Online Account No.: PK27 UNIL 0109 0002 3125 1213 | Title: MUHAMMAD ALI | Bank: UBL | Branch Code: 0395 | New Karachi | Pakistan.
Home

Trust

Department of ...
Employment
Education
Help Depart
Medical
Ambulance Service
Activities
Marriage Bureau Management

Quran
Hamd-e-Allah

Books
Pamphlets

Image Gallery

Download Fonts

Contact Us


 

 

SYED TALIB ALI WELFARE TRUST
is distributing monthly ration/groceries,
household equipment, wheel chair etc. in special persons, orphaned
children and widows for last 7 year.

So please appeal to you, submit your donation in Trust Online Account No.: PK27 UNIL 0109 0002 3125 1213 | Title: MUHAMMAD ALI | Bank: UBL | Branch Code: 0395 | New Karachi | Pakistan.

علم و ہدایت (حصہ ششم)۔
Ilm-o-Hidayat Volume 6


لمحۂ فکریہ!!! قرآنی آیات کا سہارا لے کر
مسلم قوم کو فرقوں میں بانٹا جارہا ہے

دوستو! یہ ایک ایسا فکر انگیز عنوان ہے جس پر ہمارے دور کے مسلمان ذرا بھی غور و فکر نہیں کرتے۔ بلکہ اندھی تقلید کرتے ہیں اور سنی سنائی باتوں پر اکڑتے ہیں۔ جس کی وجہ سے مسلم قوم روز بروز فرقوں میں بٹتی جارہی ہے۔ اگر ہم تھوڑا سا وقت نکال کر قرآن میں تدبر کریں اور قرآنی آیات کا ترجمہ پوری توجہ سے پڑھیں اور سمجھیں تو دشمنانِ اسلام کی ایک ایک چال سامنے آجائے گی کہ وہ کس طرح قرآنی آیات کا سہارا لے کر مسلم قوم کو فرقوں میں تقسیم کر رہے ہیں۔ بھائی کو بھائی سے جدا اور مسلمان کو مسلمان سے لڑا رہے ہیں۔
یہاں ہم یہ بتانا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ علماء نے جو دینِ اسلام کے فروغ اور قرآنی تراجم کے سلسلے میں خدمات انجام دیں ہیں۔ اللہ ان سے خوب اچھی طرح واقف ہے اور وہ یقینا اس کی جزاء بھی دے گا۔ لہٰذا ہم کون ہوتے ہیں کہ علماء پر تنقید کریں یا اپنی قابلیت جتائیں بلکہ کیوں نہ ہم اس طرف غور کریں کہ وہ ہمیں ایک کام کی بات سیکھا گئے کہ قرآنی تعلیمات کو سمجھنے کیلئے اس آسمانی کتاب کا ترجمہ اپنی زبان میں آسان سے آسان تر کرنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا دیگر علوم کی کتابوںٰ کو اپنی زبان میں سمجھنا ضروری ہے۔ اسی فکری سوچ کے پیش نظر محکمۂ اوقاف کے افسران (اہلکار)، پبلشرز صاحبان اور دورِحاضر کے علماء قرآنی تراجم پر نظرثانی کریں اور قرآن کا انتہائی آسان سے آسان ترجمہ اپنی اپنی مادری زبان میں پیش کریں۔ یقینا ایسا کرنے سے اُن علماء کے رتبے، مرتبے میں کمی نہیں آئے گی جو پہلے قرآنی تراجم کرنے کی سعادت حاصل کرچکے ہیں۔ بلکہ عام فہم لوگ قرآن آسانی سے سمجھ سکیں گے اور قرآنی تعلیمات پر عمل کریں گے اور دشمنانِ اسلام کے تمام فتنہ انگیز عزائم ناکام ہوجائیں گے۔
اس مختصر تمہید کے بعد ان آیات کا ترجمہ پیشِ خدمت ہے جنہیں سنا سنا کر دشمنانِ اسلام نے کس خوبصورتی سے مسلم قوم کو مختلف فرقوں، عقیدوں اور گروہوں میں بانٹ دیا۔
نور کی وضاحت
قَدْ جَآئَ کُم مِّنَ اللّٰہِ نُورٌ وَّ کِتٰبٌ مُّبِیْنٌ (سورۂ المائدۃ ۵/ آیت نمبر ۱۵)۔
ترجمہ: ترجمہ تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک روشن چیز آئی ہے اور ایک کتاب واضح۔ (مولانا اشرف علی تھانوی صاحب)۔
ترجمہ: بیشک تمہارے پاس ایک نور آیا اور روشن کتاب (مولانا شاہ احمد خان رضاء بریلوی صاحب)۔
ترجمہ: تحقیق تمہارے پاس آگیا اللہ کی طرف سے نور اور روشن کتاب (حافظ نذر احمد)۔
ترجمہ: بیشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آچکی ہے (مولانا فتح محمد جالندھری صاحب)۔
تمام تراجم سے یہ بات واضح ہوگئی کہ تین مترجم نے ’’نور کا ترجمہ نور‘‘ کیا ہے اور ’’کتاب مبین کا ترجمہ روشن کتاب‘‘ لکھا ہے۔ جبکہ ایک مترجم مولانا اشرف علی تھانوی صاحب ’’نور کا ترجمہ روشن چیز آئی‘‘ اور ’’کتاب مبین کا ترجمہ کتاب واضح‘‘ لکھ رہے ہیں۔ مگر چاروں تراجم میں ایک بات مشترکہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ایک نور آیا ہے اور واضح کتاب یا روشن کتاب آئی ہے۔
