Department of ...
Employment
Education
Help Depart
Medical
Ambulance Service
Activities
Marriage Bureau Management
SYED
TALIB ALI WELFARE TRUST
is distributing monthly ration/groceries,
household equipment, wheel chair etc. in special persons, orphaned
children and widows for last 7 year.
So please appeal to you, submit your donation in Trust Online Account No.: PK27 UNIL 0109 0002 3125 1213 | Title: MUHAMMAD ALI | Bank: UBL | Branch Code: 0395 | New Karachi | Pakistan.
بسم اللہ الرحمن الرحیمسارے مکتبۂ فکر کے علماء کی نظر میں اولیاء کا مقام
دوستو! ایک اسکالر ہونے کی حیثیت سے ہم نے لفظ ’’ولی‘‘ اور اس کی جمع ’’اولیائ‘‘ کے معنی اور مفہوم سمجھنے اور ذین نشین کرنے کیلئے چند نامور علماء مولانا اشرف علی تھانوی صاحب، مولانا شاہ احمد خان رضا بریلوی صاحب، مولانا فتح محمد جالندھری صاحب، مولانا مودودی صاحب، حافظ نذر احمد صاحب، شمس العلماء ڈپٹی نذیر احمد دہلوی صاحب، فتح الحمید صاحب، عزیر احمد صدیقی صاحب اور دیگر مترجم کا قرآنی ترجمہ پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔
دوستو! درج بالا علماء کسی تعارف کے محتاج نہیں ہر خاص و عام ان علماء کے نام سے اچھی طرح واقف ہے۔ ان علماء کے تراجم گھر گھر پڑھے جاتے ہیں۔ بڑے سے بڑا خطیب قرآنی آیات پڑھ کر انہی علماء کے تراجم سے اپنے خطاب کو آگے بڑھاتا ہے۔ اور مشہور سے مشہور ادیب اپنے مضامین میں قرآنی آیات درج کرتا ہے تو وہ بھی انہی علماء کا ترجمہ پیش کرتا ہے… یہ الگ بات ہے کہ کوئی کسی عالم کا ترجمہ لکھتا ہے اور کوئی کسی عالم کا ترجمہ پڑھتا ہے… مگر یہ جان کر آپ کو نہ صرف خوشی ہوگی بلکہ حیرت بھی ہوگی کہ درج بالا نامور علماء نے لفظ ’’ولی‘‘ اور اس کی جمع ’’اولیائ‘‘ کا ترجمہ ’’دوست، حمایتی، رفیق، مددگار، کارساز، محافظ، والی اور معبود کیا ہے۔ ہمارے اس انکشاف پر نہ صرف آپ کو حیرت ہو رہی ہوگی بلکہ آپ چونک گئے ہوں گے کیونکہ یہ تاثر عام ہے کہ ہر علماء نے اپنی مرضی کا ترجمہ کیا ہے جبکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے… یہ سب کہنے اور سننے کی باتیں ہیں… مگر اس موقع پر ہم یہ کہنا ضروری سمجھتے ہیں کہ چند لوگ اصطلاح میں ولی اور اولیاء کے معنی وسیلہ لیتے ہیں۔ جبکہ یہ لغوی معنی سے ہٹ کر مرادی معنی ہیں۔ جو لوگوں نے خود ہی بنالیے ہیں… اسی لیے دیکھنے میں یہ بات آتی ہے کہ چند ادیب اور خطیب قرآنی آیات لکھ کر اور پڑھ کر ولیوں اور اولیائوں کی کرامات کے قصے، کہانیاں، داستانیں اور ان کی زندگی کے عجوبہ حالات کچھ اس طرح لکھتے اور بیان کرتے ہیں کہ پڑھنے اور سننے والا یہ تاثر لینے لگتا ہے کہ وہ جو کچھ لکھ رہے ہیں یا بیان کر رہے ہیں وہ سب قرآن کا حصہ ہیں… جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے… بس بات ہے غور اور توجہ کی… اگر آپ کسی بھی عالم کا قرآنی ترجمہ غور اور توجہ سے پڑھیں تو آپ بھی جان جائیں گے کہ سارے مکتبۂ فکر کے علماء اس بات پر متفق ہیں اور اپنے اپنے قرآنی تراجم میں واضح اور صاف صاف الفاظ میں ولی اور اولیاء کا ترجمہ کر رہے ہیں کہ
اللہ کے سوا تمہارا کوئی ولی (دوست/ مددگار/ کارساز/ حمایتی/ والی) نہیں{۲/۱۰۷}۔
اللہ کے احکام کے سوا کسی اولیاء (رفیق) کی پیروی مت کرو{۷/۳}۔
۔(کہہ دو) میرا ولی (دوست) تو صرف اللہ ہے جو یہ کتاب اتارتا ہے وہی نیک لوگوں کا ولی (دوست/ محافظ) ہے{۷/۱۹۶}۔
۔(موسیٰ دعا کررہے ہیں اے اللہ!) تو ہی ہمارا ولی (دوست )ہے پس ہمیں بخش سے، ہم پر رحم فرما، تو سب سے اچھا بخشنے والا ہے{۷/۱۵۵}۔
اب آپ خود سوچئے، سمجھئے اور غور کیجئے کہ اللہ کا واضح اور کھلا فرمان یعنی کلام پاک موجود ہے۔ نبی، پیغمبر اور رسولوں کی تعلیمات موجود ہیں۔ جو ساری زندگی یہی کہتے اور تبلیغ کرتے رہے کہ اللہ کے سوا ہمارا، تمہارا کوئی ولی، کوئی داتا، کوئی دستگیر، کوئی مشکل کشائ، کوئی مولیٰ، کوئی غوث، کوئی شفیع، کوئی گنج بخش اور کوئی مددگار نہیں ہے مزید کہتے ہیں کہ ہمیں خود نہیں پتا کہ قیامت کے دن ہمارے ساتھ کیا ہوگا۔ اس روز صرف اللہ کی بادشاہی ہوگی ہر طاقتور سے طاقتور جن و انساں اس کے سامنے روتا اور گڑگڑاتا کھڑا ہوگا… بس اسی کی بندگی کرو، اسی کی عبادت کرو، اسی کی اطاعت و فرمانبرداری کرو، اسی سے مدد و مرادیں مانگو، اسی کا کہا مانو، اسی کے احکام کی پیروی کرو… جس طرح ہم اللہ کے احکام کی پیروی کرتے ہیں اور اسی کے دین پر عمل کرتے ہیں۔ اسی کا پیغام تم تک پہنچاتے ہیں… بس یاد رکھو بیشک ہم اللہ کے رسول ہیں مگر ہم تمہارے کچھ کام نہیں آسکتے کیونکہ اللہ ہی ہمارا اور تمہارا پالنے والا ہے وہ ہی سب کے کام بناتا ہے، وہ ہی سب کا مولیٰ ہے، وہ ہی سب کا شفیع، ولی اور مددگار ہے اور روزِ آخرت میں اسی کی بادشاہی ہوگی… اسی طرح اللہ کے احکام کو سمجھنے کیلئے علماء کے قرآنی تراجم بھی موجود ہیں۔ غرض ہدایت و نصیحت کا دروازہ کھلا ہے صرف ضرورت ہے توجہ کی… مگر افسوس ہم جاہلوں اور نادانوں کی طرح اللہ کے سوا کسی اور کو ولی اور اولیاء بنا کر منت و مرادیں مانگتے ہیں اور در در بھٹکتے پھرتے ہیں اور دوسروں کو بھٹکاتے پھرتے ہیں… ہم کیسے اللہ کے بندے اور کیسے عاشق رسول ہیں… سوچئے، سمجھئے اور غور کیجئے… اور درج ذیل آیات پڑھ کر اپنا محاسبہ خود کیجئے اور فیصلہ کیجئے کہ ہمارا، آپ کا اور کل کائنات کا ولی کون ہے۔اہل ایمان کا ولی صرف اللہ ہے انہیں اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے
تم کو خوش حالی میسر آجائے تو اُن کو دکھ ہوتا ہے اور کوئی مصیبت آجائے تو خوشیاں مناتے ہیں۔ تم ثابت قدم رہو اور اللہ سے محبت کرتے رہو۔ اُن کی مکاریوں سے تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ اللہ ان کی حرکتوں پر نظر رکھتا ہے{سورہ ۳/ آیت ۱۲۰} اور جب تم صبح کے وقت نکل کر اہلِ ایمان کو میدانِ جنگ میں متعین کر رہے تھے۔ اللہ سنتا اور دیکھتا ہے{۳/۱۲۱} تو دو گروہ تم میں سے ہمت ہار بیٹھے لیکن اللہ اُن کا ولی تھا۔ اور اہلِ ایمان کو اللہ پر توکل کرنا چاہیے{۳/۱۲۲} (کیونکہ) اہلِ ایمان کا ولی صرف اللہ ہے جو انہیں (جہل کے) اندھیروں سے نکال کر (علم کی) روشنی میں لاتا ہے۔ مگر جو لوگ کفر (حق بات سے انکار) کرتے ہیں وہ شیطان کے اولیاء (دوست) ہیں۔ وہ انہیں روشنی سے اندھیروں میں لے جاتا ہے۔ یہی لوگ آگ میں جلنے والے ہیں۔ وہاں ہمیشہ رہیں گے{سورہ ۲/آیت ۲۵۷}۔
اللہ کے احکام کے سوا کسی اولیاء کی پیروی مت کرو
کہ اے لوگو! اُن احکام کی پیروی کرو جو تمہارے پالنے والے(اللہ) کی طرف سے اُترتے ہیں اور اُس کے سوا کسی اولیاء (رفیق) کی پیروی نہیں کرو۔ مگر تم میں نصیحت ماننے والے کم ہیں{۷/۳}۔
یقینا اللہ سے بچانے والا کوئی ولی اور دستگیر نہیں ملے گا
اور جان لو کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ کی حکومت ہے اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی (ولی) دوست و دستگیر نہیں ہے{۲/۱۰۷} یقینا اللہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت کا مالک ہے وہی جلاتا ہے وہی مارتا ہے اللہ کے سوا تمہارا کوئی ولی اور دستگیر نہیں ہے{۹/۱۱۶} تم سے نہ یہودی خوش ہوں گے نہ عیسائی جب تک تم اُن میں شامل نہیںہوجائو۔ اُن سے کہو اللہ کی ہدایت (قرآن) ہی اصل ہدایت ہے اور تم (قرآنی) ہدایت پانے کے بعد اُن کو خوش رکھنے کی کوشش کرو گے تو پھر اللہ سے بچانے والا کوئی ولی (دوست)اور دستگیر ( مددگار) نہیں ملے گا{۲/۱۲۰}۔
شیطان اپنے اولیاء سے ڈراتا ہے مگر تم اللہ سے ڈرتے رہو
جو لوگ اللہ اور رسول کی پکار پر مصیبت اُٹھا کر اور زخم کھا کر بھی حاضر رہے۔ ان کے ساتھ جو نیک اور پرہیزگار ہیں ان کے لئے بڑا اجر ہے{۳/۱۷۲} جب لوگوں نے آکر کہا کہ دشمن جمع ہو رہے ہیں اُن سے ڈرو تو اُن کا (اللہ پر) یقین بڑھ گیا اور وہ بولے ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے{۳/۱۷۳} پھر وہ اللہ کی نعمتوں اور فضل کے ساتھ واپس آئے اور اُن کو کوئی نقصان نہیںپہنچا۔ وہ اللہ کی خوشنودی کے تابع رہے۔ اور اللہ بڑا فضل کرنے والا ہے{۳/۱۷۴} بے شک شیطان اپنے اولیاء (دوستوں) سے اسی طرح ڈراتا ہے۔ مگر تم ان سے نہیں ڈرو صرف مجھ سے ڈرتے رہو اگر صاحبِ ایمان ہو{۳/۱۷۵}۔
اللہ کے سوا کوئی ولی اور دستگیر نہیں ہوگا
