر اپنے پاس سے دے گا{۴۰}
اس دن کیا ہوگا جب ہم ہر اُمت کو اس کے گواہ (امام) کے ساتھ بلائیں گے اور تم کو ان سب پر گواہ بنائیں گے{۴۱}
اس دن نافرمان اور رسول کے مجرم (انکار کرنے والے) آرزو کریں گے کہ انہیں پھر زمین میں دفن کر دیا جائے مگر اُس دن ﷲ اُن کی کوئی (حَدِیْثًا) بات نہیں چھپائے گا (رسوا کرے گا){۴۲}
اے ایمان لانے والو! نشے کی حالت میں شریکِ صلات نہیں ہوا کرو۔ جب تک جو کچھ کہو سمجھنے نہیں لگو۔ اور جنابت کی حالت میں یا سفر سے آکر جب تک نہیں نہا لو اور جب بیمار ہو یا سفر میں ہو یا رفع حاجت سے لوٹے ہو یا بیوی سے ہم بستر ہوئے ہو اور پانی نہیں ملے تو تیمم کرلیا کرو پاک مٹی سے۔ وہ اس طرح کہ منہ اور ہاتھوں پر مسح کرلو (مل لو)۔ بلاشبہ ﷲ بڑا بخشنے والا اور معاف کرنے والا ہے{۴۳}
اور انہیں دیکھو جن کو کتاب دی گئی تھی مگر وہ گمراہی (یشترون الضللۃ) بیچتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تمہیں بھی راستے سے بھٹکا دیں{۴۴}
ﷲ تمہارے دشمنوں سے واقف ہے مگر تمہارے لئے ﷲ کی سرپرستی اور مدد کافی ہے{۴۵}
بعض یہودی الفاظ کو اپنی جگہ سے بدل دیتے ہیں۔ کہتے ہیں سمعنا و عصینا (ہم سنتے اور مانتے نہیں یا) اسمع غیر مسمعٌ (سنو نہیں سنائے جائو) اور راعنا (بجائے رأینا) یعنی زبان مروڑ کر دین میں طنز کرتے ہیں۔ حالانکہ کہتے سمعینا واطعنا (ہم سنتے ہیں اور کہا مانتے ہیں) اور اسمع و انظرنا (ہماری سنئے، ہم کو دیکھئے) تو اچھا ہوتا اور بات بھی ٹھیک بنتی۔ ﷲ نے ان پر اسی نافرمانی کی وجہ سے لعنت کر رکھی ہے۔ ان میں سوائے چند کے ایمان لانے والے نہیں{۴۶}
اے اہل کتاب ہمارے کلام پر ایمان لے آئو۔ تمہاری کتاب کی تصدیق کرتا ہے جو تمہارے پاس ہے ۔اور یہ کام اس سے پہلے کرلو کہ تمہاری صورتیں بگاڑ کر تمہارے پیچھے کر دی جائیں یا تم پر اُسی طرح کی لعنت کی جائے جیسے ہفتے والوں (اَصْحٰبَ السَّبْت) پر کی گئی تھی۔ اور ﷲ کا حکم تو پورا ہو کر رہتا ہے{۴۷}
بلاشبہ ﷲ اُن کو نہیں بخشے گا جو ﷲ کا شریک (داتا، وسیلہ) بنائے گا۔ اس کے سوا جو گناہ چاہے بخش دے گا۔ جس نے ﷲ کا شریک(بیٹا، وسیلہ) کیا اس نے (ﷲ پر) بڑا بہتان باندھا{۴۸}
اور ان لوگوں کو دیکھو جو خود کو بڑا پاک باز بتاتے ہیں مگر دل کی پاکیزگی تو ﷲ جسے چاہتا ہے(اسکے اعمال کے سبب) دیتا ہے اور وہ دھاگے برابر ظلم نہیں کرتا{۴۹}
اور دیکھو یہ ﷲ پر کیسا جھوٹ باندھتے ہیں۔ اِن کی سزا کے لئے یہی گناہ کافی ہے{۵۰}
اور ان کو دیکھو جنہیں کتاب دی گئی ہے مگر وہ جادو ٹونا اور جن بھوت کو مانتے ہیں۔ اور نافرمان کے بارے میں کہتے ہیں وہ اہل ایمان سے بہتر اور صحیح راہ پر ہیں{۵۱}
ﷲ ایسے لوگوں پر لعنت بھیجتا ہے اور جس پر ﷲ لعنت بھیجے اسے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا{۵۲}
کیا ان کو بادشاہی کا کچھ حصہ مل گیا ہے جو دوسروں کو تل برابر بھی حق نہیں دیں گے{۵۳}
کیا یہ اُن لوگوں سے حسد کرتے ہیں جنہیں ﷲ نے اپنے فضل سے نوازا ہے۔ ہاں ہم نے آلِ ابراہیم کو کتاب اور حکمت عطا کی تھی اور ایک بڑی سلطنت بھی دی تھی{۵۴}
پھر ان میں سے کچھ نے مانا اور کچھ نے انکار کرا۔ تو ان کے لئے جہنم کی آگ کافی ہے{۵۵}
پس جو لوگ ہمارے اِس کلام (حدیث) کو ماننے سے انکار کریں گے ہم اُن کو بھی آگ میں جھونکیں گے۔ جب اُن کی کھالیں جھلس جائیں گی تو نئی کھالیں دی جائیں گی تاکہ عذاب کا مزہ چکھیں۔ بلاشبہ ﷲ ہی عزت و حکمت کا مالک ہے{۵۶}
جو لوگ ایمان لائیں گے اور اچھے کام کریں گے وہ باغوں میں داخل ہوں گے جہاں نہریں بہتی ہوں گی وہاں ہمیشہ رہنا ہے وہاں پاک بیویاں ملیں گی اور گھنے سائے (ٹھنڈا ماحول){۵۷}
ﷲ تم کو حکم دیتا ہے کہ لوگوں کی امانتیں اُن کے مالکوں کو واپس کر دیا کرو۔ اور لوگوں کے مقدمات فیصل کرو تو انصاف سے کرو۔ یہ نصیحتیں بھی ﷲ کی نعمت ہیں۔ بلاشبہ ﷲ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے{۵۸}
اے ایمان لانے والو! ﷲ کا حکم مانو اور رسول کا کہا مانو اور اپنے حاکموں کا بھی کہا مانو۔ اگر کسی بات میں تنازعہ ہوجائے تو ﷲ اور رسول سے رجوع کرو۔ اگر ﷲ اور اس کے حساب کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ اچھی چیز ہے اور اُس کے نتائج بھی اچھے ہوں گے{۵۹}
اب ان کو دیکھو جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایمان لائے ہیں اس پر جو تم پر اُترا ہے اور اُس پر بھی جو پہلے نازل ہوا تھا مگر اپنا مقدمہ ایک نافرمان کے پاس لے جاتے ہیں حالانکہ اس سے دور رہنے کا حکم دیا گیا تھا۔ دراصل نافرمان چاہتا ہے کہ ان کو گمراہی میں ڈھکیل دے{۶۰}
ان سے کہا جائے کہ جو کچھ ﷲ نے اُتارا ہے اس سے اور اس کے رسول سے رجوع کرو تو منافقوں (کمزور ایمان والے مسلمانوں) کو دیکھو وہ تمہارے پاس آنے والوں کو روکتے ہیں{۶۱}
مگر جب شامتِ اعمال سے کوئی مصیبت آجاتی ہے تو تمہارے پاس ڈورے آتے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں کہ احسان اور توفیق (بھائی چارہ) کے سوا کچھ نہیں چاہتے{۶۲}
یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کی باتیں ﷲ جانتا ہے تم اُن کی پروا نہیں کرو۔ صرف نصیحت کرتے رہو۔ اُن سے ایسی باتیں کہو جو ان کی سمجھ میں آجائیں{۶۳}
اور بے شک ہم نے رسول اس لئے بھیجے ہیں کہ ﷲ کے حکم سے ان کا کہا مانا جائے پس جب یہ لوگ اپنے حق میں کوئی ظلم کر بیٹھیں تو چاہیے کہ تمہارے پاس آئیں اور ﷲ سے بخششیں طلب کریں اور رسول ان کی بخشش کی دعا کریں تاکہ ﷲ جو معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے ان کی توبہ قبول کرے{۶۴}
تمہارے پالنے والے(ﷲ) کی قسم یہ سچے مومن نہیں بن سکتے جب تک تمہیں اپنا منصف (فیصلہ کرنے والا) تسلیم نہیں کرلیں اور جو فیصلہ تم کر دو اس سے تنگ دل نہیں ہوں اور تمہارا ہر حکم خوشی خوشی تسلیم (یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا) کریں{۶۵}
اگر ہم حکم دیتے کہ تم اپنے شریر لوگوں کو قتل کر ڈالو۔ ان کو اپنے شہر سے نکال دو تو ان میں سے چند ہی ایسا کرتے۔ لیکن اگر یہ اُس پر عمل کرلیں جو اِن کو سمجھایا جاتا ہے تو ان کے لئے اچھا ہو۔ یہ پکے مومن بن جائیں{۶۶}
اور ہم بھی ان کو اپنے پاس سے اچھا اجر دیں{۶۷}
اور اِن کو سیدھی راہ دکھا دیں{۶۸}
پس جو ﷲ اور رسول کا کہا مانے گا اور ان کا ساتھی بن جائے گا جن پر ﷲ نے انعام (فضل) کیا ہے یعنی رسولوں، صدیقوں، گواہوں اور صالحین کا انہی کے رفیق (ساتھی) اچھے ہیں{۶۹}
اور یہی ﷲ کا فضل ہے اور ﷲ ہی بہتر جانتا ہے{۷۰}
پس اے ایمان لانے والو! تم اپنے ہتھیار سنبھال لو اور ٹکڑی ٹکڑی نکلو یا سب مل کر نکل پڑو{۷۱}
تم میں بعض ایسا بھی ہوگا جو پیچھے رہ جائے پھر تم پر کوئی سختی آپڑے تو کہے گا ﷲ کا احسان ہے میں وہاں دیکھنے کے لئے موجودنہیں تھا{۷۲}
اور ﷲ تم پر فضل کرے (فتح ہو) تو آکر اس طرح باتیں کرے گا گویا تم سے جان پہچان ہی نہیں تھی مگر دل میں کہے گا کاش میں بھی ان کے ساتھ جاتا تو مجھے بھی مال ملتا{۷۳}
جو لوگ آخرت کے بدلے دنیا کی (یشرون الحیٰوۃ) زندگی بیچنا چاہتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ ﷲ کی راہ میں نکل پڑیں۔ جو ﷲ کی راہ میں نکلے گا تو خواہ وہ قتل ہوجائے یا غالب رہے ہم اسے اچھا صلہ دیں گے{۷۴}
اور تم ﷲ کی راہ میں لڑنے کیوں نہیں نکلتے۔ اُن بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کے لئے جو دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے پالنے والے (ﷲ) ہم کو اس شہر سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں نکال کر کہیں لے جا یا اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حمایتی بنا اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا ہمدرد بنا دے {۷۵}
تو جو اہل ایمان ہیں وہ ﷲ کے لئے لڑتے ہیں۔ اور جو نافرمان ہیں وہ اپنے باطل خدائوں کے لئے لڑتے ہیں۔ پس تم سرکشی، نافرمانی کرنے والے کے اولیاء (ساتھیوں) سے لڑو۔ یقینا سرکشی، نافرمانی کرنے والے کا دائو بودا و کمزور ہے{۷۶}
اور ان کو نہیں دیکھا جن سے کہا گیا تھا ابھی ہاتھ نہیں اٹھائو(جنگ نہیں کرو) بس صلات قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے رہو۔ پھر جب لڑنے (جنگ)کا حکم دیا گیا تو اُن میں سے کچھ انسانوں سے اس طرح ڈرنے لگے جیسے ﷲ سے ڈرنا چاہیے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور کہنے لگے اے پالنے والے (ﷲ)تو نے ہم پر (جنگ)لڑنا کیوں فرض کر دیا ہمیں تھوڑی مہلت دی ہوتی۔ ان سے کہو دنیا کا فائدہ معمولی چیز ہے ﷲ سے محبت کرنے والوں کے لئے آخرت بہتر ہے۔ اور تم پر دھاگے بھر ظلم نہیں ہوگا{۷۷}
تم کہیں بھی رہو موت تو آکر رہے گی۔ خواہ محفوظ گنبد (قلعے) میں جا چھپو۔ ان کو کچھ مال مل جاتا ہے تو کہتے ہیں یہ ﷲ نے دیا ہے اور جب تکلیف پہنچتی ہے تو کہتے ہیں (اے رسول) یہ تمہاری وجہ سے آئی۔ کہو وہ سب ﷲ کی طرف سے ہے۔ اس قوم کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ معمولی سی حدیث (بات) بھی نہیں سمجھتے{۷۸}
تم کو جو بھلائی ملتی ہے وہ ﷲ کی طرف سے ہے اور جو دُکھ پہنچتا ہے وہ تمہاری اپنی شامتِ اعمال کی وجہ سے ہے۔ اور ہم نے تم کو بنی نوع انسان کے لئے رسول بنایا ہے اس پر ﷲ کی گواہی کافی ہے{۷۹}
جو رسول کا کہا مانتا ہے وہ دراصل ﷲ کا حکم مانتا ہے اور جو منہ موڑتا ہے تو اے بنی ہم نے تم کو اُن کا تھانیدار نہیں بنایا ہے{۸۰}
بعض لوگ کہتے ہیں ہم تمہارا کہا مانتے ہیں مگر تمہارے پاس سے جاتے ہیں تو ان سے مختلف باتیں کرتے ہیں جو تم سے کہی تھیں۔ ﷲ سب کچھ لکھ رہا ہے کہ یہ کیا مشورے کرتے ہیں۔ تم ان کی پروا نہیں کرو ﷲ پر بھروسہ رکھو۔ ﷲ تمہاری وکالت کے لئے کافی ہے{۸۱}
لوگ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے۔ اگر یہ ﷲ کے سوا کسی اور کا کلام ہوتا تو اس میں بڑے اختلافات ہوتے{۸۲}
ان کے پاس امن یا جنگ کی خبریں آتی ہیں تو انہیں پھیلا دیتے ہیں۔ اگر یہ خبریں پہلے اپنے رسول یا صحابہ کو پہنچائیں تو وہ تحقیق کر کے صحیح صورتِ حال بتا سکتے ہیں۔ اگر تم پر ﷲ کا فضل و رحمت نہیں ہوتی تو چند کے سوا سب سرکشی کرنے والے کے تابع ہوجاتے{۸۳}
پس تم ﷲ کی راہ میں لڑو اور تم اپنی ذات کے سوا کسی کے ذمہ دار نہیں ہو۔ اور مومنوں کو جہاد کی ترغیت دو۔ ممکن ہے ﷲ نافرمانوں سے لڑائی بند کروا دے۔ اور ﷲ جنگ کے بارے میں بہت سخت ہے اور سزا دینے میں بھی سخت ہے{۸۴}
جو بھلائی کے کام کی سفارش کرتا ہے اُسے اُس کا ثواب ملے گا اور جو برائی کی سفارش کرتا ہے اُسے اُس کا حصہ ملے گا اور ﷲ ہر چیز پر قادر ہے{۸۵}
اور جب کوئی دعائوں کے ساتھ سلام کرے تو تم اُس سے اچھی دُعا دو یا ویسی ہی لوٹا دیا کرو۔ اور ﷲ ہر چیز کا حساب رکھتا ہے{۸۶}
ﷲ وہ ہے جس کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں۔ وہی قیامت کے دن تم سب کو جمع کرے گا اس میں کوئی شک نہیں۔ اور ﷲ سے بڑھ کر سچی حدیث کہنے والا کون ہے{۸۷}
اب اگر منافقوں (کمزور ایمان والے مسلمانوں) میں دو گروہ ہوگئے ہیں تو تمہیں اس سے کیا تعلق۔ ﷲ نے اُن کو اُن کے اعمال کی وجہ سے بوکھلا دیا ہے۔ تو کیا تم چاہتے ہو کہ جنہیں ﷲ نے (ان کے اعمال کے سبب) بھٹکتا چھوڑ دیا ہے انہیں تم راہ راست پر لے آئو۔ جسے ﷲ (اسکے اعمال کے سبب) بھٹکتا چھوڑ دے اسے کبھی سیدھا راستہ نہیں سوجھے گا{۸۸}
وہ چاہتے ہیں کہ جیسے خود نافرمان ہیں تم کو بھی نافرمان بنا کر برابر کرلیں مگر تم اُن کو اپنا اولیاء (دوست) نہیں بنانا جب تک وہ بھی ﷲ کی راہ میں ہجرت نہیں کریں اور ایمان نہیں لائیں۔ اور انکار کریں تو پکڑو اور قتل کر ڈالو جہاں پائو۔ اور اُن میں سے کسی کو اپنا ولی (دوست) اور ہمدرد نہیں سمجھو{۸۹}
جو لوگ ایسے لوگوں سے جا ملے ہیں جن سے تمہارا معاہدہ ہے یا جن کے دل تم سے یا اپنی قوم (قریش) سے لڑنے سے رُکے ہوئے ہیں (اُن کونہیں چھیڑو)۔ اگر ﷲ چاہتا تو اُن کو تم پر غلبہ دیدیتا اور وہ تم سے ضرور لڑتے اب اگر وہ تم سے لڑنے سے کتراتے ہیں اور نہیں لڑتے اور تم سے صلح رکھنا چاہتے ہیں تو ﷲ بھی تم کو ان پر سختی کرنے کی اجازتنہیں دے گا{۹۰}
کچھ لوگ تم ایسے بھی پائو گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی مگر جب فتنہ کھڑا ہو (جنگ ہو) تو آنکھ بند کر کے کود پڑیں تو ایسے لوگ جو نہ لڑتے ہیں نہ صلح کرتے ہیں مصلحتاً ہاتھ روکے بیٹھے رہتے ہیں وہ اِسی قابل ہیں کہ جہاں ملیں پکڑ لو اور قتل کر دو۔ اُن کے متعلق ہم تمہیں عام اجازت دیتے ہیں{۹۱}
اور کسی مؤمن کے لئے جائز نہیں کہ دوسرے مومن کو قتل کرے۔ ہاں بھول چوک کی اور بات ہے۔ اور جو غلطی سے کسی مومن کو قتل کر دے تو ایک مومن غلام آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو خون کی قیمت (خون بہا) دے اگر وہ طلب کریں۔ اگر مقتول دشمنوں کے قبیلے سے ہو اور وہ مومن ہو تو صرف ایک مسلمان غلام آزاد کرنا کافی ہے۔ اور مقتول تمہارے حلیفوں میں سے ہو تو خون بہا بھی دو اور غلام بھی آزاد کرو۔ اور جو اس کا صاحبِ حیثیت نہ ہو وہ دو ماہ کے متواتر روزے رکھے۔ یہ ﷲ کی طرف سے تمہاری توبہ کا کفارہ ہے اور ﷲ بہتر جانتا اور وہ حکمت کا مالک ہے{۹۲}
اور جو کسی مؤمن کو قصداً قتل کرے گا اس کی سزا جہنم ہے جس میں ہمیشہ جلے گا۔ ﷲ کا اس پر غضب ہوگا اور لعنت ہوگی۔ اور ایسے شخص کے لئے سخت عذاب ہے{۹۳}
اے ایمان لانے والو! جب تم ﷲ کی راہ میں نکلو تو تحقیق کرلیا کرو جو تم سے صلح کرنا چاہے اُس سے نہ کہنا کہ تو مومن نہیں ہے محض اس غرض سے کہ دنیا کی زندگی کا کچھ فائدہ حاصل کرلو ﷲ کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں اور نہیں بھولو کہ تم بھی کبھی ایسے ہی تھے پھر ﷲ نے تم پر احسان کیا اور تم ہدایت یاب ہوئے ﷲ تمہارے اعمال کی خبر رکھتا ہے{۹۴}
جو اہلِ ایمان بیٹھے رہتے ہیں اور کوئی معقول عذر نہیں رکھتے۔ اور جو ﷲ کی راہ میں جان اور مال سے لڑتے ہیں برابر نہیں ہوسکتے۔ جان اور مال سے لڑنے اور کوشش کرنے والوں کو ﷲ نے بیٹھے رہنے والوں پر مرتبہ میں فضیلت دی ہے گو سب سے بھلائی کا وعدہ ہے مگر اجر کے لحاظ سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھے رہنے والوں سے بہتر مرتبہ حاصل ہوگا{۹۵}
یعنی درجات میں، مغفرت میں اور رحمت میں بھی۔ اور ﷲ بڑا بخشنے والا اور رحیم ہے{۹۶}
جب فرشتے ایسے لوگوں کی جان نکالتے ہیں جو اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں (نافرمانوں میں چھپے رہتے ہیں) پوچھتے ہیں تم یہاں کس حال میں تھے۔ وہ کہتے ہیں ہم یہاں کمزور تھے۔ تو وہ پوچھتے ہیں کیا ﷲ کی زمین وسیع نہیں تھی کہ ہجرت کر جاتے۔ پس ایسے لوگوں کا ٹھکانا بھی جہنم ہے اور وہ بری جگہ ہے{۹۷}
مگر جو لوگ واقعی کمزور ہیں مرد اور عورتیں اور بچے جن کے پاس نہ وسائل ہوں نہ راستہ جانیں{۹۸}
ممکن ہے ﷲ انہیں معاف کر دے۔ ﷲ بڑا بخشنے والا ہے اور معاف کرنے والا ہے{۹۹}
جو ﷲ کی راہ میں ہجرت کرے گا اسے پناہ اور روزی کے لئے ایک وسیع دنیا ملے گی۔ اور جو ﷲ اور رسول کی طرف ہجرت کے لئے اپنا گھربار چھوڑے اور راستے میں اسے موت آجائے تو اس کا بھی اجر ﷲ کے پاس ملے گا۔ اور ﷲ بڑا بخشنے والا اور رحیم ہے{۱۰۰}
اور اے اہل ایمان جب تم سفر (جہاد) میں ہو تو صلات قصر (نصف) پڑھنے میں کوئی گناہ نہیں یعنی جب اندیشہ ہو کہ نافرمان تمہیں آزمائش میں ڈال دیں گے۔ بلاشبہ حق کے منکر تمہارے دشمن ہیں{۱۰۱}
اے نبی جب تم اپنے لشکر میں موجود ہو اور صلات قائم کرو تو چاہیے کہ ایک جماعت تمہارے ساتھ رہے اور دوسرے اپنے ہتھیار سنبھالے رہیں۔ جب وہ سجدہ کرچکیں (ایک رکعت پڑھ لیں) تو چلے جائیں اور دوسری جماعت جس نے صلات نہیں کی ہو وہ آجائیں۔ بلکہ بہتر یہ ہے کہ سب چوکنا اور مسلح تمہارے ساتھ صلات پوری کریں کیونکہ دشمن تاک میں ہوسکتے ہیں کہ تم اپنے ہتھیار اور سامان سے غافل ہو جائو تو اچانک حملہ کر دیں۔ اور اس میں گناہ نہیں کہ بارش کی تکلیف میں یا بیماری کی وجہ سے کوئی اپنے ہتھیار اُتار دے مگر وہ بھی ہوشیار رہے۔ ﷲ نے نافرمانوں کے لئے ذلت آمیز عذاب رکھا ہے{۱۰۲}
اور جب صلات ختم کرلو تو ﷲ کو کھڑے اور بیٹھے یاد کرتے رہو۔ اور جب خوف جاتا رہے تو حسبِ معمول صلات قائم کرو اور صلات کا مقرر اوقات میں قائم کرنا ﷲ نے فرض کر دیا ہے{۱۰۳}