اس مشترکہ بات سے دشمنانِ اسلام کو موقع مل گیا کہ وہ مذکورہ آیت کا ترجمہ بار بار پڑھ کر لوگوں کو سنائیں اور نورٌوکتبٌ کی مختلف تاویلات پیش کریں اور یہ باور کرائیں کہ قرآن کی اس آیت میں اللہ کی طرف سے آنے والا نور محمدﷺ کو کہا گیا ہے۔ بس یہ سن کر بغیر تحقیق کئے ایک فرقہ محمدﷺ کو نور ماننے والوں کا بن گیا۔ جو محمدﷺ کو نور ثابت کرنے کیلئے بڑی بڑی تقریریں کر رہا ہے مگر افسوس کہ اس چھوٹی سے آیت کے ترجمے پر غور نہیں کررہا کہ ایک مترجم نے ’’نور کا ترجمہ روشن چیز آئی ہے‘‘ کیا ہے اور تین مترجم نے ’’نور کا ترجمہ نور‘‘ لکھا ہے آخر کیوں؟؟؟… جبکہ…
لغات القرآن میں نور کے معنی… روشنی، ہدایت، تجلی اور چمک کے ہیں۔
اور کتابِ مبین کے معنی…… روشن کتاب، واضح کتاب، کھلی کتاب کے ہیں۔
دوستو! جب نور کا ترجمہ کرو گے تو بات واضح ہوجائے گی اور آپس کے جھگڑے ختم ہوجائیں گے۔ کوئی فرقہ فرقہ نہیں رہے گا کیونکہ اللہ اس آیت میں صاف صاف فرما رہا ہے کہ
قَدْ جَآئَ کُم مِّنَ اللّٰہِ نُورٌ وَّ کِتٰبٌ مُّبِیْنٌ (سورۂ المائدۃ ۵/ آیت نمبر ۱۵)۔
ترجمہ: تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ہدایت اور روشن کتاب آگئی ہے
۔(اسکالر سید محمد علی ایڈیٹر ایجوکیشن نیوز)۔
اسی طرح سورۂ نسا اور سورۂ نور میں اللہ کا فرمان ہے کہ
یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَآئَ کُمْ بُرْہَانٌ مِّنْ رَّ بِّکُمْ وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْْکُمْ نُورًا مُّبِیْناً (سورۂ نساء ۴/ آیت نمبر ۱۷۴)۔
ترجمہ: اے لوگو! تمہارے پاس اللہ کی دلیلیں آگئی ہیں اور تمہارے پالنے والے (اللہ) نے تمہاری طرف (نُورًا مُّبِیْناً) واضح ہدایت اتاری ہے۔ (اسکالر سید محمد علی ایڈیٹر ایجوکیشن نیوز)۔
اللّٰہُ نُورُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِمَثَلُ نُورِہٖ کَمِشْکٰوۃٍ فِیْہَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَۃٍالزُّجَاجَۃُ کَاَنَّہَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ یُوقَدُ مِنْ شَجَرَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ زَیْْتُونِۃٍ لَّا شَرْقِیَّۃٍ وَّلَا غَرْبِیَّۃٍ یَکَادُ زَیْْتُہَا یُضِیْٓئُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌنُّورٌ عَلَی نُورٍیَہْدِیْ اللّٰہُ لِنُورِہٖ مَن یَّشَائُوَیَضْرِبُ اللّٰہُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِوَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْْئٍ عَلِیْمٌ (سورۂ نور ۲۴/ آیت نمبر ۳۵)۔
ترجمہ: اللہ آسمانوں اور زمین کی روشنی (نور) ہے اس کی روشنی (نور) کی مثال ایسی ہے گویا فانوس میں ایک روشن چراغ ہے۔ اس کے اوپر شیشے کا غلاف ہے اور وہ غلاف گویا ایک بڑے موتی کی مانند ستارہ ہے۔ اسی میں کسی مبارک درخت کا تیل جلتا ہے اور اس سے (نور علی نور) روشنی پر روشنی نکلتی رہتی ہے اور اللہ جسے چاہے اپنی روشنی سے راہ دِکھا دیتا ہے۔ اللہ انسانوں کو سمجھانے کیلئے ایسی مثالیں دیتا ہے اللہ ہی اصل حال جانتا ہے۔(اسکالر سید محمد علی ایڈیٹر ایجوکیشن نیوز)۔
درج بالا آیات کا ترجمہ پڑھ کر واضح ہوگیا کہ اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے لہٰذا کسی بندۂ خاص کو نور کہنا یا ماننا اللہ کے مترادف ہے۔
الْوَسِیْلَۃَ اور جَاہِدُوْا کی وضاحت
یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُواْ اتَّقُوا اللّٰہَ وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ وَجَاہِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہٖ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ (سورۂ مائدہ ۵/ آیت نمبر ۳۵)۔
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈور اور خدا تعالیٰ کا قرب ڈھونڈو اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا کرو امید ہے کہ تم کامیاب ہوجائو گے۔ (مولانا اشرف علی تھانوی صاحب)۔
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پائو۔ (مولانا شاہ احمد خاں رضاء بریلوی صاحب)۔
ترجمہ: اے ایمان والو! ڈرو اللہ سے اور اس کی طرف (اس کا) قرب تلاش کرو اور اس کے رستے میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پائو۔ (حافظ نذر احمد)۔
ترجمہ: اے ایمان والو! خدا سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرتے رہو اور اس کے رستے میں جہاد کرو تاکہ تم رستگاری پائو۔ (فتح محمد جالندھری صاحب)۔