جو لوگ اللہ کی جگہ دیویاں اور دیوتا پوجتے ہیں بلاشبہ وہ شیطان مردود کے پجاری ہیں{۴/۱۱۷} اس پر اللہ نے لعنت بھیجی ہے جس نے کہا تھا میں تیرے بندوں سے اپنا حصہ (بزرگ و دیوتا وغیرہ کی نذرو نیاز کے ذریعے) وصول کرتا رہوں گا{۴/۱۱۸} ان کو گمراہ کرتا رہوں گا، جھوٹی امیدیں دلاتا رہوں گا اور سکھاتا رہوں گا کہ وہ جانوروں کے کان کاٹیں اور حکم دوں گا کہ اللہ کی بنائی ہوئی صورتوں کو بگاڑیں ۔تو جس نے اللہ کو چھوڑ کر سرکش کو اپنا ولی (دوست) بنایا وہ نقصان میں پڑجائے گا{۴/۱۱۹} وہ ان سے وعدہ کرتا ہے، جھوٹی امیدیں دلاتا ہے اور شیطان جو وعدے کرتا ہے وہ دھوکہ اور فریب ہوتے ہیں{۴/۱۲۰} ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے جہاں سے مخلصی نہیں ہوگی{۴/۱۲۱} مگر جو لوگ ایمان لائیں گے اور اچھے کام کریں گے وہ باغوں میں داخل ہوں گے جہاں دریا بہتے ہوں گے وہاں ہمیشہ رہنا ہے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اللہ سے زیادہ سچی (حدیث) بات کس کی ہوگی{۴/۱۲۲} اور یہ تو نہ تمہاری تمنا پر منحصر ہے نہ اہل کتاب کی۔ جو بھی برے کام کرے گا اُس کی سزا پائے گا۔ اور وہاں اللہ کے سوا کوئی ولی یا دستگیر نہیں ہوگا{۴/۱۲۳}۔
اہل یقین کو چھوڑ کر سچ کے منکروں کو اولیاء مت بنائو
جو لوگ ایمان لاتے ہیں پھر سچائی کا انکار کرتے ہیں اور پھر ایمان لاتے ہیں اور شک میں پڑے رہتے ہیں وہی پکے کافر ہیں۔ اللہ انہیں نہیں بخشے گا نہ سیدھی راہ دکھائے گا{۴/۱۳۷} اور منافقوں کو خوش خبری سنادو اُن کے لئے دردناک عذاب تیار ہے{۴/۱۳۸} اور جو لوگ مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو (اولیائ) دوست بناتے ہیں تو کیا اس سے ان کی عزت افزائی ہوسکتی ہے۔ عزت تو ساری اللہ کے ہاتھ ہے{۴/۱۳۹} اے ایمان لانے والو! اہل یقین کو چھوڑ کر سچ کے منکروں کو (اولیائ) دوست نہیں بنائو۔ کیا چاہتے ہو کہ تم پر اللہ کا غضب آجائے{۴/۱۴۴}۔
مسیح انکار نہیں کرسکتے تھے کہ وہ (عبداللّٰہ) اللہ کے بندے نہیں ہیں
اے اہل کتاب دین کے معاملے میں زیادہ غلو (ضد) نہیں کرو اور اللہ کے متعلق سچ کے سوا کچھ نہیں کہا کرو۔ بے شک مسیح ابن مریم اللہ کے رسول اور اس کا کلام تھے جو اس کی طرف سے مریم کو فیض غیبی تھا پس اللہ پر ایمان لائو اور اس کے رسولوں پر اور تین (تثلیث) کی باتیں نہیں کرو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ بلاشبہ اللہ صرف ایک ہے اور وہ پاک ہے اس سے کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اُسی کا ہے۔ اور اللہ وکالت کے لئے کافی ہے{۴/۱۷۱} نہ مسیح انکار کرسکتے تھے کہ وہ (عبداللّٰہ) اللہ کے بندے نہیں ہیں اور نہ فرشتے ہی کہہ سکتے ہیں۔ جو اُس کی بندگی سے انکار کرے گا اور غرور کرے گا وہ اللہ کے سامنے جواب دہ ہوگا{۴/۱۷۲} جو لوگ ایمان لائیں گے اور اچھے کام کریں گے اُن کو پورا بدلہ دیا جائے گا بلکہ اللہ اپنے فضل سے اور زیادہ دے گا۔ اور جو اس میں عار، انکار یا تکبر کرے گا اسے دردناک عذاب ہوگا۔ وہ اللہ کے سوا کسی کو اپنا ولی و دستگیر نہیں پائے گا{۴/۱۷۳}۔
یہودی اور عیسائی ایک دوسرے کے اولیاء (حمایتی) ہیں
اے ایمان لانے والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنے اولیاء (حمایتی) نہیں جانو یہ آپس میں ایک دوسرے کے اولیاء ہیں۔ اور تم میں سے جو اِن سے مل جائے وہ انہی میں شمار کیا جائے۔ اللہ ظالموں کی قوم کو ہدایت نہیں دیتا{۵/۵۱}۔
کافروں کو اولیاء مت سمجھو! اگر صاحب ایمان ہو تو اللہ سے محبت کرتے رہو
پس جو اللہ اور اُس کے رسول اور دوسرے اہلِ ایمان سے محبت کریں گے وہ اللہ کی جماعت شمار ہوں گے اور وہی غلبہ حاصل کریں گے{۵/۵۶} اے ایمان لانے والو! جو لوگ تمہارے دین کی ہنسی اُڑاتے ہیں اور اُسے کھیل سمجھتے ہیں وہ وہی ہیں جن کو پہلے کتابیں دی گئی تھیں یا اُن کے نافرمان (کافر) ساتھی ہیں۔ پس اُن کو اپنا (اولیائ) دوست نہیں سمجھو اور اللہ سے ڈرتے رہو اگر صاحبِ ایمان ہو{۵/۵۷}۔
کہو اے اہلِ کتاب اپنے دین میں بلاوجہ غلو (ضد و کج بخشی) نہیں کرو اور ان کی پیروی نہیں کرو جو پہلے گمراہی پھیلا گئے۔ انہوں نے بہتوں کو گمراہ کیا اور خود بھی سیدھے راستے سے بھٹک گئے{۵/۷۷} اور بنی اسرائیل کے کافروں پر تو دائود اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے بھی لعنت بھیجی گئی ہے کیونکہ وہ گنہگار اور جھگڑالو لوگ تھے{۵/۷۸} اور وہ اپنے برے کاموں سے باز نہیں آتے تھے۔ جو کچھ وہ کرتے تھے برا تھا{۵/۷۹} اسی وجہ سے تم دیکھتے ہو وہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں۔ جو کچھ یہ آگے بھیج رہے ہیں برا ہے۔ اللہ ان سے ناراض ہے۔ وہ ان کو دائمی عذاب میں ڈالے گا{۵/۸۰} اگر یہ اللہ اور اس کے رسول پر اور جو کچھ اللہ اتارتا ہے اُس پر ایمان رکھتے تو کافروں کو (اولیائ) دوست نہیں بناتے۔ لیکن اِن میں بیشتر فاسق ہیں{۵/۸۱}۔