اور اپنی قوم کا پیچھا کرنے میں سستی نہیں کرو اگر تم کو زحمت ہوتی ہے تو اُن کو بھی تمہاری طرح زحمت ہوتی ہے مگر تم ﷲ سے امیدیں رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔ اور ﷲ بڑا جاننے والا صاحب دانائی ہے{۱۰۴}
ہم نے یہ کتاب سچائی کے ساتھ اتاری ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرسکو جس طرح ﷲ نے سکھایا اور تم فریب کرنے والوں سے نہیں (خَصِیْماً) جھگڑو{۱۰۵}
اور ﷲ سے بخشش طلب کرتے رہو بلاشبہ ﷲ بخشنے والا اور رحیم ہے{۱۰۶}
اور جو لوگ خود اپنے نفس (ضمیر) کو فریب دیتے ہیں ان سے بھی نہیں جھگڑو۔ ﷲ کسی فریب کار، گنہگار کو پسند نہیں کرتا{۱۰۷}
یہ لوگوں سے چھپاتے ہیں مگر ﷲ سے نہیں چھپا سکتے۔ ﷲ ان کے ساتھ ہوتا ہے جب یہ راتوں کو ایسی باتیں کرتے ہیں جو ﷲ کو پسند نہیں۔ ﷲ ان کے کاموں پر نظر رکھتا ہے{۱۰۸}
تمہیں کیا ہوا ہے تم لوگ دنیاوی معاملات میں اُن کی طرف سے جھگڑتے ہو مگر قیامت کے دن اُن کی طرف سے ﷲ سے کون جھگڑے گا، وہاں ان کی وکالت کون کرے گا{۱۰۹}
کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرے اور پھر ﷲ سے مغفرت طلب کرے تو ﷲ کو بخشنے والا مہربان پائے گا{۱۱۰}
جو گناہ سمیٹتا ہے اپنے نفس (ضمیر) کے لئے سمیٹتا ہے۔ ﷲ سب جانتا اور سمجھتا ہے{۱۱۱}
اور جو کوئی گناہ یا خطا تو خود کرے اور کسی بے گناہ پر الزام لگا دے وہ بہتان کا مرتکب ہوگا اور وہ بڑا گناہ ہے{۱۱۲}
اگر ﷲ کا تم پر فضل اور مہربانی نہیں ہوتی تو ایک جماعت تم کو بہکانے کا قصد کرچکی تھی مگر وہ اپنے نفسوں کے سوا کسے بہکا سکتے ہیں۔ وہ تم کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ ﷲ نے تم پر کتاب اور حکمت اتاری ہے اور وہ باتیں سکھائی ہیں جو تم نہیں جانتے تھے تم پر ﷲ کا بڑا فضل ہے{۱۱۳}
لوگوں کی آپس کی سرگوشیوں میں کوئی بھلائی نہیں۔ مشورہ وہ اچھا جو سچائی کے ساتھ سب کے سامنے اور لوگوں کی اصلاح کے لئے کیا جائے۔ جو ایسا کام ﷲ کی خوشنودی کیلئے کرتا ہے ہم اسے اچھا اجر دیتے ہیں{۱۱۴}
اور جو ہدایت پانے کے بعد رسول کو دُکھ پہنچاتا ہے اور اہل ایمان کے راستے سے ہٹ کر چلتا ہے ہم اُسے (اسکے اعمال کے سبب)بھٹکتا چھوڑ دیں گے اور اسے جہنم میں جلائیں گے اور وہ بری جگہ ہے{۱۱۵}
اور ﷲ اسے ہرگز نہیں بخشے گا جو اُس کے شریک (بت یا بزرگ وغیرہ) ٹھہرائے گا۔ اس کے سوا جو غلطی وہ چاہے بخش دے یعنی جو ﷲ کے ساتھ اپنے شریک (داتا و خواجہ وغیرہ کو) پوجے وہ گمراہی میں دور بھٹک جاتا ہے{۱۱۶}
جو لوگ ﷲ کی جگہ دیویاں اور دیوتا پوجتے ہیں بلاشبہ وہ سرکشی، نافرمانی کرنے والے مردود کے پجاری ہیں{۱۱۷}
اس پر ﷲ نے لعنت بھیجی ہے جس نے کہا تھا میں تیرے بندوں سے اپنا حصہ (بزرگ و دیوتا وغیرہ کی نذرو نیاز کے ذریعے) وصول کرتا رہوں گا{۱۱۸}
ان کو گمراہ کرتا رہوں گا، جھوٹی امیدیں دلاتا رہوں گا اور سکھاتا رہوں گا کہ وہ جانوروں کے کان کاٹیں اور حکم دوں گا کہ ﷲ کی بنائی ہوئی صورتوں کو بگاڑیں ۔تو جس نے ﷲ کو چھوڑ کر سرکشی، نافرمانی کرنے والے کو اپنا ولی (دوست) بنایا وہ نقصان میں پڑجائے گا{۱۱۹}
وہ ان سے وعدہ کرتا ہے، جھوٹی امیدیں دلاتا ہے اور سرکشی، نافرمانی کرنے والا جو وعدے کرتا ہے وہ دھوکہ اور فریب ہوتے ہیں{۱۲۰}
ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے جہاں سے مخلصینہیں ہوگی{۱۲۱}
مگر جو لوگ ایمان لائیں گے اور اچھے کام کریں گے وہ باغوں میں داخل ہوں گے جہاں دریا بہتے ہوں گے وہاں ہمیشہ رہنا ہے۔ ﷲ کا وعدہ سچا ہے اور ﷲ سے زیادہ سچی بات کس کی ہوگی{۱۲۲}
اور یہ تو نہ تمہاری تمنا پر منحصر ہے نہ اہل کتاب کی۔ جو بھی برے کام کرے گا اُس کی سزا پائے گا۔ اور وہاں ﷲ کے سوا کوئی ولی یا دستگیر نہیں ہوگا{۱۲۳}
اور جو اچھے کام کرے گا خواہ مرد ہو یا عورت اور مومن بھی ہو تو جنت میں داخل ہوگا اور اُس پر رائی بھر ظلم نہیں ہوگا{۱۲۴}
اور اس سے اچھا دین کس کا ہوگا (اَسْلَمَ) جو ﷲ کے آگے سر جھکائے (یعنی اسلام قبول کرے) اور ﷲ کا حکم مانے اور نیک کام کرے۔ ابراہیم بھی ایک (ﷲ کے آگے سر جھکانے والے) مذہب کی پیروی کرتے تھے۔ تو ﷲ نے ابراہیم کو اپنا (خلیل) دوست بنالیا{۱۲۵}
اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ﷲ کا ہے اور ﷲ ہر چیز کو اپنے احاطۂ قدرت (کنٹرول) میں رکھتا ہے{۱۲۶}
اور تم سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں کہو ﷲ نے تمہیں ان کے بارے میں بتادیا ہے۔ اور جو کچھ اس کتاب (سورت) میں پہلے پڑھ کر سنایا گیا وہ بے سہارا لڑکیوں (سوتیلی بیٹیوں) کے بارے میں ہے جن کو تم اُن کے حقوق نہیں دیتے جیسا کہ اُن کے بارے میں اِس سورت میں لکھا ہے یعنی ان کی شادیاں نہیں کرتے انکو بچوں سے حقیر سمجھتے ہو پس بے سہارا (سوتیلے بچوں) کے ساتھ انصاف پر قائم رہو۔ جو بھلائی تم ان کے ساتھ کرو گے ﷲ اُن سے باخبر رہے گا{۱۲۷}
اگر کسی عورت کو اپنے بوڑھے شوہر سے بے رغبتی اور بے توجہی کی شکایت ہو تو کوئی گناہ نہیں اگر آپس میں سمجھوتہ (خلع) کرلیں اور سمجھوتہ ہی بہتر ہے۔ انسان کی فطرت میں خودغرضی ہے مگر احسان کرو اور ﷲ سے ڈرو۔ ﷲ تمہارے اعمال سے باخبر ہے{۱۲۸}
اور تم عورتوں کے معاملے میں عدل نہیں کرتے تو ایسا نہ ہو کہ ایک ہی طرف مائل ہوجائو اور دوسروں کو معلق چھوڑ دو۔ سب میں صلح رکھو اور برائی سے بچتے رہو۔ ﷲ بڑا درگزر کرنے والا ہے{۱۲۹}
اگر مفارقت (طلاق) ہی کی نوبت آجائے تو ﷲ دونوں کو اپنی طرف سے مستغنی کر دے گا اور ﷲ بڑی وسعت و حکمت کا مالک ہے{۱۳۰}
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ﷲ کا ہے۔ ہم نے اہل کتاب کو حکم دیا تھا اور تم کو بھی دیتے ہیں کہ ﷲ سے ڈرتے رہو۔ نافرمانی کرو گے تو آسمانوں اور زمین کا مالک تو ﷲ ہے اور ﷲ اپنے بندوں کا محتاج نہیں۔ وہی حمد و شکر کے لائق ہے{۱۳۱}
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ﷲ کا ہے اور ﷲ سب کی وکالت کے لئے کافی ہے{۱۳۲}
وہ چاہے تو اے لوگو! تمہیں نکال دے اور دوسروں کو لے آئے ﷲ اس کی بھی قدرت رکھتا ہے{۱۳۳}
بعض لوگ صرف دنیا کی بھلائی چاہتے ہیں حالانکہ ﷲ کے پاس دنیا و آخرت دونوں کی بھلائیاں ہیں۔ اور ﷲ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے{۱۳۴}
اے ایمان لانے والو! تم ایک انصاف پسند قوم بن جائو۔ جب گواہی دو تو ﷲ کی خوشنودی کو ملحوظ رکھو خواہ معاملہ تمہارا اپنا ہو یا تمہارے والدین یا رشتے داروں کا یا کسی امیر یا فقیر کا۔ اور یاد رکھو ﷲ کی خوشنودی سب پر مقدم رہے پس تم کسی ہوس یا لالچ میں پڑ کر عدل کو نہیں چھوڑنا نہ بات کو گھمانا{۱۳۵}
اے ایمان لانے والو! ایمان رکھو ﷲ پر اور اُس کے رسول پر اور اُس کتاب پر جو اُس کے رسول پر اتری ہے اور ان کتابوں پر بھی جو پہلے اتری تھیں۔ اور جو ﷲ اور اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اُس کے رسولوں اور روزِ آخرت سے انکار کرے گا وہ گمراہی میں دور بھٹک جائے گا{۱۳۶}
جو لوگ ایمان لاتے ہیں پھر سچائی کا انکار کرتے ہیں اور پھر ایمان لاتے ہیں اور شک میں پڑے رہتے ہیں وہی پکے نافرمان ہیں۔ ﷲ انہیں نہیں بخشے گا نہ سیدھی راہ دکھائے گا{۱۳۷}
اور منافقوں (کمزور ایمان والے مسلمانوں) کو خوشخبری سنادو اُن کے لئے دردناک عذاب تیار ہے{۱۳۸}
اور جو لوگ مومنوں کو چھوڑ کر نافرمانوں کو (اولیائ) دوست بناتے ہیں تو کیا اس سے ان کی عزت افزائی ہوسکتی ہے۔ عزت تو ساری ﷲ کے ہاتھ ہے{۱۳۹}
اور اس کتاب (سورت) کے ذریعہ تم کو حکم دیا جاتا ہے کہ اگر کہیں ﷲ کی حدیث (یعنی قرآن) کا انکار کیا جارہا ہو یا اس کی ہنسی اڑائی جارہی ہو تو وہاں سے اٹھ جائو اور واپسنہیں جائو جب تک (حدیث غیرہ) دوسری باتیں شروعنہیںکردیں ورنہ تم بھی ان میں شامل سمجھے جائو گے۔ بلاشبہ ﷲ منافقوں (کمزور ایمان والے مسلمان) اور نافرمانوں کو جہنم میں جمع کرے گا{۱۴۰}
ان میں سے کچھ موقع پرست ہیں۔ دیکھتے ہیں ﷲ نے تمہیں فتح دی ہے تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ تھے۔ اور نافرمانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں وہ تم پر غالب آجاتے مگر ہم نے تم کو بچالیا۔ ﷲ قیامت کے دن ان سے سمجھے گا اور ﷲ نافرمانوں کو مومنوں پر کبھی غلبہ نہیں دے گا{۱۴۱}
منافق (کمزور ایمان والے مسلمان) اپنے خیال میں ﷲ کو دھوکہ دیتے ہیں اور نہیں جانتے کہ اُسی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ یہ صلات کیلئے کھڑے ہوتے ہیں تو بے دلی سے محض لوگوں کو دکھانے کے لئے اور ﷲ کا ذکر کم ہی کرتے ہیں{۱۴۲}
یہ شک و شبہ کے عالم میں ہیں نہ اِدھر نہ اُدھر۔ تو جسے ﷲ(اسکے اعمال کے سبب) بھٹکتا چھوڑ دے اُسے سیدھی راہ کیسے ملے گی{۱۴۳}
اے ایمان لانے والو! مومنوں (ایمان والوں) کو چھوڑ کر نافرمانوں کو (اولیائ) دوست نہیں بنائو۔ کیا چاہتے ہو کہ تم پر ﷲ کا غضب آجائے{۱۴۴}
اور منافق (کمزور ایمان والے مسلمان) لوگ تو جہنم کے نچلے طبقے میں ڈالے جائیں گے اور وہاں کوئی ان کی مدد کو نہیں آئے گا{۱۴۵}
اگر یہ توبہ کرلیں اور سدھر جائیں اور ﷲ کی رسی (قرآن) کو مضبوطی سے پکڑ لیں اور ﷲ کے دین سے مخلص ہوجائیں تو وہ بھی مومنوں میں شمار ہوسکتے ہیں۔ ﷲ مومنوں کو اچھا اجر دے گا{۱۴۶}
اور ﷲ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم اُس کا احسان مانتے رہو۔ اُس پر بھروسہ کرو۔ ﷲ اپنے احسان ماننے والے بندوں کو جانتا ہے{۱۴۷}
اور کسی کو برا بھلا کہنا ﷲ کو پسند نہیں مگر جس پر ظلم ہوا ہے (وہ معذور ہے)۔ اور ﷲ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے{۱۴۸}
اور نیکیاں چھپاکے کرو یا دکھا کر اور برائیاں معاف کرتے رہو تو ﷲ بھی بڑا معاف کرنے والا اور قدردان ہے{۱۴۹}
جو لوگ ﷲ اور اُس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں یا ﷲ کے رسولوں کے درمیان فرق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے وہ نافرمانی (کفر) اور ایمان کی درمیانی راہ اختیار کرتے ہیں{۱۵۰}
یہی لوگ اصل نافرمان ہیں اور نافرمانوں کیلئے ہم نے عذاب مقرر کردیا ہے{۱۵۱}
جو لوگ ﷲ اور اُس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں اور ان میں کوئی فرق نہیں کرتے ان کو ﷲ ان کا اجر یقینا دے گا۔ ﷲ بڑا بخشنے والا اور رحیم ہے{۱۵۲}
اہل کتاب کہتے ہیں تم اُن کے لئے آسمان سے ایک لکھی ہوئی کتاب اتروالو۔ تو موسیٰ سے یہ اس سے بڑی فرمائش کرچکے ہیں۔ کہا ہم کو ﷲ کا دیدار کروادو ہماری کھلی آنکھوں سے۔ تو ان پر بجلی گر پڑی ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے۔ پھر وہ بچھڑا پوجنے لگے حالانکہ ﷲ کی کھلی نشانیاں دیکھ چکے تھے۔ تو ہم نے اسے بھی معاف کر دیا اور موسیٰ کو ان پر غلبہ دیا{۱۵۳}
ہم نے عہد لینے کے لئے ان کو طور پر کھڑا کیا اور حکم دیا کہ شہر کے دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا اور کہا کہ ہفتے کے دن کے معاملے میں بدعہدینہیں کرنا اور ہم نے اُن سے پکا عہد لیا تھا{۱۵۴}
مگر انہوں نے سب وعدے بھلا دئیے اور ﷲ کے احکام کی نافرمانی کرتے اور اپنے رسولوں کو ناحق قتل کرتے رہے۔ کہتے ہیں ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہیں گویا ﷲ نے اُن کی نافرمانی کی وجہ سے نافرمانوں کے دلوں پر چھاپ لگا دی ہے تو ان میں سوائے چند کے ایماننہیں لائیں گے{۱۵۵}
اور اپنی نافرمانی اور منہ زوری کی وجہ سے انہوں نے مریم پر بڑا بہتان لگایا تھا{۱۵۶}
کہنے لگے ہم نے مسیح عیسیٰ ابن مریم ﷲ کے رسول کو قتل کر دیا حالانکہ انہوں نے اُن کو قتل نہیںکیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ انہیں شبہ ہوا۔ اور جو لوگ ان سے اختلاف رکھتے ہیں وہ (عیسائی) بھی شک میں ہیں۔ ان کے پاس علم کہاں ہے صرف اٹکل اور وہم میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے ہرگز اُن کو قتل نہیں کیا تھا{۱۵۷}
بلکہ ﷲ نے (وفات دے کر) اپنی طرف اٹھا لیا (باعزت بری کرا دیا) اور ﷲ ہی عزت و حکمت کا مالک ہے{۱۵۸}
اہلِ کتاب کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ مرنے سے پہلے اس (عقیدے) پر ایمان لے آئیں (کہ ﷲ نے عیسیٰ کو وفات دے کر اپنی طرف اٹھالیا) ورنہ قیامت کے دن ان کو گواہی (ثبوت) دینا ہوگا{۱۵۹}
یہودیوں کے ظلم کی وجہ سے ہم نے ان پر بعض پاک چیزیں حرام کر دیں تھیں کیونکہ وہ لوگوں کو ﷲ کے راستے سے روکتے تھے{۱۶۰}
اور مہاجنی سود کھاتے تھے جو منع کیا گیا تھا اور دوسروں کا مال دھوکے سے کھا جاتے۔ پس ہم نے ان نافرمانوں کیلئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے{۱۶۱}
لیکن جو علم میں پختہ ہیں اور صاحب ایمان ہیں اور وہ ایمان لائے ہیں اس پر جو تم پر اترا ہے اور اس پر بھی جو تم سے پہلے اترا تھا اور وہ صلات قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور ﷲ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ان کو ہم اجرعظیم دیں گے{۱۶۲}
ہم تم پر بھی اسی طرح وحی بھیجتے ہیں جیسے نوح اور ان کے بعد کے رسولوں پر بھیجتے تھے اور ابراہیم اور اسحق و یعقوب اور ان کے نواسوں اور عیسیٰ، ایوب، یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف بھیجی گئی تھی اور دائود کو زبور دی تھی{۱۶۳}
ہم نے تم کو بہت سے رسولوں کا حال بتایا ہے اور بہتوں کا حال نہیں بتایا اور موسیٰ سے ہم نے بات بھی کی تھی{۱۶۴}
اور رسول تو خوشخبری دینے اور ﷲ سے چونکانے کیلئے ہی بھیجے جاتے ہیں تاکہ اُن کو بھیجنے کے بعد ﷲ سے انسانوں کی حجت باقینہیں رہے۔ اور ﷲ ہی عزت و حکمت کا مالک ہے{۱۶۵}
ﷲ گواہی دیتا ہے کہ جو کچھ تم پر اترتا ہے اس کے علم اور حکم سے اترتا ہے اور فرشتے اس پر گواہ ہیں۔ اور شہادت کے لئے ﷲ کافی ہے{۱۶۶}
جو لوگ نافرمانی کرتے ہیں اور دوسروں کو ﷲ کی راہ سے روکتے ہیں وہ سخت گمراہی میں مبتلا ہیں{۱۶۷}
جو لوگ نافرمانی اور ظلم (جہالت) سے باز نہیں آتے ﷲ انہیں نہیں بخشے گا نہ ہدایت کی راہ دکھائے گا{۱۶۸}
بلکہ جہنم کی طرف لے جائے گا جہاں ہمیشہ رہنا ہے اور یہ ﷲ کے لئے آسان ہے{۱۶۹}
اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے پالنے والے(ﷲ) کی طرف سے سچائیاں لے کر رسول آیا ہے۔ اُس پر ایمان لائو۔ اسی میں بھلائی ہے اگر نافرمانی کروگے تو آسمانوں اور زمین کا مالک تو ﷲ ہے اور وہ بڑا جاننے والا اور دانا ہے{۱۷۰}
اے اہل کتاب دین کے معاملے میں زیادہ غلو (ضد) نہیں کرو اور ﷲ کے متعلق سچ کے سوا کچھ نہیں کہا کرو۔ بے شک مسیح ابن مریم ﷲ کے رسول اور اس کا کلام (ایک نشانی) تھے جو اس کی طرف سے مریم کو فیض غیبی تھا پس ﷲ پر ایمان لائو اور اس کے رسولوں پر اور تین (تثلیث) کی باتیں نہیں کرو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ بلاشبہ ﷲ صرف ایک ہے اور وہ پاک ہے اس سے کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اُسی کا ہے۔ اور ﷲ وکالت کے لئے کافی ہے{۱۷۱}
نہ مسیح انکار کرسکتے تھے کہ وہ (عبداللّٰہ) ﷲ کے بندے نہیں ہیں اور نہ فرشتے ہی کہہ سکتے ہیں۔ جو اُس کی بندگی سے انکار کرے گا اور غرور کرے گا وہ ﷲ کے سامنے جواب دہ ہوگا{۱۷۲}
جو لوگ ایمان لائیں گے اور اچھے کام کریں گے اُن کو پورا بدلہ دیا جائے گا بلکہ ﷲ اپنے فضل سے اور زیادہ دے گا۔ اور جو اس میں عار، انکار یا تکبر کرے گا اسے دردناک عذاب ہوگا۔ وہ ﷲ کے سوا کسی کو اپنا ولی و دستگیر نہیں پائے گا{۱۷۳}
اے لوگو! تمہارے پاس ﷲ کی روشن دلیلیں آگئی ہیں اور تمہارے پالنے والے (ﷲ) نے تمہاری طرف (قرآن) کھلی ہدایت اتاری ہے{۱۷۴}
پس جو لوگ ﷲ پر ایمان لائیں گے اور اس (ہدایت) پر قائم رہیں گے وہ اُس کی رحمت میں داخل ہوں گے۔ ان پر فضل کیا جائے گا اور انہیں سیدھی راہ دکھائی جائے گی{۱۷۵}
اور جو پوچھتے ہیں اُن کو بتا دو کہ کلالہ کے بارے میں ﷲ حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا شخص مرجائے جس کے کوئی اولاد نہیں ہو صرف ایک بہن اس کی وارث ہو تو اُسے بھائی کے ترکے سے نصف ملے گا۔ اور بہن مر جائے اور اس کے کوئی اولاد نہیں ہو تو اس کے کل مال کا وارث اس کا بھائی ہوگا۔ اور دو بہنیں ہوں تو ان کو بھائی کے ترکے سے دوتہائی (۳/۲) دیا جائے۔ اور بھائی بہن ملے جلے ہوں تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔ یہ احکام اس لئے بتائے گئے کہ تم بھٹکو نہیں اور ﷲ ہر چیز سے واقف ہے{۱۷۶}