درج بالا تراجم پڑھنے سے یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ آیت میں لفظ ’’الْوَسِیْلَۃَ اور لفظ جَاہِدُوْا‘‘ بہت اہم ہیں کیونکہ تین مترجم ’’الْوَسِیْلَۃَ کا ترجمہ قرب‘‘ لکھ رہے ہیں جبکہ ایک مترجم مولانا شاہ احمد خاں رضاء بریلوی صاحب ’’الْوَسِیْلَۃَ کا ترجمہ وسیلہ‘‘ لکھ رہے ہیں مگر چاروں تراجم میں ایک بات مشترکہ ہے کہ اللہ کا قرب ڈھونڈو یا تلاش کرو اور اس کی راہ یا رستے میں جہاد کرو۔
بس یہ ترجمہ پڑھ کر دشمنانِ اسلام حرکت میں آگئے اور غور کیا کہ مذکورہ آیت میں اللہ کا قرب ڈھونڈنے یا تلاش کرنے کا اشارہ ضرور ہے مگر ذریعہ نہیں ہے۔ بس دشمنانِ اسلام نے سوچا خیر کوئی بات نہیں… چلو ذریعہ ہم بتا دیتے ہیں۔ بس یہی سوچ کر پیرمغاں، پیرکامل اور بابا کراماتی وغیرہ کے قصے، کہانیاں اور کراماتیں گھڑنی شروع کردیں اور لوگوں کو چپکے چپکے بتانے لگے کہ اگر اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہتے ہو تو پیرمغاں، پیرکامل اور بابا کراماتی وغیرہ کے پیچھے لگ جائو کیونکہ یہ اللہ کے مقرب (نزدیک) بندے ہیں۔ اللہ ہم سے زیادہ ان کی سنتا ہے اور یہی اللہ کا قرب حاصل کرنے کا وسیلہ ہیں اور اللہ سے مدد اور مرادیں پوری کرانے کا ذریعہ ہیں۔ بس رات دن ان کی خدمت میں حاضر رہو یہ تم کو اللہ کے نزدیک پہنچنے کی ساری ظاہری اور باطنی عبادت کے طریقے سیکھا دیں گے۔ بس یہ باتیں سن کر ایک فرقہ پیرمغاں، پیرکامل اور باباکراماتی کو اللہ کا مقرب اور اللہ کے قرب کا ذریعہ اور اللہ سے مدد اور مرادیں پوری کرانے کا وسیلہ ماننے والوں کا بن گیا۔ جو بڑی بڑی کتابیں لکھ کر اور تقریریں کر کے پیروں، بابائوں کی کراماتیں اجاگر کررہا ہے مگر افسوس کہ مذکورہ آیت کے ترجمے کو غور اور توجہ سے نہیں پڑھ رہا تاکہ حقیقت سامنے آجائے اور دشمنانِ اسلام کی چال سے محفوظ رہے۔ اِدھر دوسرے طرف لفظ جَاہِدُوْا کا ترجمہ جہاد پڑھ کر یورپی ممالک یہ تاثر عام کر رہے ہیں کہ مذہبِ اسلام جبر و تشدد اور دہشت گردی کی ترغیب دیتا ہے جبکہ مذہبِ اسلام امن و سلامتی اور جدوجہد کا درس دیتا ہے کیونکہ
لغات القرآن میں الْوَسِیْلَۃَ کے معنی … دستاویز، قربت کا سبب، ذریعہ کے ہیں۔
اور جَاہِدُوْا کے معنی … جہد کرو، کوشش کرو، سعی کرو، محنت کرو کے ہیں۔ جبکہ جہد کی جمع جہاد ہے۔
لغات القرآن میں الْوَسِیْلَۃَ کے معنی دیکھنے سے معلوم ہوا کہ الْوَسِیْلَۃَ کے معنی دستاویز یعنی کسی امر، حکم، فرمان کا تحریری ثبوت یا وہ سند جس سے اپنا حق ثابت کرسکیں کے بھی ہیں۔ اس سے یہ بات بالکل عیاں ہوتی ہے کہ الْوَسِیْلَۃَ اس آیت میں اللہ کی دستاویز یعنی قرآن کو کہا گیا ہے کیونکہ اللہ کے تمام حکم اور فرمان کی تحریری دستاویز قرآن سے بڑھ کر کوئی اور نہیں ہے۔ اسی لیے اس آیت میں الْوَسِیْلَۃَ کا ترجمہ دستاویز لکھنا زیادہ موزوں ہے۔
دوستو! جب الْوَسِیْلَۃَ اور جَاہِدُوْا کا ترجمہ کرو گے تو بات واضح ہوجائے گی اور آپ کے اختلافات ختم ہوجائیں گے کیونکہ مذکورہ آیت میں اللہ ایک فکر اور ایک پیغام دے رہا ہے کہ
یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُواْ اتَّقُوا اللّٰہَ وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ وَجَاہِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہٖ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ (سورۂ مائدہ ۵/ آیت نمبر ۳۵)۔
ترجمہ: اے ایمان لانے والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور اللہ کی دستاویز (قرآن) میں (علم و ہدایت) تلاش کرتے رہو اور اس راہ میں کوشش کرتے رہو تاکہ تم فلاح پائو۔ (سید محمد علی)
اللہ کی حدیث سے ہٹا کر محمدﷺ کی حدیث میں لگا دیا
درج ذیل آیات میں لفظ حدیث، حدیثاً استعمال ہوا ہے
جس کا ترجمہ علماء نے بات، خبر، قصہ، کلام کیا ہے۔
اس دن کافر اور رسول کے مجرم (کفر پھیلانے اورکفر کرنے والے) آرزو کریں گے کہ انہیں پھر زمین میں دفن کر دیا جائے مگر اُس دن اللہ اُن کی کوئی حدیث (بات) نہیں چھپائے گا (رسوا کرے گا){نساء سورت نمبر ۴کی آیت نمبر ۴۲}۔
اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں۔ وہی قیامت کے دن تم سب کو جمع کرے گا اس میں کوئی شک نہیں۔ اور اللہ سے بڑھ کر سچی حَدِیْثاً (بات) کہنے والا کون ہے{نساء سورت نمبر ۴کی آیت نمبر ۸۷}۔