میں اللہ کو چھوڑ کر کیسے کسی اور ولی مان لوں جبکہ اللہ کے سوا کوئی ولی اور کوئی شفیع نہیں
کہو میں اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا ولی کیسے مان لوں جبکہ زمین اور آسمان اسی نے بنائے ہیں۔ وہی سب کو روزی دیتا ہے اور اُسے کوئی روزی نہیں دیتا۔ اور کہو مجھے حکم ملا ہے کہ میں سب سے پہلا مسلم (اَن دیکھے مالک کے آگے سرجھکانے والا) بنوں اور مشرکوں میں شامل نہیں ہوں{۶/۱۴} تم صرف اُن کو نصیحت کرتے رہو جو اپنے پالنے والے(اللہ) کے سامنے حاضر ہونے سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ اُس کے سوا کوئی اُن کا ولی اور (شفیع) شفاعتی نہیں تاکہ وہ زیادہ متقی بن جائیں{۶/۵۱} جن لوگوں نے دین کو کھیل تماشہ بنالیا ہے اور دنیا کی زندگی نے ان کو مغرور کر رکھا ہے اُن کو بھی نصیحت کرتے رہو۔ ایسا نہیں ہو وہ اپنے اعمالِ بد سے اپنی جانوں کو ہلاک کرلیں۔ اُن کا بھی اللہ کے سوا کوئی ولی اور (شفیع) شفاعتی نہیں ہوگا۔ وہ ساری دنیا کی دولت دے کر بچنے کی کوشش کریں گے تو قبول نہیں ہوگی۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنی حرکتوں کی وجہ سے ہلاکت میں پڑیں گے انہیں گرم پانی پلایا جائے گا۔ اور دکھ دینے والا عذاب ہوگا کیونکہ یہ نافرمانی (کفر) کرتے تھے{۶/۷۰} (لیکن جو اچھے کام کریں گے) انہی کے اپنے اچھے اعمال کے بدلے اپنے پالنے والے(اللہ) کے پاس (دارالسلام) سلامتی کا گھر ملے گا اور وہی اُن کا (ولی) دوست ہے{۶/۱۲۷} کہتے ہیں یہ سب من گھڑت (حدیثیں) باتیں ہیں حالانکہ یہ سچی (حدیثیں) باتیں تمہارے پالنے والے (اللہ) کی طرف سے وحی کی جاتی ہیں تاکہ تم اُن کو چونکائو جن کے پاس پہلے کوئی نبی نہیں آیا۔ شاید یہ بھی ہدایت یاب ہوجائیں{۳۲/۳} اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ اُن کے درمیان ہے چھ دن میں بنایا اور عرش پر قائم ہوا۔ اُس کے سوا تمہارا (ولی) دوست اور (شفیع) شفاعتی کون ہوسکتا ہے۔ تم نصیحت کیوں نہیں مانتے{۳۲/۴}۔
اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو اولیاء بنانے والے اپنے آپ کو بڑا ہدایت یاب سمجھتے ہیں
جس دن سب جمع کئے جائیں گے پوچھا جائے گا اے شیطانو! کیا تم نے بہت سے انسانوں کو اپنے تابع کرلیا تھا۔ تو جو لوگ ان کے اولیاء (دوست) ہوں گے کہیں گے ہم ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ اور ہم اس میعاد (موت) کو پہنچ گئے جو تو نے مقرر کی تھی۔ اللہ فرمائے گا تو تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے جلو جب تک اللہ چاہے۔ بلاشبہ اللہ ہی سب حکمتیں جانتا ہے{۶/۱۲۸} اور اے اولادِ آدم! دیکھو تمہیں شیطان نہ بہکا دے جس نے تمہارے باپ کو جنت سے نکلوایا اور ان کا لباس چھنوایا جو ستر چھپاتا تھا۔ وہ اور اس کے کارندے تمہیں ایسی جگہوں سے دیکھتے ہیں جہاں تم نہیں دیکھ سکتے۔ اور جو ہم پر یقین نہیں کرتے وہ شیطانوں کو اپنا اولیاء (دوست) بنالیتے ہیں{۷/۲۷} تو کچھ لوگ ہدایت قبول کرلیتے ہیں اور کچھ پر گمراہی مقدر ہوجاتی ہے تو وہ اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا اولیاء (رفیق) بنالیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ بڑے ہدایت یاب ہیں{۷/۳۰}۔
میرا ولی تو صرف اللہ ہے جو یہ کتاب اتارتا ہے وہی نیک لوگوں کا ولی ہے
تم ان کو ہدایت کی طرف بلائو تو وہ تمہاری آواز نہیں سن سکیں یعنی تم ان کو پکارو یا نہ پکارو برابر ہے وہ تمہاری باتیں نہیں سن سکتے{۷/۱۹۳} اور تم اللہ کی جگہ جن (غوث، داتا وغیرہ) کو پکارتے ہو وہ تمہارے جیسے ہمارے بندے تھے۔ اچھا تم اُن کو پکارو اگر یہ سچے ہیں تو جواب دیں{۷/۱۹۴} کیا اُن کے پائوں سلامت ہیں جن سے چل سکیں یا ہاتھ ہیں جن سے پکڑ سکیں یا آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا کان ہیں جن سے سنیں۔ کہہ دو اپنے شرکاء (داتا، دیوتا وغیرہ) سے دعا کرو وہ میرا کچھ بگاڑ لیں اور مجھے مہلت بھی نہ دیں (یقینا وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ){۷/۱۹۵} میرا ولی(دوست) تو صرف اللہ ہے جو یہ کتاب اُتارتا ہے وہی نیک لوگوں کا (ولی) محافظ ہے{۷/۱۹۶} اور جن چیزوں سے تم اللہ کے سوا دعائیں مانگتے ہو وہ تمہاری مدد نہیں کرسکتیں نہ خود اپنی مدد کرسکتے ہیں{۷/۱۹۷} مشرکوں کو ہدایت کی طرف بلائو تو سنتے نہیں۔ تمہاری طرف آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے ہیں مگر کچھ سمجھائی نہیں دیتا{۷/۱۹۸} پس اُن سے درگزر کرو اور اچھے کام کرنے کا حکم دیتے رہو اور جاہلوں کے منہ نہیں لگو{۷/۱۹۹}جو لوگ ایمان لائے، ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں کوشش کرتے رہے اپنی جانوں اور مالوں کے ساتھ اور جنہوں نے ان کو پناہ دی، اُن کی مدد کی، وہ سب ایک دوسرے کے اولیاء (مددگار) ہیں۔ اور جو اہلِ ایمان ہجرت نہیں کرسکے ان کے ساتھ تمہیں ہمدردی کی ضرورت نہیں۔ اُن کو چاہیے کہ وہ بھی ہجرت کر کے چلے آئیں اور تبلیغِ دین میں تمہاری مدد کریں تو تم بھی اُن کی مدد کرو مگر اُن لوگوں کے مقابلے میں جن سے تمہارا معاہدہ ہے مدد کی ضرورت نہیں۔ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ دیکھتا ہے{۸/۷۲} اور کافر آپس میں ایک دوسرے کے اولیاء (حمایتی) ہیں پس اگر تم ایسا نہیں کرو گے (یعنی ایک دوسرے کے حمایتی نہیں بنو گے) تو دنیا میں فتنہ و فساد پھیل جائے گا{۸/۷۳}تم سمجھتے ہو یوں ہی چھوٹ جائو گے حالانکہ اللہ نے ابھی ان کو بھی نہیں جانچا ہے جو تمہارے ساتھ (دین کیلئے)جہدکرتے ہیں اور جو اللہ، اس کے رسول اور اہلِ ایمان کے سوا کسی کو اپنا (ولی) دوست نہیں جانتے۔ اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو{۹/۱۶}۔
تمہارے باپ، دادا یا بھائی کفر کو ترجیح دیں تو انہیں اپنا اولیاء مت سمجھو
اے ایمان لانے والو! اپنے باپ دادا اور اپنے بھائیوں کو بھی اگر وہ کفر کو ایمان پر ترجیح دیں تو اپنا اولیاء (رفیق) نہیں سمجھنا۔ تم میں سے جو اُن سے میل رکھے گا وہ ظالموں میں شمار ہوگا{۹/۲۳}۔
مومن مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے اولیاء (حمایتی) ہیں
مومن مرد اور عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے اولیاء (دوست) ہیں۔ وہ اچھے کام کرنے کا حکم دیتے ہیں، برے کاموں سے روکتے ہیں، صلات قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کی فرمانبرداری کرتے ہیںاور رسول کا کہنا مانتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحم کرے گا۔ اللہ ہی عزت و حکمت کا مالک ہے{۹/۷۱} یہ لوگ ہر بات پر قسم کھاتے ہیں اور جب بولتے ہیں کفر کی بات کرتے ہیں۔ یہ اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہوگئے ہیں۔ یہ ایسی آرزوئیں کرتے ہیں جو کبھی پوری نہیں ہوں گی۔ کیا ان کو دُکھ ہے کہ اللہ اور رسول نے ان کو اپنے فضل سے غنی کر دیا ہے۔ اگر وہ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں اچھا ہے۔ نہیں مانیں گے تو اللہ عذاب دے گا اور عذاب بھی دُکھ دینے والا جو دنیا و آخرت میں ہوگا۔ پھر دنیا میں اُن کا کوئی (ولی) دوست اور (دستگیر) مددگار نہیں ہوگا{۹/۷۴} ان میں بعض نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر اُس نے اپنے فضل سے کچھ دیا تو ہم سب صدقہ کر دیں گے اور نیک لوگوں میں شامل ہوجائیں گے{۹/۷۵} اور یاد رکھو اللہ کے اولیاء (دوست) نہ خوفزدہ ہوتے ہیں نہ مغموم{۱۰/۶۲} یعنی جو اللہ پر یقین کرتے ہیں اور اس کی فرمانبرداری کرتے ہیں{۱۰/۶۳} ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف پڑ گیا۔ اگر تمہارے رب کی بات (روزِ حساب) پہلے سے متعین نہیں ہوتی تو ان میں فیصلہ ہوجاتا۔ اس لئے وہ شک و شبہ میں پڑے ہیں{۱۱/۱۱۰}بلاشبہ تمہارا رب ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے گا جو کچھ وہ کرتے ہیں اس سے باخبر ہے{۱۱/۱۱۱} پس تم ہمارے حکم پر قائم رہو اور تمہارے ساتھی بھی جنہوں نے توبہ کرلی ہے اور اب نافرمانی نہیں کرتے اللہ تمہارے کام دیکھتا ہے{۱۱/۱۱۲} اور ظالموں کی طرف کبھی مائل نہیں ہونا ورنہ آگ میں ڈالے جائو گے۔ اور اللہ کے سوا تمہارے لئے کوئی اولیاء (یا مددگار) نہیں ہیں پھر مدد کہاں سے آئے گی{۱۱/۱۱۳}۔
صرف اللہ کی بندگی کرو کیونکہ اللہ کے سوا تمہارا کون ولی اور کون سہارا ہے
جن لوگوں کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ اس سے خوش ہیں جو تم پر اترتا ہے لیکن قبائل (بدو) اس سے انکار کرتے ہیں۔ ان سے کہو مجھے حکم ملا ہے کہ صرف اللہ کی بندگی کروں اور کسی کو اس کی خدائی میں شریک نہیں مانوں۔ بس اسی سے دعا کروں اور اسی سے پناہ چاہوں{۱۳/۳۶} چنانچہ ہم نے اپنے احکام عربی زبان میں اتارے ہیں اور علم (قرآن) آجانے کے بعد (اے پیغمبر) تم اپنی مرضی (وہم و عقائد) کے تابع نہیں رہ سکتے۔ اللہ کے سوا تمہارا ولی اور سہارا کون ہے{۱۳/۳۷}۔
جن کا ولی شیطان ہے وہ دردناک عذاب میں پڑ گئے