المائدہ
Surah 5

ﷲ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

اے ایمان لانے والو! اپنے وعدے (قول و قرار) پورے کیا کرو۔ تمہارے لئے چوپائے حلال ہیں سوائے ان کے جن کے نام بتائے جاتے ہیں۔ اور شکار حلال نہیں ہے جب تم احرام میں ہو۔ اللہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے{۱}
اے ایمان لانے والو! اللہ کے نام کی چیزوں (شعائر اللہ) کو حلال نہیںجاننا (کہ خرد برد کرلو) اور حرمت کے مہینوں اور قربانی کے جانوروں اور ان کے گلے کے پٹوں، اور بیت اللہ کی پناہ میں آکر تجارت کرنے والوں اور زیارت کرنے والوں کا (احترام کرو) اور احرام اتار کر تم شکار کرسکتے ہو (احرام کا بھی احترام کرو)، اور اس قوم کی دشمنی جس نے تمہیں مسجد حرم میں آنے سے روکا ہے زیادتی پر نہیں اُکسائے کہ لڑ پڑو، نیکی (بھلائی) اور تقویٰ (گناہوں سے بچنے) میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو، اور گناہ و ظلم میں کسی سے تعاون نہیں کرو، اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ سخت بدلہ لینے والا ہے{۲}
تم پر حرام کئے جاتے ہیں مردہ جانور، خون، سور کا گوشت اور جو چیزیں اللہ کے سوا کسی اور کے نام (پر ذبح) کی ہوں اور گلا گھونٹ کر مارا ہوا جانور یا چوٹ سے مرا ہوا یا گر کر مرا ہوا یا آپس میں لڑ کر مرا ہوا یا کسی درندے کا مارا ہوا سب حرام ہیں۔ ہاں اگر مرنے سے پہلے ذبح کرلو تو حلال ہوجائے گا۔ اور وہ جانور بھی جو کسی درگاہ یا مندر پر ذبح کیا جائے۔ اور قرعہ اندازی کے ذریعہ قسمت کا حال معلوم کرنا گناہ کے کام ہیں۔ آج نافرمان تمہارے دین سے مایوس ہوگئے تو ان سے نہیں ڈرو صرف مجھ سے ڈرتے رہو۔ آج ہم نے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنے انعامات پورے کر دئیے اور تمہارے لئے اسلام (ان دیکھے پالنے والے (اللہ) کی بندگی) کا دین پسند کیا ہے۔ ہاں اگر کوئی اضطراری حالت میں (بھوک سے نڈھال ہو کر) نہ کہ گناہ اور لذت کے ارادے سے ایسی چیز کھالے تو اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے{۳}
پوچھتے ہیں کہ پھر ان کے لئے حلال کیا ہے۔ کہو کہ تمام پاکیزہ چیزیں حلال ہیں اور وہ شکار بھی حلال ہے جو تمہارے سدھائے ہوئے کتے اور باز پکڑ کے لائیں بشرطیکہ تم نے اُن کو سکھایا ہو جیسے اللہ نے تم کو سکھایا ہے۔ تو جو شکار وہ پکڑ لائیں ان پر اللہ کا نام لے لیا کرواور اللہ سے ڈرتے رہو کیونکہ اللہ جلد حساب لینے والا ہے{۴}
آج کے دن صرف پاک چیزیں تم پر حلال کی جاتی ہیں اور اہل کتاب کا کھانا بھی حلال ہے جیسے تمہارا کھانا ان کیلئے حلال ہے۔ اور پاکدامن مومنہ عورتوں کی طرح اہل کتاب کی پاکدامن عورتیں بھی اگر معاوضہ (مہر) ادا کردو جائز ہیں بشرطیکہ نکاح مقصود ہو نہ کہ عیاشی یا آشنائی۔ اور جو ایمان لانے کے بعد کفر (نافرمانی) کرے گا اس کے اعمال ضائع ہوجائیں گے اور وہ آخرت میں نقصان میں رہے گا{۵}
اے ایمان لانے والو! جب صلات کے لئے جمع ہو تو اپنے منہ اور ہاتھ کلائی تک دھو لیا کرو اور سر اور پائوں کو ٹخنوں تک پونچھ لیا کرو اور جنابت سے ہو تو نہا کر پاک ہوجایا کرو۔ لیکن بیمار ہو یا سفر میں ہو یا رفع حاجت سے آئے ہو یا عورتوں کو چھوا (صحبت کی) ہے اور پانی دستیاب نہیں تو پاک مٹی سے تیمم کرلو یعنی منہ اور ہاتھوں پر اس سے مل لو۔ اللہ تمہارے لئے دشواری نہیں چاہتا بلکہ تمہیں پاک صاف رکھنا چاہتا ہے اور اپنے احسانات تم پر تمام کرنا چاہتا ہے تاکہ اس کا احسان مانتے رہو{۶}
اور اللہ کے احسانات کو یاد رکھو اور اس عہد کو بھی جو تم نے کیا ہے۔ تم نے کہا ہے (سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا) ہم نے سن لیا اور فرمانبرداری کریں گے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ تمہارے دلوں کا حال جانتا ہے{۷}
اے ایمان لانے والو! صرف اللہ کے واسطے انصاف کے ساتھ حق کی گواہی دینے والے بن جائو۔ کسی کی دشمنی تمہیں اس سے نہیں ہٹائے۔ ہمیشہ عدل کا ساتھ دو۔ یہی تقویٰ سے قریب لانے والی چیز ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ تمہارے کاموں کی خبر رکھتا ہے{۸}
اور ان لوگوں سے جو ایمان لاتے ہیں اور اچھے کام کرتے ہیں اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کے لئے مغفرت ہے اور ان کو اچھا بدلہ ملے گا{۹}
اور جو نافرمانی کرتے ہیں اور ہمارے کلام (اللہ کی حدیثوں) کو جھٹلاتے ہیں وہ جہنم میں جائیں گے{۱۰}
اے ایمان لانے والو! اللہ نے جو احسانات تم پر کئے ہیں ان کو یاد رکھو۔ جب ایک قوم نے تم پر دست درازی کرنی چاہی تو اللہ نے ان کے ہاتھ روک دئیے۔ تو اللہ سے ڈرتے رہو اور اہلِ ایمان کو صرف اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے{۱۱}
اور اللہ نے جب بنی اسرائیل سے وعدہ لیا اُن پر بارہ سردار مقرر کئے اور ان سے کہا میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اگر تم صلات قائم کرتے رہے، زکوٰۃ دیتے رہے اور میرے رسولوں پر ایمان لاتے رہے اور ان کا حکم مانتے رہے اور اللہ کو قرض حسنہ دیتے رہے تو میں تم سے تمہارے گناہ دور کر دوں گا اور تمہیں باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے دریا بہتے ہوں گے اور اس کے بعد جو نافرمانی کرے گا وہ سیدھے راستے سے بھٹک جائے گا{۱۲}
پھر اُن لوگوں نے اپنا عہد توڑ ڈالا تو ہم نے ان پر لعنت بھیج دی۔ اور ہم نے ان کے دل سخت کردئیے کیونکہ یہ کلمات کو اپنی جگہ سے ہٹا دیتے ہیں (یعنی لفظی یا معنوی تحریف کرتے ہیں) اور اپنی کتاب کا بہت سا حصہ بھلا بیٹھے ہیں۔ اور تم کو ان کی خیانتوں کی اطلاع ملتی رہتی ہے سوائے چند کے تو انہیں نظرانداز کر دو اور بھلا دو۔ اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے{۱۳}
اور جو لوگ خود کو نصاریٰ کہتے ہیں ہم نے ان سے بھی عہد لیا تھا مگر انہوں نے بھی اپنی کتاب کا بہت سا حصہ بھلا دیا۔ اس لئے ہم نے ان میں آپس میں بغض و عداوت ڈال دی۔ جو قیامت تک ان میں جاری رہے گی اور اللہ جلد بتا دے گا وہ کیا کرتے رہے{۱۴}
اے اہلِ کتاب! تمہارے پاس ہمارا رسول آگیا ہے وہ تمہیں بہت سی وہ باتیں بتاتا ہے جو تم چھپا چکے ہو اور بہت سی باتیں وہ نظرانداز کر دیتا ہے۔ اب تمہارے پاس اللہ کی ہدایت اور روشن کتاب (کتابِ مبین) آگئی ہے{۱۵}
جس کے ذریعہ اللہ اپنے فرمانبردار بندوں کو ہدایت دیتا اور سلامتی کا راستہ دکھاتا ہے۔ اور اپنے حکم سے (جہل کے) اندھیروں سے نکال کر (علم کی) روشنی میں لاتا ہے اور سیدھے راستے پر لگانا چاہتا ہے{۱۶}
اور جو لوگ کہتے ہیں مسیح ابن مریم اللہ ہے وہ یقینا حق کے جھٹلانے والے ہیں۔ ان سے کہو اللہ کے کاموں میں کس کی مجال ہے۔ وہ عیسیٰ ابن مریم اور ان کی ماں تو کیا تمام دنیاوی مخلو ق کو ہلاک کرسکتا ہے۔ آسمانوں اور زمین میں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اللہ کا ہے جو چاہتا ہے بناتا ہے اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے{۱۷}
یہودی اور عیسائی کہتے ہیں ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اسی کے پیارے ہیں تو پوچھو کہ پھر تمہارے گناہوں کے سبب وہ تمہیں سزائیں کیوں دیتا ہے۔ تم بھی اس کی مخلوق میں سب کی طرح انسان ہو۔ وہ جسے چاہے(اسکے اعمال کے سبب) بخش دے اور جسے چاہے (اسکے اعمال کے سبب)سزا دے۔ آسمانوں اور زمین میں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب پر اللہ کی بادشاہی ہے اور سب کو اسی کے آگے پناہ ہے{۱۸}
اے اہلِ کتاب! تمہارے پاس ہمارا رسول آگیا ہے۔ وہ آئندہ رسولوں کے نہیں آنے کی خبر دیتا ہے تاکہ تم کہہ نہیں سکو کہ ابھی ہمارا خوشخبری لانے والا اور چونکانے والا نہیں آیا ہے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے{۱۹}
جبکہ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اللہ کے احسانوں کو یاد کرتے رہو اور اُن احسان کو مانتے رہو تاکہ اللہ تم میں نبی بھیجتا رہے اور تمہیں بادشاہیاں دیتا رہے اور تم کو وہ کچھ دے جو اہلِ عالم کو نہیں دیا{۲۰}
تو اے قوم! چلو اس مقدس سرزمین (فلسطین) میں جسے اللہ نے تمہارے نام لکھ دیا ہے داخل ہوجائو وہاں سے پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگنا ورنہ نقصان میں پڑجائو گے{۲۱}
بولے اے موسیٰ! وہاں تو بڑے تگڑے لوگ بستے ہیں۔ جب تک وہ وہاں سے نہیں نکل جائیں ہم اس میں قدم نہیں رکھیں گے۔ ہاں اُن کو نکال دیا جائے تو چل کر آباد ہوجائیں گے{۲۲}
اللہ سے ڈرنے والے دو بھائیوں (موسیٰ اور ہارون) نے جن پر اللہ نے فضل کیا تھا۔ کہا اگر تم ان کے شہر کے دروازے میں گھس جائو تو فتح تمہاری ہے۔ اللہ پر بھروسہ رکھو اگر صاحبِ ایمان ہو{۲۳}
بولے اے موسیٰ! ہم قیامت تک اُس میں داخل نہیں ہوں گے۔ تم اور تمہاراپالنے والا (اللہ) جائو اور قتل کر دو۔ تب تک ہم یہاں بیٹھے دیکھتے رہیں گے{۲۴}
تب موسیٰ نے کہا اے پالنے والے (اللہ) مجھے اپنے اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر اختیار نہیں ہے تو ہم میں اور اِن نافرمان فاسقوں (بدکرداروں) میں فرق (جدائی) ڈال دے{۲۵}
ہم نے کہا تو پھر چالیس سال تک یہ ملک اُن پر حرام کیا جاتا ہے۔ ان سے کہو اسی ریگستان میں خاک چھانیں اور تم اِن فاسقوں (بدکرداروں) کے حال پر افسوس نہیں کرنا{۲۶}
اور اب ان کو آدم کے دو بیٹوں کا قصہ سنائو۔ اُن دونوں نے اپنی قربانیاں پیش کیں تو ایک کی قربانی قبول ہوئی۔ اور دوسرے کی نہیں ہوئی تو وہ کہنے لگا میں تجھے قتل کر دوں گا۔ دوسرا بولا کہ اللہ صرف متقی (گناہوں سے بچنے والے) لوگوں کی قربانیاں قبول کرتا ہے{۲۷}
تم مجھ پر قتل کے لئے ہاتھ اٹھائو گے تو بھی میں تم کو قتل کرنے کے لئے ہاتھ نہیں اٹھائوں گا۔ میں تمام جہانوں کے پالنے والے اللہ سے ڈرتا ہوں{۲۸}
میں چاہتا ہوں کہ تم میرے گناہ بھی اپنے گناہوں کے ساتھ سمیٹ لو اور جہنم کے مستحق ہوجائو کہ ظالموں کا یہی صلہ ہے{۲۹}
پھر بھی اس کے نفس (یعنی ضمیر) نے اسے اپنے بھائی کو قتل کرنے کی ترغیب دی اور اس نے قتل کر ڈالا اور نقصان اٹھانے والوں میں ہوگیا{۳۰}
پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کریدنے لگا تاکہ اسے دکھائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کیسے چھپائے۔ تب کہنے لگا ہائے افسوس میں کوے کے برابر بھی سمجھ نہیں رکھتا جو اپنے بھائی کی لاش چھپانا جانتا۔ پھر وہ اپنے کئے پر پچھتایا{۳۱}
اسی موت کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ جو کوئی بلاسبب اور بلافساد کے دنیا میں کسی کو قتل کرے تو گویا اُس نے انسانیت کا قتل کیا۔ اور جس نے کسی کو بچالیا تو گویا اس نے انسانیت کو بچایا۔ اور ہم اپنے رسولوں کو روشن دلیلوں کے ساتھ بھیجتے رہے۔ اس کے باوجود یہ لوگ جھگڑالو (نافرمان) ہی رہے{۳۲}
پس اللہ اور اس کے رسول سے جھگڑنے اور ملک میں فساد پھیلانے کے لئے دوڑتے پھرنے کی سزا یہی ہے کہ اُن کو قتل کر دیا جائے یا سولی پر چڑھادیا جائے یا پھر ان کے مخالف سمت سے ہاتھ اور پائوں کاٹے جائیں یا ان کو ملک سے نکال دیا جائے۔ یہ تو ہوئی دنیاوی سزا اور آخرت میں پھر ان پر عذاب ہوگا{۳۳}
مگر جو لوگ گرفتار ہونے سے پہلے توبہ کرلیں تو اللہ بھی بڑا بخشنے والا رحیم ہے{۳۴}
اے ایمان لانے والو! اللہ سے محبت کرتے رہو اور اس دستاویز (قرآن) میں (علم وحکمت کے خزانے) تلاش کرتے رہو، اور اس راہِ تلاش میں کوشش کرتے رہو تاکہ تم فلاح پائو{۳۵}
جو لوگ نافرمانی کریں گے وہ ساری دنیا کی دولت بلکہ اتنی ہی اور بھی فدیہ دے کر چھوٹنا چاہیے تو قبول نہیں کی جائے گی۔ انہیں سخت عذاب ہوگا{۳۶}
وہ چاہیں گے کہ آگ سے نکل جائیں مگر نکل نہیں سکیں گے وہاں ہمیشہ رہنا ہے{۳۷}
اور مرد چوری کرے یا عورت اُن کا ہاتھ کاٹ ڈالو یہ ان کی سزا ہے اللہ کی طرف سے تاکہ دوسروں کو عبرت ہو۔ اور اللہ عزت و حکمت کا مالک ہے{۳۸}
البتہ جو اپنے گناہ سے توبہ کرلے اور نیک بن جائے تو اللہ اسے معاف کر دے گا۔ بلاشبہ اللہ بڑا بخشنے والا ہے{۳۹}
اور جان لو کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ کی ہے وہ جسے چاہے (اسکے اعمال کے سبب)سزا دے اور جسے چاہے (اسکے اعمال کے سبب)بخش دے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے{۴۰}
اے نبی (محمدﷺ) تم ان نافرمانی کی طرف لپکنے والے (نافرمانوں)کے لئے دُکھی نہیں ہو یہ لوگ زبان سے تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے مگر ان کے دلوں نے ایمان قبول نہیں کیا۔ اور ان میں یہودی (یا یہودی کے دوست) تو خاص کر جھوٹی باتیں پھیلاتے پھرتے ہیں۔ وہ بھی ایسے لوگوں میں جو ابھی تم سے ملے بھی نہیں ہیں۔ یہ لوگ الفاظ کو اپنی جگہ سے بدل دیتے ہیں پھر لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر یہی بتائیں تو قبول کرنا اور کچھ اور کہیں تو نہیں ماننا۔ جب اللہ کسی کو فتنہ (مصیبت) میں ڈالنا چاہے تو تمہیں اُسے بچانے کا اختیار کہاں ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ پاک نہیں کرنا چاہتا۔ ان کے لئے دنیا میں بھی ذلت ہے اور آخرت میں بھی سخت عذاب ہوگا{۴۱}
یہ جھوٹی روایتیں سنا کر حرام کھانے والے اگر تمہارے پاس کوئی مسئلہ کا فیصلہ کرانے آئیں تو جی چاہے تو فیصلہ کر دو ورنہ منہ پھیر لو۔ اگر منہ پھیر لوگے تو بھی وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے اور فیصلہ کرو تو انصاف سے کرنا۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے{۴۲}
اور یہ تم سے فیصلہ کروانے کیوں آئیں گے۔ ان کے پاس خود توریت موجود ہے جس میں اللہ کے احکام ہیں۔ اور اسی زعم میں وہ تمہارا انکار کرتے ہیں یہ لوگ صاحبِ ایمان کہاں ہیں{۴۳}
ہاں ہم نے ہی توریت اتاری تھی جس میں ہدایت اور روشنی ہے۔ ہمارے فرمانبردار نبی اُسی کے مطابق یہودیوں کو احکام بتاتے رہے اور ان کے علماء و مشائخ بھی کیونکہ وہ اللہ کی کتاب کے محافظ تھے اور اس پر گواہ تھے تو تم لوگوں سے نہیں ڈرو مجھ سے ڈرتے رہو۔ اور ہمارے کلام کے عوض تھوڑا سا دنیاوی فائدہ نہیں اٹھانے لگنا۔ اور جو لوگ اللہ کے اتارے ہوئے احکام نہیں مانتے وہی نافرمان ہیں{۴۴}
ہم نے اُن کو بھی حکم دیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور سب زخموں کے بدلہ اسی طرح لیا جائے۔ پھر جو اس قانون کے مطابق فیصلہ قبول کرلیں تو یہ ان کے جرم کا کفارہ ہوجائے گا۔ اور جو ہمارے اتارے ہوئے احکام نہیں مانیں گے وہی ظالم شمار ہوں گے{۴۵}
اس کے بعد ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا وہ اپنے سے پہلی کتاب کی تصدیق کرتے تھے۔ ان کو ہم نے انجیل دی جس میں ہدایت اور روشنی (نور) ہے اور وہ اگلی کتابوں (توریت، زبور) اور بعد کی ہدایتوں اور نصیحتوں کی بھی جو متقی (گناہوں سے بچنے والے) لوگوں کے لئے آنے والی تھیں (قرآن) کی تصدیق کرتی ہے{۴۶}
اور اہلِ انجیل کو بھی اللہ کے کلام (قرآن) کے مطابق عمل کرنے کا حکم دو۔ اور جو اللہ کے اتارے ہوئے احکام نہیں مانیں وہ فاسق (بدکردار) ہیں{۴۷}
ہم نے تم پر سچائیوں کی کتاب اتاری ہے یہ پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے جو تمہارے پاس ہیں اور ان سب پر محیط ہے۔ پس تم اللہ کے اتارے ہوئے قرآنی احکام کے مطابق نظام قائم کرو۔ اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہیں کرو۔ تمہارے پاس سچ آگیا ہے۔ ہم نے ہر اُمت کے لئے ایک شریعت اور دستور بنایا ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک اُمت بنا دیتا لیکن جو دین تم کو دیا ہے اس میں تمہارا امتحان مقصود ہے۔ پس بھلائیوں کی طرف بڑھو۔ بالآخر تم سب کو اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ پھر وہ تمہارے اختلاف جتلا دے گا{۴۸}
پس ان کے فیصلے اللہ کے احکام کے مطابق کیا کرو۔ اور ان کی خواہشوں کی پرواہ نہیں کرو بلکہ اُن سے بچتے رہو کہیں تمہیں بھی اللہ کے احکام سے بہکا نہیں دیں۔ اور یہ تمہارا حکم نہیں مانیں تو جان لو کہ اللہ اِن کو اِن کے بعض گناہوں کے سبب پکڑنے والا ہے کیونکہ اِن میں بیشتر فاسق (جھوٹے) ہیں{۴۹}
اور کیا یہ دور جاہلیت کے جیسے فیصلے کروانا چاہتے ہیں۔ اہلِ ایمان کے لئے اللہ کے حکم (قرآن) سے بہتر کس کا حکم ہو سکتا ہے{۵۰}
اے ایمان لانے والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنے اولیاء (حمایتی) نہیں جانو یہ آپس میں ایک دوسرے کے اولیاء ہیں۔ اور تم میں سے جو اِن سے مل جائے وہ انہی میں شمار کیا جائے۔ اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا{۵۱}
جن لوگوں کے دلوں میں کھوٹ ہے تم دیکھو گے ان سے دوڑ دوڑ کر ملتے رہتے ہیں۔ کہتے ہیں ہمیں خوف ہے کہ زمانہ پلٹا کھا جائے گا حالانکہ ممکن ہے کہ تمہیں جلد ہی فتح نصیب ہو یا اللہ کا کوئی اور حکم نازل ہو اور پھر انہیں اپنے دلوں کی چھپی ہوئی باتوں پر ندامت اٹھانی پڑے{۵۲}
اور اس وقت اہلِ ایمان پوچھیں کہ یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کی قسمیں کھاتے تھے اور بڑے صاحبِ ایمان بنتے تھے۔ کہتے تھے ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ اس طرح ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے اور یہ نقصان میں پڑجائیں گے{۵۳}
اے ایمان لانے والو! تمہارے کچھ لوگ دین سے پھر گئے (مرتد ہوگئے تو کیا ہوا) اللہ جلد ہی ایسے لوگ لے آئے گا جو اللہ سے محبت کریں گے اور اللہ ان سے محبت کرے گا۔ (مرتد) ایمان کی رسوائی اور نافرمانوں کی عزت افزائی کا سبب بنتے ہیں۔ مگر وہ (نئے اہلِ ایمان) اللہ کے واسطے نافرمانوں سے لڑیں گے اور کسی طعن و ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے(اسکی طلب کے سبب) دیتا ہے۔ اللہ کا علم بہت وسیع ہے{۵۴}
تمہارے ولی (حمایتی) تو اللہ اور اس کا رسول اور وہ اہلِ ایمان ہیں جو مل کر صلات قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور صرف اللہ کے سامنے رکوع کرتے (جھکتے) ہیں{۵۵}
پس جو اللہ اور اُس کے رسول اور دوسرے اہلِ ایمان سے محبت کریں گے وہ اللہ کی جماعت شمار ہوں گے اور وہی غلبہ حاصل کریں گے{۵۶}
اے ایمان لانے والو! جو لوگ تمہارے دین کی ہنسی اُڑاتے ہیں اور اُسے کھیل سمجھتے ہیں وہ وہی ہیں جن کو پہلے کتابیں دی گئی تھیں یا اُن کے نافرمان ساتھی ہیں۔ پس اُن کو اپنا (اولیائ) دوست نہیں سمجھو اور اللہ سے ڈرتے رہو اگر صاحبِ ایمان ہو{۵۷}
جب تم صلات کے لئے بلاتے ہو تو یہ مذاق اُڑاتے ہیں اور ہنستے ہیں۔ یہ اس لئے کہ وہ بے عقل لوگ ہیں{۵۸}
پوچھو اے اہل کتاب! کیا ہم سے اس لئے دشمنی ہے کہ ہم اللہ پر اور اُس کلام (قرآن) پر جو اترتا ہے اور اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو پہلے اترا تھا۔ مگر تم میں تو بیشتر جھوٹے و بے راہ لوگ ہیں{۵۹}
پوچھو کیا اُن کی شرارت ظاہر کر دی جائے جو اللہ کے پاس بدترین بدلہ پانے والے ہیں جن پر اللہ نے لعنت بھیجی ہے اُن پر غضب ناک ہوا۔ جن کے لوگوں کو بندر (بے گھر بے وطن) اور سور (بے شرم) اور سرکش کے چیلے بنا دیا گیا ہے اُن کا ٹھکانہ برا ہے۔ وہ سیدھے راستے سے ہمیشہ بھٹکے رہیں گے{۶۰}
یہ لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے ہیں حالانکہ دلوں میں نافرمانی لے کر آتے ہیں۔ اللہ جانتا ہے جو کچھ یہ چھپاتے ہیں{۶۱}
اسی لئے تم دیکھتے ہو کہ یہ گناہوں، ظلم، زیادتی اور حرام کھانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ جو کچھ یہ کرتے ہیں برا ہے{۶۲}
تو اِن کے ملا اور مولوی انہیں گناہ کی باتوں اور حرام کھانے سے کیوں نہیں روکتے بلاشبہ وہ بھی برا کرتے ہیں{۶۳}
یہودی کہتے ہیں کہ اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے مگر انہیں کے ہاتھ بندھے ہیں اور یہ کہنے کی وجہ سے اِن پر لعنت ہے۔ اللہ کے ہاتھ کھلے ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے دیتا ہے۔ اور تم پر جو کلام اترتا ہے اُس سے اُن میں سے بہت سے نافرمانی و سرکشی پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ اور ہم نے اُن میں قیامت تک کے لئے بغض و عداوت ڈال دی ہے۔ یہ جب بھی جنگ کی آگ بھڑکائیں گے اللہ اسے سرد کر دے گا۔ یہ ملک میں فساد پھیلاتے پھرتے ہیں۔ اور اللہ فساد پھیلانے والوں کو پسند نہیں کرتا{۶۴}
اگر اہلِ کتاب ایمان لے آئیں اور (تقویٰ) گناہوں سے بچیں تو ہم ان کے (پچھلے) گناہوں کو بھول جائیں گے اور ان کو بھی نعمت کے باغوں میں داخل کریں گے{۶۵}
اگر یہ لوگ توریت اور انجیل اور جو کچھ اُن کے پالنے والے(اللہ) کی طرف سے اترتا ہے اُس پر قائم ہوجائیں تو ہم اِن پر بارش کی طرح رزق برسائیں۔ جسے یہ سروں کے اوپر اور قدموں کے نیچے سے چن کر کھائیں۔ یقینا اِن میں بھی کچھ باضمیر لوگ ہیں مگر بیشتر برائی کی طرف مائل ہیں{۶۶}
اے نبی تم پر جو کچھ اتراتا ہے ان کو سناتے رہو۔ ایسا نہیں کیا تو گویا تم اپنا فرض ادا کرنے سے قاصر رہے۔ اللہ تمہیں لوگوں (کے شر) سے محفوظ رکھے گا۔ اور اللہ نافرمان قوم کو ہدایت نہیں دیتا{۶۷}
ان سے کہو اے اہلِ کتاب جب تک تم اپنی توریت و انجیل اور دوسری الہامی چیزوں پر عمل نہیں کرو گے تمہیں کوئی مقام حاصل نہیں ہوگا۔ اور اب جو تمہارے پالنے والے(اللہ) کی طرف سے آپؐ پر نازل ہو رہا ہے اس سے ان کی نافرمانی اور سرکشی کیوں بڑھ رہی ہے۔ پس تم نافرمان قوم کی حالت پر افسوس نہیں کرو{۶۸}
بلاشبہ اہلِ ایمان (مسلمان) ہوں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست (برہمن) جو بھی اللہ پر اور روزِ آخرت پر ایمان لائے گا اور اچھے کام کرے گا اُسے ڈر ہوگا نہ غم{۶۹}
ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا۔ اُن کے پاس اپنے رسول بھیجتے رہے مگر جو بھی رسول جاتا اُسے اُن کے دل قبول نہیں کرتے۔ بعض کو یہ جھٹلا دیتے اور بعض کو قتل کر ڈالتے تھے{۷۰}
اور سمجھتے کہ اُس سے کوئی وبال نہیں آئے گا گویا اندھے بہرے تھے۔ پھر بھی اللہ ان کو معاف کرتا رہا اور یہ اندھے اور بہرے ہی رہے۔ اللہ ان کے اعمال دیکھتا ہے{۷۱}
حالانکہ وہ بھی حق کے منکر ہیں جو کہتے ہیں مریم کے بیٹے عیسیٰ مسیح خدا ہیں حالانکہ مسیح بنی اسرائیل سے کہتے تھے کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا اور تمہارا پالنے والا ہے۔ اور جو کسی کو اللہ کا شریک (بیٹا، وسیلہ) بنائے گا اللہ اس پر جنت حرام کر دے گا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اور ظالموں (جاہلوں) کا کوئی دستگیر (مددگار) نہیں ہوگا{۷۲}
اسی طرح وہ بھی نافرمان ہیں جو کہتے ہیں کہ وہ تین میں تیسرا ہے حالانکہ خدائوں میں تو اللہ صرف ایک ہے۔ یہ لوگ باز نہیں آئے اور اسی طرح نافرمانی (جھوٹی باتیں) کرتے رہے تو اُن کو بھی دردناک عذاب ہوگا{۷۳}
پھر یہ اللہ سے توبہ کیوں نہیں کرتے اور مغفرت کیوں نہیں مانگتے کہ اللہ بڑا بخشنے والا اور رحیم ہے{۷۴}
مسیح ابن مریم ایک رسول کے سوا کچھ نہیں تھے۔ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزرے۔ ان کی والدہ مریم ایک پاک دامن بی بی تھیں۔ وہ دونوں تمہاری طرح کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو ہم کیسے سمجھاتے ہیں اور یہ کیسا جھٹلاتے ہیں{۷۵}
ان سے پوچھو تم اللہ کو چھوڑ کر کسی (اولیائ، بزرگ، آگ، ستارہ وغیرہ) کو کیوں پوجتے ہو جو نہ تم کو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ فائدہ۔ اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے{۷۶}
کہو اے اہلِ کتاب اپنے دین میں بلاوجہ غلو (ضد و کج بخشی) نہیں کرو اور ان کی پیروی نہیں کرو جو پہلے گمراہی پھیلا گئے۔ انہوں نے بہتوں کو گمراہ کیا اور خود بھی سیدھے راستے سے بھٹک گئے{۷۷}
اور بنی اسرائیل کے (کافروں) نافرمانوں پر تو دائود اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے بھی لعنت بھیجی گئی ہے کیونکہ وہ گنہگار اور جھگڑالو لوگ تھے{۷۸}
اور وہ اپنے برے کاموں سے باز نہیں آتے تھے۔ جو کچھ وہ کرتے تھے برا تھا{۷۹}
اسی وجہ سے تم دیکھتے ہو وہ نافرمانوں سے دوستی رکھتے ہیں۔ جو کچھ یہ آگے بھیج رہے ہیں برا ہے۔ اللہ ان سے ناراض ہے۔ وہ ان کو دائمی عذاب میں ڈالے گا{۸۰}
اگر یہ اللہ اور اس کے رسول پر اور جو کچھ اللہ اتارتا ہے اُس پر ایمان رکھتے تو نافرمانوں سے دوستی نہیں کرتے۔ لیکن اِن میں بیشتر فاسق (جھوٹے) ہیں{۸۱}
تو دیکھ لو مسلمانوں سے سب سے زیادہ دشمنی اور بغض رکھنے والے یہودی اور بت پرست (مشرکین) ہیں۔ اور ہمدردی میں سب سے قریب وہ ہیں جو خود کو نصاریٰ کہتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ اِن میں عالم بھی ہیں اور راہب بھی جو تکبر نہیں کرتے{۸۲}
یہ لوگ رسول پر اترنے والا کلام سنتے ہیں تو اُن کی آنکھوں سے آنسو نکل آتے ہیں کیونکہ یہ سچ پہچانتے ہیں۔ کہتے ہیں اے پالنے والے (اللہ) ہم اِس کلام پر ایمان لاتے ہیں تو ہم کو بھی گواہوں میں شمار فرما{۸۳}
ہم اللہ پر اور اُس کی سچائی پر جو ہم کو ملی ہے کیوں ایمان نہیںلائیں۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا پالنے والا (اللہ) ہم کو بھی اپنے نیک بندوں میں شامل کرے گا{۸۴}
پس اللہ نے ان کے لئے بھی جنتوں کا ثواب مقرر کر دیا ہے جن کے نیچے دریا بہتے ہوں گے۔ احسان (نیک کام) کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیا جاتا ہے{۸۵}
لیکن جو نافرمانی کریں گے یا ہماری آیتوں (یعنی اللہ کی حدیثوں) کو جھٹلائیں گے وہ جہنم میں جائیں گے{۸۶}
تو اے ایمان لانے والو! پاک چیزوں کو جو اللہ نے حلال کی ہیں خود پر حرام نہیں کرلیا کرو اور حد سے نہیں بڑھا کرو۔ اللہ حد سے بڑھنے والوں (قانون شکن لوگوں) کو پسند نہیں کرتا{۸۷}
جو کچھ حلال اور طیب روزی اللہ دے کھا لیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ جس نے تمہیں ایمان کی توفیق دی ہے{۸۸}
اللہ تمہاری لغو قسمیں (تکیہ کلام والی) پر گرفت نہیں کرے گا۔ مگر پکے وعدے (قول و قرار) کے پورے نہیں کرنے کی سخت پوچھ گچھ کرے گا۔ اس کا کفارہ دس مساکین کو کھانا کھلانا ہے اوسط درجے کا جو تم اپنے بال بچوں کو کھلاتے ہو یا اُن کو کپڑے پہنائو یا ایک غلام آزاد کرو۔ اور جو یہ نہیں کرسکے وہ تین دن کے روزے رکھے۔ یہ کفارہ اُن قسموں کا ہے جن پر حلف لیا ہو۔ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ اللہ تمہیں صاف صاف سمجھاتا ہے تاکہ تم احسان ماننے والے بن جائو{۸۹}
اے ایمان لانے والو! شراب، جوا، بتوں (قبروں) کو پوجنا، قرعہ ڈال کر قسمت آزمائی کرنا سب سرکشی، نافرمانی کے والے کام ہیں۔ ان سے بچتے رہنا تاکہ فلاح نصیب ہو{۹۰}
بلاشبہ سرکشی، نافرمانی کرنے والا چاہتا ہے کہ شراب اور جوے سے تم میں رنجش اور پھوٹ ڈلوا دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور صلات سے غافل کر دے تو کیا تم باز نہیں رہو گے{۹۱}
اللہ اور اس کے رسول کا کہا مانتے رہو اور برائیوں سے دور رہو۔ اگر کہا نہیں مانو گے تو جان لو کہ ہمارے رسول پر صرف احکام پہنچانے کی ذمہ داری ہے{۹۲}
اہلِ ایمان اور نیک کام کرنے والے پہلے جو کچھ کھاپی چکے اُس میں کوئی گناہ نہیں۔ مگر آئندہ کے لئے اللہ سے ڈریں اور اچھے کام کریں۔ (تقویٰ) گناہوں سے بچیں اور ایمان درست کریں اور اللہ سے ڈرتے رہیں۔ اور احسان (خیر خیرات) کرتے رہیں۔ کیونکہ اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے{۹۳}
اے ایمان لانے والو! اللہ تمہاری آزمائش کرنا چاہتا ہے ان شکاروں میں جو تم ہاتھوں یا نیزوں سے کرتے ہو تاکہ معلوم کرے کہ کون غیبی احکام سے ڈرتا ہے۔ تاکہ جو ان سے سرتابی کرے اسے عذاب دے{۹۴}
اے ایمان لانے والو! احرام کی حالت میں شکار نہیں کھیلو۔ جو جان بوجھ کر شکار کھیلے گا اس کا کفارہ ویسا ہی ایک جانور ہے جیسا مارا گیا ہے۔ اور یہ فیصلہ تمہارے دو معتبر شخص کریں کہ وہ کونسا جانور ہو اور آیا وہ خانہ کعبہ پہنچایا جائے یا مساکین میں بطور کفارہ کھلا دیا جائے۔ یا اس کے بدلے روزے رکھے تاکہ اپنی غلطی کا مزہ چکھے۔ پہلے جو کچھ ہوچکا اللہ نے معاف کر دیا۔ اب جو حکم عدولی کرے گا اللہ اس سے بدلہ لے گا۔ اور اللہ سخت انتقام لینے والا بھی ہے{۹۵}
اور تم پر سمندر کا شکار حلال کیا گیا ہے اور اس کا کھانا بھی جائز ہے۔ تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لئے یہ ہمارا انعام ہے۔ مگر خشکی کا شکار حرام ہے جبکہ احرام میں ہو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کے سامنے حاضر ہونا ہے{۹۶}
اللہ نے کعبہ کو ادب کا مکان بنایا ہے یہ تمام دنیا کے انسانوں کے لئے پناہ کی جگہ ہے اور ماہِ حرما اور ہدیٰ (قربانی کا جانور) اور ان کے گلے کے پٹے بھی قابلِ احترام ہیں۔ یہ تمہیں سمجھانے کے لئے ہے۔ اللہ آسمانوں اور زمین کی تمام باتیں جانتا ہے اور وہ ہر چیز سے واقف ہے{۹۷}
اور یاد رکھو کہ اللہ سخت بدلہ لینے والا ہے اور وہ بڑا بخشنے والا اور دیالو بھی ہے{۹۸}
اور رسول کی ذمہ داری صرف احکام پہنچا دینا ہے اور اللہ جانتا ہے جو تم چھپاتے یا ظاہر کرتے ہو{۹۹}
ان سے کہہ دو کہ ناپاک اور پاک چیزیں برابر نہیں ہو سکتیں خواہ ناپاک کی کثرت تمہیں بھلی لگے۔ تو اے سمجھدار لوگو! اللہ سے ڈرتے رہو۔ شاید تم فلاح پاجائو{۱۰۰}
اے ایمان لانے والو! ایسی چیزوں کے بارے میں نہیں پوچھا کرو کہ بتادی جائیں تو بھلی نہیں لگیں لیکن اگر نزولِ قرآن کے درمیان پوچھو گے تو بتادی جائیں گی۔ اللہ انہیں معاف کرتا ہے اور اللہ بڑا بخشنے والا اور بردبار ہے{۱۰۱}
ایسی باتیں تم سے پہلے کی قوموں نے بھی پوچھی تھیں پھر منکر ہوگئیں{۱۰۲}
اور اللہ نے بحیرہ مقرر کیا ہے نہ سائبہ نہ وصیلہ نہ حام (بھوانی کا سانڈا) یہ سب نافرمانوں نے اللہ پر جھوٹ گھڑ رکھا تھا اور وہ بے عقل لوگ تھے{۱۰۳}
ان سے کہا جائے کہ اللہ کے کلام اور رسول سے رجوع کرو تو کہتے ہیں ہمارے لئے وہی کافی ہے جو ہم کو اپنے باپ دادا سے ملا ہے۔ خواہ ان کے باپ دادا کچھ نہیں جانتے ہوں اور نہ ہدایت پر ہوں{۱۰۴}
اے ایمان لانے والو! تم اپنی جانوں کی خبر لو۔ اگر تم ہدایت پاگئے تو اگلے لوگوں کی گمراہی سے تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ سب کو اللہ کے سامنے جانا ہے اور وہ بتلائے گا تم کیا کرتے تھے{۱۰۵}
اے ایمان لانے والو! جب تم میں سے کسی پر موت کا وقت آجائے تو ایک دوسرے کے گواہ بن جایا کرو تاکہ انصاف پسند گواہوں کے سامنے وصیت کرسکے۔ اور سفر میں ہو تو غیر کے سامنے۔ اور خود تم پر موت کا وقت آجائے تو (دو گواہوں کو) روک لینا اور دعا کے بعد قسم دینا کہ وہ اس کا کوئی معاوضہ نہیں لیں گے خواہ معاملہ قرابت داری کا ہو۔ اور گواہی کو نہیں چھپائیں گے اور وہ اللہ کے واسطے ہوگی پھر ایسا نہیں کریں تو وہ گنہگار ہوں گے{۱۰۶}
اور اگر پتہ چلے کہ دونوں گواہ سچ کو چھپانے کے گناہگار ہیں تو جن کی حق تلفی ہوئی ہو وہ دو اور گواہ بلائیں جو میت کے قریبی رشتے دار ہوں۔ اور وہ اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری شہادت اُن سے زیادہ درست ہے اور ہم زیادتی نہیں کرتے ہیں۔ اگر ایسا کریں تو ہم ظالم شمار ہوں گے{۱۰۷}
اس طرح روبرو قسمیں کھانے سے شہادت خود درست ہوجائے گی اور لوگ اپنی قسمیں توڑتے ہوئے ڈریں گے کہ ہماری قسمیں رد کردی جائیں گی۔ پس اللہ سے ڈرتے رہو، اُس کا حکم مانو۔ اور اللہ جھوٹوں کو ہدایت نہیں دیتا{۱۰۸}
اور جس دن اللہ تمام رسولوں کو جمع کرے گا اور اُن سے پوچھے گا تم کو تمہارے اُمتی کیا مانتے رہے۔ وہ کہیں گے ہم کو کچھ خبر نہیں غیب کا حال تو تو ہی جانتا ہے{۱۰۹}
اور عیسیٰ ابن مریم سے بھی اللہ پوچھے گا تم کو ہمارے احسانات یاد ہیں جو ہم نے تم پر اور تمہاری ماں پر کئے تھے۔ ہم نے تم کو پاک فیض غیبی طاقت دی تھی۔ تم لوگوں سے اپنے جھولے میں باتیں کرتے تھے۔ ہم نے تم کو علم و حکمت عطا کیا۔ توریت و انجیل سکھا دی۔ تم مٹی سے پرندے بناتے اور پھونک مارتے تو وہ ہمارے حکم سے اڑنے لگتے اور تم مردوں کو ہمارے حکم سے اُٹھاتے تھے۔ پھر ہم نے تم کو بنی اسرائیل سے بچا لیا۔ جب تم ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر گئے تو اُن نافرمانوں نے کہا یہ سب کھلا جادو ہے{۱۱۰}
پھر ہم نے حواریوں کو وحی کیا کہ ہم پر اور ہمارے رسول پر ایمان لائیں۔ تو انہوں نے کہا ہم ایمان لاتے ہیں تم گواہ رہنا کہ (ایمان لائے ہیں) ہم نے تسلیم کیا ہے{۱۱۱}
پھر حواریوں نے کہا اے عیسیٰ ابن مریم کیا تمہارا پالنے والا (اللہ) ہم پر آسمان سے ایک دسترخوان اتار سکتا ہے۔ عیسیٰ نے کہا اللہ سے ڈرو اگر صاحبِ ایمان ہو{۱۱۲}
بولے ہم چاہتے ہیں اس میں سے کھائیں تاکہ ہمارے دلوں کو اطمینان ہو اور ہم جان لیں کہ تم نے ہم سے سچ کہا ہے۔ اور ہم اُس دسترخوان کے اُترنے پر گواہ ہوں{۱۱۳}
پھر عیسیٰ نے دُعا کی اے پالنے والے (اللہ) ہم پر آسمان سے ایک دسترخوان اُتار کہ یہ دن عید قرار پائے ہمارے اگلے اور پچھلوں کے لئے۔ اور وہ تیری ایک نشانی ہو۔ اور ہم کو رزق دے کہ تو ہی سب سے اچھا رزق دینے والا ہے{۱۱۴}
اللہ نے کہا میں تم پر دسترخوان اُتارتا ہوں مگر اُس کے بعد جو انکار کرے گا اسے سخت عذاب دوں گا۔ ایسا عذاب کے تمام دنیا میں ایسا عذاب کسی پر نہیں ہوا ہوگا{۱۱۵}
اور اللہ جب عیسیٰ ابن مریم سے پوچھے گا کیا تم نے اپنی اُمت سے کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو اپنا خدا بنالو۔ کہیں گے سبحان اللہ (پاک ہے اللہ) میری کیا مجال تھی کہ سچ کے سوا کچھ کہتا۔ میں ان سے وہی کہتا رہا جو تو نے سکھایا تھا اور تو جانتا ہے میرے دل میں کیا ہے اور میں نہیں جانتا تیری مرضی کیا ہے۔ بلاشبہ تو ہی غیب کی باتیں جانتا ہے{۱۱۶}
میں نے ان سے کچھ نہیں کہا سوائے اس کے جس کا تونے حکم دیا تھا اور وہ یہ تھا کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا اور تمہارا پالنے والا ہے اور تو اُن پر گواہ تھا جب تک میں ان میں زندہ رہا اور جب تو نے مجھے (تَوَفَّیْتَنِیْ) وفات دیدی تو تو ہی اُن کا نگہبان تھا اور تو ہر چیز پر شہید (گواہ) ہے{۱۱۷}
اب اگر تو اُن کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگرتو بخش دے (توتیری مہربانی ہے) بے شک تو ہی عزت و حکمت کا مالک ہے{۱۱۸}
اُس وقت اللہ فرمائے گا یہ وہ دن ہے جس میں سچے لوگوں کی سچائی کام آئے گی۔ ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے دریا بہتے ہوں گے اور وہاں ہمیشہ رہنا ہے۔ اللہ ان سے خوش ہوگا اور وہ اللہ سے خوش ہوں گے اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے{۱۱۹}
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے{۱۲۰}