آسمانوں اور زمین کی مخلوق کو دیکھو اور ان چیزوں کو جو اللہ نے بنائیں ہیں۔ تم کیا جانو اُن (کے فنا ہونے) کا وقت قریب ہی آگیا ہو۔ پھر اس (نشانی) کے بعد یہ کس حدیث (بات) پر ایمان لائیں گے{اعراف سورت نمبر۷ کی آیت نمبر ۱۸۵}۔
اے پالنے والے (اللہ) تو نے مجھے حکومت دی ہے مجھے باتوں کی باریکیاں (تاویل احادیث) سمجھنے کا علم دیا۔ تو ہی آسمانوں اور زمین کو بنانے والا ہے۔ تو ہی دنیا و آخرت میں ہمارا مالک (مولا) ہے مجھے مسلم (اللہ کا فرمانبردار) اٹھانا اور نیکوں میں شامل کرنا{یوسف سورت نمبر ۱۲ کی آیت نمبر۱۰۱}۔
سمجھدار لوگوں کیلئے ان قصوں میں بڑی عبرت ہے۔ یہ (قرآن) ایسی حدیث (باتیں) نہیں جو گھڑلی گئی ہوں۔ یہ تصدیق کرتی ہیں ان کتابوں کی جو پہلے آئی تھیں اور انہی باتوں کی تفصیل (وضاحت) کرتی ہیں۔ یہ اہل ایمان کے لئے ہدایت و رحمت ہیں{یوسف سورت نمبر ۱۲ کی آیت نمبر۱۱۱}۔
اگر یہ اس کلام (بِہٰذَا الْحَدِیْث) پر ایمان نہیں لائیں تو کیا تم کوفت سے اپنی جان ہلاک کر دو گے{کہف سورت نمبر ۱۸ کی آیت نمبر۶}۔
اور جو لوگ لہو الحدیث (جھوٹ روایتیں) گھڑ کر بے علم (جاہل) لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں گے اور ان کو بے وقوف بنائیں گے وہ رسوائی کے عذاب میں پڑیں گے{لقمان سورت نمبر ۳۱ کی آیت نمبر ۶}۔
(وَلَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ) اور باتوں میں جی لگا کر مت بیٹھے رہا کرو۔{احزاب سورت نمبر ۳۳ کی آیت نمبر ۵۳}۔
اللہ نے اپنی کتاب میں (اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ) بہترین باتیں اُتاری ہیں جن میں متشابہات (مثالی) بھی ہیں{زمر سورت نمبر ۳۹ کی آیت نمبر ۲۳}۔
اللہ کا یہ کلام سچائی کے ساتھ پڑھ کر سنایا جاتا ہے پھر یہ کون سی حدیث (باتیں) پڑھ اور سن کر اللہ اور اس کی آیتوں پر ایمان لائیں گے{جاثیہ سورت نمبر ۴۵ آیت نمبر ۶}۔
کیا تمہیں (حدیث الغاشیہ) قیات کی خبر ہے{غاشیہ سورت نمبر ۸۸ کی آیت نمبر ۱}۔
ان سے کہو (فلیاتوا بحدیث مثلہ) پھر تم بھی ایسی حدیث بنا لائو اگر سچے ہو{طور سورت نمبر ۵۲ کی آیت نمبر۳۴}۔
درج بالا آیات پڑھ کر دشمنانِ اسلام نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلمانوں کو انتہائی ہوشیاری سے اللہ کی (حدیث، حدیثاً) باتوں سے توجہ ہٹا کر محمدﷺ کی (حدیث) باتوں میں لگا دیا اور تاویلات یہ بتادیں کہ اللہ نے قرآن میں احکامات نازل فرمائے ہیں جبکہ ان پر عمل کا طریقہ رسولﷺ نے بتایا ہے لہٰذا محمدﷺ کی (حدیث) باتوں کی اہمیت بالکل قرآن کی طرح ہے اور اگر تم رسول کی حدیث سے انکار کرو گے یا نہیں مانو گے تو اسلام سے خارج ہوجائو گے اللہ ناراض ہو جائے گایعنی کافر بن جائو گے اورجہنم میں جلائے جائوگے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔ بس مسلمان بے چارے ایسی باتیں سن کر ڈر گئے اور ان کے جال میں پھنستے چلے گئے… لیکن غور نہیں کیا… آج ایک فرقہ اہلحدیث ہی کیا پوری ملتِ اسلامیہ اللہ کے احکام کا طریقہ قرآن میں تلاش کرنے کے بجائے حدیث نبویﷺ میں ڈھونڈ رہی ہے۔ اور لوگ دشمنانِ اسلام کا سنایا ہوا راگ الاپ رہے ہیں کہ قرآن میں صلوٰۃ کا حکم ہے صلوٰۃ کے اوقات، وضو کا طریقہ اور صلوٰۃ کا طریقہ کس سے اور کہاں سے معلوم کریں ایسی باتیں سن کر ہمیں انتہائی افسوس ہوتا ہے کہ بیچارے قرآن پڑھتے ضرور ہیں مگر سمجھتے نہیں۔ بس سنی سنائی پر اکڑتے ہیں کیونکہ قرآن میں اللہ کے چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے احکامات کا طریقہ موجود ہے مثلاً مدنی سورت نمبر ۵ مائدہ کی آیت نمبر۶ میں وضو، غسل اور تیمم کا طریقہ ہے۔
قرآن نے وضو، غسل اور تیمم کا طریقہ بتا یا
ترجمہ: اے ایمان لانے والو! جب صلوٰۃ کے لئے جمع ہو تو اپنے منہ اور ہاتھ کلائی تک دھو لیا کرو اور سر اور پائوں کو ٹخنوں تک پونچھ لیا کرو اور جنابت سے ہو تو نہا کر پاک ہوجایا کرو۔ لیکن بیمار ہو یا سفر میں ہو یا رفع حاجت سے آئے ہو یا عورتوں کو چھوا (صحبت کی) ہے اور پانی دستیاب نہیں تو پاک مٹی سے تیمم کرلو یعنی منہ اور ہاتھوں پر اس سے مل لو۔ اللہ تمہارے لئے دشواری نہیں چاہتا بلکہ تمہیں پاک صاف رکھنا چاہتا ہے اور اپنی نعمتوں کو تم پر تمام کرنا چاہتا ہے تاکہ اس کا احسان مانتے رہو{مائدہ سورت نمبر ۵ کی آیت نمبر ۶ }۔
صلوٰۃ کے اوقات قرآنی آیات کے مطابق