اللہ اپنے بندوں کی خطائوں پر گرفت کرنے لگے تو ایک جاندار بھی زندہ نہیں رہے لیکن اس نے حساب کو ایک معینہ وقت تک ملتوی کر دیا ہے۔ جب وہ وقت آجائے گا تو گھڑی بھر بھی دیر سویر نہیں ہوگی{۱۶/۶۱} یہ لوگ اللہ کے لئے ایسی چیزیں پسند کرتے ہیں جن کو اپنے لئے پسند نہیں کرتے۔ ان کی زبانوں پر جھوٹ ہے اور وہی ان کو بھلا لگتا ہے تو جہنم کی آگ بھی انہی کیلئے ہے اور یہ سب سے پہلے جائیں گے{۱۶/۶۲} قسم ہے ہماری شان کی ہم نے پہلی قوموں میں بھی رسول بھیجے مگر شیطان نے ان کو ان کے اعمال بھلے بتائے کہ وہی ان کا ولی (لیڈر) تھا اور وہ دردناک عذاب میں پڑ گئے{۱۶/۶۳} ان کو ایمان لانے سے کیا چیز روکتی ہے۔ یہی کہ جب اللہ کا کلام آیا تو کہنے لگے اللہ انسان کو اپنا رسول کیسے بنا سکتا ہے{۱۷/۹۴} ان سے کہو اگر زمین پر فرشتے بستے ہوتے تو ہم ان کے پاس فرشتے ہی بھیجتے{۱۷/۹۵} اور کہو میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی شہادت کافی ہے اور وہ اپنے بندوں کو جانتا اور دیکھتا ہے{۱۷/۹۶} اللہ جسے (اسکے اعمال کے سبب )ہدایت دے وہ ہدایت پاتا ہے اور جسے (اسکے اعمال کے سبب) بھٹکتا چھوڑ دے اس کا اللہ کے سوا ولی کون ہوگا۔اللہ قیامت کے دن ان کو اوندھے منہ اندھا، گونگا اور بہرا اُٹھائے گا۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جہاں آگ بھڑکائی جاتی ہے{۱۷/۹۷} (ابراہیم نے کہا) ابا جان مجھے ڈر ہے کہ آپ پربڑے مہربان(اللہ) کا عذاب آئے گا اور آپ شیطان کے (ولی) دوست بن جائیں گے{۱۹/۴۵}۔
اللہ کا نہ کوئی بیٹا ہے نہ اس کی کبریائی میں کوئی شریک ہے
اور کہو حمد و ثناء کے لائق صرف اللہ ہے جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا ہے نہ کسی کو اپنی کبریائی میں شریک کیا ہے۔ نہ اسے کسی ولی عہد کی ضرورت ہے جو سہارا دے اور اس کی عظمت و کبریائی کا ڈھنڈورا پیٹے{۱۷/۱۱۱}۔
اللہ جسے بھٹکتا چھوڑ دے اس کا کوئی ولی اور مرشد نہیں
جب وہ نواجون غار کی طرف جا رہے تھے کہنے لگے یارب ہم پر اپنی رحمت نازل فرما اور اپنی ہدایت کو ہمارے شاملِ حال کر{۱۸/۱۰} تو ہم نے ان کو کئی برسوں کیلئے غار میں بے خبر رکھا{۱۸/۱۱} پھر اُٹھایا کہ دیکھیں ان کی نیند کے دوران دونوں گروہوں (کافر و مومن) کی آبادی بڑھی{۱۸/۱۲} ہم تم سے ان کے صحیح حالات بیان کرتے ہیں وہ نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کی ہدایت بڑھا دی{۱۸/۱۳} اور ان کے دلوں سے رابطہ رکھا۔ پس جب وہ اُٹھے تو بولے ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا پالنے والا ہے۔ ہم اس کے سوا کسی کو خدا نہیں پکاریں گے ایسا کیا تو بھٹک جائیں گے{۱۸/۱۴} ہماری قوم نے دوسرے خدا بنا رکھے ہیں حالانکہ ان کے پاس ان کی خدائی کا کوئی ثبوت نہیں اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے{۱۸/۱۵} پس تم ان سے اور ان کے داتائوں سے جن کو وہ اللہ کی جگہ پوجتے تھے الگ ہوگئے اور اس غار میں آکر چھپ گئے تاکہ تمہارا رب تم کو اپنی رحمت میں لے لے اور تمہارا کام آسان کر دے{۱۸/۱۶} تم سورج کو نکلتا دیکھو تو وہ غار سے داہنی جانب ہٹ جاتا ہے اور ڈوبتے وقت بائیں جانب کترا جاتا ہے اور وہ ایک گھاٹی میں ہیں یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے۔ اللہ جسے (اسکے اعمال کے سبب )ہدایت دے وہی ہدایت پاتا ہے اور جسے (اسکے اعمال کے سبب) بھٹکتا چھوڑ دے اس کا ولی و مرشد کوئی نہیں{۱۸/۱۷} ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے جو جنوں میں سے تھا۔ اس نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی تو کیا مجھے چھوڑ کر اس کی ذریت کو اپنے اولیاء (پیر یا گرو) بنائو گے حالانکہ وہ تمہارا دشمن ہے۔ تو ظالموں کا بدلہ برا ہے{۱۸/۵۰} ان سے کہو دنیا میں گھومیں اور دیکھیں اس نے کیسی کیسی مخلوق بنائیں ہیں۔ تو کیا وہی اللہ ان کو دوبارہ نہیں بنا سکتا۔ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے{۲۹/۲۰} وہ جسے چاہے گا سزا دے گا اور جسے چاہے گا رحم کر کے چھوڑ دے گا۔ مگر تمہیں اس کے سامنے جانا ہے{۲۹/۲۱} تم اسے نہ زمین پر دھوکا دے سکتے ہو نہ آسمان پر اور اللہ کے سوا تمہارا (ولی) دوست کوئی نہیں{۲۹/۲۲} ان سے کہو اگر تم مرنے یا قتل ہونے سے ڈر کر بھاگ جاتے تو وہ ڈرنا کام نہیں آتا اور نہ اُس وقت تم کو کوئی فائدہ ہوتا{۳۳/۱۶} اور کہو کہ اللہ تم کو نقصان پہنچانا چاہے تو کون بچا سکتا ہے۔ اور اگر وہ مہربانی کرنا چاہے تو اسے کون روک سکتا ہے۔ یہ لوگ اللہ کے سوا کسی کو اپنا ولی و دستگیر نہیں پائیں گے{۳۳/۱۷}۔