الأنعام
Surah 6

ﷲ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

احسان مانو ﷲ کا جس نے آسمانوں اور زمین کو تخلیق کیا اور روشنی اور اندھیرا بنایا۔ مگر نافرمان اپنے پالنے والے(ﷲ) کی نافرمانی کرتے ہیں{۱}
اُس نے تم کو مٹی سے بنایا اور موت مقرر کر دی اور ایک دوسرا وقت (قیامت) بھی اُس کے پاس سے مقرر ہے پھر تم شک کیوں کرتے ہو{۲}
آسمانوں اور زمین کا مالک وہی ایک ﷲ ہے۔ وہ تمہاری چھپی اور ظاہر باتوں کو جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ تم کیا (اعمال) کما رہے ہو{۳}
مگر یہ لوگ اپنے پالنے والے (ﷲ) کی باتوں (حدیثوں) سے منہ پھیر لیتے ہیں{۴}
اور جو سچائیاں پیش کی جاتی ہیں اُن کو جھٹلاتے ہیں تو ان کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ یہ کن باتوں کا مذاق اُڑاتے ہیں{۵}
انہوں نے اگلی قوموں کا حشر نہیں دیکھا جنہیں صدیوں پہلے ہم ہلاک کرچکے ہیں۔ دنیا میں اُن کو جو اقتدار حاصل تھا تم کو نہیں ملا ہے۔ ہم نے اُن پر آسمان سے موسلا دھار پانی برسا دیا اور نیچے سے دریا چڑھا دئیے اور اُن کو اُن کی بداعمالیوں کی وجہ سے تباہ کر دیا۔ پھر اُن کے بعد ایک دوسرا دور شروع کیا{۶}
اگر ہم تم پر کاغذوں میں لکھی کوئی کتاب اتارتے جسے یہ چھو بھی سکتے تو یہ نافرمان یہی کہتے کہ یہ جادو کا کمال ہے{۷}
پوچھتے ہیں ان پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا۔ اگر ہم فرشتہ بھیج دیں تو ان کا کام ہی تمام ہوجائے اور انتظار کی ضرورت نہیں رہے{۸}
اور اگر ہم فرشتے کو رسول بھیجتے تو وہ بھی انسان کی شکل میں آتا اور یہ پھر شک و شبہ میں پڑ جاتے{۹}
ہمارے رسولوں کے ساتھ پہلے بھی تمسخر ہوتا رہا ہے۔ پھر دیکھو مسخری کرنے والوں کے ساتھ کیسا تمسخر ہوا{۱۰}
ان سے کہو دنیا میں گھومو پھرو اور دیکھو جھٹلانے والوں کا کیا حشر ہوتا ہے{۱۱}
ان سے پوچھو آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے کس کا ہے پھر سمجھائو سب کچھ ﷲ کا ہے۔ اُس نے خود پر رحمت کو لازم کرلیا۔ اور قیامت کے دن تم سب کو جمع کرلے گا اس میں کوئی شک نہیں۔ تو جو لوگ اپنی جانوں کے دشمن ہیں وہی ایمان نہیں لائیں گے{۱۲}
اُسی کا ہے جو کچھ رات اور دن میں دکھائی دیتا ہے۔ اور وہ بڑا سننے اور جاننے والا ہے{۱۳}
کہو میں ﷲ کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا ولی کیسے مان لوں جس نے زمین اور آسمان بنائے ہیں۔ وہی سب کو روزی دیتا ہے اور اُسے کوئی روزی نہیں دیتا۔ اور کہو مجھے حکم ملا ہے کہ میں سب سے پہلا مسلم (اَن دیکھے مالک کے آگے سرجھکانے والا) بنوں اور مشرکوں (بیٹا، وسیلہ بنانے والوں) میں شامل نہیں ہوں{۱۴}
اور کہو میں ﷲ سے ڈرتا ہوں۔ اُس کی نافرمانی کروں گا تو بڑے دن کے عذاب میں ڈالا جائوں گا{۱۵}
اُس دن جو عذاب سے بچ گیا اُس پر کرم ہوا اور یہی بڑی کامیابی ہے{۱۶}
ﷲ تمہیں سختی میں ڈالنا چاہے تو اُس کے سوا کوئی بچانے والا نہیں۔ اور وہ فضل کرنا چاہے تو ہر چیز اُس کی قدرت (اختیار) میں ہے{۱۷}
وہ اپنے بندوں پر قہر بھی کرسکتا ہے۔ اور وہ بڑا جاننے والا اور صاحبِ حکمت ہے{۱۸}
پوچھو ﷲ کی شہادت (گواہی) سے بڑھ کر کیا ہوسکتا ہے وہ تمہارے اور میرے درمیان گواہ ہے۔ مجھے یہ قرآن اس لئے وحی کیا جاتا ہے کہ میں اس کے ذریعہ تمہیں چونکائوں اور جس تک پہنچ سکے پہنچائوں۔ تو کیا تمہارا بھی کوئی گواہ ہے کہ ﷲ کے سوا دوسرے خدا ہیں۔ کہو میں ایسی گواہی نہیں دے سکتا اور کہو کہ ﷲ صرف ایک ہے اور میں تمہارے خدائوں سے بیزار ہوں{۱۹}
جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے وہ اُسے (نبی کو) اُسی طرح پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ مگر جو لوگ اپنی جانوں کو نقصان میں ڈالنا چاہتے ہیں وہ اُس پر ایمان نہیں لائیں گے{۲۰}
اور اُس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو ﷲ سے جھوٹی باتیں منسوب کرے یا اس کی باتوں (یعنی ﷲ کی حدیث) کو جھٹلائے۔ بلاشبہ ظالموں کو فلاح نہیں ہوگی{۲۱}
جس دن ﷲ سب کو جمع کرے گا اور مشرکوں (اولیاء و وسیلہ بنانے والوں) سے پوچھے گا تمہارے شریک (دیوتا، داتا، خواجہ، غوث وغیرہ) کہاں ہیں جن پر تم کو بھروسہ تھا{۲۲}
تو کوئی بہانہ نہیں بنا سکیں گے۔ ان کو کہنا پڑے گا وﷲ ہم مشرک (ﷲ کا بیٹا، وسیلہ بنانے والے) نہیں تھے (کسی کو نہیں پوجتے تھے){۲۳}
دیکھو یہ وہاں بھی اپنی جانوں پر جھوٹ بولیں گے اور جو کچھ انہوں نے گھڑ رکھا تھا بھول جائیں گے{۲۴}
اُن میں سے بعض تمہاری باتیں سننے آتے ہیں تو اس طرح جیسے اُن کے دلوں پر پردے پڑے ہیں کچھ سمجھ نہیں پاتے اور اُن کے کان بہرے ہیں۔ یہ ہمارے معجزے بھی دیکھیں تو ایمان نہیں لائیں گے۔ وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو جھگڑتے ہیں۔ نافرمان کہتے ہیں کہ یہ سب اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں{۲۵}
وہ دوسروں کو روکتے ہیں اور خود بھی دور رہتے ہیں۔ دراصل یہ اپنی جانوں کو ہلاک کر رہے ہیں اور سمجھتے نہیں{۲۶}
تم ان کو آگ کے کنارے دیکھنا۔ کہتے ہوں گے کاش ہمیں واپس بھیجا جائے اب ہم اپنے پالنے والے(ﷲ) کی حدیث کو نہیں جھٹلائیں گے۔ ہم بھی اہلِ ایمان بن کر رہیں گے{۲۷}
مگر اس دن سب کھل جائے گا جو یہاں چھپاتے تھے۔ ان کو دنیا میں دوبارہ بھیجا بھی جائے تو یہ وہی کریں گے جس سے منع کیا جاتا ہے کیونکہ یہ جھوٹے ہیں{۲۸}
کہتے ہیں ہماری دنیاوی زندگی ہی سب کچھ ہے ہم دوبارہ اٹھائے نہیں جائیں گے{۲۹}
تم ان کو اپنے پالنے والے(ﷲ) کے سامنے کھڑا دیکھنا ان سے کہا جائے گا کیا یہ سب حقیقت نہیں ہے تو کہیں گے پالنے والے (ﷲ) کی قسم یہ سچ ہے۔ پھر کہا جائے گا تو اب عذاب کا مزہ چکھو جس کو تم نہیں مانتے تھے{۳۰}
پس جو لوگ ﷲ کے سامنے حاضر ہونے کے منکر ہیں وہ گھاٹے میں رہیں گے۔ جب اچانک وہ وقت آجائے گا کہیں گے افسوس ہم سے کیسی بھول ہوئی۔ اس طرح وہ اپنے گناہوں کا بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوں گے اور وہ بوجھ برا ہے جو یہ اٹھائیں گے{۳۱}
دنیا کی زندگی کیا ہے محض کھیل تماشہ۔ اور ﷲ سے محبت کرنے والوں کے لئے آخرت کا گھر خوب ہے کیا تم سمجھتے نہیں{۳۲}
ہم جانتے ہیں تم کو ان لوگوں کی باتوں سے دکھ ہوتا ہے مگر یہ تم کو نہیں جھٹلاتے بلکہ ظالم ﷲ کی سچائیوں کو جھٹلاتے ہیں{۳۳}
تم سے پہلے بھی ہمارے رسول جھٹلائے گئے ہیں مگر وہ جھٹلانے اور دل دکھانے پر برداشت کرتے تھے یہاں تک کہ ہماری مدد پہنچ جاتی۔ تو یاد رکھو ﷲ کا قانون بدلتا نہیں تم کو اگلے رسولوں کا احوال بتا دیا گیا ہے{۳۴}
پھر بھی ان کے اعتراضات کو بھاری سمجھو تو زمین میں سرنگ بنا کر گھس جائو یا آسمان پر سیڑھی لگا کر چڑھ جائو اور وہاں سے کوئی معجزہ لا کر دکھا دو۔ ﷲ چاہتا تو سب کو ہدایت دے دیتا۔ پس تم جاہلوں کی باتوں میں نہیں آئو{۳۵}
سچائی تو وہی قبول کرتے ہیں جو بات سننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اور مردوں کو ﷲ ہی اٹھائے گا تب ہی اُس سے رجوع کریں گے{۳۶}
پوچھتے ہیں اس کے پالنے والے(ﷲ) نے اس (نبی) کو کوئی معجزہ کیوں نہیں دیا۔ کہو بیشک ﷲ معجزہ بھیجنے کی قدرت رکھتا ہے مگر ان میں سے بیشتر ناسمجھ لوگ ہیں{۳۷}
زمین پر بسنے والے جاندار اور پروں سے اُڑنے والے پرندے تمہاری طرح ہماری مخلوق ہیں۔ ہم نے اپنی کتاب میں اُن کا ذکر بھی نہیں چھوڑا ہے۔ سب اپنے پالنے والے(ﷲ) کے حضور حاضر ہوں گے{۳۸}
جو لوگ ہماری نشانیوں (کلام) کو جھٹلاتے ہیں وہ گونگے اور بہرے (اپنے ذہن کی) تاریکیوں میں بھٹک رہے ہیں۔ ﷲ جسے چاہتا ہے(اسکے اعمال کے سبب) بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے(اسکے اعمال کے سبب) سیدھی راہ دکھاتا ہے{۳۹}
پوچھو کہ اگر ﷲ تم پر عذاب بھیج دے یا قیامت آجائے تو تم ﷲ کے سوا کس سے دعا مانگو گے بتائو اگر سچے ہو{۴۰}
ہاں تم (دُکھ میں) اسی سے دعا کرتے ہو اور وہی چاہے تو تمہاری دعا قبول کرسکتا ہے۔ اس وقت تم اپنے شریکوں (داتائوں، دیوتائوں اور بت وغیرہ) کو بھول جاتے ہو{۴۱}
تم سے پہلی قوموں میں بھی ہم نے رسول بھیجے اور ان پر بھی سختیاں اور آزمائشیں بھیجتے رہے تاکہ وہ ہم سے عاجزی کرتے رہیں{۴۲}
تو جب کوئی مصیبت آتی وہ ہم سے فریاد کرتے مگر پھر اُن کے دل سخت ہوگئے اور نافرمانوں کو ان کے برے اعمال بھلے لگنے لگے{۴۳}
اس طرح جب انہوں نے ہماری نصیحتیں بھلا دیں تو ہم نے خوشحالی کے تمام دروازے اُن پر کھول دئیے اور وہ ہماری نوازشوں سے خوب خوش ہولیئے تو ہم نے اچانک پکڑ لیا اور وہ نامراد ہوگئے{۴۴}
ظالم قوموں کی جڑ ہم اسی طرح کاٹتے ہیں۔ پس تمام جہانوں کے پالنے والے (ﷲ) کا احسان مانتے رہو{۴۵}
پوچھو اگر ﷲ تمہاری شنوائی اور بینائی چھین لے یا تمہارے دلوں پر مہر لگا دے تو ﷲ کے سوا کون سا مشکل کشا یہ نعمتیں واپس دلا سکتا ہے۔ دیکھو ہم اپنی باتیں (حدیثیں) کس طرح سمجھاتے ہیں پھر بھی نہیں مانتے{۴۶}
اور پوچھو اگر ﷲ کا عذاب بے خبری یا چونکانے کے بعد اچانک آجائے تو ظالموں کے سوا کون تباہ ہوگا{۴۷}
اور ہم رسولوں کو خوشخبری دینے اور چونکانے کے لئے بھیجتے ہیں۔ تو جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور سدھر جاتے ہیں اُن کو نہ کوئی خوف رہتا ہے نہ غم{۴۸}
مگر جو لوگ ہماری نشانیوں (نصیحتوں) کو جھٹلائیں گے وہ عذاب میں پڑیں گے کیونکہ وہی فاسق (جھوٹے) ہیں{۴۹}
کہو میں کب کہتا ہوں کہ میرے پاس ﷲ کے خزانے ہیں یا میں غیب کا حال جانتا ہوں یا میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اُس وحی کا تابع ہوں جو مجھ پر آتی ہے۔ اور کہو اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہوتا۔ پھر تم غور کیوں نہیں کرتے{۵۰}
تم صرف اُن کو نصیحت کرتے رہو جو اپنے پالنے والے(ﷲ) کے سامنے حاضر ہونے سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ اُس کے سوا کوئی اُن کا ولی اور شفاعتی نہیں تاکہ وہ زیادہ متقی (گناہوں سے بچنے والے) بن جائیں{۵۱}
اور اُن کو نہیں جھڑکو جو اپنے پالنے والے(ﷲ) سے صبح و شام دعا کرتے رہتے ہیں اور اس کی رضا کے طالب ہیں۔ اُن کے اعمال کی جوابدہی تم پر نہیں اور تمہارے حساب کے وہ جوابدہ نہیں ہوں گے۔ تم ان کو جھڑکو گے تو ظالم شمار ہوگے{۵۲}
ہم اسی طرح بعض کی بعض سے آزمائش کرتے رہتے ہیں۔ تم لوگوں کو کہنے دو کہ یہی لوگ ہیں جن کو ہم میں سے چن کر ﷲ نے فضل کیا ہے۔ تو کیا ﷲ اپنے شکرگزار بندوں کو نہیں جانتا{۵۳}
تمہارے پاس ہماری آیتوں (حدیثوں) پر ایمان لانے والے آئیں تو اُن سے (سلٰمٌ علیکمٌ) سلام علیکم (تم پر سلامتی ہو) کہا کرو کہ ﷲ نے خود پر رحمت کو لازم کر لیا ہے (سب پر رحم کرتا ہے)۔ اور تم میں سے کوئی نادانستہ غلط کام کر بیٹھے اور پھر توبہ کرلے اور اپنی اصلاح کرلے تو ﷲ بڑا درگزر کرنے والا اور دیالو ہے{۵۴}
ہم اپنی باتیں (حدیثیں) اسی طرح سمجھاتے ہیں تاکہ گنہگاروں کو بھی اپنا راستہ معلوم ہوجائے{۵۵}
اور (مشرکوں سے) کہہ دو مجھے اُن سے دعا مانگنے سے روک دیا گیا ہے جن سے تم ﷲ کے بدلے دعائیں مانگتے ہو۔ اور کہو میں تمہاری مرضی پر نہیں چل سکتا اگر ایسا کروں گا تو میں بھٹک جائوں گا اور ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہیں رہوں گا{۵۶}
اور کہو میں اپنے پالنے والے(ﷲ) کی روشن دلیل (قرآن) پر ہوں اور تم اس کو جھٹلاتے ہو۔ اور جس چیز (عذاب) کی تم جلدی کر رہے ہو وہ میرے اختیار میں نہیں ہے کہ حکم تو بس ﷲ کا چلتا ہے۔ وہی سچائیاں بیان کرتا ہے اور وہی بہترین فیصلے کرتا ہے{۵۷}
اور کہو جس چیز کی تم جلدی کر رہے ہو میرے اختیار میں ہوتی تو مجھ میں اور تم میں فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ اور ﷲ ظالموں کو جانتا ہے{۵۸}
اسی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں جن کو اُس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اسے خشکی اور سمندروں کی تمام چیزوں کا علم ہے۔ اور کوئی پتا نہیں جھڑتا جس کی اُسے خبر نہیں ہوتی ہو۔ زمین کی تاریکیوں میں کوئی دانہ سوکھا ہو یا گیلا اُس کی کتاب میں لکھ لیا جاتا ہے{۵۹}
وہی رات کو تمہیں سلا دیتا ہے اور دن بھر کیا کرتے رہے جانتا ہے اور پھر تمہیں اٹھاتا ہے تاکہ اسی طرح زندگی کے دن پورے کرو۔ پھر تمہیں اُس سے رجوع کرنا ہے اور وہ بتلائے گا کہ تم یہاں کیا کرتے رہے{۶۰}
اور وہ اپنے بندوں پر قہر (غصہ) بھی کرتا ہے اور تم پر اپنے محافظ بھی رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آجاتی ہے تو ہمارے فرشتے اُسے فوت کر دیتے ہیں اور وہ کوئی زیادتی نہیں کرتے{۶۱}
پھر وہ سب ﷲ کے سامنے حاضر ہوں گے جو اُن کا حقیقی مولیٰ (مالک) ہے کہ صرف اُسی کا حکم چلتا ہے اور وہ جلد حساب لینے والا ہے{۶۲}
پوچھو تم کو خشکی اور سمندروں کی تاریکیوں سے نجات دینے والا کون ہے۔ جس سے تم گڑگڑا کر اور خفیہ طور پر دعائیں مانگتے ہو کہ اگر اس مصیبت سے بچالیا تو ہمیشہ شکرگزار رہیں گے{۶۳}
کہو ہاں ﷲ ہی تم کو اُس سے اور دوسرے دُکھوں سے نجات دیتا ہے مگر تم پھر شرک (ﷲ کا احسان ماننے کے بجائے دوسروں کی نذر و نیاز) شروع کردیتے ہو{۶۴}
کہو ﷲ ہی کے اختیا رمیں ہے کہ وہ تم پر اوپر سے عذاب بھیجے یا تمہارے قدموں کے نیچے سے یا پھر تمہیں شیعاََ (فرقے) بنا کر آپس میں لڑا دے۔ دیکھو ہم اپنی باتیں (حدیثیں) کس طرح سمجھاتے ہیں تاکہ لوگ سمجھ جائیں{۶۵}
مگر تمہاری قوم ان سچائیوں کو جھٹلاتی ہے تو کہہ دو کہ میں تمہارا وکیل نہیں ہوں{۶۶}
ہر بات کا وقت مقرر ہے اور تم کو جلد معلوم ہوجائے گا{۶۷}
اور جب دیکھو کہ ہماری آیتوں (حدیثوں) کے خلاف بکواس ہورہی ہے تو اُن سے دور ہٹ جائو حتیٰ کہ وہ دوسری باتیں کرنے لگیں۔ یہ نصیحت اگر سرکشی، نافرمانی کرنے والا بھلا دے تو یاد آنے پر تم ان ظالموں کے پاس نہیں بیٹھو (جو احسن الحدیث قرآن پر اعتراض کرتے ہوں){۶۸}
اور متقی (گناہوں سے بچنے والے) لوگوں سے اس پر باز پرس نہیں ہوگی۔ مگر وہ بھی نصیحت کرتے رہیں تاکہ وہ (مفسد) سدھر جائیں{۶۹}
جن لوگوں نے دین کو کھیل تماشہ بنالیا ہے اور دنیا کی زندگی نے ان کو مغرور کر رکھا ہے اُن کو بھی نصیحت کرتے رہو۔ ایسا نہیں ہو وہ اپنے اعمالِ بد سے اپنی جانوں کو ہلاک کرلیں۔ اُن کا بھی ﷲ کے سوا کوئی ولی اور شفاعتی نہیں ہوگا۔ وہ ساری دنیا کی دولت دے کر بچنے کی کوشش کریں گے تو قبول نہیں ہوگی۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنی حرکتوں کی وجہ سے ہلاکت میں پڑیں گے انہیں گرم پانی پلایا جائے گا۔ اور دکھ دینے والا عذاب ہوگا کیونکہ یہ نافرمانی (کفر) کرتے تھے{۷۰}
ان سے پوچھو کیا ہم بھی ﷲ کو چھوڑ کر ایسے داتائوں سے دعائیں مانگنے لگیں جو نفع پہنچاسکیں نہ نقصان۔ یعنی ہدایت پانے کے بعد الٹے پائوں نافرمانی میں لوٹ جائیں اُس کی طرح جس کو نافرمانی نے دنیا میں پھنسا رکھا ہے۔ اُس کے دوست اُسے ہدایت کی طرف بلاتے ہیں کہ اِدھر آ (مگر اُس کی سمجھ میں نہیں آتا)۔ کہو کہ راستہ تو وہی سیدھا ہے جو ﷲ دکھائے۔ اُس نے ہم کو حکم دیا ہے کہ ہم جہانوں کے پالنے والے (ﷲ) کو مانیں (تسلیم کریں){۷۱}
اور صلوٰۃ قائم کرتے رہیں اور اُس سے محبت کرتے رہیں وہی ہے جس کے سامنے حاضر ہونا ہے{۷۲}
اُسی نے آسمانوں اور زمین کو سچائی کے ساتھ تخلیق کیا ہے اور جس دن وہ کہے گا کُن (ہوجا) سب (ختم) ہوجائے گا۔ اُس کا کلام سچا ہے۔ جس دن صور پھونکا جائے گا حکومت صرف اسی کی ہوگی۔ وہی غیب اور شہادت (چھپی اور ظاہر) کا جاننے والا ہے۔ وہی حکمتوں (علوم و دانائی) کا مالک ہے{۷۳}
اور سنو ابراہیم نے اپنے باپ آزر (بت تراش) سے کہا تم پتھر کے خدا بناتے ہو۔ میں دیکھتا ہوں کہ تم اور تمہاری قوم گمراہی میں مبتلا ہے{۷۴}
اور اس لئے ہم نے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے مناظر قدرت دکھائے تاکہ وہ خوب یقین کرنے والے بن جائیں{۷۵}
تو جب رات کی تاریکی چھائی اُس نے ایک ستارہ چمکتا ہوا دیکھا اور کہا یہ میرا خدا (پالنے والا) ہے مگر جب وہ چھپ گیا تو بولا میں چھپنے والوں سے محبت نہیں کرتا{۷۶}
پھر چاند کو دمکتا دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے مگر وہ بھی ڈوب گیا تو کہنے لگا اگر میرا رب (پالنے والا) نہیں بتائے گا تو میں بھی بھٹکے ہوئے لوگوں میں شامل ہوجائوں گا{۷۷}
پھر اس نے سورج کو دہکتا ہوا دیکھا تو کہا یہی میرا رب (پالنے والا) ہے یہ سب سے بڑا ہے لیکن وہ بھی غروب ہوگیا تو کہنے لگا لوگو! تم جن چیزوں کو خدا سمجھتے ہو میں اُن سے بیزار ہوں{۷۸}
میں سب کو چھوڑ کر آسمانوں اور زمین کے بنانے والے (ﷲ) کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔ جو سیدھا راستہ ہے اور میں مشرکوں (ﷲ کا ساتھی و سفارشی بنانے والا) میں سے نہیں ہوں{۷۹}
تو اُن کی قوم حجت کرنے لگی۔ بولے تم مجھ سے ﷲ کے بارے میں کیوں حجت کرتے ہو۔ اُس نے مجھے سیدھا راستہ دکھا یا ہے۔ میں تمہارے بنائے ہوئے خدائوں سے نہیں ڈرتا صرف اپنے پالنے والے(ﷲ) کی مرضی پر چلتا ہوں جیسا وہ چاہے۔ میرے پالنے والے(ﷲ) کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ تم مانتے کیوں نہیں{۸۰}
اور میں اُن سے کیوں ڈروں جن کو تم خدا سمجھتے ہو۔ جب تم ﷲ کے شریک (اولیائ، وسیلہ، مورتیاں) ٹھہراتے نہیں ڈرتے جن کی تمہارے پاس کوئی سند نہیں۔ پھر ہم دونوں فریق میں ایمان کس کا سچا ہے بتائو اگر جانتے ہو{۸۱}
جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ظلم (جہالت) سے آلودہ نہیں کرتے انہی کو امن (سکونِ قلب) حاصل ہوتا ہے اور وہی ہدایت یاب ہوتے ہیں{۸۲}
یہ ہماری دلیلیں ہیں جو ہم نے ابراہیم کو اپنی قوم پر پیش کرنے کے لئے سکھائیں۔ ہم جس کے چاہتے ہیں مرتبے بلند کردیتے ہیں۔ بلاشبہ تمہارا پالنے والا(ﷲ) ہی علم و حکمت کا مالک ہے{۸۳}
پھر ہم نے اُسے اسحق و یعقوب دئیے اور سب کو ہادی (لیڈر) بنایا جیسے نوح کو اُن سے پہلے ہادی بنایا تھا۔ پھر اُن کی اولاد میں دائود اور سلیمان، ایوب اور یوسف، موسیٰ اور ہارون ہوئے۔ ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں{۸۴}
اور زکریا، یحییٰ اور عیسیٰ، الیاس سب ہمارے صالح (نیک) بندے تھے{۸۵}
اور اسمٰعیل، الیسع، یونس اور لوط بھی ان سب کو اہلِ عالم میں فضیلت بخشی{۸۶}
اور اُن کے باپ دادا اور ان کی اولاد اور اُن کے بھائی بندوں میں بعض کو بزرگی دی اور ہدایت کی سیدھی راہ دکھائی{۸۷}
یہی ﷲ کا طریقۂ ہدایت ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کے ذریعے سدھار دیتا ہے۔ اور جو شرک (اولیاء و پیر کے چکر) میں مبتلا ہوجاتے ہیں اُن کے اعمال ضائع کر دیتا ہے{۸۸}
اور یہ (یہودی) لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب، حکومت اور نبوت دی تھی۔ پھر جب وہ ناشکرے بن گئے تو ہم نے اُن پر ایسے لوگ مسلط کر دئیے جو ناشکرے نہیں تھے{۸۹}
یہی وہ لوگ تھے جن کو ﷲ نے ہادی بنا کر بھیجا تھا اور تم کو بھی اُنہی کے نقشِ قدم پر ہدایت پھیلانا ہے۔ پس لوگوں سے کہو میں اس ہدایت (تبلیغ) کا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا یہ (قرآن) تو تمام دنیا کے لوگوں کے لئے نصیحت کا کلام ہے{۹۰}
مگر لوگ ﷲ کی قدرت کو جیسا کہ جاننا چاہیے نہیں جانتے۔ کہتے ہیں ﷲ انسان پر کچھ نہیں اتار سکتا۔ ان سے پوچھو کہ موسیٰ کو جو کتاب ملی تھی وہ کس نے اتاری تھی۔ جو لوگوں کے لئے نور (علم کی روشنی) اور ہدایت تھی جسے تم نے الگ الگ پاروں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ اس کے کچھ حصے دکھاتے ہو اور بیشتر چھپاتے ہو۔ اور ہم تم کو وہ باتیں سکھاتے ہیں جو نہ تم کو معلوم تھیں نہ تمہارے باپ دادا کو۔ ﷲ یہی فرماتا ہے اور ان لوگوں کو اپنی دھن میں لگا رہنے دو{۹۱}