ترجمہ: صلوٰۃ کھڑے ہو کر کرو دن کے دونوں سروں پر اور رات کی ابتدائی پہر میں (فجر، مغرب، عشائ)۔ {مکی سورت نمبر ۱۱ ہود کی آیت نمبر ۱۱۴ میںصلوٰۃ کا پہلا حکم ’کھڑے ہو کر صلوٰۃ پڑھو‘ } اب ادب سے اپنے دونوں ہاتھ باندھ لو{۲۸:۳۲}۔
اور اس آیت کے علاوہ مکی سورت نمبر ۲۰ طٰہٰ کی آیت نمبر ۱۳۰ میں، مکی سورت نمبر ۵۰ قٓ کی آیت نمبر ۳۹ میں اور مکی سورت نمبر ۱۷ کی آیت نمبر ۷۸ میں بھی صلوٰۃ کے اوقات درج ہیں۔
سیکھو قرآن سے حالتِ امن میں صلوٰۃ کا طریقہ
بتادیا صلوٰۃ کھڑے ہو کر کرو۔ اور مکی سورت نمبر ۱۵ حجر کی آیت نمبر ۸۷ میں ’سورۂ فاتحہ بار بار پڑھو‘۔ اور مکی سورت نمبر ۲۰ طٰہٰ کی آیت نمبر ۵ میں ’قرآن بلند آواز سے پڑھو‘ اور مکی سورت نمبر ۷۳ کی آیت نمبر ۴ میں ’قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ اور مدنی سورت نمبر ۲۲ حج کی آیت نمبر۷۷ میں ’رکوع کرو، سجدہ کرو‘ اور مدنی سورت نمبر ۲۲ حج کی آیت نمبر ۷۸ میں ’پس صلوٰۃ (اسی طرح) قائم کرو۔
سیکھوقرآن سے حالتِ جنگ میں صلوٰۃ کا طریقہ
مدنی سورت نمبر ۴ نساء کی آیت نمبر ۱۰۲ میں حکم ہوا کہ ’اے نبی! جب تم اپنے لشکر میں موجود ہو اور ان کیلئے صلات قائم کرو تو چاہیے کہ ایک جماعت تمہارے ساتھ رہے اور دوسرے اپنے ہتھیار سنبھالے رہیں۔ جب وہ سجدہ کرچکیں (ایک رکعت پڑھ لیں) تو چلے جائیں اور دوسری جماعت جس نے صلات نہیں کی ہو وہ آجائیں‘۔
ذرا سی توجہ، غور و فکر سے ہم دشمنانِ اسلام کی سازشوں سے بچ سکتے ہیں اور قرآن میں اللہ کے احکام کے طریقے تلاش کر کے خالص دین اسلام پر عمل کرسکتے ہیں کیونکہ محمدﷺ ہمارے درمیان ایک مکمل اور انتہائی آسان دستاویز (قرآن) چھوڑ گئے ہیں۔ جو ساری کائنات کیلئے ہدایت و فلاح کی کتاب ہے۔
اللہ اکبر ، یااللہ سے ہٹا کر یارسول میں لگا دیا
قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوا بِہِ فَقَبَضْتُ قَبْضَۃً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُولِ فَنَبَذْتُہَا وَکَذٰلِکَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ {سورۂ طٰہٰ ۲۰/ آیت نمبر ۹۶}۔
ترجمہ: اس نے کہا مجھ کو ایسی چیز نظر آئی تھی جو اوروں کو نظر نہیں آئی تھی، پھر میں نے اس فرستادہ (خداوندی کی سواری) کے نقشِ قدم سے ایک مٹھی (بھرخاک) اٹھالی تھی سو میں نے وہ مٹھی (قالب کے اندر) ڈال دی اور میرے جی کو یہی بات پسند آئی۔
۔(مولانا اشرف علی تھانوی صاحب)۔
ترجمہ: بولا میں نے وہ دیکھا جو لوگوں نے نہیں دیکھا تو ایک مٹھی بھرلی فرشتے کے نشان سے پھر اسے ڈال دیا اور میرے جی کو یہی بھلا لگا۔(مولانا شاہ احمد خاں رضا بریلوی صاحب)۔
ترجمہ: (اس نے) کہا مجھے وہ چیز دکھائی دی جو اوروں کو نہیں دکھائی دی (جبرائیل کو دیکھا کہ وہ گھوڑی پر سوار جارہے ہیں) تو میں نے (جبرائیل) فرشتے (کی گھوڑی) کے نقشِ قدم (کی مٹی) سے ایک مٹھی بھر لی پھر اس کو (ڈھلے ہوئے بچھڑے میں) ڈال دیا (اور وہ بھائیں بھائیں کرنے لگا) اور (اس وقت) میرے دل نے مجھ کو ایسی ہی صلاح دی۔(شمس العلماء مولوی نذر احمد دہلوی صاحب)۔
ترجمہ: وہ بولا میں نے وہ دیکھا جس کو انہوں نے نہیں دیکھا پس میں نے فرشتے کے نقشِ قدم سے ایک مٹھی بھرلی تو میں نے وہ (بچھڑے کے قالب) میں ڈال دی اور اسی طرح میرے نفس نے مجھے پھسلایا۔ (حافظ نذر احمد صاحب)۔
ترجمہ: اس نے کہا کہ میں نے ایسی چیز دیکھی جو اوروں نے نہیں دیکھی تو میں نے فرشتے کے نقشِ پا سے (مٹی کی) ایک مٹھی بھر لی پھر اس کو (بچھڑے کے قالب میں) ڈال دیا اور مجھے جی نے (اس کام کو) اچھا بتایا۔ (مولانا فتح محمد جالندھری صاحب)۔
درج بالا تراجم پڑھ کر ایک بات سامنے آئی کہ پانچوں مترجم نے ’’اَثَرِ الرَّسُولِ‘‘ کا ترجمہ فرشتے کے نقشِ قدم لکھا ہے جبکہ لفظ ’’اَثَرِ‘‘ ’نقش، تعویز، جادو، منتر‘ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور ’’الرَّسُولِ‘‘ ’پیغمبر، رسول، بھیجے، قاصد‘ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اور فرشتے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا مان لیتے ہیں اس آیت میں ’’الرسول‘‘ فرشتے کو کہا جا رہا ہے تو تب بھی ’’اَثَرِ الرَّسُولِ‘‘ کا ترجمہ ’’فرشتے کا جادو، تعویذ، منتر یا نقش ہوا، نہ کہ فرشتے کے نقشِ قدم۔ جبکہ پانچوں مترجم نے فرشتے کے قدم لکھا ہے۔ پس جب اس بات پر غور کیا تو حقیقت سامنے آئی کہ سامری ایک سنار تھا اور سونے کی چیزیں بنانے کا ماہر تھا اور جانتا تھا کہ لوگ موسیٰ کے اللہ پر ایمان تو لے آئے ہیں۔ مگر کچھ لوگ اب بھی موسیٰ کے معجزات کو ایک جادو ہی سمجھتے ہیں۔ بس اس نے سونے کے زیورات پگھلا کر ایک بچھڑا بنایا اور من گھڑت سنا کر موسیٰ کی قوم کو اللہ کی بندگی سے ہٹا دیا اور بچھڑے کی پوجا میں لگا کر گمراہ کر دیا۔ جسے قرآن میں یوں بیان کیا گیا ہے۔
قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوا بِہِ فَقَبَضْتُ قَبْضَۃً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُولِ فَنَبَذْتُہَا وَکَذٰلِکَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ {سورۂ طٰہٰ ۲۰/ آیت نمبر ۹۶}۔
ترجمہ: وہ بولا میں نے وہ دیکھا جو میرے ساتھ والوں نے نہیں دیکھا کہ میں نے ایک مٹھی (اَثَرِ الرَّسُولِ) رسول کے جادو سے (فرشتے کے جادو سے) بھرلی اور اسے (بچھڑے میں) ڈال دی (جس سے اس میں آواز پیدا ہوگئی) اور اسی طرح (سامری نے) اپنے دل سے یہ بات گھڑلی۔ ( اسکالر سید محمد علی ایڈیٹر ایجوکیشن نیوز)۔
یہاں ہمارا مقصد مترجم پر تنقید کرنا نہیں بلکہ اس طرف توجہ دلانا ہے کہ قرآنی مختلف آیات میں لفظ ’’الرسول، رسولٌ، رسولٍ، رسولۃ‘‘ استعمال ہوا ہے۔ جس کا ترجمہ علماء نے ’’فرشتہ، رسول، پیغمبر، پیغام رساں، قاصد‘‘ کے تحریر کیے ہیں۔ اور ’’یا‘‘ کا ترجمہ ’اے، او‘ کیا ہے۔ جبکہ بعض آیات میں لفظ ’’یارب‘‘ بھی استعمال ہوا ہے جس کا ترجمہ ’’اے رب‘‘ تحریر ہے۔ بس یہ سب دیکھ کر کسی یہودی کی رگِ شرارت پھڑکی جس نے اپنے استاد سامری کے طریقے پر عمل کیا اور یارب کی طرح قرآنی دو لفظ ’’یااور رسول‘‘ کو ملا کر ’’یارسول ‘‘ لکھ کر پیش کر دیا اور موسیٰ کی قوم کی طرح مسلم قوم کو ’’اللہ اکبر، یااللہ‘‘ سے ہٹا کر ’’یارسول‘‘ میں لگا دیا۔ بیچارے مسلمان آج تک نہیں سمجھے کہ وہ کس رسول کو پکار رہے ہیں کیونکہ سورہ ۱۹ مریم کی آیت نمبر ۱۹ اور سور ۳۵ فاطر کی آیت نمبر۱ میں فرشتے کو بھی رسول کا کہا گیا ہے… اگر لغات اٹھا کر دیکھ لیتے تو دشمنانِ اسلام کی چال میں نہیں آتے اور آپس میں اختلاف بھی نہیں ہوتا کیونکہ لفظ ’’یا‘‘ دیکھنے والا ، حاضر و ناظر اور موجود کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اور یہ صفت سوائے اللہ کے کسی کو حاصل نہیں۔
یاد رکھیے!!! ہم سچے عاشق ہیں منکر رسول یا منکر صلوٰۃ و سلام نہیں ہیں کیونکہ ہم صلوٰۃ و سلام کے معنی اچھی طرح جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ صلوٰۃ ’’بندگی، عبادت گاہ اور دعا‘‘ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور سلام ’’کسی پر سلامتی بھیجنے‘‘ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ بس جس طرح قرآن میںرسول پر سلام بھیجنے کا حکم ہے اس طرح بھیجا جائے تو اللہ کے حکم کی پیروی اور باعثِ ثواب ہے۔ اور اس سے ہٹ کر بھیجا جائے تو اپنی خواہشات کی پیروی ہے اور یاد رکھیں کہ اپنی خواہشات کی پیروی کرنے والوں کو اللہ عذاب دیتا ہے… غور کیجئے… کیونکہ قرآن میں واضح لفظوں میں لکھا ہے۔
وَسَلٰمٌٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَo وَالْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
ترجمہ: رسول پر سلام بھیجتے ہیں اور جہانوں کے پالنے اللہ کا شکر اور تعریف کرتے ہیں۔
۔(سورت نمبر ۳۷ صفت کی آیت نمبر ۸۱ ۱ اور ۱۸۲)۔
اَلْعَلِیُّ سے تو جہ ہٹاکر ’’مولا علی‘‘ میں لگا دیا
اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں۔ وہ زندہ ہے، قائم رہنے والا ہے، اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اُسی کا ہے۔ مجال نہیں کہ اُس کی اجازت کے بغیر کوئی اُس سے سفارش کرے۔ جو کچھ پہلے ہوچکا اور جو کچھ بعد کو ہونے والا ہے وہ سب جانتا ہے۔ تم اُس کے علم سے کسی جزو کا بھی احاطہ نہیں کرسکتے جب تک وہ خود نہ دینا چاہے۔ اس کی کرسی اقتدار آسمانوں اور زمین کو گھیرے ہوئے ہے اور اس کے لئے اُن سب کی حفاظت دشوار نہیں۔ (وَہُوَالْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ) وہ بڑا عالی مرتبہ اور عظمت والا ہے{بقرہ سورت نمبر ۲کی آیت نمبر ۲۵۵}۔
بلاشبہ (اِنَّ اللّٰہُ کَانَ عَلِیًّا کَبِیْرًا) اللہ بلند مرتبہ اور جلیل القدر ہے{نساء سورت نمبر ۴ کی آیت نمبر ۳۴}۔