جہاں ہمیشہ رہنا ہے وہاں اللہ کے سوا کوئی ولی ہو گا نہ دستگیر
منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں کھوٹ ہے شہر میں بری افواہیں پھیلاتے ہیں۔ یہ باز نہیں آئے تو ہم تم کو ان کے پیچھے لگا دیں گے۔ پھر یہ تمہارے پڑوس میں نہیں رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن{۳۳/۶۰} وہ بھی پھٹکارے ہوئے کہ جہاں پائو پکڑو اور مار ڈالو{۳۳/۶۱} یہ اللہ کا قانون (سنت) ہے۔ پہلے لوگوں کے ساتھ بھی یہی کیا گیا۔ اور تم اللہ کے قانون (سنت) میں تبدیلی نہیں پائو گے{۳۳/۶۲} لوگ پوچھتے ہیں وہ وقت (قیامت) کب آئے گا۔ کہہ دو اس کا علم تو اللہ کو ہے۔ تم کیا جانو شاید وہ وقت قریب ہی آگیا ہو{۳۳/۶۳} بلاشبہ اللہ کافروں پر لعنت بھیجتا ہے۔ اُن کے لئے جہنم میں جلنے کا عذاب ہے{۳۳/۶۴} جہاں ہمیشہ رہنا ہے۔ وہاں اُن کا کوئی ولی ہو گا نہ دستگیر{۳۳/۶۵}۔
فرشتے کہیں گے اے اللہ! تو ہی ہمارا ولی ہے
جس دن سب کو جمع کیا جائے گا وہ فرشتوں سے پوچھے گا کیا یہ لوگ تم کو پوجتے تھے{۳۴/۴۰} وہ کہیں گے تو شریکوں سے پاک ہے۔ تو ہی ہمارا (ولی) دوست ہے اور ان سب کا بھی۔ مگر یہ جنوں (شیطانوں) کو پوجنے لگے تھے اور انہیں پر ایمان رکھتے تھے{۳۴/۴۱}۔
جو اللہ کو چھوڑ کر کسی کو وسیلہ بناتے ہیں اللہ انہیں ہدایت نہیں دیتا
ہاں اللہ کو خالص (شرک سے پاک) دین پسند ہے۔ جو لوگ اسے چھوڑ کر دوسروں کو اپنا (اولیائ) دوست بنا لیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم ان کو اس لیے وسیلہ بناتے ہیں تاکہ وہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں تو اللہ ان کے اختلاف کا فیصلہ کرے گا۔ اللہ کسی جھوٹے اور ناشکرے کو ہدایت نہیں دیتا{۳۹/۳}۔
ظالموں کا نہ کوئی ولی ہوتا ہے نہ مددگار
ہم یہ عربی زبان کا قرآن اس لئے وحی کرتے ہیں کہ تم بستیوں کی ماں (مکہ) اور اس کے مضافات میں رہنے والوں کو سمجھائو کہ اس جمع ہونے کے دن سے جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ڈریں۔ اس دن ایک گروہ جنت کا مستحق ہوگا دوسرا جہنم کا{۴۲/۷} اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک جماعت بنا دیتا مگر وہ جسے چاہتا ہے (اسکے اعمال کے سبب) اپنی رحمت میں لے لیتا ہے اور ظالموں کا نہ کوئی (ولی) دوست ہوتا ہے اور نہ مددگار{۴۲/۸} کیونکہ وہ اسے بھول کر دوسروں کو اپنااولیاء (داتا و غوث) بنالیتے ہیں حالانکہ اللہ ہی سب کا ولی ہے۔ وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز پر قادر ہے{۴۲/۹}۔
جو بھی مصیبت آتی ہے انسان کے اپنے شامت اعمال سے آتی ہے
مصائب میں سے جو مصیبت بھی تم پر آتی ہے وہ تمہاری اپنی شامت اعمال سے آتی ہے۔ اور بہت سی خطائیں تو وہ معاف کر دیتا ہے{۴۲/۳۰} تم زمین پر اس سے بگاڑ کر جی نہیں سکتے۔ اللہ کے سوا تمہارا کوئی (ولی) دوست و دستگیر نہیں ہے{۴۲/۳۱} اسی کی قدرت سے تمہارے بادبانی جہاز سمندروں میں چلتے ہیں{۴۲/۳۲} اگر وہ چاہے تو ہوائوں کو روک دے اور تمہارے جہاز سمندوں کی پیٹھ پر ہچکولے کھاتے رہ جائیں۔ ان چیزوں میں محنت و تحمل اور شکر کرنے والوں کے لئے قدرت کے نمونے ہیں{۴۲/۳۳}۔
وہاں ان کے اولیاء کہاں ہوں گے جو اللہ کے مقابل مدد کو آئیں
اور وہ لوگ بھی جو کسی پر ظلم ہوتا دیکھیں تو ان کی مدد کے لئے جائیں گے{۴۲/۳۹} برائی کا بدلہ یقینا برائی ہے لیکن جو معاف کردے اور مصالحت کرلے تو اس کا اجر اللہ دے گا اور اللہ ظالموں سے محبت نہیں رکھتا{۴۲/۴۰} مگر جو ظلم کا بدلہ لے لے اس پر کوئی الزام نہیں{۴۲/۴۱} بیشک الزام ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور دنیا میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں۔ ان کو دردناک عذاب ہوگا{۴۲/۴۲} اور جو تحمل کرلے اور معاف کر دے تو یہ جواںمردی کا کام ہے{۴۲/۴۳} مگر جسے اللہ بھٹکتا چھوڑ دے تو اس کے بعد اس کا (ولی) حمایتی کوئی نہیں رہتا۔ تم ظالموں کو دیکھو گے وہ ہمارا عذاب دیکھ کر کہیں گے کیا اس سے نجات کی کوئی صورت ہے؟{۴۲/۴۴} تم انہیں رسوائی کے خوف سے گڑگڑاتے دیکھو گے۔ وہ جھکی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہوں گے۔ اور اہلِ ایمان کہیں گے کہ اصل نقصان اٹھانے والے وہ ہیں جو قیامت کے دن خود کو اپنے خاندان کے ساتھ نقصان میں پائیں گے۔ دیکھو یہ ظالم عذاب میں پڑے ہیں{۴۲/۴۵} وہاں ان کے (اولیائ) دوست کہاں ہوں گے جو اللہ کے مقابل مدد کو آئیں۔ ہاں جسے اللہ بھٹکتا چھوڑ دے اسے راستہ نہیں ملتا{۴۲/۴۶}۔