اور یہ بابرکت کتاب ہم ہی اتارتے ہیں جو تصدیق کرتی ہے اگلی کتابوں کی۔ تاکہ تم شہر مکہ اور اس کے مضافات میں رہنے والوں کو چونکائو (ہدایت دو)۔ جو لوگ حسابِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس پر ایمان لے آئیں گے کیونکہ وہ اپنی صلات پر دھیان رکھتے ہیں{۹۲}
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو ﷲ سے جھوٹ منسوب کرے اور کہے مجھ پر وحی آتی ہے جبکہ اُس پر کوئی وحی نہیں آتی ہو۔ یا جو کہے کہ جیسی کتاب ﷲ نے اتاری ہے ویسی میں بھی بناسکتا ہوں۔ تم ان ظالموں کو دیکھنا جب یہ موت سے جھگڑ رہے ہوں گے اور فرشتے ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے کہ نکالو اپنی جانیں، آج کے دن تم پر رسوائی کا عذاب ہے۔ تم ﷲ کے بارے میں جھوٹی باتیں بکا کرتے تھے اور اس کے کلام سے بہتر بنانے کا دعویٰ کرتے تھے{۹۳}
تم سب اکیلے اکیلے ہمارے سامنے آئو گے جیسے پہلے بنائے گئے تھے اور جو کچھ ہم نے دیا تھا پیچھے چھوڑ آئو گے۔ اور تمہارے ساتھ ہم تمہارے شفاعتیوں کو نہیں پائیں گے۔ جن کے بارے میں تمہیں ناز تھا کہ وہ تمہارے سفارشی ہیں۔ اُن سے تمہارے تعلقات ختم ہوجائیں گے اور تمہارے سارے زعم اور دعوے باطل ہوجائیں گے{۹۴}
بلاشبہ ﷲ ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر اُگاتا ہے۔ وہ مردہ سے زندہ نکالتا ہے اور زندہ سے مردہ نکالتا ہے۔ وہی تمہارا ﷲ (مالک) ہے۔ اُسے جھٹلاتے کیوں ہو{۹۵}
وہی اندھیروں کو پھاڑ کر دن نکالتا ہے۔ اُس نے رات کو آرام کے لئے اور سورج اور چاند کو ماہ و سال کا حساب رکھنے کے لئے بنایا ہے۔ یہ اسی عزت و علم کے مالک کی قدرت ہے{۹۶}
اُسی نے تمہارے لئے ستارے بنائے ہیں جو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں تم کو سمت (راستے) بتاتے ہیں۔ علم رکھنے والوں کے لئے ہم اپنی باتیں (حدیثیں) تفصیل سے بتا دیتے ہیں{۹۷}
اور وہی ہے جس نے تم کو ایک جان سے بنایا ہے۔ وہی تمہارے رہنے اور سپرد ہونے کے ٹھکانے مقرر کرتا ہے۔ ہم سمجھ رکھنے والوں کے لئے اپنی باتیں (حدیثیں) تفصیل سے بیان کرتے ہیں{۹۸}
اور وہی آسمان سے پانی برساتا ہے۔ جس سے طرح طرح کی سبزیاں اور نباتات اُگتی ہیں۔ اور تمہیں سبزیاں دانے دار بالیاں، کھجور کے گابھے، انگور، زیتون کے باغ اور انار اور اُن سے (مشتبہا) ملتے جلتے یا (غیرمتشابہ) مختلف پھل ملتے ہیں جو ہمارا انعام ہے۔ تو ان پھلوں اور ان کے پکنے کے عمل پر غور کرو۔ ان میں ہماری قدرت کی نشانیاں ہیں۔ جنہیں اہلِ ایمان ہی سمجھتے ہیں{۹۹}
یہ لوگ جنوں کو بھی ﷲ کا شریک بتاتے ہیں جو اُسی کی ایک مخلوق ہے۔ اور ناسمجھی سے اُس کے بیٹے اور بیٹیاں مقرر کرتے ہیں حالانکہ ﷲ ایسے رشتوں سے پاک ہے اور ان کی سمجھ سے بہت بلند ہے{۱۰۰}
بھلا آسمانوں اور زمین کو بنانے والے کو اولاد کی کیا ضرورت ہے۔ اس نے کسی کو بیوی نہیں بنایا ہے۔ اسی نے کائنات کی ہر چیز بنائی ہے اور وہ ہر چیز کے بارے میں باخبر ہے{۱۰۱}
وہی ﷲ تمہارا پالنے والا ہے اُس کے سوا کوئی خدا نہیں۔ وہ ہر چیز کا بنانے والا ہے تو اسی کی بندگی کرو۔ وہ اپنی تمام مخلوق کی خبرگیری کرتا ہے{۱۰۲}
تمہاری نگاہیں اُسے نہیں دیکھ سکتیں مگر وہ تمہاری نگاہیں دیکھتا ہے۔ وہ بڑا پیار کرنے والا اور خبر رکھنے والا مالک ہے{۱۰۳}
تمہارے پاس تمہارے پالنے والے(ﷲ) کی دلیلیں آگئی ہیں تو جو آنکھیں کھول کر دیکھے گا اپنے لئے دیکھے گا اور جو اندھا بنے گا اپنے لئے بنے گا۔ اور میں تمہارا داروغہ نہیں ہوں{۱۰۴}
ہم اپنی باتیں (حدیثیں) اسی طرح سمجھاتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں کوئی اسے سکھا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ عالموں کو پڑھانے والی باتیں ہیں{۱۰۵}
پس تم اپنے پالنے والے(ﷲ) کی وحی کی تعمیل کرتے رہو جو تم پر اترتی ہے کہ ﷲ کے سوا کوئی خدا یا داتا نہیں ہے اور مشرکوں (ﷲ کے سوا کسی اور کی پوجا و تقلید کرنے والوں) سے سروکار نہیں رکھو{۱۰۶}
اور ﷲ چاہتا ہے کہ دوسرے خدا نہیں بنائو۔ اورہم نے تم کو اُن پر داروغہ نہیں بنایا ہے نہ تم ان کی وکالت پر مامور ہو{۱۰۷}
اور تم اُن کو برا بھلا نہیں کہو جن سے یہ ﷲ کے بدلے دعائیں مانگتے ہیں۔ ایسا نہیں ہو کہ ناسمجھی اور ضد سے یہ ﷲ کو برا بھلا کہہ دیں۔ ہم نے ہر قوم کے لئے ان کے اعمال بھلے بنا دئیے ہیں۔ مگر جب یہ ہمارے سامنے آئیں گے ہم ان کے اعمال سنا دیں گے{۱۰۸}
یہ لوگ ﷲ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ان کے پاس بھی کوئی نشانی (معجزہ) آجائے تو یہ ایمان لے آئیں۔ ان سے کہو کہ معجزے تو ﷲ کے اختیار میں ہیں۔ اور تم کیا جانو (معجزے) آ بھی جائیں تو یہ ایمان لانے والے نہیں{۱۰۹}
ہم نے ان کے دلوں اور آنکھوں کو پھیر دیا ہے۔ جب ہی تو وہ پہلی بار سن کر ایمان نہیں لاتے۔ اُن کو اپنی نافرمانی میں بھٹکنے دو{۱۱۰}
ہم ان پر فرشتے اتار دیں یا مردے ان سے باتیں کرنے لگیں یا سب کو اٹھا کر جمع کردیں تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ ہاں ﷲ چاہے تو اوربات ہے مگر ان میں بیشتر جاہل ہیں{۱۱۱}
اسی طرح انسانوں اور جنوں میں سے سرکشی، نافرمانی کرنے والے ہمارے ہر نبی کے دشمن بن جاتے ہیں۔ جو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے اور شیخیاں بگھار کر دوسروں کو بہکاتے ہیں۔ اورتمہارا پالنے والا (ﷲ) چاہتا ہے کہ وہ ایسا نہیں کریں تم ان کی بکواس کو نظر انداز کرو{۱۱۲}
یہ اس لئے کہ جنہیں آخرت پر یقین نہیں ہے وہ اُن کے ساتھ ہوجائیں اور اُن کی باتوں سے لطف اٹھائیں تاکہ اس کے مستحق ہوجائیں جس (سزا) کے کام کر رہے ہیں{۱۱۳}
تو کیا میں ﷲ کے سوا کسی اور کو منصف بنائوں جبکہ اُس نے تم پر واضح (کھلی) کتاب اتاری ہے۔ جن لوگوں کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ جانتے ہیں کہ یہ بھی ﷲ کی طرف سے اُتاری ہوئی سچی کتاب ہے۔ پس تم شک کرنے والوں میں نہیں ہونا{۱۱۴}
تمہارے پالنے والے (ﷲ) کی باتیں (حدیثیں) سچائی اور (عدل) انصاف میں پوری اترتی ہیں۔ اس کی باتوں (حدیثوں) کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ اور وہ بڑا سننے اور جاننے والا ہے{۱۱۵}
اور اگر تم دنیا والوں کی اکثریت (جاہل عوام) کا کہا ماننے لگے تو وہ تم کو ﷲ کے راستے سے بھٹکا دیں گے کیونکہ وہ وہم اور قیاس پر چلتے ہیں{۱۱۶}
اور تمہارا پالنے والا(ﷲ) اُن کو جانتا ہے جو اس کے راستے سے بھٹکے ہوئے (مشرک) ہیں۔ اور اُن کو بھی جانتا ہے جو راہ ہدایت پر ہیں{۱۱۷}
جن چیزوں پر ﷲ کا نام لیا گیا ہو وہ کھائو اگر ﷲ کے کلام پر ایمان رکھتے ہو{۱۱۸}
یعنی وہ چیزیں کھانے میں کیا حرج ہے جن پر ﷲ کا نام لیا گیا ہے۔ اور جو چیزیں حرام کی گئی ہیں وہ تم کو بتادی گئی ہیں مگر بیقراری کی حالت میں وہ بھی کھا سکتے ہو۔ بہت سے لوگ بے سمجھے بوجھے من گھڑت روایتوں سے لوگوں کو گمراہ کرتے رہتے ہیں۔ ﷲ ایسے دشمنوں سے واقف ہے{۱۱۹}
تم اپنے کھلے اور چھپے گناہوں سے بچتے رہو۔ جو لوگ گناہ کریں گے وہ اپنے کئے کی سزا پائیں گے{۱۲۰}
اور جس چیز پر ﷲ کا نام نہیں لیا جائے وہ نہیں کھائو اُسے کھانا گناہ ہے۔ اور سرکشی، نافرمانی کرنے والے اپنے اولیاء (دوستوں) کو یہ پیغام بھیجتے رہتے ہیں کہ وہ تم سے جھگڑا کریں تم ان کے کہے میں آگئے تو تم بھی مشرک (ﷲ کا بیٹا اور وسیلہ بنانے والے) بن جائو گے{۱۲۱}
اور دیکھو جو لوگ پہلے مردہ (دل) تھے ہم نے انہیں (جوش ایمان سے) زندہ کر دیا۔ اور اُن کے لئے ایک نور (روشن ماحول) بنا دیا جسے لئے ہوئے وہ لوگوں میں پھرتے ہیں۔ تو وہ اُن جیسے کیسے ہوسکتے ہیں جو (جہالت کے) اندھیروں میں بھٹکتے ہیں اور اُس سے نکل نہیں پاتے۔ اسی وجہ سے نافرمانوں کو اپنے اعمال بھلے لگتے ہیں{۱۲۲}
اسی طرح ہماری بنائی ہر بستی میں مجرمانہ ذہنیت کے لوگ اپنی بزرگی کا دجل (مکر و فریب) پھیلاتے ہیں۔ مگر وہ صرف اپنے آپ سے ہی مکاری کرتے ہیں اور سمجھتے نہیں{۱۲۳}
اُن کے پاس ہماری نشانیاں (نصیحتیں) پہنچتی ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان نہیں لائیں گے جب تک ایسی ہی کوئی آیت ہم پر نہیں اترے جیسی رسولوں پر اترتی ہے۔ مگر ﷲ بہتر جانتا ہے رسالت کسے دی جائے۔ پس جو جعلی بزرگ ہیں وہ ﷲ کے پاس حقیر ہیں اُن پر سخت عذاب ہوگا کیونکہ یہ مکاریاں کرتے ہیں{۱۲۴}
ﷲ جسے ہدایت (بزرگی) دینا چاہتا ہے۔ اسلام کے لئے اس کا سینہ کھول دیتا ہے اور جسے گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کا سینہ تنگ (تاریک) کر دیتا ہے تو وہ سمجھتا ہے گویا آسمانوں پر چڑھ رہا ہے۔ اسی طرح ایمان نہیں لانے والوں کو بغض و حسد کی آگ میں جلاتا ہے{۱۲۵}
اور یہی تمہارے پالنے والے(ﷲ) کا سیدھا راستہ ہے۔ نصیحت ماننے والوں کو ہم اپنی باتیں (حدیثیں) تفصیل سے بتاتے ہیں{۱۲۶}
انہی کے اپنے اچھے اعمال کے بدلے اپنے پالنے والے(ﷲ) کے پاس (دارالسلٰم) سلامتی کا گھر ملے گا اور وہی اُن کا ولی ہے{۱۲۷}
جس دن سب جمع کئے جائیں گے پوچھا جائے گا اے سرکشی، نافرمانی کرنے والو! تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کرلیا تھا۔ تو جن لوگوں نے ان سے دوستی کر رکھی تھی کہیں گے ہم ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ اور ہم اس میعاد (موت) کو پہنچ گئے جو تو نے مقرر کی تھی۔ ﷲ فرمائے گا تو تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے جلو جب تک ﷲ چاہے۔ بلاشبہ ﷲ ہی سب حکمتیں جانتا ہے{۱۲۸}
ہم ظالموں (جاہلوں) کو اسی طرح ان کے اعمال کے سبب جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے پر مسلط کر دیتے ہیں{۱۲۹}
اے جن و انس کی قومو! کیا تمہارے پاس تم میں سے ہمارے رسول نہیں آتے رہے۔ جو ہماری باتیں (حدیثیں) پڑھ کر سناتے اور تم کو آج کے دن ہمارے سامنے حاضر ہونے سے ڈراتے۔ کہیں گے ہماری جانوں کی قسم ہمیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا تھا۔ ہم آج خود گواہی دیتے ہیں کہ ہم ناشکرے (نافرمان) تھے{۱۳۰}
اسی طرح تمہارا پالنے والا (ﷲ) کسی بستی کو ظلم سے تباہ نہیں کرتا اگر وہاں کے رہنے والے غافل (بے خبر) ہوں{۱۳۱}
اور اعمال کے درجے مقرر ہیں۔ جو کام یہ کرتے ہیں۔ ﷲ اُن سے بے خبر نہیں ہے{۱۳۲}
تمہارا پالنے والا(ﷲ) بڑا غنی اور دیالو ہے۔ وہ چاہے تو تم کو نکال دے اور دوسروں کو لے آئے جنہیں وہ پسند کرے جیسے اگلے لوگوں کی جگہ تم کو لایا ہے{۱۳۳}
اور جو کچھ تم سے کہا جاتا ہے وہ یقینا ہونے والا ہے اور تم اسے روک نہیں سکتے{۱۳۴}
ان سے کہہ دو کہ اے قوم! تم اپنی جگہ اپنے کام کرتے رہو ہم اپنے کام کرتے ہیں۔ تمہیں جلد معلوم ہوجائے گا کہ عاقبت کا گھر کس کا ہے۔ اور ﷲ ظالموں کو فلاح نہیں دیتا{۱۳۵}
یہ لوگ اپنی کھیتی (فصل) اور چوپایوں میں ہمارا حصہ نکالتے ہیں اور فخریہ کہتے ہیں یہ ﷲ کا حصہ ہے اور یہ ہمارے داتائوں کا۔ پھر جو حصہ داتائوں کا ہے وہ ﷲ کو نہیں ملتا لیکن جو ﷲ کا حصہ ہوتا ہے وہ ان کے داتائوں کے پاس پہنچ جاتا ہے یہ تقسیم بری ہیں{۱۳۶}
اسی طرح اکثر مشرک (دیوی، دیوتائوں کو ماننے والے) اپنی اولاد کو اپنے داتائوں کے آگے قتل کر ڈالنا بھلائی سمجھتے ہیں گویا قربانی دے کر نجات آخرت حاصل کرتے ہیں۔ ﷲ چاہتا تو وہ ایسا نہیں کرتے۔ خیر تم اُن کو چھوڑو وہ جانیں اور اُن کا کام{۱۳۷}
ان کے پیر، پروہت کہتے ہیں یہ فصل اور یہ جانور کھانا منع ہے (منت یا فاتحہ کا ہے) اسے صرف وہ شخص کھائیں جن کو ہم اجازت دیں۔ اور اس پر فخر کرتے ہیں۔ اور بعض جانوروں پر سوار ہونا منع بتلاتے ہیں اور بعض پر ﷲ کا نام لینے سے روکتے ہیں یہ سب ان کا بہتان ہے۔ اُن کو جلد اس جھوٹ کی سزا ملے گی{۱۳۸}
اور کہتے ہیں ان جانوروں کے پیٹ میں جو بچے ہیں انہیں صرف مرد کھائیں عورتوں پر ان کا کھانا حرام ہے اور اگر بچہ مر جائے تو سب کھائیں۔ ﷲ ان کو اس ڈھونگ کی سزا دے گا۔ وہ بڑا صاحبِ علم و حکمت ہے{۱۳۹}
جو لوگ اپنی اولاد کو ناسمجھی اور جہالت سے قتل کر ڈالتے ہیں اور ﷲ کی دی ہوئی روزی کو ﷲ پر جھوٹ گھڑ کر حرام قرار دیتے ہیں وہ بڑے نقصان میں رہیں گے۔ وہ گمراہ ہیں اور راہِ راست پر نہیں آئیں گے{۱۴۰}
اور ﷲ ہی اُگاتا ہے وہ باغ بھی جو باڑیوں پر چڑھائے جاتے ہیں (بیلیں)۔ اور وہ بھی جن کو باڑیوں کی ضرورت نہیں (درخت) اور کھجور اور مختلف اناج جو تم کھاتے ہو اور زیتوں اور انار بعض (متشابہا) ہم شکل اور بعض (غیرمتشابہ) مختلف اقسام کے میوے پس کھائو اور جب فصل اتارو تو ﷲ کا حق نکالو اور بے جا نہیں اُڑائو۔ ﷲ بے جا اُڑانے والوں کو پسند نہیں کرتا{۱۴۱}
اور چوپایوں میں سے وہ بار بردار ہوں یا سواری والے کھائے جاسکتے ہیں کہ ﷲ نے ان کو تمہارا رزق بنایا ہے۔ اور نافرمان کے نقشِ قدم پر نہیں چلو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے{۱۴۲}
ایسے آٹھ جوڑے ہیں۔ بکریوں میں دو جنس، بھیڑوں میں دو جنس، تو ان سے پوچھو اُن کے نر حرام ہیں یا مادائیں یا وہ بچے جو مائوں کے پیٹ میں چھپے ہوں۔ اگر سچے ہو تو اپنی سند لائو{۱۴۳}
اور اونٹوں میں دو جنس ہیں اور گائے میں دو جنس۔ تو پوچھو ان کے نر حرام ہیں یا مادائیں یا اُن کے پیٹ کے بچے۔ اور کیا جب ﷲ نے یہ حکم دیا تھا تم دیکھ رہے تھے۔ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو ﷲ پر جھوٹ باندھے۔ یہ لوگ (پیر، پروہت) بے جانے بوجھے دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں۔ ﷲ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا{۱۴۴}
کہو کہ مجھ پر جو وحی آتی ہے اس کی رو سے میں کوئی چیز حرام نہیں پاتا جو کھانے والے نہیں کھا سکیں۔ سوائے اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور ہو یا بہتا ہوا خون یا سور کا گوشت کہ یہ سب چیزیں ناپاک ہیں۔ اور ایسی چیزیں کھانا بھی گناہ ہے جن پر ﷲ کے سوا کسی اور (جن و انسان یا داتا) کا نام لیا گیا ہو۔ مگر بھوک سے مجبور ہو کر کھالے نہ کہ نافرمانی یا ضد میں۔ تو ﷲ بخشنے والا اور مہربان ہے{۱۴۵}
ہاں یہودیوں پر ہم نے ناخن والے جانور حرام کر دئیے تھے اور گائے اور بکری کی چربی بھی سوائے اس کے جو پیٹھ پر لگی ہو یا اوجھڑی یا ہڈی سے چمٹی ہو۔ یہ سزا ہم نے اُن کو اُن کی شرارت کی وجہ سے دی تھی۔ اور ہم سچ بولتے ہیں{۱۴۶}
پھر تم کو جھٹلائیں تو کہو تمہارے پالنے والے (ﷲ) کی رحمت وسیع ہے اور اس کا عذاب بھی مجرموں سے ٹلنے والا نہیں ہے{۱۴۷}
مشرک (ﷲ کا بیٹا، وسیلہ ٹھہرانے والے) کہتے ہیںکہ کاش ﷲ چاہتا تو ہم شرک نہیں کرتے۔ نہ ہمارے باپ دادا شرک کرتے اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔ ایسی ہی باتیں وہ بھی کرتے تھے جو ان سے پہلے گزر گئے مگر انہوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھ لیا۔ پوچھو کیا تمہارے پاس کوئی سند ہے، ہے تو لا کر دکھائو۔ تم لوگ قیاس پر چلتے ہو اور تیر تکے لگاتے ہو{۱۴۸}
کہو کہ ﷲ کی دلیل ہی پکی ہے وہ چاہے تو تم سب کو ہدایت دیدے{۱۴۹}
کہو اپنے گواہ بلائیں جو گواہی دے سکیں کہ ﷲ نے یہ چیزیں حرام کی ہیں اور وہ گواہی دیں بھی تو تم ان کے ساتھ گواہ نہیں بن جانا۔ تم اُن کی خوشنودی کی کوشش نہیں کرو جو ہمارے کلام (حدیث) کو جھٹلاتے ہیں اور جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ یہ اپنے پالنے والے(ﷲ) کی نافرمانی کرتے تھے{۱۵۰}
ان سے کہو آئو میں پڑھ کر سنائوں کہ تمہارے پالنے والے (ﷲ) نے کون سی چیزیں حرام کی ہیں۔ ﷲ کا کسی کو شریک خدائی (مورتیاں، وسیلہ) نہیں بنائو، ماں باپ کے ساتھ احسان کرو، مفلسی کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو کیونکہ تم کو اور ان کو رزق دینے والے ہم ہیں اور بے حیائی کے کاموں کے قریب نہیں جانا خواہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ اور کسی جاندار کو جسے قتل کرنا حرام ہے قتل نہیں کرو سوائے جائز ضرورت کے۔ تم کو تاکید کی جاتی ہے تاکہ تم سمجھو{۱۵۱}
اور بے سہارائوں (سوتیلے بچوں) کا مال نہیں کھانا مگر ایسے طریقہ سے جو پسندیدہ ہو جب تک وہ جوان نہیں ہوجائیں۔ اور ناپ تول میں انصاف کیا کرو۔ ہم کسی پر اُس کی برداشت سے زیادہ بوجھ (ذمہ داری) نہیں ڈالتے۔ اور جب کسی کے بارے میں کچھ کہو تو انصاف سے کہو خواہ وہ تمہارا رشتے دار ہی کیوں نہیں ہوں اور ﷲ سے کئے ہوئے عہد پورے کرو۔ ان باتوں کا تم کو حکم دیا جاتا ہے تاکہ تم یاد رکھو{۱۵۲}
یہی میرا سیدھا راستہ (صراطِ مستقیم) ہے تو اسی پر چلو اور دوسری راہیں اختیار نہیں کرو۔ ورنہ تمہارے درمیان الگ الگ (جماعتیں، فرقے) بن جائیں گے۔ یہ تم پر فرض کیا جاتا ہے تاکہ تم متقی (گناہوں سے بچنے والے) بن جائو{۱۵۳}
جیسے پہلے ہم نے موسیٰ کو ایک مکمل کتاب دی تھی۔ اس میں تمام اچھی باتیں درج تھیں اور ہر چیز کی تفصیل موجود تھی اور وہ ہدایت و رحمت تھی تاکہ اُن کی اُمت اپنے پالنے والے(ﷲ) کے سامنے حاضر ہونے پر ایمان لے آئے{۱۵۴}
اب یہ کتاب (قرآن) ہم نے برکتوں کے ساتھ اتاری ہے۔ بس اس کی پیروی کرنا اور گناہوں سے بچنا تاکہ تم پر رحم کیا جائے{۱۵۵}
تاکہ تم یہ نہیں کہہ سکو کہ ہم سے پہلے دو قوموں پر جو کتابیں اتری تھیں ہم کو اُن کے پڑھنے سے محروم رکھا گیا{۱۵۶}
یا کہو کہ اگر ہم پر بھی کتاب اترتی تو ہم اُن سے زیادہ ہدایت یاب ہوتے۔ تو لو اب تمہارے پاس تمہارے پالنے والے(ﷲ) کے واضح احکام آگئے ہیں جن میں ہدایت اور رحمت ہے۔ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو ﷲ کی باتوں (حدیثوں) کو جھٹلائے اور لوگوں کو اس سے دور رکھے۔ ایسے لوگوں کو جو دوسروں کو اس سے دور رکھیں گے ہم بدترین عذاب دیں گے کیونکہ وہی بہکانے والے لوگ ہیں{۱۵۷}
تو کیا اب بھی یہ منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود تمہارا پالنے والا (ﷲ) آئے یا تمہارے پالنے والے(ﷲ) کی نشانیاں (معجزے) آئیں۔ (یاد رکھو) جس دن تمہارے پالنے والے(ﷲ) کی نشانیاں آجائیں گی اُن کے لئے جو پہلے ہی ایمان نہیں لائے ہوں گے اب ایمان لانا فائدہ مند نہیں ہوگا۔ اس ایمان میں کوئی خوبی نہیں ہوگی۔ ان سے کہو انتظار کریں ہم بھی انتظار کرتے ہیں{۱۵۸}
جو لوگ دین میں فرقے بنائیں گے اور کسی (شیعا) فرقے کے (پیرو) بن جائیں گے اُن سے تمہارا کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ اُن کا معاملہ ﷲ کے سپرد ہوگا اور وہی بتائے گا کہ وہ کیا کرتے رہے{۱۵۹}
جو ایک نیکی لے کر آئے گا اسے ویسی دس نیکیاں ملیں گی۔ اور جو گناہ لے کر آئے گا اُسے ویسی ہی سزا ملے گی اور اُن پر ظلم نہیں ہوگا{۱۶۰}
ان سے کہو یقینا مجھے میرے پالنے والے(ﷲ) نے سیدھی راہ دکھا دی ہے یعنی ہمیشہ قائم رہنے والے مذہب۔ اس مذہب کی (جس سے) ابراہیم ایک ﷲ کے ہوگئے تھے۔ اور وہ شرک کرنے والے نہیں تھے{۱۶۱}
اور کہو کہ میری عبادت، میری بندگی، میری زندگی اور میری موت سب ﷲ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے{۱۶۲}
جس کا کوئی شریک (بیٹا، وسیلہ) نہیں ہے۔ اور مجھ کو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا مسلم (ان دیکھے مالک کے آگے سرجھکانے والا) بن جائوں{۱۶۳}
کہو کہ میں ﷲ کے سوا کسی کو اپنا پالنے والا نہیں مانتا اور وہی تمام مخلوق کا پالنے والا ہے۔ جو جیسا کرتا ہے ویسا بدلہ پاتا ہے اور کوئی کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ تم سب کو اپنے پالنے والے(ﷲ) کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ پھر وہ بتائے گا تمہارے اختلافات کیا تھے{۱۶۴}
اس نے تم کو زمین پر خلیفہ (بعد کو آنے والی مخلوق) بنایا ہے اور تم میں بعض کے بعض پر درجات بلند کئے ہیں تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اُس میں تمہیں آزمائے۔ بلاشبہ تمہارا پالنے والا(ﷲ) جلد سزا دینے والا ہے اور وہ معاف کرنے والا اور رحم والا بھی ہے{۱۶۵}