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ ہی حق (سچائی) ہے اور جن کو یہ لوگ اُس کے سوا پوجتے ہیں وہ سب باطل خدا ہیں۔ (وَاِنَّ اللّٰہُ ہُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ) بلاشبہ اللہ ہی سب سے اعلیٰ و اکبر ہے{لقمان سورت نمبر ۳۱ کی آیت نمبر۳۰}۔
اللہ کے آگے کسی کی شفاعت نہیں چلے گی سوائے اُس کے جس کو اللہ اجازت دے۔ اس دن جب دل ذرا قابو میں آئیں گے تو پوچھیں گے یہ کون ہے۔ کہیں گے یہی تمہارا رب ہے۔ بولیں گے یہی سچا رب ہے (وَہُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ) اور وہ بڑا عالی مرتبہ اور گرامی قدر ہے{سباء سورت نمبر ۳۴ کی آیت نمبر۲۳}۔
وَاِنّہُ فِیْٓ اُمِّ الْکِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَکِیْمٌ
اور بیشک یہ اُم الکتاب (کتابوں کی ماں کا حصہ) ہے جو تمہارے بلند مرتبہ اور صاحبِ حکمت (مالک) کی طرف سے اترتی ہے{زخرف سورت نمبر ۴۳ کی آیت نمبر ۴}۔
آپ نے مندرجہ بالا آیات پڑھیں اسی طرح قرآن کی مختلف آیات میں لفظ ’’اَلْعَلِیُّ‘‘ استعمال ہوا ہے۔ جس کے معنی بلندی والا، برتری والا، بڑائی والا، عالی مرتبہ کے ہیں۔ اسم صفات ہونے کی وجہ سے اس لفظ کو عربی میں ’’اَلْعَلِیُّ‘‘ لکھتے ہیں۔ جیسے عربی میں کِتٰبُ اور قُرْاٰنُ کو اسم بنانے کے اَلْکِتٰبُ اور اَلْقُرْاٰنُ لکھتے ہیںلیکن اردو میں انہیں کتاب اور قرآن ہی لکھا جاتاہے۔ اسی طرح ’’اَلْعَلِیُّ‘‘ کو اردو میں علی ہی لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ اردو اور عربی کی گرامر کے فرق کی وجہ سے دشمنانِ اسلام نے اللہ کے اسمِ صفات ’’اَلْعَلِیُّ‘‘ سے لوگوں کی توجہ ہٹا کر مولا علی، مولا مشکل کشاء علی، یاعلی مدد میں لگا دیا بھائی کو بھائی سے جدا کرنے اور مسلمان کو مسلمان سے لڑانے کیلئے علی شیرا خدا سے منسوب کردیا۔ اگر مسلمان تھوڑی سے توجہ دیتے تو نہ آپس میں جھگڑتے اور نہ جدا ہوتے کیونکہ لغات میں مولا علی کے معنی ’’بلندی والے، بڑائی والے مالک‘‘، مشکل کشاء علی کے معنی ’’مشکل کو حل فرما تو عالی مرتبہ ہے‘‘ اور یاعلی مدد کے معنی ’’اے بڑائی والے مدد فرما‘‘۔ لہٰذا قرآن کی رو سے اور لغات کے معنوی اعتبار سے مولاعلی، مشکل کشاء علی، یاعلی مدد کہنا یعنی اللہ کو مدد کیلئے پکارنا اور اس کی بڑائی بیان کرنا ہے۔
لفظ اولیاء اور ولی کی وضاحت
دوستو! بیشتر قرآنی آیات میں لفظ ولی اور اس کی جمع اولیاء استعمال ہوا ہے جس کے معنی اردو میں علمائے دین مولانا اشرف علی تھانوی صاحب، مولانا شاہ احمد خاں رضا بریلوی صاحب، مولانا فتح محمد جالندھری صاحب، حافظ نذر احمد صاحب اور دیگر مترجم دوست، رفیق، حمایتی، ساتھی اور مددگار تحریر کر رہے ہیں۔ ایسی چند آیات کا ترجمہ پیشِ خدمت ہے جن آیات میں لفظ اولیاء اور ولی استعمال ہوا ہے۔
شیطان کے اولیاء وہ ہیں جو ایمان والوں کو ڈراتے ہیں
اہلِ ایمان کا ولی (دوست) صرف اللہ ہے جو انہیں (جہل کے) اندھیروں سے نکال کر (علم کی) روشنی میں لاتا ہے۔ مگر جو لوگ کفر (حق بات سے انکار) کرتے ہیں وہ شیطان کے اولیائ(دوست) ہیں۔ وہ انہیں روشنی سے اندھیروں میں لے جاتا ہے۔ یہی لوگ آگ میں جلنے والے ہیں۔ وہاں ہمیشہ رہیں گے{۲-سورۂ بقرہ: آیت نمبر ۲۵۷}۔
بے شک شیطان اپنے اولیاء (دوستوں) سے اسی طرح ڈراتا ہے۔ مگر تم ان سے نہ ڈرو صرف مجھ سے ڈرتے رہو اگر صاحبِ ایمان ہو{۳-سورۂ آلِ عمران: آیت نمبر ۱۷۵}۔
شیطان کے ولی بن جائوگے
۔(ابراہیم نے کہا اگر آپ اللہ پر ایمان نہیں لائے تو) ابا جان مجھے ڈر ہے کہ آپ پر بڑے مہربان (اللہ) کا عذاب آئے گا اور آپ شیطان کے ولی بن جائیں گے{۱۹-سورۂ مریم: آیت نمبر۴۵}۔
شیطان کو اپنا اولیاء بنالیتے ہیں
تو کچھ لوگ ہدایت قبول کرلیتے ہیں اور کچھ پر گمراہی مقدر ہوجاتی ہے تو وہ اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا اولیاء (رفیق) بنالیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ بڑے ہدایت یاب ہیں{۷-سورۂ اعراف: آیت نمبر ۳۰}۔
اللہ کے احکام کے سوا کسی اولیاء کی پیروی مت کرو
کہ اے لوگو! اُن احکام کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے اُترتے ہیں اور اُس کے سوا کسی اولیاء (رفیق) کی پیروی مت کرو۔ مگر تم میں نصیحت ماننے والے کم ہیں{۷-سورۂ اعراف: آیت نمبر ۳}۔
یہودی اور عیسائی ایک دوسرے کے اولیاء ہیں