اللہ کے بدلے جن کو تم نے اولیاء بنا رکھا ہے وہ کچھ کام نہیں آئیں گے
جس اللہ کا کلام (حدیثیں) سن کر ضد اور نخوت ظاہر کرتے ہیں جیسے سنا ہی نہیں۔ ایسے لوگوں کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو{۴۵/۸} اور جو لوگ ہمارا کلام (حدیثیں) سن کر اس کا مذاق اُڑاتے ہیں ان کو دردناک عذاب ہوگا{۴۵/۹} ان کے آگے جہنم ہے۔ جو کچھ وہ کرتے ہیں ان کے کام نہیں آئے گا۔ نہ وہ کام آئیں گے جن کو اللہ کے بدلے اپنا اولیاء بنا رکھا ہے۔ ان کو سخت عذاب ہوگا{۴۵/۱۰} یہ ہدایت کی باتیں ہیں پس جو اللہ کے کلام (حدیثوں) کا انکار کریں گے وہ رسوائی کے عذاب میں پڑیں گے{۴۵/۱۱} اب تم کو اپنے حکم (قرآن) کے ذریعہ ایک شریعت دی ہے پس اسی کے تابع رہنا۔ اور نادانوں کے فریب میں نہیں آجانا{۴۵/۱۸} وہ اللہ کے سامنے تمہارے کام نہیں آئیں گے۔ ظالم (مشرک) آپس میں ایک دوسرے کے (اولیائ) ساتھی بن جاتے ہیں۔ مگر متقی (گناہ سے بچنے والے) لوگوں کا (ولی) دوست صرف اللہ ہے{۴۵/۱۹} یہ قرآن بنی نوعِ انسان کے لئے بصیرت (رہنما) ہے اور یقین رکھنے والی قوموں کے لئے ہدایت و رحمت رہے گا{۴۵/۲۰}۔
کافر نہ کسی کو ولی پاتے اور نہ مددگار، یہی اللہ کی سنت (قانون) ہے
اللہ بہت سی دوسری فتوحات کا وعدہ فرماتا ہے جو تم حاصل کر وگے۔ اور فتح بھی جلد دلا دی۔ اس نے دشمنوں کے ہاتھ روک دئیے تاکہ اہلِ ایمان (یقین کرنے والوں) کو اپنی قدرت کی نشانیاں دکھائے اور تم کو صحیح راہ دکھائے{۴۸/۲۰} اور وہ فوائد بھی دئیے جن پر تمہاری پہنچ نہیں ہے۔ وہ اللہ کی قدرت میں ہیں۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے{۴۸/۲۱} اگر یہ کافر تم سے لڑتے تو ان کو پیٹھ پھیر کر بھاگنا پڑتا۔ پھر نہ کسی کو (ولی) دوست پاتے نہ مددگار{۴۸/۲۲} یہی اللہ کی سنت (قانونِ قدرت) ہے اور اللہ کی سنت (قانونِ قدرت) بدلتی نہیں یہ شروع سے جاری ہے{۴۸/۲۳}۔
میرے دشمنوں کو اپنا اولیاء نہیں بنائو
اے ایمان لانے والو! میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو اپنے اولیاء (ہمدرد) نہیں بنائو۔ تم ان کو محبت کے پیغا بھیجتے ہو۔ اور وہ تمہارے دین کے منکر ہیں۔ انہوں نے تمہارے رسول کو اور تم کو نکال دیا صرف اس لئے کہ تم اللہ پر ایمان (یقین) لائے اور اسے اپناپالنے والا(اللہ)مان لیا۔ اب اگر میری راہ میں کوشش کرنے نکلے ہو اور میری خوشنودی کے طالب ہو تو تم اپنے دلوں میں ان کی محبت کیسے چھپا سکتے ہو۔ میں جانتا ہوں جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو۔ پس جو ایسی حرکت کرے گا وہ گمراہ ہوجائے گا اور سیدھی راہ سے بھٹک جائے گا{۶۰/۱}۔
اگر تم اللہ کے اولیاء (دوست/ بیٹے) ہو تو موت کی تمنا کر کے دکھائو
یہودی اور عیسائی کہتے ہیں ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اسی کے پیارے ہیں تو پوچھو کہ پھر تمہارے گناہوں کے سبب وہ تمہیں سزائیں کیوں دیتا ہے۔ تم بھی اس کی مخلوق میں سب کی طرح انسان ہو۔ وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے سزا دے۔ آسمانوں اور زمین میں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب پر اللہ کی بادشاہی ہے اور سب کو اسی کے آگے پناہ ہے{۵/۱۸} اور ان لوگوں کو دیکھو جن پر توریت لادی گئی تھی مگر اسے سنبھال نہیں سکے۔ ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس پر بڑی بڑی کتابیں لدی ہوں۔ جو لوگ اللہ کے کلام (حدیثوں) کو جھٹلاتے ہیں ان کی مثال ہی بری ہے۔ اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا{۶۲/۵} ان سے کہو اے یہودیو! اگر تمہیں فخر ہے کہ تم اللہ کے اولیاء (دوست/ بیٹے) ہو۔ اور دوسرے نہیں ہوسکتے۔ تو ذرا موت کی تمنا کر کے دکھائو اگر سچے ہو{۶۲/۶} مگر یہ کبھی ایسی تمنا نہیں کریں گے۔ ان کے اعمال ہی ایسے ہیں۔ اور اللہ ظالموں کو جانتا ہے{۶۲/۷} ان سے پوچھو تم موت سے ڈرتے ہو؟ مگر وہ ایک دن آنی ہے اور تم کو اُس کے سامنے جانا ہے جو تمہاری چھپی اور ظاہر باتوں کو جانتا ہے۔ تم یہاں جو کچھ کرتے ہو اس دن تمہیں سنائے گا{۶۲/۸}۔وَمَا عَلَیْْنَا إِلاَّ الْبَلاَغُ الْمُبِیْنُ
اور ہمارے ذمہ صرف اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے{۳۶/۱۷}۔