الأعراف
Surah 7

ﷲ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

الف۔ لام۔ میم۔ صاد{۱}
یہ کتاب (سورت) اس لئے اتاری جاتی ہے کہ تم دل برداشتہ نہیں ہو اور لوگوں کو چونکاتے اور سمجھاتے ہو{۲}
کہ اے لوگو! اُن احکام کی پیروی کرو جو تمہارے پالنے والے(ﷲ) کی طرف سے اُترتے ہیں اور اُس کے سوا کسی اولیاء (رفیق) کی پیروی نہیں کرو۔ مگر تم میں نصیحت ماننے والے کم ہیں{۳}
ہم نے کتنی بستیاں تباہ کر دیں۔ ہمارا عذاب آتا تو وہ سوتے یا باتیں کرتے ہوتے{۴}
اور جب عذاب آجاتا تو چلانے لگتے۔ اے مالک بیشک ہم ظلم (نافرمانی) کرتے رہے{۵}
تو ہم اُن سے بھی پوچھیں گے جن کے پاس رسول بھیجے تھے اور اُن سے بھی جن کو رسول (بنا کر) بھیجا تھا{۶}
پھر ہم اپنے علم (ریکارڈ) سے اُن کے اعمال سنوائیں گے کیونکہ ہم غائب نہیں تھے{۷}
اُس دن اعمال کا تولا جانا سچ ہے پس جن کا وزن بھاری ہوگا وہ فلاح پائیں گے{۸}
اور جن کے اعمال ہلکے ہوں گے وہ اپنی جانوں کو نقصان میں پائیں گے وہ ہماری باتوں (حدیثوں) کے ساتھ ظلم (انکار) کرتے تھے{۹}
اور ہم نے تم کو زمین پر آباد کیا ہے اور ہم ہی تمہارے لئے اسبابِ معاش فراہم کرتے ہیں مگر تم میں کم ہی ہمارا احسان مانتے ہیں{۱۰}
حالانکہ ہم نے ہی تم کو بنایا۔ تمہاری صورتیں بنائیں اور فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے کہ وہ سجدہ کرنے والا نہیں تھا{۱۱}
ہم نے پوچھا تجھے سجدہ کرنے سے کس امر نے روکا۔ بولا کہ میں اس سے بہتر ہوں۔ مجھے تونے آگ سے بنایا ہے اور اسے مٹی سے{۱۲}
ہم نے کہا یہاں سے دور ہو۔ تجھے اس لئے نہیں بنایا تھا کہ غرور کرے۔ یہاں سے نکل جا تو حقیر مخلوق رہے گا{۱۳}
بولا مجھے ان کے دوبارہ اُٹھنے کے دن تک مہلت دے{۱۴}
ہم نے فرمایا ہاں تجھے مہلت دی گئی{۱۵}
بولا تو نے مجھے دھتکار دیا ہے اب میں تیری ہدایت کے سیدھے راستے پر بیٹھوں گا{۱۶}
اور ان کو آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں سے اُس راہ سے روکوں گا۔ پھر تو ان میں سے اکثر کو احسان ماننے والا نہیں پائے گا{۱۷}
ہم نے کہا یہاں سے نکل جا تو ہمیشہ ذلیل و خوار رہے گا اور جو لوگ تیرا کہا مان لیں گے میں اُن کو بھی تیرے ساتھ جہنم میں جھونک دوں گا{۱۸}
پھر ہم نے آدم سے کہا اپنی بیوی کے ساتھ اس باغ میں رہو اور جہاں سے جی چاہے کھائو پیو مگر اس درخت کے قریب نہیں جانا ورنہ ظالموں (نافرمانوں) میں شامل ہوجائو گے{۱۹}
پھر سرکشی، نافرمانی کرنے والے نے ان کو بہکا دیا۔ اُن کو وہ چیزیں دکھا دیں جو اُن سے چھپائی گئی تھیں۔ اور کہا تمہارے پالنے والے(ﷲ) نے اس درخت سے اس لئے روکا ہے کہ ایسا نہیں ہو تم فرشتے بن جائو یا زندۂ جاوید ہوجائو{۲۰}
اور قسمیں کھائیں کہ میں تمہارا ہمدرد ہوں{۲۱}
اس طرح نافرمانی پر مائل کر دیا۔ پھر جیسے ہی اُس درخت سے چکھا اُن کی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں اور وہ باغ کے پتے چھپکا کر چھپانے لگے۔ تو اُن کے پالنے والے (ﷲ) نے آواز دی کیا میں نے تم کو اُس شجر سے روکا نہیں تھا اور تم سے کہا تھا کہ سرکشی، نافرمانی کرنے والا تمہارا دشمن ہے{۲۲}
بولے اے مالک! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اگر تو معاف نہیں کرے گا اور رحم نہیں کھائے گا تو ہم نقصان میں پڑ جائیں گے{۲۳}
فرمایا جائو تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہوا کریں گے اور تمہیں زمین پر ٹھہرنا (بسنا) ہے اور چند دن فائدے اٹھانے ہیں (زندگی گزارنی ہے){۲۴}
اور فرمایا کہ تم اسی میں جیو گے۔ اسی میں مرو گے اور اسی سے ایک دن پھر اُٹھائے جائو گے{۲۵}
اے اولادِ آدم! ہم نے تمہارے لئے لباس اتارا ہے (لازمی کیا ہے) جو ستر چھپائے اور زینت دے۔ یوں تو پرہیزگاری کا (سادہ) لباس سب سے اچھا ہے۔ یہ ﷲ کی باتیں (حدیثیں) ہیں تاکہ تم نصیحت حاصل کرو{۲۶}
اور اے اولادِ آدم! دیکھو تمہیں سرکشی، نافرمانی کرنے والا بہکا نہ دے جس نے تمہارے باپ کو جنت سے نکلوایا اور ان کا لباس چھنوایا جو ستر چھپاتا تھا۔ وہ اور اس کے کارندے تمہیں ایسی جگہوں سے دیکھتے ہیں جہاں تم نہیں دیکھ سکتے۔بیشک جو ایمان نہیں لاتے وہ سرکشی، نافرمانی کرنے والے کے دوست (اولیائ) بن جاتے ہیں{۲۷}
یہ لوگ کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادا کو یہی کرتے دیکھا ہے اور ﷲ بھی یہی حکم دیتا ہے۔ کہو کہ ﷲ بے حیائی کے کاموں کا حکم نہیں دیتا۔ تم ﷲ کے بارے میں ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جو جانتے نہیں{۲۸}
کہو میرا مالک انصاف کا حکم دیتا ہے پس سجدوں میں سرجھکائو تو اُس (ﷲ) کے آگے اور دعا کرو شرک (کسی واسطے) سے خالص ہو کر کہ وہی حساب لینے والا ہے۔ جس طرح اُس نے پہلے بنایا تھا اُسی طرح پھر اُٹھائے گا{۲۹}
تو کچھ لوگ ہدایت قبول کرلیتے ہیں اور کچھ پر گمراہی مقدر ہوجاتی ہے تو وہ ﷲ کو چھوڑ کر سرکشی، نافرمانی کرنے والوں کو اپنا اولیاء (رفیق) بنالیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ بڑے ہدایت یاب ہیں{۳۰}
اے لوگو! جب مسجدوں میں جائو تو اپنے اچھے کپڑے پہن لیا کرو اور کھائو پیو مگر اسراف (فضول خرچی) نہیں کرو اور جان لو کہ ﷲ فضول خرچوں کو پسند نہیں کرتا{۳۱}
ان سے پوچھو اچھی پوشاکیں جو ﷲ نے اپنے بندوں کو بنانا سکھائیں اور پاکیزہ کھانے کس نے حرام کئے ہیں۔ کہو یہ چیزیں تو اہلِ ایمان کے لئے دنیا کی زندگی کا انعام ہیں اور قیامت کے دن بھی انہیں کو ملیں گی۔ ﷲ علم والوں کو اپنی باتیں اسی طرح سمجھاتا ہے{۳۲}
اور کہو بے شک میرے پالنے والے (ﷲ) نے حرام فرمایا ہے بے حیائی کے کاموں کو وہ پوشیدہ ہوں یا ظاہر۔ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کو اور ﷲ کے شریک (مورتیاں، وسیلہ) بنانے کو جن کی کوئی سند نہیں اور یہ بھی کہ بے جانے بوجھے ﷲ سے کچھ منسوب کیا جائے{۳۳}
اور ہر اُمت (قوم) کا وقت (عروج و زوال) معین ہے تو جب اُس کا وقت آجاتا ہے تو گھڑی بھر کی دیر سویر نہیں ہوتی{۳۴}
اے اولادِ آدم! ہم اپنے رسولوں کو جو حکم دیتے ہیں وہ تم کو پہنچا دیتے ہیں۔ پس جو گناہوں سے بچے گا اور سدھر جائے گا وہ خوف اور غم سے امن میں رہے گا{۳۵}
اور جو لوگ ہمارے کلام (حدیثوں) کو جھٹلائیں گے اور غرور سے منہ پھیر لیں گے وہ جہنم میں جائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے{۳۶}
اور اس سے زیادہ ظلم کیا ہوگا کہ کوئی ﷲ سے جھوٹ منسوب کرے یا اس کے کلام کو جھٹلائے۔ خیر اُن کو بھی اُن کے نصیب کا لکھا ملتا رہے گا۔ مگر جب ہمارے فرشتے اُن کی جانیں نکالنے آئیں گے اور پوچھیں گے کہ جن کو تم ﷲ کے ساتھ پوجتے تھے وہ کہاں ہیں۔ اُس وقت کہیں گے اُنہی نے ہم کو گمراہ کیا تھا اور اپنی جانوں کی قسم کھائیں گے کہ بلاشبہ وہ نافرمان (کافر) تھے{۳۷}
کہا جائے گا تو جائو جہنم میں ان کے ساتھ جو تم سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے اُس میں پڑیں ہیں۔ وہاں جو قوم جائے گی وہ دوسروں پر لعنت بھیجے گی یہاں تک سب جمع ہوجائیں گے تو آخر میں آنے والے اگلوں کے بارے میں کہیں گے یارب یہی ہیں جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا تو ان کو آگ کا دوگنا عذاب دے۔ فرمائے گا تم سب کو دوگنا عذاب دیا جائے گا۔ تم یہ نہیں جانتے تھے{۳۸}
تب اگلے لوگ پچھلوں سے کہیں گے کہ ایسی بات کہہ کر بھی تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اب چکھو دوہرا عذاب یہی تمہارا انعام ہے{۳۹}
جو لوگ ہمارے باتوں (حدیثوں) کو جھٹلاتے ہیں اُس سے منہ پھیرتے ہیں۔ اُن کے لئے آسمانوں کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔ وہ جنت میں نہیں جاسکیں گے۔ جب تک سوئی کے ناکے سے اونٹ نہیں گزر جائے کہ گنہگاروں کی یہی سزا ہے{۴۰}
اُن کے لئے آگ کا بچھونا ہوگا اور آگ کا اوڑھنا۔ ظالموں کا یہی انعام ہے{۴۱}
لیکن جو ایمان لائیں گے اور اچھے کام کریں گے تو ﷲ کسی پر اُس کی برداشت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالتا۔ یہی لوگ جنتی ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے{۴۲}
ہم اُن کے دلوں سے کینہ کپٹ نکال دیں گے۔ اُن کے قدموں تلے دریا بہتے ہوں گے۔ وہ کہیں گے ﷲ کا احسان ہے جس نے ہم کو یہاں بھیجا۔ اگر ﷲ ہم کو رستہ نہیں دکھاتا تو ہم ہدایت نہیں پاتے۔ یقینا اس کے رسول سچائیاں لے کر آئے تھے۔ وہ اسی جنت کی خوشخبری دیتے تھے جو تم کو تمہارے اچھے اعمال کے صلے میں ملی ہے{۴۳}
وہاں جنت میں رہنے والے دوزخ والوں سے کہیں گے ہم نے اپنے پالنے والے (ﷲ) کا وعدہ جو ہم سے کیا گیا تھا سچ پایا۔ کیا تم نے بھی اپنے پالنے والے (ﷲ) کا وعدہ سچا پایا۔ کہیں گے ہاں۔ تو ایک پکارنے والا اُن کے درمیان پکارے گا ظالموں پر ﷲ کی لعنت پڑ گئی{۴۴}
یعنی اُن پر جو ﷲ کے راستے (دین) سے روکتے تھے، اُس میں نکتہ چینیاں کرتے تھے اور حساب آخرت کا انکار کرتے تھے{۴۵}
پھر اُن کے درمیان پردہ حائل ہوجائے گا اور اعراف (انتظار گاہ) میں کچھ لوگ ہوں گے جو سب کو دیکھتے ہوں گے۔ وہ اہل جنت سے کہیں گے (سلامٌ علیکمٌ) سلام علیکم (تم پر سلامتی ہو)۔ وہ وہاں داخل نہیں ہوسکیں گے مگر امید رکھیں گے{۴۶}
یہ لوگ اہلِ جہنم کی طرف دیکھیں گے تو کہیں گے اے پالنے والے (ﷲ) ہمیں ان ظالموں میں شامل نہیں کرنا{۴۷}
اور وہ اعراف (انتظار گاہ) والے اپنے جانے پہچانے چہروں سے پکار کر کہیں گے۔ افسوس تمہارا مال و اسباب کام نہیں آیا جس پر تم کو غرور تھا{۴۸}
کیا یہ وہی لوگ نہیں ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھاتے تھے کہ ﷲ اُن کو اپنی رحمت میں نہیں لے گا۔ اب وہ جنت میں ہیں اور ان سے کہا جا رہا ہے یہاں کوئی ڈر نہیں، نہ غمگین ہونے کی نوبت آئے گی{۴۹}
اور جہنم کے لوگ اہلِ جنت کو پکاریں گے کہ ہم کو تھوڑا سا پانی بھیج دو یا وہ کھانا جو تم کو ﷲ دیتا ہے۔ تو وہ کہیں گے کہ یہ کھانا اور پانی ﷲ نے نافرمانوں پر حرام کر دیا ہے{۵۰}
جن لوگوں نے دین کو کھیل تماشہ بنالیا تھا اور دنیا کی زندگی پر مغرور تھے آج کے دن ہم نے اُن کو بھلا دیا ہے جس طرح وہ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے تھے اور ہماری باتوں (حدیثوں) کا انکار کرتے تھے{۵۱}
ہم نے ان کے پاس کتاب بھیجی ہے جو علم کی باریکیاں سکھاتی ہے اور اہلِ ایمان کے لئے ہدایت و رحمت ہے{۵۲}
تو کیا اب اس کی تاویل (سچ ہونے) کا انتظار ہے مگر جب تاویل سامنے آئے گی تو یہی لوگ جو اسے بھولے ہوئے تھے کہیں گے بیشک ﷲ کے رسول سچ ہی لے کر آئے تھے۔ آج ہماری شفاعت کرنے والا کوئی نہیں۔ کاش ہم کو پھر دنیا میں بھیجا جائے تو وہ کام (شرک و نافرمانی) نہیں کریں گے جو پہلے کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی جانوں کو نقصان میں ڈالا تھا اور جو باتیں وہ گھڑتے تھے سب اُلٹ گئیں{۵۳}
جان لو کہ تمہارا پالنے والا صرف ﷲ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا ہے اور عرش پر قائم ہوا۔ وہ رات کو دن پر چڑھا دیتا ہے وہ اُس کو چھپالیتی ہے اور سورج اور چاند اور ستارے سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ ہاں وہی بنانے والا ہے اور اسی کا حکم چلتا ہے۔ وہی برکتیں دینے والا ہے۔ ﷲ تمام جہانوں کو پالنے والا ہے{۵۴}

الأنفال
Surah 8

ﷲ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

تم سے انفال کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہو انفال (تاوانِ جنگ) ﷲ اور رسول کے ہیں پس ﷲ سے ڈرو اور آپس میں صلح و صفائی رکھو۔ ﷲ اور اس کے رسول کا کہا مانو اگر صاحبِ ایمان ہو{۱}
اہل ایمان وہ ہیں جو ﷲ کو یاد کرتے ہیں تو اُن کے دل لرز جاتے ہیں اور جب اُن کو ﷲ کی باتیں (حدیثیں) سنائی جاتی ہیں تو اُن کا یقین بڑھتا ہے اور وہ صرف اپنے پالنے والے(ﷲ) پر بھروسہ کرتے ہیں{۲}
وہ جو صلات قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں{۳}
وہی سچے مومن (ایمان والے) ہیں۔ اُن کے لئے اُن کے پالنے والے(ﷲ) کے پاس مراتب مقرر ہیں۔ اور اُن کے لئے بخشش ہے اور عزت کی روزی ہے{۴}
اور جب تمہارے پالنے والے(ﷲ) نے حق کے لئے گھروں سے (لڑنے) کے لئے نکالا۔ تو بعض اہلِ ایمان کو پس و پیش تھا{۵}
وہ تم سے حق (جہاد) کے معاملے میں الجھنے لگے کہ اُن کو پہلے سے کیوں نہیں بتایا گیا کہ وہ موت کے منہ میں جا رہے ہیں اور اسے دیکھیں گے{۶}
بے شک ﷲ نے وعدہ کیا تھا کہ دو قافلوں میں سے ایک تم کو ملے گا اور تم چاہتے تھے کہ وہ (تجارتی قافلہ) ملے جو بے شان و شوکت ہو مگر ﷲ چاہتا تھا کہ اپنے کلام (بات) کو تم پر سچ ثابت کرے اور نافرمانوں کا زور توڑ دے (فوجی قافلے سے لڑنا پڑا){۷}
تاکہ سچ سچ ہوجائے اور جھوٹ جھوٹ۔ خواہ مجرموں کو اس سے دُکھ ہی پہنچے{۸}
پھر تم نے اپنے پالنے والے(ﷲ) سے مدد چاہی تو وہ قبول ہوئی۔ ہم نے تم کو ایک ہزار فرشتوں سے یکے بعد دیگر مدد دی{۹}
اور ﷲ نے اُسے ایک خوشخبری بنا دی تاکہ تمہارے دل مطمئن ہوجائیں ورنہ مدد تو صرف ﷲ کی ہے اور وہی عزت و حکمت کا مالک ہے{۱۰}
پھر تم پر نیند کا غلبہ ہوا تو ﷲ نے احسان کیا اور آسمان سے بارش برسا دی تاکہ تم کو دھو کر پاک کر دے اور سرکشی، نافرمانی کرنے کے خیالات دور ہوجائیں اور تمہارے دلوں کو تقویت دے اور تمہارے پائوں جما دے{۱۱}
ﷲ نے فرشتوں کو حکم دیا (کہ جا کر کہو) ہم تمہارے ساتھ ہیں (تاکہ) اہلِ ایمان ثابت قدم ہوجائیں۔ اور میںکافروں (نافرمانوں) کے دلوں میں اُن کا رعب بٹھادوں گا۔ تب وہ اُن کی گردنیں اڑائیں اور ان کے جوڑ بند توڑ دیں{۱۲}
یہ اس لئے کہ وہ ﷲ اور رسول کے دشمن ہیں اور جو ﷲ اور رسول کا دشمن ہوگا ﷲ اسے سخت عذاب دے گا{۱۳}
کہ یہ یہاں چکھو۔ اور یاد رکھو نافرمانوں کے لئے آگ کا عذاب بھی ہے{۱۴}
اے ایمان لانے والو! جب نافرمانوں سے مقابلہ ہو تو ہرگز پیٹھ نہیں دِکھانا{۱۵}
آج کے دن جو پیٹھ پھیر کر بھاگے گا سوائے اس کے جو لڑائی کی چال کے طور پر کنارے ہوجائے یا اپنے لوگوں سے ملنے پیچھے ہٹے وہ ﷲ کے غضب میں آجائے گا۔ اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا ور وہ بری جگہ ہے{۱۶}
اور اے محمد (ﷺ) تم نے اُن کو قتل نہیں کیا بلکہ ﷲ نے ان کو قتل کیا ہے اور تم جو پتھر پھینک رہے تھے وہ بھی ﷲ پھینک رہا تھا۔ غرض یہ تھی کہ مصیبت کے وقت مومنوں کی ہمت بڑھے۔ اور ﷲ سنتا اور دیکھتا ہے{۱۷}
ﷲ اسی طرح نافرمانوں کی تدبیریں ناکارہ کر دیتا ہے{۱۸}
تم فتح چاہتے تھے تو لو فتح حاصل ہوگئی اب جنگ بند کر دو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے ہاں وہ حملہ کریں تو تم بھی لڑو۔ ﷲ اہلِ ایمان کے ساتھ ہوتا ہے{۱۹}
پس اے ایمان لانے والو! ﷲ اور اس کے رسول کا کہا مانو اُن سے منہ نہیں پھیرو یہ سن رکھو{۲۰}
اور ویسے نہیں بن جانا جو کہتے تھے ہم نے سن لیا مگر (یہود) سنتے نہیں تھے {۲۱}
بلاشبہ بدترین مخلوق وہ ہیں جو بہرے گونگے ہوں اور سمجھتے بھی نہ ہوں{۲۲}
ﷲ ان میں بھلائی دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق دیتا۔ اور سننے کی صلاحیت دیتا بھی تو وہ ماننے والے کہاں تھے{۲۳}
اے ایمان لانے والو! ﷲ اور رسول کا حکم مانو وہ تم کو ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جس میں زندگی (کی ضمانت) ہے۔ اور جان لو کہ ﷲ انسان کے ارادے اور دل کے درمیان موجود رہتا ہے اور انہیں اُس کے سامنے حاضر ہونا ہے{۲۴}
اور اس فتنے سے ڈرتے رہو جو تم میں سے صرف ظالموں کے لئے مخصوص نہیں ہوگا۔ اور جان لو کہ ﷲ سخت بدلہ لینے والا بھی ہے{۲۵}
اور وہ وقت یاد کرو جب تم دنیا میں کمزور تھے اور تعداد میں کم تھے اور ڈرتے تھے کہ لوگ پکڑ کر نہیں لے جائیں۔ پھر اس نے تمہیں (مدینہ میں) جگہ دی، تمہارے ہاتھ مضبوط کر دئیے اپنی نصرت سے (انصار) اور پاک چیزیں کھانے کو دیں تاکہ تم احسان مانو{۲۶}
اے ایمان لانے والو! ﷲ اور رسول کی امانتوں میں خیانت نہیں کرنا،نہ عام امانتوں میں کبھی خیانت کرنا یہ تو تم جانتے ہی ہو{۲۷}
اور یاد رکھو کہ تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہارے لئے آزمائشیں ہیں اور ﷲ کے پاس بہترین بدلہ ہے{۲۸}
اے ایمان لانے والو! ﷲ سے ڈرتے رہو وہ تمہیں فرقان (حق کو باطل سے الگ کرنے والا) بنا دے گا۔ تمہاری بھول چوک معاف کر دے گا اور تمہیں بخش دے گا۔ ﷲ بڑا فضل کرنے والا ہے{۲۹}
اور یاد کرو جب نافرمان تمہارے خلاف سازشیں کر رہے تھے اور منصوبے بنا رہے تھے کہ قید کر دیں یا قتل کر ڈالیں یا شہر سے نکال دیں تو ﷲ نے بھی منصوبہ بنایا اور ﷲ اچھے منصوبے بناتا ہے{۳۰}
اور جب نافرمانوں کو ہماری باتیں (یعنی حدیثیں) سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ہم نے سن لیا ہے اور چاہیں تو ہم بھی ایسی باتیں بنالیں۔ یہ کیا ہیں وہی اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں{۳۱}
(اور نافرمان) کہتے ہیں یارب یہ سچ ہے اور تیری طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر گرا کر دِکھا اور اپنا دُکھ دینے والا عذاب بھیج دے{۳۲}
مگر ﷲ ایسا عذاب کیسے بھیج سکتا ہے جب تک (اے نبی) تم اِن کے درمیان موجود ہو۔ ﷲ ایسا نہیں کہ ایسی جگہ عذاب بھیج دے جہاں لوگ مغفرت کی دعائیں مانگتے ہوں{۳۳}
البتہ اُن لوگوں پر عذاب بھیج سکتا ہے جو تمہیں مسجد حرم میں جانے سے روکتے ہیں حالانکہ وہ اُس کے جائز متولی نہیں ہیں۔ اُس کے متولی تو وہ ہیں جو گناہوں سے بچتے ہیں لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے{۳۴}
اُن مشرکوں (ﷲ کا بیٹا، وسیلہ ٹھہرانے والوں) کی صلات (عبادت) کیا ہے یہی کہ ادب کے مکان (خانہ کعبہ) کے پاس سیٹیاں بجاتے ہیں اور تالیاں پیٹتے ہیں تو اب اپنی نافرمانی کا مزہ چکھیں{۳۵}
نافرمان اپنا مال لوگوں کو سیدھی راہ سے روکنے پر خرچ کرتے ہیں تو وہ ابھی اور خرچ کریں گے پھر حسرت کریں گے جب مغلوب ہوں گے۔ اور نافرمان تو جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے{۳۶}
تاکہ ﷲ پاک ناپاک سے جدا کر دے اور ناپاک (کافروں) کو تلے اوپر ڈھیر بنا کر جہنم میں جھونک دے کہ یہی نقصان اٹھانے والے ہیں{۳۷}
نافرمانوں سے کہہ دو جو ہوا سو ہوا اب باز آجائیں تو ﷲ ان کو بھی معاف کر دے گا مگر پھر ایسی حرکت کی تو اگلوں جیسا حشر ہوگا{۳۸}
اور تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہیں رہے اور دین صرف ﷲ کا نافذ ہوجائے۔ یہ باز آجائیں تو ﷲ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے{۳۹}
اور نہیں مانیں تو جان لو ﷲ تمہارا مولیٰ ہے اور وہی اچھا مولیٰ اور اچھا مددگار ہے{۴۰}
اور یاد رکھو جو کچھ مالِ غنیمت تم کو ملا ہے اُس میں سے پانچواں حصہ ﷲ اور اس کے رسول کا ہے وہ ان کے رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے اگر تم ایمان لائے ہو اور ﷲ پر اور اس کے رسول پر اور اُس کتاب (سورۃ) پر جو ہم نے اپنے بندے (محمدؐ) پر فرقان (حق و باطل کی جنگ) کے دن اتاری جب دونوں جماعتیں لڑ رہی تھیں۔ اور ﷲ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے{۴۱}
جب تم پہاڑی سے قریب تھے اور وہ دور نشیبی علاقے میں اتر پڑے اگر تم جنگ کے بارے میں خود منصوبہ بناتے تو نقشہ بدل سکتا تھا۔ مگر ﷲ اپنا منصوبہ پورا کرنا چاہتا تھا تاکہ جو مرے سب کے سامنے مرے اور جو بچے سب کے سامنے بچے۔ اور ﷲ یقینا سنتا اور جانتا ہے{۴۲}
ﷲ نے تمہیں غنودگی میں اُن کی تعداد کم دِکھائی اگر وہ زیادہ دِکھا دیتا تو تم جی چھوڑ دیتے اور آپس میں جھگڑنے لگتے لیکن ﷲ نے تم کو بچالیا۔ بیشک ﷲ دلوں کی باتیں جانتا ہے{۴۳}
جب تم ایک دوسرے کے مقابل آئے تو تمہاری نظروں میں ان کو کم دِکھایا اور تم کو ان کی نظروں میں دھاک بٹھانے والا بنا دیا۔ ﷲ اپنے کام اسی طرح کروا لیتا ہے اور سب کام اس کے حکم سے ہوتے ہیں{۴۴}
اے ایمان لانے والو! جب تم کسی آزمائش میں ڈالے جائو تو ثابت قدم رہو اور ﷲ کو خوب یاد کرتے رہو تاکہ فلاح پائو{۴۵}
ﷲ اور اس کے رسول کا کہا مانو اور آپس میں نہ جھگڑو ورنہ جی چھوڑ دو گے اور تمہاری دھاک جاتی رہے گی اور مقابلہ ثابت قدمی سے کرتے رہو۔ ﷲ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے{۴۶}
اور تم اُن جیسے نہیں بن جانا جو اپنے گھروں سے اِتراتے ہوئے اور لوگوں پر رعب جماتے ہوئے ﷲ کا راستہ روکنے نکل پڑے۔ جو کچھ وہ کر رہے تھے ﷲ جانتا تھا{۴۷}
سرکشی، نافرمانی کرنے والے نے اُن کو بتایا تھا کہ یہ اچھا کام ہے اور یقین دلایا تھا کہ آج تم پر کوئی غالب نہیں آئے گا میں تمہارے ساتھ ہوں لیکن جب دیکھا کہ دونوں گروہ مقابلے میں آگئے ہیں تو چپکے سے کھسک گیا اور بولا میرا تم سے کیا واسطہ۔ میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور میں ﷲ سے ڈرتا ہوں ﷲ سخت بدلہ لینے والا ہے{۴۸}
پھر منافق (کمزور ایمان والے مسلمان) اور وہ جن کے دلوں میں مرض ہے کہنے لگے کہ ان کو ان کے دین نے مغرور کر دیا ہے۔ (اور نہیں جانتے کہ) جو ﷲ پر بھروسہ کرتا ہے ﷲ اُسے عزت و حکمت عطا کرتا ہے{۴۹}
اور تم ان نافرمانوں کو دیکھتے جب فرشتے اُن کو وفات دے رہے تھے۔ ان کے منہ اور پیٹھ پر مارتے تھے کہ چکھو جلنے کا مزہ{۵۰}
یہ اُس کا صلہ ہے جو تم کیا کرتے تھے ورنہ ﷲ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا{۵۱}
اور آلِ فرعون اور اُن سے پہلے کی قوموں کے ساتھ کیا ہوا انہوں نے ﷲ کی نشانیوں کا انکار کیا تو ﷲ نے ان کے گناہوں کے بدلے پکڑ لیا۔ بلاشبہ ﷲ بے حد قوی ہے اور وہ سخت عذاب دیتا ہے{۵۲}
ﷲ اپنی نعمتیں جو کسی قوم کو دیتا ہے نہیں روکتا جب تک اُن کی نیتیں نہیں بدلتیں۔ اور ﷲ بڑا سننے اور جاننے والا ہے{۵۳}
افسوس آلِ فرعون اور ان سے پہلی قوموں پر۔ انہوں نے اپنے پالنے والے(ﷲ) کی باتوں (حدیثوں) کو جھٹلایا تو ان کے گناہوں کی وجہ سے ہم نے ان کو ہلاک کر دیا اور آلِ فرعون کو ڈبا دیا۔ وہ سب ظالم تھے{۵۴}
ﷲ کے نزدیک بدترین جانور وہ لوگ ہیں جو نافرمانی کرتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے{۵۵}
اور جن لوگوں سے تم نے معاہدہ کیا تھا وہ اپنا عہد بار بار توڑتے ہیں اور (ﷲ سے) نہیں ڈرتے{۵۶}
اگر اُن کو میدان جنگ میں پائو تو ایسی سزا دو کہ دشمن کی حمایت سے توبہ کرلیں{۵۷}
اور اگر کسی قوم سے دغا کا خوف ہو تو اُن کا عہد اُن کو لوٹا دو برابری کے اصول پر۔ بلاشبہ ﷲ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا{۵۸}
اور نافرمان لوگ یہ نہیں سمجھیں کہ وہ بچ جائیں گے اُن کو مطیع ہونا پڑے گا{۵۹}
جہاں تک ہوسکے اُن سے مقابلے کیلئے اپنی تیاری افرادی قوت اور سواریوں سے کرتے رہو۔ وہ ﷲ کے دشمن ہیں اور تمہارے بھی دشمن ہیں۔ اور اُن جیسے دوسروں کے لئے بھی جن کو تم نہیں جانتے ﷲ اُن کو جانتا ہے۔ اور تم جو کچھ ﷲ کی راہ میں خرچ کرو گے وہ تم کو واپس مل جائے گا اور تم پر ظلم نہیں ہوگا{۶۰}
ہاں اگر وہ صلح کی طرف ہاتھ بڑھائیں تو اُن سے صلح کر لو اور ﷲ پر بھروسہ رکھو وہ بڑا سننے اور جاننے والا ہے{۶۱}
اگر وہ تم کو فریب دینا چاہیں گے تو تمہارے لئے ﷲ کافی ہے وہی تم کو کامیابی دے گا۔ اور اپنی اور مومنوں کی مدد سے تمہارے ہاتھ مضبوط کر دے گا{۶۲}
ہم نے مومنوں کے دلوں میں تمہاری الفت ڈال دی ہے تم دنیا بھر کی دولت خرچ کر کے یہ الفت ڈال نہیں سکتے صرف ﷲ ہی الفت ڈال سکتا ہے وہی عزت و حکمت کا مالک ہے{۶۳}
اے نبی تمہارے لئے ﷲ کافی ہے اور اُن مومنوں کے لئے بھی جو تمہارے فرمانبردار ہیں{۶۴}
اے نبی اہلِ ایمان کو (حق کی خاطر)لڑنے کا شوق دلائو۔ اگر تم میں سے بیس ثابت قدم رہے تو دو سو دشمنوں پر بھاری رہیں گے اور اگر سو ہوں گے تو ہزار نافرمانوں پر غالب رہیں گے یہ اس لئے کہ نافرمانوں کی قوم ایسی ہے جو سمجھ نہیں رکھتے{۶۵}
البتہ آئندہ کے لئے ﷲ اس میں کمی کر دے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ تم میں کچھ کمزوری آجائے گی۔ پھر بھی تمہارے سو اہلِ ایمان دو سو نافرمانوں پر بھاری ہوں گے اور ہزار ہوئے تو ﷲ کے حکم سے دو ہزار پر غالب آئیں گے۔ اور ﷲ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے{۶۶}
اور رسول کے لئے روا نہیں ہے کہ وہ قیدی بنائے جب تک ملک میں اقتدار مستحکم نہیں ہو۔ تم لوگ دنیاوی فائدے چاہتے ہو لیکن ﷲ آخرت کی بھلائی دینا چاہتا ہے اور ﷲ ہی عزت و حکمت کا مالک ہے{۶۷}
اگر ﷲ نے پہلے سے لکھ دیا ہوتا کہ تم اس حرص میں پھنس جائو گے تو تم پر بڑا عذاب آجاتا{۶۸}
پس جو کچھ فدیہ (تاوان) مل گیا کھا لو۔ حلال اور پاک سمجھ کر اور ﷲ سے ڈرتے رہو۔ بے شک ﷲ بڑا بخشنے والا ہے{۶۹}
اے نبی اُن سے کہو جو تمہارے پاس قیدی بنے ہیں کہ ﷲ جانتا ہے تمہارے دلوں میں کیا ہے۔ اگر بھلائی ہے تو بھلائی ملے گی۔ جو مال تم سے لیا گیا ہے اُس کے بدلے ﷲ تمہیں بہتر دے گا اور بخش دے گا۔ ﷲ بڑا بخشنے والا ہے{۷۰}
اور اگر خیانت کا ارادہ رکھتے ہیں تو وہ ﷲ سے بھی خیانت کرچکے ہیں اسی لئے اُن کو تمہارے قبضے میں دیا گیا ہے۔ اور ﷲ بڑا جاننے والا اور صاحبِ حکمت ہے{۷۱}
جو لوگ ایمان لائے، ہجرت کی اور ﷲ کی راہ میں کوشش کرتے رہے اپنی جانوں اور مالوں کے ساتھ اور جنہوں نے ان کو پناہ دی، اُن کی مدد کی، وہ سب ایک دوسرے کے اولیاء (مددگار) ہیں۔ اور جو اہلِ ایمان ہجرت نہیں کرسکے ان کے ساتھ تمہیں ہمدردی کی ضرورت نہیں۔ اُن کو چاہیے کہ وہ بھی ہجرت کر کے چلے آئیں اور تبلیغِ دین میں تمہاری مدد کریں تو تم بھی اُن کی مدد کرو مگر اُن لوگوں کے مقابلے میں جن سے تمہارا معاہدہ ہے مدد کی ضرورت نہیں۔ تم جو کچھ کرتے ہو ﷲ دیکھتا ہے{۷۲}
اور نافرمان (کافر) آپس میں ایک دوسرے کے اولیاء (حمایتی) ہیں پس اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو دنیا میں فتنہ و فساد پھیل جائے گا{۷۳}
اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، ہجرت کی ہے اور ﷲ کی راہ میں لڑتے رہے ہیں اور جنہوں نے ان کو پناہ دی ہے اور مدد کی ہے وہ سب سچے مومن ہیں۔ ان کے لئے مغفرت اور عزت کی روزی ہے{۷۴}
جو لوگ بعد کو ایمان لائیں گے اور ہجرت کریں گے اور تمہارے ساتھ مل کر (دین کیلئے)کوشش کریں گے وہ بھی تمہارے (صحابہ) ہوجائیں گے مگر ہاں رشتے داروں میں بعض کو بعض پر فوقیت حاصل ہے اور ﷲ ہر چیز سے واقف ہے{۷۵}