اے ایمان لانے والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنے اولیاء (حمایتی) نہیں جانو یہ آپس میں ایک دوسرے کے اولیاء (حمایتی) ہیں۔ اور تم میں سے جو اِن سے مل جائے وہ انہی میں شمار کیا جائے۔ اللہ ظالموں کی قوم کو ہدایت نہیں دیتا{۵-سورۂ مائدہ: آیت نمبر ۵۱}۔
ایمان والو! ایک دوسرے کی حمایت کرو ورنہ فتنہ و فساد پھیل جائے گا
اور کافر آپس میں ایک دوسرے کے اولیاء (حمایتی) ہیں پس (مومنو!) اگر تم (ایک دوسرے کی حمایت و مدد) نہیں کرو گے تو دنیا میں فتنہ و فساد پھیل جائے گا{۸- سورہ انفال: آیت نمبر۷۳}۔
اللہ کے اولیاء وہ ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں
اور یاد رکھو اللہ کے دوست (اولیائ) نہ خوفزدہ ہوتے ہیں نہ مغموم{۱۰/۶۲} یعنی وہ جو ایمان لاتے ہیں اور گناہوں سے بچتے ہیں{۱۰-سورۂ یونس: آیت نمبر۶۳}۔
اللہ کے سوا تمہارا کوئی اولیاء نہیں
اور ظالموں کی طرف کبھی مائل نہیں ہونا ورنہ آگ میں ڈالے جائو گے۔ اور اللہ کے سوا تمہارے لئے کوئی اولیاء (مددگار) نہیں ہیں پھر مدد کہاں سے آئے گی{۱۱-سورۂ ہود: آیت نمبر۱۱۳}۔
مندرجہ بالا قرآنی آیات کا ترجمہ پڑھ کر یہ بات سمجھ میں آگئی ہوگی کہ اللہ نے شیطان کے اولیاء اور اللہ کے اولیاء کی خوب اچھی طرح پہچان کرادی اور صاف صاف بتا دیا ہے کہ جو لوگ کفر (حق بات سے انکار) کرتے ہیں وہ شیطان کے اولیاء (دوست) ہیں۔ اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے ہیں وہ اللہ کے اولیاء (دوست) ہیں۔ مگر یہودی اور عیسائی ایک دوسرے کے اولیاء (حمایتی) ہیں۔ جبکہ سورۂ اعراف کی آیت نمبر ۳ میں اللہ نے ایک واضح حکم دیا ہے کہ ان احکام کی پیروی کرو جو تمہارے پالنے والے (اللہ) کی طرف سے اترتے ہیں اور اس کے سوا کسی اولیاء (رفیق) کی پیروی مت کرو۔ اور سورۂ انفال ۸/ آیت نمبر ۷۳ میں ایک نصیحت کی ہے کہ کافر آپس میں ایک دوسرے کے اولیاء (حمایتی) ہیں۔ پس (مومنو!) اگر تم (ایک دوسرے کی حمایت، مدد) نہیں کرو گے (یعنی بھٹکے ہوئوں کو صراط مستقیم کی طرف نہیں بلائو گے) تو دنیا میں فتنہ و فساد پھیل جائے گا۔ اور سورۂ ہود کی آیت نمبر ۱۳ میں سزا سنادی کہ ظالموں کی طرف کبھی مائل نہیں ہونا ورنہ آگ میں ڈالے جائو گے۔
مگر ہم لوگ اللہ کا حکم نصیحت اور سزا غرض سبھی کچھ بھول گئے اور دشمنانِ اسلام کی چال میں ایک بار پھر آگئے کیونکہ فتنہ و فسادگرد ذہنوں نے اولیاء اللہ اور ولی اللہ کے قصے، کہانیاں، داستانیں اور کراماتیں وغیرہ گھڑ کر لوگوں میں چپکے چپکے پھیلا دیں۔ بس ان من گھڑت باتوں سے متاثر ہو کر ایک فرقہ ولی اللہ اور اولیاء اللہ کے ماننے والوں کا وجود میں آگیا۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود نہ تو ہم لوگ ہوش میں آئے نہ ہمارے علماء جاگے؟… آخر کیوں؟؟؟… یہ ایک سوال ہے جو مجھے بے چین کرتا رہتا ہے۔
آپ ہماری اس کاوش کو پڑھ کر چونک گئے ہوں گے اور سوچ رہے ہوں گے یہ کون ہے جو سچ کو سچ لکھ رہا ہے اور حق کو حق بتا رہا ہے… آخر یہ کیا چاہتا ہے؟… اس کا مقصد کیا ہے؟… اور کیوں اپنی جان خطرے میں ڈال رہا ہے؟… جبکہ ہر طرف فرقہ پرستی، مطلب پرستی اور موقع پرستی کی آگ لگی ہوئی ہے… آپ کے تمام سوالوں کا ہمارے پاس ایک ہی جواب ہے کہ ہماری مثال اس چڑیا کی سی ہے جو کسی ہادی یا مہدی کے انتظار میں بیٹھنے کے بجائے خود اپنی چونچ میں بھرے پانی کے قطرے سے جنگل کی آگ بجھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اور اپنے پالنے والے (اللہ) سے دعا کر رہی ہے کہ اے اللہ! میری اس کوشش کو قبول و مقبول فرما اور اپنی رحمت کی بارش سے اس آگ کو سرد کردے اور ہمارے آشیانے کو بچالے۔ بے شک تو ہی مدد کرنے والا ہے۔ (’’ربنا وتقبل دعا‘‘ اے پالنے والے اللہ میری دعا قبول فرما۔ )
وَمَا عَلَیْْنَا إِلاَّ الْبَلاَغُ الْمُبِیْنُ
اور ہمارے ذمہ صرف اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے{۳۶/۱۷}۔

SYED TALIB ALI WELFARE TRUST
Online Account No.: PK27 UNIL 0109 0002 3125 1213 | Title: MUHAMMAD ALI | Bank: UBL | Branch Code: 0395 | New Karachi | Pakistan.
Home
Trust
Quran
Books
Download Fonts
Contact Us
SYED TALIB ALI WELFARE TRUST
© Copyright SYED TALIB ALI WELFARE TRUST Rights Reserved
Develop by: SYED MOHSIN ALI
Home | Trust | Quran| Books| Image Gallery | Download Fonts | Contact Us