التوبہ
Surah 9

ﷲ اور رسول کی طرف سے اجازت ہے۔ تم ﷲ کے ساتھ شریک ٹھہرانے والوں سے اپنا معاہدہ توڑ لو{۱}
کہو چار مہینے اور ملک میں گھوم پھر لو اور جان لو کہ تم ﷲ کو عاجز نہیں کرسکتے۔ ﷲ نافرمانوں کو گھیرنے والا ہے{۲}
ﷲ اور رسول کی طرف سے اعلان عام ہے تمام لوگوں کے لئے کہ حج اکبر کے لئے آجائیں۔ ﷲ مشرکوں (بیٹا، وسیلہ بنانے والوں) سے بیزار ہے اور اُس کا رسول بھی پس جو توبہ کر لے تو اسی میں بھلائی ہے۔ اگر سرکشی کرو گے تو جان لو تم ﷲ کو عاجز نہیں کرسکتے۔ اور نافرمانوں کو سخت عذاب کی خوش خبری سنا دو{۳}
البتہ جن مشرکوں (شرک کرنے والوں) سے تمہارا معاہدہ ہے اور انہوں نے تم کو چھیڑا نہیں ہے نہ تمہارے خلاف کسی کی مدد کی ہے اُن کو اپنے معاہدے کی میعاد پوری کرلینے دو۔ ﷲ اہلِ تقویٰ (گناہوں سے بچنے والوں) سے محبت کرتا ہے{۴}
پھر جب حرمت کے مہینے ختم ہوجائیں تو مشرکوں (ﷲ کا بیٹا، وسیلہ بنانے والوں) سے لڑو جہاں پائو پکڑ لو گھیر لو اور ان کی گھات میں ہر کونے پر بیٹھو یہاں تک کہ وہ توبہ کرلیں، صلات قائم کریں، زکوٰۃ دینے لگیں تو اُن کو معاف کر دو۔ ﷲ بخشنے والا رحیم ہے{۵}
پھر اگر کوئی مشرک (ﷲ کا بیٹا، وسیلہ بنانے والا) پناہ مانگ لے تو پناہ دیدو یہاں تک کہ ﷲ کا کلام (یعنی ﷲ کی حدیث) سن لے (مان لے) پھر اُسے امن کی جگہ بھیج دو۔ یہ ان لوگوں کے لئے ہے جو ناسمجھ ہیں{۶}
اور مشرکوں (ﷲ کا بیٹا، وسیلہ بنانے والوں) کے ساتھ ﷲ اور اُس کے رسول معاہدہ کیسے کرسکتے ہیں البتہ اُن کے ساتھ جن سے تم نے مسجد حرم کے پاس عہد لیا تھا اور وہ اس پر قائم رہے، تم بھی قائم رہو۔ ﷲ یقینا گناہوں سے بچنے والے لوگوں سے محبت کرتا ہے{۷}
اور یہ کہاں کا انصاف ہے کہ وہ تم پر غلبہ پائیں تو نہ قرابت داری کا لحاظ کریں نہ معاہدوں کی ذمہ داری کا۔ یہ منہ سے تمہیں راضی کرتے ہیں مگر ان کے دل کڑھتے ہیں۔ ان میں اکثر جھوٹے ہیں{۸}
تھوڑی قیمت پر ﷲ کے احکام بیچنے والے (ایسے تاجر) لوگوں کو ﷲ کی راہ پر چلنے سے روکتے ہیں۔ جو کچھ یہ کرتے ہیں برا ہے{۹}
ان کو اہلِ ایمان کے ساتھ نہ قرابت داری کا لحاظ ہے نہ اپنی قسموں کا۔ یہ لوگ دشمنی رکھنے والے ہیں{۱۰}
ہاں اگر توبہ کرلیں، صلوٰۃ قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں۔ ہم اپنی باتیں (حدیثیں) اسی طرح سمجھاتے ہیں ان لوگوں کو سمجھنا چاہتے ہیں{۱۱}
پھر اگر عہد و پیمان کے بعد اپنی قسمیں توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر طنز کریں تو ان (اَئِمَّۃَ الْکُفْرِ) نافرمان اماموں (پیشوائوں) کو قتل کر دو۔ ان کو اپنی قسموں کا بھی پاس نہیں ہے۔ کاش یہ سدھر جائیں{۱۲}
اور تم ایسے لوگوں سے کیوں نہیں لڑو جو قسمیں توڑ ڈالتے ہیں۔ جنہوں نے رسول کو اپنے گھر سے نکالنے میں مدد دی اور جنگ میں پہل کی۔ تو کیا تم اُن سے ڈرتے ہوحالانکہ ﷲ زیادہ حق رکھتا ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم صاحبِ ایمان ہو{۱۳}
تم انہیں قتل کرو۔ ﷲ اُنہیں تمہارے ہاتھوں عذاب دینا چاہتا ہے، اُن کو رسوا کرنا چاہتا ہے۔ وہ تمہاری مدد کرے گا اور مومنوں (ایمان والوں) کے دلوں کو شفا (طمانیت) دے گا{۱۴}
اُن کے دلوں سے غصہ دور کر دے گا۔ ﷲ جس پر چاہتا ہے(اسکے اعمال کے سبب) رحم فرماتا ہے اور ﷲ علم و حکمت کا مالک ہے{۱۵}
تم سمجھتے ہو یوں ہی چھوٹ جائو گے حالانکہ ﷲ نے ابھی ان کو بھی نہیں جانچا ہے جو تمہارے ساتھ (دین کیلئے)جہدکرتے ہیں اور جو ﷲ، اس کے رسول اور اہلِ ایمان کے سوا کسی کو اپنا ولی نہیں جانتے۔ ﷲ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو{۱۶}
مشرکوں (ﷲ کے ساتھ شریک ٹھہرانے والوں) کو کیا حق ہے کہ ﷲ کے گھر کو آباد کریں جو اپنی نافرمانی پر خود گواہ ہیں۔ اِن کے اعمال ضائع ہوچکے ہیں اور وہ جہنم میں جائیں گے{۱۷}
ﷲ کی مسجد (کعبہ) کو تو وہ آباد کریں گے جو ﷲ پر ایمان رکھتے ہیں اور یومِ آخرت پر اور صلات قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور ﷲ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ پس اُمید ہے کہ یہ لوگ ہدایت قبول کرلیں گے{۱۸}
تم سمجھتے ہو کہ حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرم کو سجانا ﷲ اور آخرت پر ایمان لانے اور ﷲ کی راہ میں بھر پور جدوجہد کرنے سے بہتر ہے۔ مگر ﷲ کے پاس یہ سب برابر نہیں۔ ﷲ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا{۱۹}
جو لوگ ایمان لائے، ہجرت کی اور ﷲ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے بھر پور جدوجہد کرتے ہیں اُن کے درجات ﷲ کے پاس بہت بلند ہیں اور وہی مراد پانے والے ہیں{۲۰}
اُن کو اُن کے پالنے والے(ﷲ) کی طرف سے بخشش، خوشنودی اور جنت کی خوشخبری سنا دو۔ اُس میں ہمیشہ باقی رہنے والی نعمتیں ہوں گی{۲۱}
اور وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ ﷲ کے پاس اُن کا بڑا اجر ہے{۲۲}
اے ایمان لانے والو! اپنے باپ دادا اور اپنے بھائیوں کو بھی اگر وہ کفر کو ایمان پر ترجیح دیں تو اپنا اولیاء (رفیق) نہیں سمجھنا۔ تم میں سے جو اُن سے میل رکھے گا وہ ظالموں میں شمار ہوگا{۲۳}
ان سے کہو کہ اگر تم کو اپنے باپ بیٹے بھائی اور بیویاں اور رشتے دار اور تمہاری دولت جو کمائی تھی اورکاروبار جس کے تباہ ہونے کا خوف ہے اور مکان جن کو تم پسند کرتے ہو ﷲ اور اس کے رسول سے اور ﷲ کی راہ میںجہد(کو شش) کرنے سے زیادہ عزیز ہیں تو یہاں (مکہ) میں ٹھہرے رہو یہاں تک کہ ﷲ کا حکم(موت) آجائے۔ اور ﷲ فاسق (جھوٹی) قوموں کو ہدایت نہیں دیتا{۲۴}
ﷲ کئی موقعوں پر تمہاری مدد کر چکا ہے۔ (جنگِ) حنین کے دن جب تم کو اپنی کثرت پر فخر ہوگیا تھا تو وہ تمہارے کام نہیں آئی اور زمین باوجود اپنی فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی۔ پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ لئے{۲۵}
تو ﷲ نے اپنے رسول پر سکینہ (ڈھارس) نازل فرمائی۔ اور تمہاری مدد کے لئے فرشتوں کے لشکر بھیجے جو تمہیں دکھائی نہیں دیتے تھے اور نافرمانوں کو عذاب دیا۔ نافرمانوں کی یہی سزا ہے{۲۶}
پھر اس کے بعد ﷲ نے جس کی چاہی توبہ قبول کی۔ ﷲ بڑا بخشنے والا ہے{۲۷}
اے ایمان لانے والو! مشرک (ﷲ کا بیٹا، وسیلہ ٹھہرانے والے) لوگ نجس (ناپاک) ہیں۔ اس اعلان کے بعد ان کو مسجد حرم کے پاس نہیں آنے دو۔ اگر تم ڈرتے ہو کہ اس سے تمہاری آمدنی (زیارت ٹیکس) کم ہوجائے گی تو ﷲ نے چاہا تو وہ تمہیں غنی کر دے گا۔ بلاشبہ ﷲ بڑا جاننے والا اور صاحبِ حکمت ہے{۲۸}
اور اُن سے بھی لڑو جو ﷲ اور روزِ حساب پر ایمان نہیں لاتے اور جن چیزوں کو ﷲ نے حرام کیا ہے انہیں حرام نہیں مانتے اور ﷲ کے سچے دین کو قبول نہیں کرتے۔ خواہ اہلِ کتاب ہی کیوں نہیں ہوں حتیٰ کہ وہ (ﷲ کی) اطاعت قبول کریں اور جزیہ دیں{۲۹}
یہودی کہتے ہیں عزیر ﷲ کا بیٹا ہے۔ عیسائی کہتے ہیں مسیح ﷲ کا بیٹا ہے۔ یہ اُن کی اپنی گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔ اگلے نافرمان بھی ایسی ہی باتیں بناتے تھے ﷲ نے ان کو ہلاک کر دیا یہ جھوٹے لوگ ہیں{۳۰}
یہ اپنے پیروں مشائخوں کو خدا سمجھتے ہیں (ربّی) اور بعض مسیح ابن مریم کو خدا بتاتے ہیں حالانکہ اُن کو بھی حکم دیا گیا تھا کہ صرف ایک ﷲ کی بندگی کریں جس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے ﷲ شریکوں (اولیا، وسیلوں)سے پاک ہے{۳۱}
یہ چاہتے ہیں کہ ﷲ کے نور (ﷲ کی ہدایت) کو پھونک مار کر بجھا دیں مگر ﷲ چاہتا ہے کہ اپنے نور (ہدایت) کو مکمل کرے (یعنی پھیلائے) خواہ نافرمانوں کو دُکھ ہو{۳۲}
ﷲ نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ اُسے تمام دینوں پر غالب کر دے خواہ مشرکوں (شرک کرنے والوں) کو برا لگے{۳۳}
اے ایمان لانے والو! بہت سے پیر اور مشائخ لوگوں کا مال جھوٹ بول کر کھاتے ہیں اور ان کو ﷲ کے راستے پر نہیں آنے دیتے۔ یہ لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں۔ ان کو دُکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو{۳۴}
جس دن وہ مال جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اور اس سے کنجوسوں کی پیشانیاں، پہلو اور پیٹھ داغی جائیں گی اور کہا جائے گا یہ وہی ہے جو اپنے لئے جمع کرتے تھے تو آج مزہ چکھو جو جمع کیا تھا{۳۵}
اور مہینوں کی گنتی ﷲ کے پاس بارہ ہے یہ ﷲ کی کتاب میں لکھا گیا تھا جب آسمان اور زمین بنائے تھے۔ اُن میں سے چار حرمت کے مہینے ہیں یہی سیدھا دین ہے۔ ان مہینوں کے معاملے میں اپنی جانوں پر ظلم نہیں کرنا۔ اس پر بھی مشرکوں (شرک کرنے والوں) سے لڑو جیسے وہ لڑتے ہیں اور یاد رکھو ﷲ متقیوں (گناہوں سے بچنے والوں) کے ساتھ ہے{۳۶}
اور (النَّسِیْ) مہینے کا ہٹا دینے کا معاملہ نافرمانوں نے بڑھا لیا ہے۔ جس سے وہ لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ایک سال ایک مہینہ حلال بتاتے ہیں اور دوسرے سال حرام اور کہتے ہیں سال برابر کرتے ہیں حرمت کے مہینے سے۔ اس طرح ﷲ کے حلال کو حرام کر دیتے ہیں اور یہ شرارت اُن کو بھلی معلوم ہوتی ہے مگر ﷲ نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا{۳۷}
اے ایمان لانے والو! تمہیں کیا ہوا ہے۔ جب کہا جاتا ہے کہ ﷲ کی راہ میں جدوجہد (کوشش) کے لئے نکلو تو تم زمین پکڑ لیتے ہو گویا تم کو آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی زیادہ پیاری ہے تو دنیا کا مال و متاع آخرت میں بہت کم معلوم ہوگا{۳۸}
اگر جان چرائو گے تو ﷲ سخت سزا دے گا بلکہ ﷲ تمہارے بدلے دوسری قوم لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکو گے اور ﷲ ہر چیز کی قدرت رکھتا ہے{۳۹}
اگر تم اپنے نبی کی مدد نہیں کرو گے تو ﷲ مدد کرے گا۔ جب نافرمانون نے اُسے نکالا وہ دو میں دوسرا تھا اور اپنے دوست (ابو بکر صدیقؓ) سے کہہ رہا تھا غم نہیں کرو بلاشبہ ﷲ ہمارے ساتھ ہے۔ تو ﷲ نے اُن پر سکینہ (ڈھارس) بھیجی اور ایسی فوجوں سے مدد کی جو دکھائی نہیں دیتی تھیں اور نافرمانوں کی بات نیچی کر دی اور ﷲ کی بات ہی اونچی رہی۔ اور ﷲ ہی عزت و حکمت کا مالک ہے{۴۰}
تم ہلکے ہو یا بھاری (نہتے یا مسلح) گھروں سے نکل پڑو اور ﷲ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جدوجہد (بھر پور کوشش) کرو۔ اگر سمجھو تو یہی تمہارے لئے بھلائی ہے{۴۱}
اگر معاملہ قریب کا ہو اور سفر آسان ہو تو لوگ ساتھ ہوجاتے ہیں لیکن دور جانا اُن کو ناگوار ہوتا ہے۔ اس وقت ﷲ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ہمارے بس میں ہوتا تو ہم ضرور چلتے۔ مگر یہ اپنی جانوں کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں۔ ﷲ جانتا ہے یہ جھوٹے ہیں{۴۲}
خیر ﷲ تمہیں معاف کرے۔ اگر تم اجازت نہیں دیتے تو جان جاتے کہ اُن میں کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے{۴۳}
جو لوگ ﷲ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ کبھی کوئی معذرت (بہانہ) نہیں کرتے۔ وہ اپنے مالوں اور جانوں سے بھر پور کوشش کرتے ہیں۔ اور ﷲ اہلِ تقویٰ کو جانتا ہے{۴۴}
بے شک عذر تو وہی کرتے ہیں جو ﷲ اور روزِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اُن کے دل (تذبذب) شک و شبہ میں ہیں اور وہ اپنے شک میں کوئی فیصلہ نہیں کر پاتے{۴۵}
اگر وہ چاہتے تو تمہارے ساتھ نکل پڑنا دشوار نہیں پاتے لیکن ﷲ نے اُن کانکلنا پسند نہیں کیا تو وہ جم کر رہ گئے۔ اُن سے کہو گھر میں بیٹھنے والی (عورتوں) کے ساتھ بیٹھے رہو{۴۶}
نیز وہ تمہارے ساتھ نکلتے تو یقینا شرارت کرتے اور تم میں فساد ڈالنے کے لئے دوڑ دھوپ کرتے۔ تم میں اُن کے جاسوس بھی ہوتے ہیں۔ ﷲ ظالموں کو خوب جانتا ہے{۴۷}
یہ پہلے بھی فتنے کھڑے کرتے اور تمہارے کام بگاڑتے رہے ہیں یہاں تک کہ حق آگیا اور ﷲ کا حکم سچا ہوا اور یہ رسوا ہوئے{۴۸}
ان میں بعض کہتے ہیں ہمیں معاف رکھئے فتنے میں نہیں ڈالیئے مگر یہ خود فتنہ میں پڑیں گے۔ جہنم نافرمانوں کو گھیرے ہوئے ہے{۴۹}
تم کو فتح ہو تو اِن کو دُکھ ہوتا ہے اور مصیبت آجائے تو کہتے ہیں ہم کو پہلے ہی معلوم تھا۔ پھر منہ پھیر کر ہنستے ہیں{۵۰}
اِن سے کہو ہم کو وہی ملتا ہے جو ﷲ نے ہمارے نصیب میں لکھا ہے وہی ہمارا مولا ہے اور اہلِ ایمان اسی پر بھروسہ کرتے ہیں{۵۱}
ان سے کہو تم جہاد کے فوائد میں سے ہمارے لئے ایک (قتل) کے منتظر ہو اور ہم تمہارے لئے ﷲ کے عذاب کے منتظر ہیں۔ خود بھیجے یا ہمارے ہاتھوں دلائے پس انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں{۵۲}
ان سے کہو تم خوشی سے دو یا ناخوشی سے تمہارا قبول نہیں ہوگا کیونکہ تم جھوٹے لوگ ہو{۵۳}
اور ان لوگ کی خیرات صرف اس لیے قبول نہیں ہوتی کیونکہ یہ ﷲ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھتے ہیں جبکہ یہ لوگ صلات کیلئے بے دلی سے نہیں آتے ہیں اور نہ ﷲ کی راہ میں ناگواری سے خرچ کرتے ہیں{۵۴}
اور تم ان کے مال و اولاد پر تعجب نہیں کرو۔ ان چیزوں سے ان کو دنیا میں عذاب دینا مقصود ہے۔ جب ان کی جان نکلے گی یہ نافرمان ہی ہوں گے{۵۵}
یہ لوگ ﷲ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہیں مگر وہ تم میں سے نہیں۔ دراصل یہ تفرقہ باز لوگ ہیں{۵۶}
ان کو کوئی چھپنے کی جگہ مل جائے جیسے کوئی غار یا تہہ خانہ وغیرہ تو اس کی طرف دوڑ جائیں اور چھپ جائیں{۵۷}
ان میں بعض صدقات کی تقسیم کے وقت الزام دھرتے ہیں۔ انہیں ٹھیک مل جائے تو راضی ہیں نہ ملے تو خفا ہوجاتے ہیں{۵۸}
کاش یہ ﷲ اور رسول کے دئیے پر راضی رہتے اور کہتے کہ ہمارے لئے ﷲ کافی ہے ﷲ اپنے فضل سے اور رسول اپنی خوشی سے پھر دیں گے ہم ﷲ کی خوشودی چاہتے ہیں{۵۹}
اور صدقات تو فقیروں، مسکینوں، کارندوں اور نومسلموں کی تالیف قالب، غلاموں کو آزاد کرانے، قرض داروں کے قرض چکانے اور ﷲ کی راہ میں آنے والے مسافروں کے لئے ہیں۔ جو ﷲ نے لازمی قرار دئیے ہیں۔ اور ﷲ بڑا جاننے والا دانا ہے{۶۰}
بعض لوگ نبی کو دُکھ دیتے ہیں۔ کہتے ہیں یہ مجسم کان ہیں۔ کہو کان (سب کچھ لینے والے) تمہاری بھلائی چاہتے ہیں۔ وہ ﷲ پر ایمان لانے والوں اور اہلِ ایمان پر اعتبار کرنے والوں کے لئے مہربان ہیں۔ پس جو نبی کو دُکھ دیتے ہیں اُن کے لئے دُکھ دینے والا عذاب ہے{۶۱}
وہ ﷲ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ تم سے (یعنی نبی سے) راضی ہیں حالانکہ ﷲ اور اس کے رسول کا ان سے راضی ہونا زیادہ اہم ہے اگر وہ مومن ہیں{۶۲}
وہ نہیں جانتے کہ جو ﷲ اور اس کے رسول کو ناراض کرے گا وہ جہنم کی آگ میں جلے گا اور وہ بڑی رسوائی ہے{۶۳}
منافق (کمزور ایمان والے مسلمان) ڈرتے ہیں کہ اُن کے بارے میں کوئی سورت نہیں آجائے۔ جس سے تم کو اُن کے دلوں کا حال معلوم ہوجائے۔ اِن سے کہو مذاق اُڑا لو۔ ﷲ تمہارا یہ ڈر جلد سچ کر دے گا{۶۴}
ان کو ٹوکو تو کہتے ہیں ہم آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ پوچھو کیا ﷲ اور اس کے کلام اور اس کے رسول کا مذاق اُڑانا ہی تمہاری باتیں ہیں{۶۵}
اب معذرت نہیں کرو تم نے یقین کرنے کے بعد انکار کیا ہے۔ ہم ایک جماعت کو بخش دیں گے اور دوسری کو عذاب دیں گے کیونکہ وہ ہمارے مجرم ہیں{۶۶}
بعض منافق (کمزور ایمان والے مسلمان) مرد اور عورتیں آپس میں ایک دوسرے کو برے کام سکھاتے ہیں اور اچھے کاموں سے روکتے ہیں اور خرچ کرنے سے منع کرتے ہیں۔ یہ ﷲ کو بھول گئے ہیں تو ﷲ بھی ان کو بھول جائے گا یقینا منافق (کمزور ایمان والے مسلمان) بھی نافرمان ہیں{۶۷}
منافق (کمزور ایمان والے مسلمان) مردوں اور عورتوں اور نافرمانوں کے لئے ﷲ نے جہنم کا وعدہ کیا ہے جس میں ہمیشہ رہیں گے وہ اسی کے مستحق ہیں۔ اُن پر ﷲ کی لعنت ہے اور ان کے لئے ہمیشہ کا عذاب ہے{۶۸}
اگلے لوگ تم سے زیادہ قوی تھے۔ اُن کو مال و اولاد بھی زیادہ دیا گیا تھا تو وہ اپنے حصے سے فائدے اُٹھاتے رہے۔ جیسے اب تم ہماری نعمتوں سے فائدہ اُٹھا رہے ہو اور نافرمانی کرنے لگے ہو جیسے وہ نافرمانی کرتے تھے۔ تو ہم نے اُن کے دنیا و آخرت کے اعمال ضائع کر دئیے شاید تم بھی اُسی طرح نقصان اُٹھانا چاہتے ہو{۶۹}
کیا تمہیں اگلی قوموں میں نوح، عاد، ثمود، ابراہیم اور مدائن والوں اور الٹی ہوئی بستیاں کا حال نہیں سنایا گیا۔ اُن کے پاس رسول گئے اور ہماری واضح نشانیاں پیش کی۔ تو ﷲ اُن پر ظلم کرنا نہیں چاہتا تھا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے تھے{۷۰}
مومن (ایمان والے) مرد اور عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے اولیاء (دوست) ہیں۔ وہ اچھے کام کرنے کا حکم دیتے ہیں، برے کاموں سے روکتے ہیں، صلات قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور ﷲ اور اس کے رسول کا کہا مانتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر ﷲ رحم کرے گا۔ ﷲ ہی عزت و حکمت کا مالک ہے{۷۱}
ﷲ نے مومن (ایمان والے) مردوں اور مومن عورتوں سے باغوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے دریا بہتے ہوں گے۔ وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہاں پاک صاف مکانات ہوں گے باغ عدن جیسے اور پھر ﷲ کی خوشنودی حاصل ہوگی جو سب سے بڑی نعمت ہے اور وہی اصل کامرانی ہے{۷۲}
اے نبی! نافرمانوں اور کمزور ایمان والے مسلمان سے جہاد کرو، اُن پر سختی کرو۔ اُن کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بری جگہ ہے{۷۳}
یہ لوگ ہر بات پر قسم کھاتے ہیں اور جب بولتے ہیں نافرمانی کی بات کرتے ہیں۔ یہ اسلام قبول کرنے کے بعد نافرمان ہوگئے ہیں۔ یہ ایسی آرزوئیں کرتے ہیں جو کبھی پوری نہیں ہوں گی۔ کیا ان کو دُکھ ہے کہ ﷲ اور رسول نے ان کو اپنے فضل سے غنی کر دیا ہے۔ اگر وہ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں اچھا ہے۔ نہیں مانیں گے تو ﷲ عذاب دے گا اور عذاب بھی دُکھ دینے والا جو دنیا و آخرت میں ہوگا۔ پھر دنیا میں اُن کا کوئی ولی اور دستگیر نہیں ہوگا{۷۴}
ان میں بعض نے ﷲ سے عہد کیا تھا کہ اگر اُس نے اپنے فضل سے کچھ دیا تو ہم سب صدقہ کر دیں گے اور نیک لوگوں میں شامل ہوجائیں گے{۷۵}
لیکن جب فضل ہوا تو کنجوسی کرنے لگے بلکہ منحرف اور لاتعلق ہوگئے{۷۶}
اسی کی سزا ہے کہ ﷲ نے ان کے دلوں میں نفاق (نااتفاقی) ڈال دی ہے جو اُس دن تک باقی رہے گا جب ﷲ ان کو بتائے گا کہ یہ ﷲ اور اُس کے وعدے سے منحرف کیوں ہوئے اور کیوں جھٹلاتے تھے{۷۷}
ان کو معلوم نہیں کہ ﷲ ان کے بھیدوں اور ان کی سرگوشیوں سے واقف ہے اور بلاشبہ ﷲ غیب کی باتیں جانتا ہے{۷۸}
جو لوگ ایسے اہلِ ایمان کی ہنسی اُڑاتے ہیں جو اپنے بس بھر صدقات دیتے ہیں کیونکہ وہ اسی میں سے دے سکتے ہیں جتنا وہ کماتے ہیں۔ اُن پر طعن کرنے والوں پر ﷲ طعن کرے گا اور عذاب بھی دے گا{۷۹}
تم اُن کے لئے مغفرت مانگو یا نہیں مانگو بلکہ تم ستر بار اُن کے لئے مغفرت مانگو تو بھی ﷲ ان کو معاف نہیں کرے گا۔ یہ اس لئے کہ یہ ﷲ اور اس کے رسول کو جھٹلاتے ہیں اور ﷲ فاسقوں (جھوٹوں) کو ہدایت نہیں دیتا{۸۰}
مخالفین اُن سے خوش ہیں جو رسول کی مرضی کے خلاف گھروں میں بیٹھے رہے۔ اور اُن سے ناراض ہیں جو اپنے مالوں اور جانوں سے ﷲ کی راہ میںبھر پو رکوشش کر نے گئے۔ اُن سے کہا گرمی سخت ہے نہیں نکلو۔ اُن سے کہو جہنم کی گرمی اس سے زیادہ سخت ہوگی کاش اتنا سمجھتے{۸۱}
ان سے کہو ہنسو کم تم کو رونا زیادہ ہے۔ یہی تمہارے کئے کی سزا ہے{۸۲}
اب اگر ﷲ تمہیں کسی قوم کی طرف بھیجے اور یہ تمہارے ساتھ چلنے کی اجازت مانگیں تو کہہ دینا اب تم کبھی ہمارے ساتھ نہیں جائو گے، نہ تم ہمارے ساتھ مل کر دشمن سے لڑو گے تم پہلی بار گھر بیٹھے رہنے پر خوش تھے۔ اب ہمارے مخالفوں کے ساتھ بیٹھو{۸۳}
ان میں سے کوئی مرے تو کبھی اُس کی دُعا جنازہ نہیں کرنا، اس کی قبر پر کھڑے نہیں ہونا۔ یہ ﷲ اور رسول کے منکر ہیں اسی میں مریں گے۔ یہ فاسق (جھوٹے) لوگ ہیں{۸۴}
تم ان کے مال و اولاد پر تعجب نہیں کرو۔ ﷲ اِنہی چیزوں سے ان کو دنیا میں عذاب دینے والا ہے۔ جب جان نکلے گی یہ نافرمان ہی ہوں گے{۸۵}
جب کوئی تازہ سورت اترتی ہے کہ ﷲ پر ایمان لائو اور رسول کے ساتھ مل کر جہاد کرو تو خوش حال لوگ بہانے کرنے لگتے ہیں کہ ہم کو گھر والوں کے ساتھ چھوڑ جائیے{۸۶}
یعنی چاہتے ہیں کہ اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھے رہیں۔ ان کے دِلوں پر مہر لگی ہے یہ سمجھتے نہیں{۸۷}
رسول اور اُن کے ساتھی جو ایمان لائے ہیں وہ جہاد کرتے ہیں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے۔ تو اِنہی کیلئے بھلائیاں ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں{۸۸}
ﷲ نے اُن سے ایسے باغوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے دریاں بہتے ہوں گے اور وہاں ہمیشہ رہنا ہے اور یہی بڑی کامیابی ہے{۸۹}
اور بعض دیہاتی اعراب (بدّو) بھی معذرت کرنے آتے ہیں کہ اُن کو بھی معاف رکھا جائے تاکہ وہ ﷲ اور اس کے رسول کو جھٹلانے والوں کے ساتھ گھروں میں بیٹھے رہیں۔ تو ان میں بھی نافرمان ہیں ان کو سخت عذاب ہوگا{۹۰}
ہاں بڈھوں، بیماروں اور ان کے لئے جن کے پاس خرچ نہیں ہے حرج نہیں بشرطیکہ ﷲ اور رسول کے خیرخواہ ہوں اور نیک مسافروں کے لئے بھی۔ اور ﷲ بخشنے والا رحیم ہے{۹۱}
اور اُن پر بھی جو تمہارے پاس سواری مانگنے آتے ہیں اور تم کہتے ہو میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں جس پر تم کو سوار کروں تم لوٹ جائو تو اُن کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں کہ اُن کے پاس (دینی خدمت)میں شریک ہونے کے وسائل نہیں{۹۲}
مگر اُن کو کیا کہا جائے جو خوشحال ہیں پھر بھی معذرت کرتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ اُن کو بھی گھر والوں کے ساتھ چھوڑ دیا جائے۔ شاید ﷲ نے اُن کے دلوں پر مہر لگادی ہے وہ سمجھتے نہیں{۹۳}
یہ تمہاری واپسی پر معذرت خواہ ہوں گے۔ اُس وقت کہنا ہم تم پر اعتبار نہیں کرسکتے۔ ﷲ نے ہم کو بتا دیا ہے۔ ﷲ اور اس کے رسول نے تمہاری حرکتیں دیکھ لیں ہیں۔ اور تم کو غائب و حاضر کے جاننے والے (ﷲ) کے حوالے کر دیا ہے۔ وہی بتائے گا تم کیا کرتے تھے{۹۴}
پس جب واپس آئو اور یہ قسمیں کھاتے ہوئے معذرت کریں تم ان کو منہ نہیں لگانا یہ لوگ بدباطن ہیں۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہی ان کے اعمال کا بدلہ ہے{۹۵}
یہ تم کو قسمیں دلائیں گے کہ تم ان کو معاف کر دو اگر تم معاف کر دو گے تو بھی ﷲ ان فاسقوں (جھوٹوں) کو معاف نہیں کرے گا{۹۶}
بعض دیہاتی اعراب (بدّو) بھی کفر و نفاق (نافرمانی اور نااتفاقی) میں پکے ہیں۔ ظاہر کرتے ہیں گویا وہ حدودِ ﷲ (شریعت) اور جو کچھ ﷲ نے اپنے رسول پر اتارا (قرآن) نہیں جانتے۔ مگر ﷲ سب کچھ جانتا اور سمجھتا ہے{۹۷}
بعض بدو جن سے تم نے صدقات وصول کئے ہیں سمجھتے ہیں کہ ہم کو قرض دیا ہے۔ وہ تم پر مصیبت آنے کا انتظار کرتے ہیں مگر مصیبت تو انہی پر آنے والی ہے۔ اور ﷲ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے{۹۸}
بہت سے دیہاتی (بدو) ﷲ پر اور روزِ آخرت پر ایمان لائے ہیں اور جو کچھ دیتے ہیں اُسے ﷲ کی قربت اور رسول کی دُعائوں کا باعث سمجھتے ہیں۔ وہ بے شک اُن کے لئے موجب قربت ہوگا۔ ﷲ انہیں اپنی رحمت میں لے لے گا۔ بلاشبہ ﷲ بڑا بخشنے والا اور رحیم ہے{۹۹}
سب سے پہلے ایمان لانے والے مہاجرین و انصار اور اپنی خوشی سے ان کا حکم ماننے والوں سے ﷲ بے حد خوش ہے اور وہ ﷲ سے خوش ہیں۔ اُن سے باغوں کا وعدہ ہے جن کے نیچے دریا بہتے ہوں گے۔ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی اصل کامیابی ہے{۱۰۰}
اور تمہارے پڑوس کے بعض اعرابی (بدو) منافق (کمزور ایمان والے مسلمان) ہیں اور بعض شہری بھی نفاق (نااتفاقی) میں ڈوبے ہوئے ہیں تم اُن کو نہیں جانتے ہم جانتے ہیں۔ ہم اُن کو دوہرا عذاب دیں گے اور سخت عذاب دیں گے{۱۰۱}
دوسرے کچھ لوگ ہیں جو اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ اُن کے اچھے اور برے اعمال ملے جلے ہیں۔ ﷲ چاہے گا تو ان کی توبہ قبول کر لے گا اور ﷲ تو بڑا بخشنے والا اور رحیم ہے{۱۰۲}
تم اُن کے صدقات قبول کر کے اُن کے اموال کو پاک کر دیا کرو اور اُن کے دلوں کا تزکیہ (صفائی) کرتے رہو، اُن کو دعائیں دیا کرو۔ تمہاری صلوٰۃ (دعا) سے اُن کو تسکینِ قلب حاصل ہوگی اور ﷲ سننے اور جاننے والا ہے{۱۰۳}
اور وہ بھی خوب جانتے ہیں کہ ﷲ اپنے بندوں کی توبہ اور صدقات قبول کرتا ہے اور ﷲ بڑا توبہ قبول کرنے والا رحیم ہے{۱۰۴}
ان سے کہو اپنے کام کرتے رہیں ﷲ تمہارے اعمال دیکھتا ہے بلکہ اس کے رسول اور دوسرے اہل ایمان بھی۔ تم سب کو اُسی غائب و حاضر کے جاننے والے کے سامنے جانا ہے پھر جو کچھ تم کرتے تھے وہ سنا دے گا{۱۰۵}
اور دوسروں کا معاملہ ﷲ کے اختیار میں ہے وہ چاہے سزا دے اور چاہے تو ان کی توبہ قبول کرے۔ اور ﷲ سب کچھ جاننے والا اور صاحبِ حکمت ہے{۱۰۶}
اور جن لوگوں نے شرارت اور نافرمانی پھیلانے کے لئے مسجد بنائی تاکہ اہلِ ایمان میں (تَفْرِیْقًا) فرقہ بندی بنادیں اور ﷲ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے کے لئے ایک سازش کا اڈا قائم کریں۔ وہ قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم نے سب بھلائی کے لئے کیا تھا مگر ﷲ گواہ ہے وہ جھوٹے ہیں{۱۰۷}
تم اُس میں کبھی قدم نہیں رکھنا۔ تمہارے لئے وہی مسجد اچھی ہے جس کی بنیاد پہلے دن سے نیک نیتی اور تقویٰ پر رکھی گئی تھی۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور ﷲ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے{۱۰۸}
سو کیا وہ اچھے ہیں جنہوں نے ﷲ کے خوف اور رضا کے لئے مسجد کی بنیاد رکھی یا وہ جنہوں نے ایک گڑھے کے کنارے کمزور بنیاد رکھی تاکہ وہ گر پڑے چنانچہ وہ جہنم کی آگ میں گر پڑی۔ اور ﷲ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا{۱۰۹}
وہ مسجد جو انہوں نے بنائی تھی اُن کی جانوں کا عذاب بنی رہے گی جب تک ان کے دل نہ کٹ جائیں۔ اور ﷲ بہتر جاننے والا اور صاحبِ حکمت ہے{۱۱۰}
بلاشبہ ﷲ نے مومنوں (ایمان والوں) کی جانیں اور اُن کا مال جنت کے بدلے (اشتریٰ) خرید لیا ہے چنانچہ وہ ﷲ کی راہ میں لڑتے ہیں۔ مارتے بھی ہیں اور مرتے بھی ہیں۔ یہ سچا وعدہ توریت، انجیل اور قرآن میں درج ہے پس جو ﷲ سے اپنے وعدے وفا کرے گا۔ اُسے خوشخبری دے دو کہ جو ﷲ سے سودا کرے گا نفع میں رہے گا اور یہی سب سے بڑا فائدہ ہے{۱۱۱}
وہ توبہ کرنے والے، بندگی کرنے والے، احسان ماننے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع میں جھکنے والے، سجدے کرنے والے، اچھے کاموں کا حکم دینے والے، برے کاموں سے روکنے والے اور ﷲ کی حدود (شریعت) کی حفاظت کرنے والے لوگ ہیں۔ ایسے مومنوں (ایمان والوں) کو خوشخبری دے دو{۱۱۲}
ﷲ کے رسول اور دوسرے مومنوں کو کیا ضرورت ہے کہ مشرکوں (ﷲ کا بیٹا، وسیلہ بنانے والوں) کے لئے مغفرت (بخشش) کی دُعا کریں۔ جب معلوم ہوچکا ہے کہ وہ جہنمی ہیں خواہ وہ قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں{۱۱۳}
اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لئے مغفرت طلب کرنا اُس وعدے کی وجہ سے تھا جو انہوں نے اس سے کرلیا تھا۔ مگر جب اُن کو معلوم ہوگیا کہ وہ ﷲ کا دشمن ہے تو اُس سے بیزار ہوگئے بیشک ابراہیم بڑے نیک دل اور بردبار تھے{۱۱۴}
اور ﷲ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد بے راہ نہیں ہونے دیتا جب تک یہ نہیں بتا دے کہ اُن کو کن باتوں سے بچنا ہے۔ اور ﷲ ہر چیز کی خبر رکھتا ہے{۱۱۵}
یقینا ﷲ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت کا مالک ہے وہی جلاتا ہے وہی مارتا ہے ﷲ کے سوا تمہارا کوئی ولی اور دستگیر نہیں ہے{۱۱۶}
بے شک ﷲ نے اپنے نبی اور مہاجرین و انصار کو جنہوں نے تنگدستی کے عالم میں جب لوگوں کے دل پھر جاتے ہیں اُن کی رفاقت کی اور ساتھ دیا تو ﷲ نے سب کو بخش دیا۔ بے شک وہ اپنے بندوں پر بے حد شفیق و مہربان ہے{۱۱۷}
اور اُن تینوں پر بھی جن کو تم نے چھوڑ دیا تھا۔ جس سے اُن کے لئے زمین تنگ ہوگئی باوجود اپنی وسعت کے اور اُن کی جانیں وبال ہوگئیں۔ وہ جان گئے کہ ﷲ کے سوا کسی کا سہارا نہیں تو ﷲ نے ان کو معاف کر دیا۔ بیشک ﷲ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے{۱۱۸}
پس اے ایمان لانے والو! ﷲ سے ڈرنے والے اور سچ بولنے والے بن جائو{۱۱۹}
اہلِ مدینہ اور اس کے مضافات میں رہنے والے بدّووں کے لئے مناسب نہیں تھا کہ ﷲ کے رسول کو چھوڑ کر پیچھے رہ جاتے یا اُن کی جان سے زیادہ اپنی جان عزیز رکھتے۔ یہ اس لئے کہ وہ جو سختیاں اُٹھاتے ہیں، بھوک پیاس میں پھرتے ہیں اور ایسی جگہوں پر جاتے ہیں جہاں نافرمانوں کا خطرہ ہوتا ہے تو سب ﷲ کی خوشنودی کے لئے۔ وہ دشمنوں سے کچھ نہیں لیتے سوائے اُن چیزوں کے جن کا لینا ﷲ کی کتاب کے مطابق اعمال صالح میں سے ہے (جزیہ یا زکوٰۃ)۔ اور بلاشبہ ﷲ اچھے کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا{۱۲۰}
یہ نہیں کریں تو وہ چھوٹے بڑوں کو کھلا نہیں سکیں۔ وہ بڑے بڑے فاصلے طے کرتے ہیں تو ﷲ کے حکم کے مطابق تاکہ ﷲ ان کی محنت کا اچھا بدلہ دے{۱۲۱}
اہلِ ایمان کے لئے ضروری نہیں کہ سب ہی گھروں سے نکل پڑیں۔ چاہیے کہ یہ ہر فریق (خاندان) سے ایک ایک آدمی آئے اور دین کی تعلیم حاصل کرے پھر واپس جا کر اپنے لوگوں کو ﷲ سے ڈرنا سیکھائے پھر اگر وہ اس کی باتیں مان لیں تو اُمید ہے کہ سب پرہیزگار ہوجائیں{۱۲۲}
اے ایمان لانے والو! اپنے آس پاس کے نافرمانوں سے لڑو اور اُن پر اپنی دھاک بٹھا دو۔ اور جان لو کہ ﷲ اہلِ تقویٰ (شرک سے بچنے والوں) کے ساتھ ہے{۱۲۳}
اور تم پر جب کوئی تازہ سورت نازل ہوتی ہے تو اُن میں سے کچھ پوچھتے ہیں کہ اس سے کس کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ یقینا اہلِ ایمان کے یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور اُن کو خوشخبریاں ملتی ہیں{۱۲۴}
مگر جن لوگوں کے دلوں میں بغض (کینے) کا مرض ہے اُن کے بغض میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ اُن کو موت آنے لگتی ہے کیونکہ وہ نافرمان ہیں{۱۲۵}
نافرمان نہیں دیکھتے کہ ہر سال ایک یا دو بار وہ فتنے (آزمائش) میں کیوں پڑتے ہیں اور پھر بھی توبہ نہیں کرتے، نہ ہدایت قبول کرتے ہیں{۱۲۶}
جب کوئی تازہ سورت نازل ہوتی تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں کہ کوئی دیکھتا تو نہیں اور چپکے سے کھسک جاتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ ﷲ نے اُن کے دل پھیر دئیے ہیں۔ وہ بے عقل لوگ ہیں{۱۲۷}
اے لوگو! تم میں سے تمہارے پاس ایک رسول آیا ہے۔ تمہارا دُکھ اسے گراں گزرتا ہے کیونکہ وہ تمہارا خیرخواہ ہے اور اہلِ ایمان کا ہمدرد غمگسار ہے{۱۲۸}
پھر بھی نہیں مانیں تو کہہ دو میرے لئے ﷲ کافی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے میں اُسی پر بھروسہ کرتا ہوں۔ وہ عرشِ عظیم کا مالک ہے{۱۲۹}

یونس
Surah 10

ہود
Surah 11

Content Coming Soon...

یوسف
Surah 12

Content Coming Soon...

الرعد
Surah 13

Content Coming Soon...

ابراہیم
Surah 14

Content Coming Soon...

الحجر
Surah 15

Content Coming Soon...

النحل
Surah 16

Content Coming Soon...

الإسراء
Surah 17

Content Coming Soon...

الکہف
Surah 18

Content Coming Soon...

مریم
Surah 19

Content Coming Soon...

طٰہٰ
Surah 20

Content Coming Soon...

الأنبیاء
Surah 21

Content Coming Soon...

الحج
Surah 22

Content Coming Soon...

المؤمنون
Surah 23

Content Coming Soon...

النور
Surah 24

Content Coming Soon...

الفرقان
Surah 25

Content Coming Soon...

الشعراء
Surah 26

Content Coming Soon...

النمل
Surah 27

Content Coming Soon...

القصص
Surah 28

Content Coming Soon...

العنکبوت
Surah 29

Content Coming Soon...

الروم
Surah 30

Content Coming Soon...

لقمان
Surah 31

Content Coming Soon...

السجدہ
Surah 32

Content Coming Soon...

الأحزاب
Surah 33

Content Coming Soon...

سبأ
Surah 34

Content Coming Soon...

فاطر
Surah 35

Content Coming Soon...

یٰس
Surah 36

Content Coming Soon...

الصافات
Surah 37

Content Coming Soon...

ص
Surah 38

Content Coming Soon...

الزمر
Surah 39

Content Coming Soon...

غافر
Surah 40

Content Coming Soon...

فصلت
Surah 41

Content Coming Soon...

الشوریٰ
Surah 42

Content Coming Soon...

الزخرف
Surah 43

Content Coming Soon...

الدخان
Surah 44

Content Coming Soon...

الجاثیہ
Surah 45

Content Coming Soon...

الأحقاف
Surah 46

Content Coming Soon...

محمد
Surah 47

Content Coming Soon...

الفتح
Surah 48

Content Coming Soon...

الحجرات
Surah 49

Content Coming Soon...

ق
Surah 50

Content Coming Soon...

الذاریات
Surah 51

Content Coming Soon...

الطور
Surah 52

Content Coming Soon...

النجم
Surah 53

Content Coming Soon...

القمر
Surah 54

Content Coming Soon...

الرحمن
Surah 55

Content Coming Soon...

الواقعہ
Surah 56

Content Coming Soon...

الحدید
Surah 57

Content Coming Soon...

المجادلہ
Surah 58

Content Coming Soon...

الحشر
Surah 59

Content Coming Soon...

الممتحنہ
Surah 60

Content Coming Soon...

الصف
Surah 61

Content Coming Soon...

الجمعہ
Surah 62

Content Coming Soon...

المنافقون
Surah 63

Content Coming Soon...

التغابن
Surah 64

Content Coming Soon...

الطلاق
Surah 65

Content Coming Soon...

التحریم
Surah 66

Content Coming Soon...

الملک
Surah 67

Content Coming Soon...

القلم
Surah 68

Content Coming Soon...

الحاقہ
Surah 69

Content Coming Soon...

المعارج
Surah 70

Content Coming Soon...

نوح
Surah 71

Content Coming Soon...

الجن
Surah 72

Content Coming Soon...

المزمل
Surah 73

Content Coming Soon...

المدثر
Surah 74

Content Coming Soon...

القیامہ
Surah 75

Content Coming Soon...

الإنسان
Surah 76

Content Coming Soon...

المرسلات
Surah 77

Content Coming Soon...

النبأ
Surah 78

Content Coming Soon...

النازعات
Surah 79

Content Coming Soon...

عبس
Surah 80

Content Coming Soon...

التکویر
Surah 81

Content Coming Soon...

الإنفطار
Surah 82

Content Coming Soon...

المطففین
Surah 83

Content Coming Soon...

الإنشقاق
Surah 84

Content Coming Soon...

البروج
Surah 85

Content Coming Soon...

الطارق
Surah 86

Content Coming Soon...

الأعلیٰ
Surah 87

Content Coming Soon...

الغاشیہ
Surah 88

Content Coming Soon...

الفجر
Surah 89

Content Coming Soon...

البلد
Surah 90

Content Coming Soon...

الشمس
Surah 91

Content Coming Soon...

اللیل
Surah 92

Content Coming Soon...

الضحیٰ
Surah 93

Content Coming Soon...

الشرح
Surah 94

Content Coming Soon...

التین
Surah 95

Content Coming Soon...

العلق
Surah 96

Content Coming Soon...

القدر
Surah 97

Content Coming Soon...

البینہ
Surah 98

Content Coming Soon...

الزلزال
Surah 99

Content Coming Soon...

العادیات
Surah 100

Content Coming Soon...

القارعہ
Surah 101

Content Coming Soon...

التکاثر
Surah 102

Content Coming Soon...

العصر
Surah 103

Content Coming Soon...

الہمزہ
Surah 104

Content Coming Soon...

الفیل
Surah 105

Content Coming Soon...

قریش
Surah 106

Content Coming Soon...

الماعون
Surah 107

Content Coming Soon...

الکوثر
Surah 108

Content Coming Soon...

الکافرون
Surah 109

Content Coming Soon...

النصر
Surah 110

Content Coming Soon...

المسد
Surah 111

Content Coming Soon...

الإخلاص
Surah 112

Content Coming Soon...

الفلق
Surah 113

Content Coming Soon...

الناس
Surah 114

Content Coming Soon...